موڈی کے عالمی معیشت بارے ۲۰۱۸ کے اندازے اور معاشی حقائق: رائو جاوید اقبال

0
  • 31
    Shares

موڈی انٹرنیشنل نے پاکستان کی ریٹنگ 3 بی مستحکم بتلائی ہے۔ موڈی سرمایہ کاروں کو رہنمائی و درجہ بندی (ریٹنگ) فراہم کرنے والی فرم ہے جو تمام ممالک اور اہم اداروں کیلئے قرض حاصل کرنے کی درجہ بندی (ریٹنگ) کرتا ہے۔ سی پیک کے بعد سے پاکستان کو اس ریٹنگ سے بھی بہتر درجہ (بی ۲) دینا چاہیئے تھا۔ خاص طور پر جب سے پاکستان کو ایم ایس سی آئی نے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کیا ہے، اسکی درجہ بندی بہتر کردینی چاہئیے تھی۔ روپے کی تنزلی اور بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی ہی ایسے دو نکات ہیں جنکی بناء پر ملک کی درجہ بندی کم کی جاسکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا بظاہر محسوس ہوتا ہے۔ حقیقت یہ نہیں ہے۔ کچھ سیاسی گروہ اور بیرونی عناصر جان بوجھ کر ایسی تصویر کشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موڈی سے اسکی امید ذرا کم تھی۔ ایسے میں آئی ایم ایف کا جائزہ دیکھیئے جس میں تمام ابھرتی ہوئی معیشتوں کیلئے 6.5 فیصد کی شرح سے ترقی کی امید دکھائی گئی تھی۔ ایسے ہی فوربیز کے سابقی اندازے۔ صرف ورلڈ بینک نے چند دن قبل اس سلسلے میں منفی صورتحال کی امید ظاہر کی تھی ہے۔ لہٰذا ورلڈ بینک اور موڈی ہماری معیشت کا منفی تاثر ظاہر کررہے ہیں۔

 

پاکستان پچھلے طویل عرصے سے اپنے تمام قرضہ جات ادا کیئے جارہاہے۔ اس کا اثر بھی درجہ بندی پر ظاہر ہونا چاہیئے تھا۔ اس تمام صورتحال کی حقیقی توضیح عشرت العباد کے جائزے میں دیکھنی چاہئے۔ اس کے کچھ حصے آپ کیلئے رپورٹ کے آخر میں دئے جارہے ہیں۔
http://ishrathusain.iba.edu.pk/speeches/AnalysisofPakistansDebtSituation2000-2017-.pdf

موڈی کی توضیح جاری کردہ جائزے (رپورٹ ) کے عنوان سے ظاہرہے :  “خودمختار حکومتیں اور ایشیا پیسفک2018 کیلئے مستقبل کے اندازے۔ استحکام و ترقی میں اضافے سے حکومتوںکی معاشی صلاحیت میں توازن”۔

عالمی معاشی صورتحال کے اندازے
ایشیا پیسفک کے 24 میں سے 21 خود مختار ممالک (جن کا مالی مقام موڈی تجویز کرتا ہے)جنوری 2018 تک مستحکم رہے ہیں۔ جبکہ 2 مثبت تھے۔ صرف ایک کا مقام منفی تھا۔ 2017میں درجہ بندی زیادہ تر مثبت رہی۔ 2016 میں اسکے برعکس تھا۔ ایشیا پیسفک (اے پی اے سی)میں خود مختارممالک کیلئے معاشی استحکام12 سے 18 ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ موڈی کے اسسٹنٹ نائب صدر اور تجزیہ کار انوشکا شاہ کہتے ہیں، “علاقے میں مضبوط معاشی قوت اور تجارتی اجازتوںکی بناء پر خود مختار (حکومتیں) اعلیٰ سطح پر استوار رہتے ہوئے عالمی قومی آمدن کی ترقی سے فائدہ حاصل کرپائیں گی۔ خاص طور پر موڈی کا اندازہ ہے کہ 2018 میں ایشیا پیسفک کی ابھرتی ہوئی معاشی قوتوں میں 6.5 فیصد قومی ترقی ہوگی، سرحدی معیشتوں میں 5.9فیصد اور ترقی یافتہ معیشتوں میں 1.8فیصدکی شرح سے قومی ترقی ہوگی۔

سرحداتی معیشتیں وہ ہیں جن میں اضافے کا رجحان ہے اور امید ہے کہ یہ جلد ترقی کرتے ہوئے ابھرتی ہوئی معیشتوں کیساتھ شامل ہو جائیں گی۔

ابھرتی ہوئی معاشی قوتوں (مارکیٹوں) میں براعظم ایشیا سے چین، انڈیا، ملائشیا، انڈیا، پاکستان، تھائی لینڈ اور فلپائن شامل ہیں۔ جبکہ اس فہرست میں یورپ وسطِ ایشیاء اور افریقہ سے چیک ریپبلک، مصر، یونان، ہنگری، پولینڈ، قطر، روس، جنوبی افریقہ، ترکی اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ براعظم امریکہ سے اس فہرست میں برازیل، چلی، کولمبیا، میکسیکو اور پیرو شامل ہیں۔ سرحداتی معیشتیں وہ ہیں جن میں اضافے کا رجحان ہے اور امید ہے کہ یہ جلد ترقی کرتے ہوئے ابھرتی ہوئی معیشتوں کیساتھ شامل ہو جائیں گی۔ اس فہرست میں براعظم امریکہ سے ارجنٹائن، یورپ و روسی مشترکہ اقوام (سی آئی ایس) سے کروایشیا، ایسٹونیا، لتھوانیا، قازقستان، رومانیہ، سربیا اور سلووینیا ہیں۔ افریقہ سے کینیا ماریشس، مراکش، نائجیریا اور تیونس ہیں۔ جبکہ مشرقِ وسطیٰ سے اس فہرست میں بحرین، اردن، کویت، لبنان اور اومان ہیں۔ ایشیاء سے اسی فہرست میں بنگلہ دیش سری لنکا اور ویتنام ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں کینیڈا اور امریکہ کے علاوہ جاپان، آسٹریلیا، ہانگ کانگ نیوزی لینڈ اور سنگاپور کے ساتھ ساتھ سویئزرلینڈ اور یورپی یونین کے ممالک شامل ہیں۔ ممالک کی یہ فہرستیں ایم ایس سی آئی نے جاری کی ہیں۔

چین اور بھارت کے درجات
اس علاقے میں بھارت اور چین سب سے تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔ چین اے ون اور مستحکم درجہ بندی پر ہے جس میں ترقی ہوسکتی ہے۔ اس کی معشت میں کچھ عرصے سے ٹھہراؤ آرہا ہے۔ ہندوستان عارضی طور پر سست رفتار ہے۔ یہ بی اے اے 2 اور مستحکم کے درجے (ریٹنگ) پر ہے۔ ان دونوں ممالک کی تیزرفتار ترقی کے مقابلے میں دیگر ایشیائی معیشتیں ترقی کرکے جوابی توازن قائم کرسکتی ہیں۔

 

اس کے باوجود بین الممالک معاشی روابط کمزور ہوتے جارہے ہیں جس سے ترقی متاثر ہوگی۔ اس سے مراد یہ کہ ممالک کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون کم ہورہیے ہیں یا ان پر پابندیاں ہیں۔ روابط میں ایسی سست رفتاری پچھلی دو دہائیوں میں نہیں ہؤئی۔ درمیانی مدت کے مقابلات (چیلنج) بھی چین میں موجودہ سست روی لارہے ہیں۔ یہ منفی توازنی رجحانات ہیں۔ جس سے امکان ہے کہ چین میں درآمدات کم ہونگی۔ اسکا تمام علاقے پر منفی اثرہوسکتا ہے۔ یہ منفی علاقائی (ڈیموگرافک) تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے ممکنہ طور پر درمیانی آمدنی والے طبقات (نیٹ ورک) کیلئے مسائل کا جال پیدا ہوسکتا ہے۔

بھارت کو اس دفعہ ایک درجہ ترقی دی گئی جبکہ چین کو ایک درجہ کم کردیا گیا۔ اگرچہ ابھی تک چین اے ون مستحکم درجے پر موجود ہے جو کہ بھارت کے بی اے اے ۲ سے بہت بہتر ہے۔ چین کا درجہ نومبر میں کم کیاگیا۔ چین کیساتھ ساتھ ہانگ کانگ بھی ایک درجے نیچے چلاگیا ہے کیونکہ اسکا چینی مادر سرزمین کے ساتھ تعلق گہرا ہے اور وہاں پر ہونے والے مالی معاملات کا گہرا اثر متوقع ہے۔

موڈی نے اس دوران میں چین و بھارت کی آپس کی کشیدگی کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ یہ کم ہوگئی تھی۔ لیکن اگر دونوں ممالک کا جھگڑا دوبارہ شروع ہوا، تو بھارت کی معیشت بری طرح سے متاثر ہونے کا امکان ہے جس کے معاشی اثرات بھی محسوس کئے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور امریکہ کا افغانستان میں جھگڑا بھی بڑھا ہے۔ جس میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ اس کے ممکنہ اثراتک کا ذکر نہیں کیا گیا۔

عرب حکومتوں کے آپس میں اور اسرائیل کیساتھ ہونے والے قصوں کا ذکر کہیں موجود نہیں جنکے حقیقت کا روپ دھارلینے کے بھی امکانات موجود ہیں جہاں سے امریکہ کے اتحادیوں کو مسائل کا سامناہے جبکہ وہاں چین کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔ یوں ایشیاء پیسیفک میں سیاسی تبدیلی نہ صرف واضح ہے بلکہ اسکے اثرات بھی سی پیک کی صورت میں سامنے آرہے ہیں موڈی اگر ان حالات کے معاشی مضمرات کو شامل کرے تو بہت سے درجات میں تبدیلی واقع ہوسکتی ہے۔ اس لئے سیاسی صورتحال کے درست تناظر سے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ استحکام رہنے کی صورت میں ہی قومی معیشتیں اپنا حقیقی کردار ادا کرکے ترقی کیلئے ماحول فراہم کرسکتی ہیں۔ اگر اس صورت میں جاپان، بھار اوت امریکہ کی سیاسی گرفت کمزور ہوگئی تو معاشی توازن بدل جائیگا۔

مثبت درجہ دئیے جانے والے ممالک
انڈونیشیا اور ویت نام کو مثبت کردیا گیاہے۔ انڈونیشیا اب بی اے اے ۳ مثبت پر فائز ہے۔ اسکی وجہ ملک کے بیرونی (قرضہ جات و ادائیگیوں) میں بہتر ی ہے۔

خودمختار حکومتوں کے لئے حوصلہ افزا نکات
موڈی کی رپورٹ کے اہم نکات کے مطابق ایشیاء پیسیفک معیشتوں کے خودمختاروں (بھلے حکومتیں ہوں، بڑی کارپوریشنیں یا گھرانے) کو کچھ اضافی صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کئی سالوں سے نسبتا سست محصولات (یونیو) کے علاوہ قومی آمدن میں ترقی اور کم شرحِ سود ہے۔

خودمختار حکومتوں کیلئے مسائل کی نشاندہی
سود کی شرح میں اضافے کا امکان زیادہ ہے۔ ایسے میں سرحداتی معاشی قوتوں اور جاپان (جسے اے ون مستحکم کہاگیا ہے) کیلئے قرض لینا مشکل ہوگا۔ کچھ معیشتیں، خاص طور پر ایسی جن کی کرنسی کی شرحِ تبادلہ کم لچکدار ہے، میں زرّی (مانیٹری) پالیسی کیلئے گنجائش کم ہوجائیگی۔ کرنسی کی شرحِ تبادلہ اسکی قوت ہے۔ اگر شرحِ تبادلہ میں کمی کی جائے تو ملکی برآمدات میں اضافہ ہونا چاہئیے جس سے قومی آمدن بھی بہتر ہوتی ہے۔ لیکن جب کرنسی کی شرحِ تبادلہ میں تبدیلی نہ لائی جاسکے تو برآمدات میں اضافہ مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب شرحِ مبادلہ میں کمی لانے سے مزید نقصان ہونے اور بیرونی قرضے بڑھ جانے کا خطرہ ہو۔ اس سے مالیاتی وزارتوں کے ہاتھ بندھ جائیں گے۔ وہ ترقی کیلئے اقدامات کرنے کے قابل نہیں ہونگے۔ اس سے ممالک کیلئے معیشتوں کو سنبھالنا مشکل ہوجائیگا۔ (اگر وزارتوں نے لچک بڑھائی تو شاید ان کیلئے اقدامات آسان ہونگے۔ اس کیلئے کرنسی کی قوت بڑھانے کے علاوہ بیرون ممالک میں اپنی اشیاء کی مانگ میں اضافہ کرنا ہوگا اور سستی پیداوار لانا ہوگی۔)

ترقی متاثر ہونے کا امکان اور اسکی وجوہات
عالمی ترقی متاثر ہونے کا امکان بھی موجودہے۔ جس کی تین وجوہات ہیں (۱) چین میں بڑی فرموں (کارپوریٹ) کا قرض، (۲) بھارت، انڈونیشیا اور کوریا میں بہت سے شعبوں (سیکٹر) کا بھاری قرض اور (۳) اس کے علاوہ (شاید اہم ترین) ترقی یافتہ ممالک میں خاندانوں کی سطح پر بھاری گھریلو قرضے۔ ترقی یافتہ ممالک میں قرضوں کا بوجھ ہرہ خاندان پر بہت زیادہ ہے۔ جسکے کئی دہائیوں سے کم نہیں کیاجاسکا۔ اس سے معاشی بڑھوتری (پھیلاؤ کو سنبھالنے کی پالیسیوں) کی مؤثر صلاحیت میں کمی آئیگی۔ اس سے (سرمایہ کاروں اور بنکوں کو قرض کی ) ادائیگی نہ ہونے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں (جن سے سرمایہ کار اور بنک مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں)۔

سیاسی کشیدگی کے اثرات
خطے میں سیاسی جغرافیائی کشیدگی کے خطرات 2017 کے دوران ابھرآئے ہیں۔ کوریا کے جزیرے میں کشیدگی اسکا ایک اظہاریہ ہے۔ موڈی یہ سمجھتا رہے گا کہ جنگ کا امکان کم ہے۔ لیکن اس صوتحال کا خوف اس قدر زیادہ ہیے کہ (کوئی سرمایہ کار) رقم قرض پر دینے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ اس سے بنیادی طور پر کوریا، ویت نام (جسے بی ون مثبت ریٹنگ دی گئی) اور جاپان متاثر ہونگے۔

کچھ ممالک میں انتخابات کی وجہ سے معیشت سست پڑسکتی ہے۔ ان میں ملائشیا، کمبوڈیا، فیجی، تھائی لینڈ، پاکستان، مالدیپ شامل ہیں جہاں پارلیمانی انتخابات ہونا ہیں۔ صدارتی انتخابات مالدیپ میں ہونا ہیں جسکی درجہ بندی بی 2 مستحکم قرار پائی ہے۔

پاکستان کی درجہ بندی کا طویل مدتی جائزہ
پاکستانی خود مختار (حکومت) کی درجہ بندی 1994 سے 2017 تک مہیا ہے۔ 1994 میں پاکستان درجہ بندی کے اپنے انتہائی اعلیٰ (درجہ بندی کے بھی بہتر)مقام پر موجود تھا لیکن 1997 میں بی 3 سے بھی نیچے چلاگیاتھا۔ 2002 میں بی 3 اور بعد ازاں بی 1 تک جاپہنچا۔ لیکن ملک یہاں اپنا مقام برقرار نہیں رکھ پایا۔ 2009 میں دوبارہ تنزلی کاشکار ہوتا ہؤا ملک 2013 میں دوبارہ بی تھری سے کم ہؤا۔ 2015 میں سنبھل کر پھر سے بی 3 تک آگیا ہے۔

پاکستان کا اصل مقام کم از کم بی۱ ہے۔ اس دوران میں نومبر 2007 اور دسمبر 2008 میں پاکستان کی درجہ بندی

یٹنگ) منفی بھی رہی ہے۔ بی کیٹیگری میں رکھے ممالک میں قرضہ دینے کے خطرات ہوتے ہیں۔ ایسے ممالک میں سرمایہ کاری اندازوں پر مبنی ہوتی ہے جس میں کوئی یقینی معاملہ قائم کرنا مشکل ہے۔ اس لئے یہاں کیلئے قرض مہنگا ہوتا ہے اور مشکل سے ملتا ہے۔ پاکستان 1996 سے ایسی صورتحال سے دوچار ہے جوکہ تشویش کی بات ہے۔ اس دوران میں کوئی حکومت ملک کو اس صورتحال سے باہر لانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ ایسے ممالک کو ڈیفالٹ کا خطرہ ہوتا ہے۔ چونکہ ایک طویل عرصے سے ایسا ہی سلسلہ چلا آرہا ہے اس لئے یہ خطرناک ہے۔ یہ مالیاتی عدمِ استحکام کی علامت ہے۔ بی ون یا بی پلس جس میں پاکستان 1996 سے قبل تھا بڑی اہم تھی کیونکہ اس دوران میں ملک مستحکم تھا۔ اگرچہ اس صورت میں بھی ڈیفالٹ کا خطرہ موجود ہوتا ہے لیکن کم ہوتا ہے۔

پاکستان کی اسلامی بانڈز (سکوک) کی پہلے اور دوسرے مرحلے میں بھی ریٹنگ بی 3 ہی رہی۔ یہ جولائی 2017 میں جاری کئے گئے۔
انکی درجہ بندی کرسچیئن فینگ نے کی ہے۔

پاکستان کیلئے چین کی امداد کا ذکر نہیں کیاگیا۔ لیکن موڈی نے اپنے حالیہ جائزے (۹ جنوری) میں پاکستان کیلئے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ ڈالر کے بالمقابل روپے کی مزید تنزلی نقصاد دہ ہوگی۔ لیکن ایسا ہوسکتا ہے۔ پچھلے ماہ پاکستان نے روپے میں ۵ فیصد تنزلی دکھائی تھی جس کے بعد اب مزید تنزلی کا واضح امکان موجود ہے۔ اس سے مرکزی بنک (بنک دولت پاکستان) مسائل کا شکار ہوگا۔ اگرچہ کچھ امکانات موجود ہیں کہ ملکی کرنسی کی تنزلی سے وبستہ کچھ فوائد بھی حاصل ہوجائیں۔ اس کی ایک وجہ پاکستانی زرِ مبادلہ کے ذخائر ہیں جو کہ تاحال بی ۳ مستحکم شمار کئے جاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بی تھری ہونا بھی کوئی کم مشکل کاباعث نہیں۔

دیگر معاشی اداروں کے جائزے
اس کے علاوہ ۲۰۱۷ کے وسط میں ایم اس سی آئی نے پاکستان کو سرحداتی معیشتوں سے ابھرتی ہوئی معاشی قوتوں میں شامل کیاتھا۔ یہ حوصلہ افزاء اقدام بازارِ حصص (سٹاک ایکسچینج) میں بہترین ترقی کی بناء پر ہوا۔ اگرچہ جب سے ایسا ہوا ہے تب سے سٹاک مارکیٹ تنزلی کا شکار ہے۔ اس تنزلی کے باوجود ابھی تک پاکستان ابھرتی معیشتوں میں شامل ہے۔

ڈاکٹر عشرت حسین کا قرضہ جات کے بارے میں جائزہ:
بیرونی قرضے قومی آمدن کا ۲۱ (بیس اعشاریہ سات) فیصد ہیں۔ یہ اس سے قبل ۲۰۰۸ میں ۲۷ فیصد اور ۲۰۱۳ میں ۲۱ فیصد تھے۔ اس لحاظ سے انکی شرح میں کمی آرہی ہے۔ ۹۳ فیصد قرض طویل مدتی یا درمیانی مدت کے ہیں۔ اس لئے یہ مسئلے کا باعث نہیں ہیں۔ کم مدتی صرف ۷ فیصد ہیں۔ یہ بنک دولت کے زرِ مبادلہ کا ۵۔ ۵ فیصد ہیں۔ زرِ مبادلہ کے حساب سے سن ۲۰۰۰ میں ہمیں ۲۹۴ فیصد قرض اداکرنا تھا جوکہ اب زرِ مبادلہ کا صرف ۳۸ فیصد ہے۔ قرض کا صرف ۱۔ ۶ (ایک اعشاریہ چھ) فیصد مہنگا (کمرشل) قرض ہے۔ قرض کی شرحِ سود ۶۔ ۳ (چھے اعشاریہ تین فیصد ) ہے۔ علاوہ ازیں صرف ۱۲ (بارہ ) فیصد ڈالر میں ہے جسکی ادائیگی کا ڈالر کی قیمت سے براہِ راست تعلق ہے۔ ۷۲ فیصد قرض روپے کی شکل میں ہے جس پر کسی طرح کی کرنسی تنزلی کا اثر نہیں۔ ادائیگی کا اصل مسئلہ صرف برآمدات میں کمی کی وجہ سے ہے۔ برآمدات میں کمی ۲۰۱۳ سے چلی آرہی ہے جب سے سالانہ ۴ ارب ڈالر برآمدات کم ہوگئی ہیں۔ برآمدات میں کمی کی حقیقی وجہ بجلی و گیس کی کمی تھی جس سے صنعتیں بند ہوجاتی تھیں یا ملک میں سیاسی استحکام کا مسئلہ تھا۔ گیس اور بجلی کے مسئلے پر قابو پاتے ہی یہ مسائل حل ہوجانے چاہئیں۔

یہ کہنا بے سود ہے کہ ملک کو قرض نہیں لینے چاہئیں۔ تمام خودمختاروں کو اپنے قومی اداروں اور ادائیگیوں کیلئے قرض اٹھانا ہی پڑتے ہیں۔ قرض بڑھنے کی وجہ قومی ضرورتیں اور ترقی کیلئے سرمائے کی فراہمی ہے۔

پاکستان کی قرض کی ادائیگی کا ریکارڈ بڑا شاندار رہا ہے۔ ہم نے قومی آمدن کے ۱۱ (گیارہ اعشاریہ چھ)فیصد تک کی ادائیگی سن دوہزار میں کی تھی۔ ۲۰۰۸ سے ابتک ملک ہر سال قومی آمدن کا ۶ فیصد یا اس سے زائد قرض ادا کرتا چلاآرہا ہے۔ یہ شرح وقت گزرنے کیساتھ کم ہوتی چلی جارہی ہے اگرچہ کل قرض بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کبھی دیوالیہ شمار نہیں ہؤا۔ اس کی وجہ ذمہ داری کیساتھ تمام معاملات اور قرضہ جات کی ادائیگی ہے۔ یہ کہنا بے سود ہے کہ ملک کو قرض نہیں لینے چاہئیں۔ تمام خودمختاروں کو اپنے قومی اداروں اور ادائیگیوں کیلئے قرض اٹھانا ہی پڑتے ہیں۔ قرض بڑھنے کی وجہ قومی ضرورتیں اور ترقی کیلئے سرمائے کی فراہمی ہے۔ ایسے میں ملک نے جس قدر بھی موجودہ سی پیک قرض حاصل کئے ہیں، وہ تمام سستے ترین قرض ہیں۔ کچھ بالکل ہی بغیر سود کے ہیں جنہیں چین کے ایکسم بنک نے منظور کیاہے۔ اس لحاظ سے مستقبل کی ادائیگی مزید آسان شرائط پر ہے۔ اگرچہ قرضہ جات بڑا مسئلہ ہیں لیکن اسکی بنیادی وجوہات سیاسی یا ترقیاتی ہیں۔ یہ گہرے مسائل ملکی نظام سے وابستہ ہیں۔ جنکا حل کسی حکومت کیلئے بھی آسان نہیں۔ اس کے باوجود اگر قرضوں کے مسائل کو سنبھالا جاتا رہے اور مکمل دیولیہ پن سے قومی معیشت کو بچا کر کچھ عرصہ چلایا جائے تو اس دوران امید ہے کہ ملک خودانحصاری کی منزل تک پہنچ جائیگا۔ اس عمل میں مسلم ممالک کی جانب سے مؤثر اخلاقی، سیاسی و عملی امداد سے بھی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ مسلم ممالک خود اس مرحلے پر اندرونی تبدیلی سے گزر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: