زینب کی معصومیت کٹہرے میں! سمیع اللہ خان

0
  • 53
    Shares

ہماری عقل و فہم کو ہزار سلام۔ قصور میں ہوئی درندگی کے بعد ہم نے زینب کی معصومیت ہی کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ یعنی مقدمے کی بنیاد یہ بنی کہ جنس اور جنسی رویوں سے شناسائی ہی وہ دفاعی حصار ہے جس کے اندر ہماری زینب وعاصمائیں محفوظ رہ سکتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری معصوم زینب و عاصمہ کو جنسی ارادوں یا اشاروں سے ورغلایا گیا جن کو بھانپ کر جنت کی یہ ابابیلیں شور مچا دیتیں؟ یا ان کو کسی اور دھوکے اور فریب سے ورغلایا گیا ہوگا؟

کیا زینب نے اپنے اوپر حملہ آور درندے کے اصل ارادوں کو جاننے کے بعد خود کو بچانے کے جتن نہیں کیے ہونگے؟ یقیناً کیے ہونگے مگر مقابلہ شعور اور طاقت کا نہیں تھا بلکہ مقابلہ ایک ناتواں بچی اور ایک جنسی درندے کے درمیاں تھا۔ شعور نے بالیقین ہاتھ پاؤں مارے ہونگے مگر جن ہاتھوں سے واسطہ تھا وہ ایک یا ایک سے زائد درندوں کے ہاتھ تھے۔ ہماری بیٹی کے پاس نہ صرف یہ کہ شعور تھا بلکہ ڈر اورخوف بھی تھا۔ اس جنسی درندے کا ڈر، اپنی زندگی کا ڈر۔ مگروہ درندہ اگر محروم تھا توفقط خوف سے محروم تھا ورنہ جتنی رازداری اس درندے نے برتی تو اتنا شعور تو اس کو بھی تھا کہ اس کا یہ عمل ایک بدترین جرم ہے۔ مجرم کو اپنے فعل کی شناعت کا علم تھا جبھی تو اس نے جرم کا ہر نشان مٹانے کے لیے اُس معصوم کی زندگی کو مٹا ڈالا۔ مگر یہ شعور نہ زینب کے کام آیا اور نہ ہی اُس درندے کے۔ دونوں کے کام جو چیز آسکتی تھی وہ خوف کے علاوہ کوئی اور شے ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ خوفِ خدا کو ہم ویسے بھی ہر دل سے نکالنے پر تُلے ہوۓ ہیں رہا معاشرے اور قانون کا خوف تو وہ بھی خوفِ خدا کی طرح بے اثر ہے۔ سرکار کے سی سی ٹی وی کیمرے ہوں یا معاشرے کے، سب کے سب ہر واقعے اور ہر جرم کے عینی شاہد بن کر اپنے اپنے مشاہدے کو ریکارڈ کررہے ہیں۔ ہر نئے واقعے کی ریکارڈنگ کے بعد پرانا واقع ہمارے دماغوں اور ہارڈسکوں سے ڈیلیٹ ہوجاتا ہے۔ واقعات کی کثرت کے بعد ہمارے حافظوں کو ورغلانے کے لیے شعور کے پاس سو بھیس ہیں جو ہمہ وقت بدلتے رہتے ہیں۔

آپ جنس کو کسی بھی ڈسپلن میں لانے کے مخالف ہیں۔ آپ جنس کو محض ایک تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

اب آپ کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ بچوں کی معصومیت ہے یعنی اگر بچے کو معلوم ہو کہ جنسی جذبے سے مغلوب کسی بھی اشارے یا لمس سے ان کو واسطہ پڑے تو وہ نہ صرف یہ کہ اس پر احتجاج کریں بلکہ اس کا اعلان بھی کریں۔ یہاں تک تو یہ بات درست ہے مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب آپ بچوں کی معصومیت سے کسی راسپوتین کو زیر کرنا چاہیں۔ بچوں کی معصومیت کو فریب دینا شاطر اورعیارعادی مجرم کے لیے کونسا اتنا مشکل کام ہے؟ کیا اکثر یہ نہیں ہوتا کہ ہماری بالغ اور جہان دیدہ اکثریت کا شعور کسی جھانسے اور بلیک میلنگ کے نتیجے میں کسی نہ کسی درندے کی انگلی پکڑ کر خاموشی سے اپنے انجام سے باخبر، کسی مقتدر کا ایک آسان شکار بن جاتا ہے؟

قصور واقعے کی بربریت کے ہنگام جنسی تعلیم کا نعرہ بلند کرنا کسی باشعور کے شعور ہی کا ترتیب دیا گیا فریب ہوسکتا ہے وگرنہ خوفِ خدا اگر ہوتا توہم یہ بحث چھیڑ کر انتظامیہ کی عشروں پر محیط نااہلی اور بے حسی سے توجہ نہ ہٹاتےاور مجرم کا پیچھا کرنے کے بجاۓ عوامی بیداری کو یوں اپنے دیرینہ ایجنڈوں کے زیرِ اثر تقسیم نہ کرتے۔ آپ نے دیکھا کہ عوامی راۓ عامہ نے کروٹ لی ہے تو آپ نے کوشش کی کہ یہ بیداری کروٹ بدل کر سوجاۓ۔

آپ جنس کو کسی بھی ڈسپلن میں لانے کے مخالف ہیں۔ آپ جنس کو محض ایک تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جس طرح لذتِ کام و دہن کے لیے ہم نے نت نۓ ذائقے متعارف کراۓ ہیں اور آۓ روز کراۓ جا رہے ہیں تاکے ہر ذوق اور ہر جیب رکھنے والے کی سیری ہومگر وہ چسکا ہی کیا جس کو قرار آجاۓ۔ بالکل اسی طرح ہم جنسی آزادی کے زیر اثر اپنے ذوق کی تسکین کے لیے ہروہ راستہ اختیار کر رہے ہیں جس پر چل کر سواۓ فرسٹریشن اور فطرت کے بگاڑ کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ مگر آپ تو فطرت کے بگاڑ کے بھی قائل نہیں، جب ہم جنس پرستی ایک فطری تقاضہ ہوسکتا ہے تو پھر آپ ہی کے اصولوں کی روشنی میں بچوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی ممانعت کیوں؟ اگر آپ کو اعتراض اس بات پر ہے کہ بچوں کی عمر، ان کا شعور اور ان کی مرضی آڑے آتی ہے توجن بچوں میں نوعمری ہی میں جنسی خواہش پیدا ہوتی ہے یا ان میں جنسی خواہش کو ابھارا جاتا ہے اور ان کو جنسی تعلیم کی فراہمی کے بعد ہمارے قرار دیے گۓ صحیح اور غلط کا بھی ادراک ہو اور اس کے باوجود وہ اپنی رضا مندی سے بڑی عمر کے کسی فرد سے جنسی تعلق قائم کریں تو مجھے اور آپ کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ لیکن یہاں پر آپ وہ پوزیشن لیتے ہیں جو آپ مولوی کے خدا کو دینے کے لیے تیار نہیں یعنی بچوں کا اچھا برا آپ بہتر سمجھتے ہیں وہ خود نہیں اس لیے آپ ان کے لیے ضابطے بناتے ہیں۔ اُن کی تعلیم اور تربیت آپ اپنا فرض سمجھتے ہیں کیونکہ آپ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ یہ سب آپ اس لیے کرنے میں آزاد ہیں کیونکہ وہ آپ کی خدائی میں جی رہے ہیں۔ آپ ان سے ان کی راۓ لینے کے بھی روادار نہیں کیونکہ وہ نا سمجھ ہیں معصوم ہیں باوجود اس کے کہ آپ ان کو جنسی شعور سے مالامال کرچکے ہیں مگر پھر بھی آپ ان کی حفاظت کی خاطر ان کے گرد ایک دائرہ کھینچتے ہیں کہ خبردار جو اس سے ایک قدم بھی باہر نکلے۔ بس اتنی سی بات ہے سمجھنے کے لیے کہ اپنی جگہ خدا کو اور بچوں کی جگہ مخلوق کو رکھ کر سوچیں تو مولوی کا خدا بھی سمجھ آجاۓ گا اور مولوی کا اسلام بھی۔ اور یہ بات بھی کہ جنسی عمل ذمہ داری سے مشروط ہے۔ چاہے آپ ان ضابطوں کا، جو کہ جنسی رویوں کو ایک ڈسپلن میں رکھنے کے لیے خدا نے مقرر کیے ہیں، احترام کریں یا نہ کریں جزا اور سزا یقینی ہے بالکل اسی طرح جس طرح آپ معصوم زینب اور عاصمہ کے ساتھ درندگی کرنے والوں کے لیے تجویز کر رہے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں پر آپ بھی بے مہار جنسی آزادی کے مخالف ہیں اور مولوی کا خدا بھی مگر یہیں پر آپ ناانصافی یہ کرتے ہیں کہ اپنا اختیار منوانے کی کوشش کرتے ہیں اور خدا کے اختیارکا انکارکرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: