اسلامی تصور جہان اور جدید سائنس (جز اول) — حسین نصر/ تدوین: اطہر وقار عظیم

1
  • 116
    Shares

یہ مضمون حسین نصرکے ایک خطبے (جو انہوں نے بین الاقوامی کانفرنس برائے سائنس، کے دوران دیا تھا) میں پیش کیے جانے والے خیالات سے ما خوذ ہے۔ پروفیسر نصر اور انکی فکر کا مختصر تعارف مضمون کے آخر میں دیا گیا ہے۔


دورحاضر میں مسلم معاشروں میں، اسلامی (تعلیمات) اور جدید سائنس (بالخصوص جدید ٹیکنالوجی) میں مثبت تعامل، ان پیچیدہ مسائل میں سے ایک ہے، جس کا سامنا پچھلے دو سو سالوں سے مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 19ویں صدی عیسوی میں، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے مسلم معاشروں میں انجذاب، مسلمان دانشوروں اور مفکرین میں،فکری مباحث کا ایک اہم موضوع رہا ہے، اور یہ سلسلہ اب 21ویں صدی میں بھی جاری و ساری ہے، اگرچہ، اب اسلامی دنیا اور جدید مغرب کے مابین،جدید ذرائع مواصلات اور آمد و رفت کے وسائل ایجاد ہونے سے، جہاں فکری تعامل کے نئے واقع میسر آئے ہیں، وہاں یہ بحث اور زیادہ شدت اختیار کرگئی ہے کہ آخر کس انداز سے، جدید سائنس اور اسلامی تصور جہاں کے مابین مثبت بلاغ قائم کیا جاسکتا ہے؟

جب 19ویں عیسوی میں، عرب دنیا میں اصلاحی، سیاسی اور علمی تحریکیں (نہدی تحریک) برپا کی گئیں اوراس سے ملتی جلتی اسلامی تحریکیں ایران (فارس)، ترک اور برصغیر پاک و ہند میں چلائی گئیں۔ یہاں ُان تحریکوں کے بانیان میں، جمال الدین افغانی، سرسید احمد خان، ضیا گولپ اور ڈاکٹر محمد علامہ اقبال، جیسی قدآور شخصیات تھیں، حتیٰ کہ عرب دنیا میں، سلفی تحریک کے پیروکار بھی، ان اصلاحی تحریکوں سے متاثر ہوئے۔ حالیہ وقتوں میں بھی، مصر کی الازھر جامعہ کے مختلف شیوخ اور جدید سائنس کے مسلم سائنسدانوں اور دیگر طبیعات (عبدالسلام) کے افکار، ان اصلاحی و تعلیمی تحریکوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ 19ویں اور 20ویں صدی میں،ان علمی و سیاسی اصلاحی تحریکوں کے بانیان کی، مغربی سائنس (اور کسی حد تک ٹیکنالوجی) سے دلچسپی،فکری اور مذہبی سطحوں پر مختلف چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے، قومی اور سیاسی آزادیوں کے حصول کے حوالے سے تھی۔ لیکن قومی آزادی کے بعد بھی، ان ملکوں میں مسلم حکومتوں (ریاستوں) کی دلچسپی کا محور، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا حصول ہی رہا۔ کیونکہ وہ اسے (مادی) طاقت کے حصول، کا ذریعہ سمجھتے تھے اوراسے معاشی دولت اور عسکری طاقت حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ضرورت سمجھتے تھے۔

اس کے برعکس وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ حکمت عملی، حکمت الٰہیہ (Divine Wisdom) پر مبنی نہیں تھی۔ کیونکہ اس حکمت عملی کے تحت، جہاں مسلم تجدد پسندوں (Modernists) کے لشکر نے، جدید مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی کی مداح میں مغلوبانہ ذہنیت کے ساتھ بنیاد پرستانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے، اندھادھند جدید سیکولر سائنس کے حصول کی ترغیب کی خاطر، انتہائی غلط انداز میں جدید سائنسی علوم کو قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور اسلامی تاریخی دور میں موجود اصطلاح ’’العلم‘‘ کے مترادف قرار دینا شروع کردیا (حالانکہ اسلامی تاریخ میں ’’العلم‘‘ کا مفہوم، اکثریتی طور پر آیت اللہ کی گہرائی کے ساتھ، تفہیم اور خالق کائنات کے ساتھ مخلوق کے آفاقی تعلق کی نوعیت کی وضاحت و تشریح اور انسانی روح و جسم کے تزکیے جیسے اعلیٰ و ارفع مقاصد میں مددگار ذریعے کے طور پر موجود تھا)۔ لیکن اب اس ’’العلم‘‘ کو محض مادی غلبے اور تسخیریت کے ذریعے طاقت کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیا گیا، جس کے بل بوتے پر مختلف نسلی اور مذہبی گروہوں کو، طاقتور اقوام کی طرف سے، معاشی ذہنی و فکری غلام بنایا جاتا ہے، جیسا کہ

کی حالیہ تاریخ میں واضح نظر آتا ہے اور جس کی پیروی، آج کے تجدد پسند مسلمان مقلدبھی اندھادھند کررہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی، مذہبی اور فقہی اختلافات ہونے کے باوجود ہمیں، مسلم معاشروں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی اندھادھند توصیف کی مد میں، تقریباً پرستشانہ انداز میں کلُی اتفاق نظر آتا ہے اور یہ یقین، اُس وقت ’’ایمان‘‘ کا درجہ حاصل کرلیتا ہے، جب کوئی تجدد پسند مسلم دانشور، دیکھتا ہے کہ کسی لڑائی یا جنگ میں ایک طرف (سائنس اور ٹیکنالوجی سے لیس، غیر مسلم فریق) تقریباً 60 افراد مارے گئے ہیں، جبکہ دوسری طرف بظاہر ’’سائنسی پسماندگی‘‘ کے حامل ہزارہا مسلمان جاں بحق ہوگئے ہیں، جس کی عملی مثالیں، ہمیں بوسنیا سے لے کر چیچنیا، کشمیر سے لے کر فلپائن، افغانستان سے لے کر فلسطین و عراق اور حالیہ شام و لیبیا میں نظر آتی ہے، جہاں مسلمان ہمیشہ دفاعی حالت میں رہے ہیں، اور دوسرے ظالم فریق کی طرف سے،مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔
لیکن یہ بھی عجب المیہ ہے، کہ ہم (مسلمان) جوں جوں سیکولر جدید سائنس و ٹیکنالوجی کو گلے لگانے کی کوشش کرتے ہیں، توں توں ہم اور زیادہ مغربی طاقتوں کے فکری و فنی لحاظ سے دست نگر بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے اس تنزلی کے سفر میں، چند سنجیدہ کار مسلمان دانشور، اب یہ سوچنے لگے ہیں کہ جدید مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی کی اندھادھند تقلید چاہے، ظاہری جذباتی طور پر مسلم معاشروں کی حالیہ ضرورتوں کو پورا کرنے میں، کتنی ہی سہولت کیوں نہ فراہم کرتی ہو۔ تب بھی ہمیں جدید سائنس اور اسلامی تناظر جہاں (World View) کے مابین ’’مثبت‘‘ یا منفی تعلق کو سچائی کے ساتھ سمجھنے کے حوالے سے غفلت نہیںبرتنی چاہیے، کیونکہ یہ (الحق) آفاقی سچائی ہی ہے، جو کہ بالآخر انسانی معاشروں میں باقی رہتی ہے،یوں اس لیے، مسلمانوں کو ’’سہولت‘‘ کا علم بردار بننے کے بجائے، عدل و انصاف، حق اور سچ کا علمبردار بننا چاہیے اور یہ کہ معاشرے یا سیاست کے چلن کے بجائے، آفاقی و الہامی جنتوں کے زیرسایہ اپنی عارضی دنیاوی زندگی بسر کرنیں چاہئیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں سورہ بنی اسرائیل (اسراء) میں بھی ارشاد ربانی ہے:
وَقُلْ جَآئَ الْحَقَّ وَزَھَقَ الْبَاطِلْ اِنَّ الْبَاطِلَ کَان زَھُوقًا (۸۱)
اور کہیے! حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔

جدید سائنس پر تنقیدی نوٹ:
یہ نہایت ضروری ہے،کہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو اسلامی تناظر جہاں کے حوالے سے گہرائی سے سمجھا جائے، اور اس پر تنقید، اسلامی تصورحیات و ممات اور مشاہدہ کائنات کے لحاظ سے کی جائے۔ لیکن یہاں اس سے یہ مراد، بھی نہیں ہے کہ محض ظاہری مفہوم کو دیکھتے ہوئے، قرآن پاک کی مختلف آیات اور مغربی سائنس کے ’’ازم‘‘ اور تصورات کو، یکجا کر دیا جائے، جیسا کہ پچھلے دو سو سالوں سے مسلم معاشروں میں کیا جارہا ہے، بلکہ اس کے بجائے، یہ تنقید اسلامی فکری روایت کی روشنی میں ہونی چاہیے،اور اس تنقید کو تمام تر شعبہ جات ہائے زندگی سے اخذ کیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ ہمارے علمی اکابرین، ماضی میں ایک ہزار سال پہلے کرتے تھے۔ جس کے تحت کسی بھی اسلام سے اجنبی، تہذیبی، ثقافتی، علمی یا فنی نظریے، کو اسلامی مشاہدہ کائنات، تناظر جہاں اور تصور حیات و ممات کی چھلنی سے گزار کر، اُس سے مطلوبہ حکمت الٰہیہ، کشید کرلی جاتی تھی۔ یوں یہ تعبیر، نہ تو جدیدیت زدہ ہوتی تھی، نہ ہی محض، کلامی مباحث اور فقہی فرقہ واریت پر مبنی ہوتی تھی۔

سب سے پہلا رویہ، جو کہ اسلامی دنیا کی طرف سے، ایک اجتماعی متفقہ موقف کے طور پر اپنایا گیا ہے اور منفی نوعیت کا بھی ہے، وہ یہ کہ ہم نے بحیثیت مجموعی، مغربی تصور سائنس کے ناقدانہ انداز سے سنجیدہ مطالعہ سے انکار کر دیا ہے، اگرچہ زیادہ تر یہ رویہ، اُس احساس کمتری کا نتیجہ ہے،جس کے تحت عمومی طور پر، جدید مغربی اور سیکولر سائنس کو اسلامی تصور جہاں پر مبنی سائنس کی ترقی یافتہ صورت، اور جاری و ساری رہنے والے مرحلے کے طور پر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ یوں اس فکر کے تحت ہر قسم کے فکری تناظراتی تفہیم (Paradigm) میں تبدیلی اور سائنسی اور صنعتی انقلاب کے دوران، سائنسی فلسفے میں تغیر کے امکان کو رد کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ سولہویں صدی عیسوی سے بیسویں صدی عیسوی تک، سائنسی فلسفے میں جوہری تبدیلی، واقع ہوئی ہے۔ جس کے تحت نہ صرف،اُن امتیازی رجحانات سے پہلوتہی کی جاتی ہے، جو کہ اسلامی سائنس اور جدید سائنس کے مابین، حد فاضل قائم کرتے ہیں،بلکہ مغربی سائنس کی، نشاۃ ثانیہ سے پہلے اور ازمنہ وسطیٰ کی (مذہبی، مسیحی) سائنس، جو کہ 5ویں صدی عیسوی سے 15وی صدی عیسوی تک مغرب میں موجود تھی۔ اُس کے جدید سائنس کے حوالے سے پائے جانے والے، فکری تفاوت سے بھی پہلوتہی برتی جاتی ہے۔ اس پر مستزاد، یہ امر حیران کن ہے،کہ ان میں کچھ تو صرف جدید سائنس کو اسلامی سائنس کے مساوی ہی قرار نہیں دیتے، بلکہ مغربی سائنسی فلاسفی کو، واحد سائنسی (علمی) کسوٹی کے طور پر پیش کرتے اور فروغ دیتے ہیں،حالانکہ سب پر واضح ہے کہ جدید سائنسی فلاسفی، تشکیکی نظریات پر مشتمل ہے،جس پہ خود مغرب میں کئی مفکرین نے سنجیدہ تنقید کی ہے اور خود اہل مغرب بھی اب اسے چھوڑتے جارہے ہیں۔ لیکن یہاں ہمارے تجدد پسند مسلمان اس بیمار فکر کو فخراً اپناتے ہوئے، اسلامی سائنسی فلاسفی کی تشریح و توضیع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

دوسرا اہم نقطہ، جدید سائنس اور اُس سے جڑے اقداری نظام کے مابین، تعلق و تعامل کی وضاحت کے حوالے سے ہے، جس کے تحت جدید سائنس سے اخذ کی جانے والی اقدار اور اقداری نظام پر یقین استوار کیا جاتا ہے، اس فکر کے تحت جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے اندھے مقلدین کا دعویٰ ہے، کہ جدید سائنسی اقدار، غیرجانبدار (نیوٹرل) اور فطری ہیں، حالانکہ اس فاش غلطی کو کرتے ہوئے یہ دانشور جہاں، ایک طرف مغربی فلاسفرز اور مغربی سائنس کے حوالے سے، خود مغرب میں ہونے والی تنقید سے لاعلمی کا ثبوت پیش کررہے ہوتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ، اپنی خودساختہ جہالت کا، پردہ فاش بھی کر رہے ہوتے ہیں، جس کے تحت ناقابل تردید دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ جدید سائنس بھی دیگر (سائنسی علوم) کی طرح ایک مخصوص فکری نظر رکھتی ہے اور یہ اپنا ایک مخصوص تصور جہان اور حیات و ممات رکھتی ہے، جو کہ اُن مخصوص مفروضات (نظریات) پر مبنی ہے، جس کے تحت، فطرت (انسانی و کائناتی) کو، محض ایک طبیعی (مادی) حقیقت کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ صرف بیرونی حقائق کو، جزوی طور پر جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے اور اس کے مابین ظاہری تعلق کی بھی وضاحت کرتی ہے۔ حالانکہ اس کے برعکس ہمیں جدید سائنس کا موازنہ، لازماً اسلامی تناظر جہاں، اور مشاہدہ کائنات کے حوالے سے، کرنا چاہیے تھا، تاکہ مسلمانوں پر عیاں ہوسکے کہ حقیقتاً وہ اقداری نظام اور فلاسفک مفروضات کون سے ہیں، جس پر مغربی تصور حقیقت اور فطرت کو استوار کیا گیا ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں اسلامی اقداری نظام اور تصورفطرت (انسانی و کائنات) کافی حد تک مختلف اور مخالف سمتوں میں ہیں۔ دراصل اسلامی تصور حقیقت و کائنات، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ الہامی علم (وحی) کے ماتحت ہے، لہٰذا یہ محض اکتسابی انسانی علوم کی مختلف اشکال و توضیحات پر مبنی نہیں ہے، بلکہ یہ جدید سائنس ہی ہے، جو عقلیت پسندی پر مبنی فکر کے تحت، محض عقل انسانی اور حواس خمسہ کے مشاہدات (تجربیت) کے علاوہ، کسی دوسرے ذریعۂ علم (وحی) کو معتبر ذریعہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تجدد پسند دانشور، اور ان کے ہمنوا دیگر غیرمسلم زعماء کی طرف سے، جدید سائنسی (طبیعاتی و حیاتیاتی) کو عالمگیر (آفاقی و کائناتی) سائنس (علم) کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ اس سائنس کی بنیادیں، مخصوص مشاہدہ کائنات اور فلسفہ حیات کے تحت استوار کے گئے، اقداری نظام کے ساتھ ہیں، جس کا کلیُ تعلق یورپی تاریخ کے ساتھ ہے،نہ کہ عالمی انسانی تاریخ کے ساتھ ہے، یہی وجہ ہے کہ بوئنگ جیٹ طیارے (747) کو بھی اس لیے ’’آفاقی‘‘ نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ یہ ٹوکیو، بیجنگ، اسلام آباد یا تہران میں لینڈ کرتا ہے۔ اس کے بجائے یہ اُس ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت فطری طاقتوں اور ماحول کے انسانی حوالوں کے ساتھ، ایک مخصوص تناظر کے تحت وضاحت کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ، یہ انسان کے بارے میں بھی ایسے نقطہ نظر کو فروغ دیتیں ہیں،جس کے ذریعے، جدید مغربی طاقتیں،اپنی عالمگیر حیثیت کو مزید فروغ دینا، چاہ رہی ہوتیں ہیں اور اس مقصد میں کامیابی کے لیے، وہ اس کے بالمقابل، تمام تناظرات کو مٹانے کی کوشش کر رہیں ہوتی ہیں۔ یقینا ان کے اہداف میں، اسلام بھی شامل ہے، اسلیے، جدید سائنس اور اُس کے جڑا فلسفہ بھی دیگر مذاہب بالخصوص اسلام کے لیے، بڑا چیلنج ہے، کیونکہ اسلام کا تصورحقیقت، تناظر جہان اور مشاہدہ کائنات، محض مجرد انسانی عقل پر مبنی ہے بلکہ وحی الٰہیہ اور وجدان (الہام) خداوندی پر مشتمل ہے۔ اس لیے،جدید سائنس پر بنیادی تنقید اور اس کے مطالعے میں، ہمیں اس تناظر کو لازماً مدنظر رکھنا چاہیے، کیونکہ بحیثیت مسلمان، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جدید سائنس کا مطالعہ، اُن کے تناظر جہان کے پس منظر اور سیاق و سباق سے جڑے فکری اصولوں اور ماخذات کے لحاظ سے کریں، اور پھر معتبر اسلامی تناظر کے پس منظر میں، ان اصولوں پر جرح و تنقید کریں۔

یہ حقیقت بھی، ہر گزرتے دن کے ساتھ واضح ہو رہی ہے کہ اخلاقی اقدار کی بنیاد کا براہ راست تعلق، سائنسی اخلاقیات کے ساتھ بھی ہے۔ بہت سے لکھنے والوں نے انفرادی سائنسدانوں کے غیراخلاقی رویے کو واضح کیا ہے اور ہمیں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جدید سائنس پرغیر اخلاقی رویے اپنانے کی ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی اور بذات خود سائنس، کسی اخلاقی رویے کو فروغ نہیں دیتی۔ بلاشبہ بہت سے مخلص عیسائی، یہودی اور مسلمان سائنسدان مغرب میں موجود ہیں، جیسا کہ مسلمان بدھسٹ اور ہندو سائنسدان مشرقی ممالک میں موجود ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اخلاقی رویوں کا کسی مخصوص مذہبی شناخت پر انحصار اُن تمام صورتحالوں میں نہایت کم رہ جاتا ہے۔ خاص طور پر، جب جب جدید سیکولر سائنس سے جڑی اقدار و اخلاقیات،کی شعوری و لاشعوری طور پر پرستش کی جائے۔ مثلاً ذاتی تجربے کے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ میں اپنی نوجوانی میں بہت سے ایسے اخلاقی سائنسدانوں کو جانتا ہوں جنہوں نے بعد میں، ایسے بم (نیوکلیئر) بنانے میں مدد کی تھی،جس کی مدد سے 70سال پہلے دو لاکھ انسانوں کو، دو دنوں میں جاپان میں ہلاک کردیا گیا۔ جبکہ نازی دور میں،نام نہاد جرمن اخلاقی سائنسدانوں کے ہاتھوں برپا ہونے والے انسانی المیے، اس کے علاوہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی عملی زندگیوں میں عاجزی کا مظاہرہ کرنے والے یہ سائنسدان، جو اپنے پائوں کے نیچے کسی چیونٹی کو کچلنا یا مسلنا بھی پسند نہیں کرتے، لیکن انہوں نے بہت سی خدائی تخلیقات (مخلوقات) کو صفحہ ہستی سے مٹانے (ختم) کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ علم اور اس کی اطلاقی صورتوں سے، اخلاقی ذمہ داریوں کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ جدید سائنس نے فطرت کے دیگر تناظرات کو تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے، جس کے اس تحت، مذہبی علوم کی صداقتوں (سچائیوں) کو شاعری، حکایت حتیٰ کہ توہم پرستانہ عقائد (Dogma) کہہ کر بے توقیر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں مذہبی علم کو ’’فطرت (انسان و کائنات) کے علم کے قلعے‘‘ کی حیثیت سے محروم کردیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ، اگر اب مغرب میں جو کچھ اخلاقی بچا ہے وہ اُس ابراہیمی، مذہبی روایات کی باقیات ہیں،جو کہ کئی لحاظ سے اسلام کے اخلاقی اصولوں اور تعلیمات کے قریب تر ہیں۔ ابراہیمی روایت کے علم فطرت کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے،جدید مغربی سائنس نے، ایک ایسے رویے کو فروغ دیا ہے، جس کے تحت ہرگزرتے دن کے ساتھ آفاقی حقائق کے ساتھ جڑا، اخلاقی و تاریخی ورثہ، زنگ آلود ہو رہا ہے۔ یوں جدید دنیا میں، علم کا آفاقی حقیقت کے ساتھ، معروضی تعلق بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ لیکن وہاں یہ صورتحال، مسیحیت کی مذہبی روایت میں، کمزوری کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے،جس کے تحت، مسیحی مذہبی اور اصلاحی تحریکوں کے ذریعے، سیکولر سائنسی فلاسفی کو،مسیحی مذہبی کلام کے ساتھ، ہم آہنگ کرنے کی مصنوعی کوشش کی گئی۔ یہی رویہ، اسلامی مذہبی عقائد اور روایت کے ساتھ، تجدد پسندوں کی طرف سے بھی کرنے کی کوششوں کے ضمن میں بھی، نظر آتا ہے،حالانکہ یہ رویہ، اُس سطحی اور مغلوبانہ سوچ کا نتیجہ ہے،جس کے تحت،مغربی فکری فلاسفی اور سائنسی تاریخ کا،کم تر درجے کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے اس قسم کا مطالعہ اور ردعمل کا مظاہرہ،مسلم دنیا کے بہت سے ملکوں میں، تجدد پسند مسلمانوں کی طرف سے کیا جارہا ہے۔

حالانکہ اب ہمیں ایسی مثبت اسلامی تنقید کی ضرورت ہے،جو کہ، ایک طرف ٹھوس علم پر مبنی ہو نہ کہ محض جذباتی نعرے بازی پر، جو ہمیں نہ صرف یہ بتائے، کہ جدید مغربی سائنس میں ہماریلیے کیا کچھ ہے؟ (جیسا کہ اس کے بہت سے پرزور وکیل دعویٰ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں) بلکہ یہ بھی بتائے کہ مغربی سائنس کیا کچھ نہیں ہے۔ جس کے ذریعے، ہمیں یہ آگہی ہوسکے کہ جدید سائنس، واحد فطری نظم و نظام کی وضاحت کرنے والی سائنس (علم) نہیں ہے،بلکہ یہ محض فطری علم (سائنس) کا ایک تناظر ہے،جو کہ اپنے مخصوص مفروضات کے دائروں میں ’’ثبوتوں‘‘ کے ساتھ قائم ہے اور یہ مفروضات، اُن معروضی معلومات اور تفکری تفصیلات پر مبنی ہیں،جن کا مغرب سے تعلق ہے،چنانچہ مسلمانوں کو لازماً اپنے روایتی اسلامی تصور تفکر کو برقرار رکھتے ہوئے، ایسے گردوپیش کو تخلیق کرنا چاہیے، جہاں اسلامی تصور فطرت اور تصورحقیقت کو فروغ دیا جاسکے،جس میں اسلامی تصور اخلاق، براہ راست اثرورسوخ رکھتا ہو، لیکن یہاں اسلامی روایتی تصورجہاں کی وضاحت کرتے ہوئے، ہمیں جدید سائنس کے قائم شدہ مفروضات کو یکسر مستردبھی، نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے ناصرف انتہاپسندی کو فروغ ملے گا، بلکہ پیچیدہ مسائل کے سادہ سے حل، جو بظاہر مذہبی اور خوشنما دکھائی دیتے ہوں گے، وہ بھی اور زیادہ لامذہبیت کی قبولیت کاداعیہ، مسلم معاشروں میں پیدا کرتے رہیں گے، یوں مسلمان اسلامی تصورجہاں کے بجائے، جدید سائنس سے اخذ شدہ تصورفطرت، جہان اور حیات و ممات کو فروغ دینے لگیں گے۔ جو بظاہر تو، مادی طور پر مسلم ملکوں کو طاقتور امیر قومی ریاست بنانے والا اقدام ہوگا، لیکن اسلامی اجتماعیت اور اسلامی اخلاقیات کو پارہ پارہ بھی کرنے پر مصر ہوگا۔ اس لیے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ اس بیماری نے نہ صرف مغربی مسیحیت کو، بلکہ تجدد پسند مسلمانوں کو بھی اس روش کا شکار کرکے، اُن کے اپنے عظیم روحانی و اخلاقی ورثے کے خزینے سے بے اعتنائی برتنے پر مجبور کردیا ہے، اور یوں وہ ’’سائنسی تصور جہاں‘‘ کی قبولیت کے نام پر،کہیں مارکس ازم کو مذہبی نظریے کی حیثیت دے رہے ہیں یا پھر کہیں سیکولرازم اور نیچریت (فطرت) کا علم بلند کیے ہوئے ہیں اور کہیں بنیاد پرستانہ،کہیں سیکولر تحریکوں کی کان کا نمک بن کر،معاشرے میں انتہاپسندانہ رویوں کو فروغ دے رہے ہیں اور دوسری طرف، ان رویوں نے مغرب میں بھی، مذہب مخالف طاقتوں انسان پرستوں (Humanists) اور سیکولرز کو متحد کردیا ہے۔

آخر میں جدید سائنس کے اس رویے پر ٹھوس تنقید کی ضرورت ہے،جس کے تحت سیکولر سائنس نے، ایسے ذہنی گرد و پیش اور ماحول کو، تخلیق کیا ہے جس کے تحت، خدا (اللہ کی ذات و صفات) اور عقیدہ آخرت (معاد) غائب (معدوم) ہوکر رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ، اس فکری رجحان کے تحت، آہستہ آہستہ اب اسے غیرحقیقی قرار دے دیا گیا ہے، اگرچہ بہت سے جدید مغربی دانشوروں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، کہ جدید سائنس مذہب مخالف نہیں ہے، کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ کی (ذات) کے امکان کو کلیتاً مسترد نہیں کیا گیا۔ اگرچہ بہت سے مسلمان، اُن کی ہمنوائی میں یہ دعویٰ کرتے ہوئے ضرور نظر آتے ہیں، لیکن اس قسم کی مباحث میں، جدید سائنس کے بجائے محض مذہبی اصولوں اور تصور حقیقت پر دبائو ڈالا جاتا ہے،کہ وہ اپنے عقائد اور اعمال میں تغیر پیدا کریںاور تبدیلی کی گنجائش پیدا کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بالخصوص وحی پر مبنی علم کی جگہ، فطری حقائق (Facts) کو قرار دینے کی کوششوں کا سلسلہ، گزشتہ چار سو سالوں سے جاری ہے اور جدید سائنس کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ، ان رویوں میں بھی، اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سائنسی فلسفے پر سنجیدہ تنقید کرنے کے بجائے، مذہبی آفاقی صداقتوں کو کونے کھدرے میں پھینک دیا گیا ہے۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔


سید محمد حسین نصر: تعارف و افکار

محترم اسلامی سکالر، سید محمد حسین نصر 7اپریل 1933کو تہران میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بعد امریکہ، نیو جرسی سے ہائی سیکنڈری اور 1950میں  گریجوئیشن کی۔ بعد میں MIT سے تحصیل علم کا موقع ملا۔جہاں انہیں Giorgio de Santillana اور دیگر مکتب روایت سے جڑے صوفی اور بزرگ شخصیات کی تحریریں پڑھنے کا موقع ملا۔ ان میں سب سے نمایاں نام، فرتھ جوف شواں (جن کا اسلامی نام شیخ عیسیٰ نور الدین احمد العلوی ہے) کا ہے، فرتھ جوف شواں کی فکر نے، سید محمد حسین نصر کی، آئندہ زندگی کا رخ متعین کیا۔ پروفیسر نصر نے فرتھ جوف شواں کی شاگردی اختیار کی اور یہ سلسلہ 50سال تک جاری رہا۔ MIT سے گریجوئیٹ کرنے کے بعد، آپ نے1956میں ارضییات اور جیو فزکس میں ماسٹر کی ڈگری بھی حاصل لی۔ لیکن اس کے آپ نے پی ایچ ڈی PhDُ کی ڈگری کے لئے طبییعات کی بجائے سائنس کی تاریخ ــ جیسے مضمون کا انتخاب کیا اور ڈاکٹریٹ کے لئے معروف تعلیمی ادارے ہارورڈ چلے گئے اور محض 25 سال کی عمر میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ دوران تعلیم ہی ہارورڈ یونیورسٹی میں تدریس شروع کر دی تھی اور محض30سال کی عمر میں آپ مکمل پروفیسر بن چکے تھے۔

بعد میں آپ واپس اپنے وطن ایران آئے اور تہران یونیورسٹی میں پروفیسر کی حثییت سے کام شروع کیا۔ سال1972 میں تہران میں آریا مہر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ 1970کی دہائی میں ملکہ ایران فرح پہلوی نے انہیں شاہی (Imperial) اکادمی برائے فلاسفی (ایران) کا سربراہ مقرر کیا۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی منفرد درس گاہ تھی، جہاں اسلامی فلسفے اور مکتب روایت کی تدریس عصر حاضر کے تناظر میں دی جاتی تھی۔

انقلاب ایران کے بعد آپ کو واپس امریکہ آنا پڑا۔ یہاں کچھ عرصہ انہوں نے ایڈن برگ اور ٹمپل یونیورسٹی میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور بالآخر سال 1984 سے جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے منسلک ہو گئے۔ جہاں وہ گزشتہ 30سالوں سے اسلامی علو م کے پروفیسر کی حثییت سے کام کر رہے ہیں۔ سید محمد حسین نصرکو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلے غیر مغربی مسلمان سکالر ہیں جنہوں نے (Grifford lectures) گریفورڈ لیکچرز (خطبات) دیے ہیں۔

سید محمد حسین نصر پچاس سے زائد کتب کے مصنف ہیں اور اسلامی سائنسز، اسلامی فلسفہ، صوفی ازم، شاعری، ماحولیات اور اسلامی مابعد الطبیعات کے حوالے سے سیکڑوں مقالات تحریر کر چکے ہیں۔

جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ان کی سوچ کا خلاصہ، درج ذیل نقاط میں یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے:

1۔ جدید (مغربی) سائنس اس کائنات میں موجودہ فطری نظم (order) کی وضاحت کرنے والی واحد ‘‘سائنس‘‘ نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ محض فطری سائنس کی، ایک ممکن اور جزوی تعبیرو تفسیر ہے،جو کہ اپنی طرف سے طے کردہ مفروضاتی نظام کے دائرہ کار میں کام کرتی ہے۔

2۔ اسلامی تہذیب، مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کی دوڑ میں، اس وقت تک ہم پلہ نہیں ہو سکتی،جب تک وہ خود کو تباہ وب رباد نہ کر لے۔ کیونکہ جو، اہل فکر و نطرحضرات، اسلام کی مذہبی فکر اور جدید سائنس کی ماہیت (فطرت) سے واقف ہیں،وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جدید سائنس اور اسلامی تصور جہاں کے مابین،براہ راست تصادم کی کیفیت موجود ہے ۔

3۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نہ تو غیر جانبدار ہے اور نہ ہی کسی اقداری نظام سے آزاد (نیوٹرل) ہے۔لہذا یہ سائنس بھی، لازما اپنے ماننے والوں اور استعمال کنندگان (وصول کنندگان) پر ایک مخصوص تصور جہاں اور اقداری نظام کو تھوپتی ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ کیا سائنسی قوانین ہوبہو وہی ہیں جو قوانین فطرت ہیں۔ یعنی کیا ہم فطرت کی نمائندگی فقط سائنس ہی کرنے کی اہل ہے۔ کیا سائنس جن حقائق کو پیش کرتی ہے وہ ایک کلی مطلق اور معروضی حقیقت ہے یا ایک تشکیل
    ہے Construct
    جو موضوعیت جسے مجموعی موضوعیت (انفرادی
    موضوعیت نہیں
    (
    سے اتنی بھی لاتعلق نہیں جتنا اسے سمجھا جارہا ہے۔ یعنی سائنس اگر زیادہ سے زیادہ کر سکتی ہے تو یہی کہ وہ مجموعی موضوعیت کی نمائندگی کرے جو ایک پیرڈائم میں زمانی طور پر پائی جاتی ہے نہ کہ کسی آفاقی اور کلی نقطہ نظر کی مگر یہ اس مجموعی موضوعی نقطہ نظر کو ایک حقیقت مطلقہ کے طور پر پیش کرتی ہے جو غلط ہے۔ سائنس کے تمام حقائق بدیہی ہرگز نہیں بلکہ بعد از تجربی حقائق ہونے کی رو سے اضافی ہیں ۔ ہمیں سائنسی پیراڈائمز کی کثرتیت کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: