زینب کے قاتل کو پہلا پتھر کون مارے: فواد رضا

0
  • 64
    Shares

شکر کہ حبس اور گھٹن کے اس ماحول میں کوئی تو خبر ایسی آئی کہ جس کے بعد ایک بار پھر نظام کی بہتری کی دم توڑتی امیدیں زندہ ہونے لگی ہیں۔ خبر ہے کہ زینب کا قاتل گرفتار کرلیا گیا۔ خبر یہ ہے کہ ملزم محلے دار ہے اور دور کا رشتے دار بھی۔ خبر یہ ہے کہ ڈی این اے میچ کر گیا ہے اور اقبالِ جرم بھی کرلیا گیا ہے۔ زینب امین کا قتل پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جانے والا ایسا باب ہے جس کی کسک آنے والے زمانوں میں بھی اہلِ درد اپنے دلوں میں محسوس کریں گے۔

یہ سوشل میڈیا کی قوت تھی کہ جس نے اس معصوم بچی کی تصاویر لے کر گویا ایک آسمان سر پر اٹھا لیا اور حکومت اور ریاست سے جڑے ایک ایک شخص کو مجبور کردیا کہ فی الفور کوئی کارروائی کی جائے بصورت دیگر کہیں یہ ایک واقعہ تاریخ کا دھارا بدلنے پر قادر نہ ہوجائے۔ گو کہ مجھے سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والوں کے طریقہ کار سے اختلاف تھا کہ وہ زینب کی تصاویر شیئر کررہے تھے‘ یہاں تک کچرا کنڈی پر پڑی اس مظلوم کی روندی ہوئی نعش کی تصاویر بھی شیئر ہوئیں۔ یقیناً یہ سب اہلِ خانہ کے لیے اذیت کا باعث ہوگا لیکن جس ملک میں صحافیوں کو ہی اس بات کا احساس نہ ہوکہ کیا دکھانا ہے اور کتنا دکھانا ہے وہاں سوشل میڈیا پر موجود غیر منظم اور غیر تربیت یافتہ افراد کا قصور کچھ اتنا بڑا نہیں۔

زینب کے قتل اور اس کی نعش برآمد ہونے کے بعد جہاں قصور میں ہنگامے ہوئے، سوشل میڈیا پر قاتل کی گرفتاری کے لیے تحریک چلی، وہیں کچھ اور چیزیں بھی ایسی رونما ہوئیں جن کے سماج پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور آئندہ دنوں میں بھی ہوتے رہیں گے۔

سب سے پہلے تو پولیس اور مقامی حکام کی کارکردگی زیرِ بحث آئی جس کے نتیجے میں محکمہ پولیس کم از کم اس قسم کے کیسز پر مستعدی سے کام کرنے لگا اور ہم نے دیکھا کہ کچھ علاقوں سے ایسے کیسز رپورٹ ہوئے جہاں اغوا کی گئیں بچیاں بازیا ب کرالی گئیں‘ اللہ کرے کہ پولیس شرم کرتے ہوئے اپنی اس کارکردگی میں اضافہ کر ے کہ بیٹیاں توسانجھی ہوتی ہیں۔۔ آخر کوئی پولیس اہلکار یہ سوچ کر کیسے خاموش بیٹھ سکتا ہے کہ میری بیٹی تو محفوظ ہے۔

دوسری اور اہم بات جو ہوئی وہ بچوں کو آگاہی دینے کی تحریک سے ہوئی۔ ہمیشہ کی طرح دائیں اور بائیں بازو کے لوگ ایک دوسرے کے مدمقابل تھے‘ اور طرفین نے دلائل کے انبار لگادیے کہ آیا بچوں کو جنسی آگاہی دینے کا آغاز کم عمری سے کردینا چاہیے یا نہیں۔ اس معاملے میں سب سے اچھی بات جو میں نے دیکھی وہ یہ تھی کہ بہت سے ایسے افرادجو اپنےنظریات میں انتہا پسند سمجھے اور جانے جاتے ہیں وہ بھی یہی پکارتے نظر آئے کہ بچوں کو ان حقائق اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لوگوں نے کتابیں کھنگال ڈالیں اور مختلف مضامین لکھے۔

ہمارے معاشرےکا المیہ یہی ہے کہ یہا ں مسائل اور ان کے حل پر بات نہیں ہوتی۔۔ اچھی بات یہ ہے کہ زینب کےا س بہیمانہ قتل نے بات کرنے کے عمل کا آغاز کیا جس کے یقیناً مثبت نتائج سامنے آئیں گے‘ اب آتے ہیں زینب کے قاتل کی جانب۔ اگر ثبوت مل گئے ہیں تو یقیناً وہ ایک سخت اور عبرت ناک سزا کا مستحق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ پوری تندہی کے ساتھ زینب کے والدین کے ساتھ کھڑی ہوکر ملزم کو سخت ترین سزا دے کہ یہی انصاف کا تقاضا ہے۔

اب آتے ہیں ایک بار واپس سوشل میڈیا کی جانب‘ جہاں سے یہ سب شروع ہوا تھا۔ کل تحریک چلانے والے آج اس کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کررہے ہیں اور ان میں سے بیشتر ایسے ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ قاتل ان کے حوالے کیا جائے اور وہ از خود اسے سزا دیں۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کے لیے سطریں لکھی جارہی ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ باہر ہمارے جیسی لاکھوں کروڑوں آنکھیں ہیں جو عورتوں اور بچیوں کے جسموں کو چھید رہی ہیں‘ ہم سب اجتماعی گناہ گار ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے روبرو ایک زانیہ کو پیش کیا گیا اور مجمع نے ضد کی کہ اسے سنگسار کیا جائے‘ اللہ کے نبی نے کہا کہ ’’پہلا پتھر وہ مارے جس نے خود کبھی گناہ نہ کیا ہو‘‘۔ یہ کہنا تھا کہ سب شرمسار ہوکر گھروں کو لوٹ گئے اور میدان میں بس حضرت عیسیٰ ؑ اور وہ عورت باقی رہ گئے۔تو پھر بتایے صاحب ہم میں سے کتنے ایسے ہیں کہ جس نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ اگر ہم بہت ہی عمدہ اخلاق کے مالک ہیں تو کم از کم سطح پر بھی خود لذتی اور آنکھوں کو سینکنے کے مرض میں تو مبتلا ہوتے ہی ہیں‘ زینب کے قاتل کا محاسبہ تو اب شاید ریاست کر ہی لے گی لیکن یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے اپنے گریبان میں جھانکنےکا ہے۔ کیا ہم بطور معاشرہ خواتین کی عزت کرتے ہیں اور انہیں انسان تسلیم کرتے ہیں۔ ہم محض اپنے گھر کی عورتوں کو اپنی عزت تصور کرتے ہیں اور انہیں پردے میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ باہر ہمارے جیسی لاکھوں کروڑوں آنکھیں ہیں جو عورتوں اور بچیوں کے جسموں کو چھید رہی ہیں‘ ہم سب اجتماعی گناہ گار ہیں۔

ایک اور اہم بات یہ کہ ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے ارد گرد ایسے جرائم سے آنکھیں چرا رہے ہوتے ہیں جو ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئے ہوتے بلکہ پروان چڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اب زیادتی کے واقعات کو ہی دیکھ لیں۔ ہم میں سے اکثر جانتے ہیں کہ ہمارے ارد گرد کوئی شخص ایسا ہے جس کا اخلاق اچھا نہیں ہے ‘ وہ جنسی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناجائز اور غیر قانونی ذرائع استعمال کرتا ہے یا اس کی صحبت کو شرفاء کی صحبت نہیں کہا جاسکتا۔ ہم اگر ایسے کسی شخص کو جانتے ہوں اور اسے تنبیہہ نہیں کرتے یا معاشرے کو ا س شخص کے بارے میں ہشیار نہیں کرتے اور کل کلاں کو وہ کوئی ہاتھ دکھا جائے تو صرف مجرم وہ نہیں ‘ ہم بھی شریکِ جرم ہوں گے۔

ہمیں اپنا اور اپنے گرد و پیش کی اخلاقیات کا ایسے ہی خیال رکھنا ہوگا جیسے ہم دیگر معاملات کا رکھتے ہیں‘ ہم گلیوں میں گاڑیوں کی بیٹری چرانے والے کو تو گرفتار کرنے کے لیے مستعد رہتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے معاملے میں سستی دکھا جاتے ہیں جن سے ہمارے بچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اور اس رویے کی صرف ایک وجہ ہے۔ ہماری روایتی شرم ‘ کہ کیسے کہا جائے؟۔ صاحب اللہ نے جو منہ اور اس میں زبان عطا کی ہے اسے استعمال کریں اور کہیے۔ اگر آج نہیں کہیں گے تو کل بھگتنا ہوگا۔۔ برائی پر پردہ ڈالنا بھی جرم ہےاوریہ ایسا جرم ہے جو کبھی نہ کبھی پلٹ کر آپ کو ہی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: