بنک دولت پاکستان کا سہ ماہی معاشی جائزہ: جاوید اقبال

0
  • 2
    Shares

ابتدائی معاشی اشارئیے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی معیشت 6 فیصد سالانہ ترقیاتی ہدف حاصل کرسکتی ہے۔ معیشت کے تینوں شعبوں؛ زراعت، صنعت اور خدمات تمام کی کارکردگی بہتر رہی۔ بنک دولت پاکستان نے ملکی اقتصادی صورتِ حال پر سہ ماہی رپورٹ جاری کی ہے رپورٹ کے مطابق، کلیدی اقتصادی اشاریوں سے ابتدائی طور پر پتہ چلتا ہے کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ترقی میں اضافے کی رفتار بہتر ہے۔ معیشت میں مجموعی فراہمی (سپلائی) اور مانگ (ڈیمانڈ) مزید بہتر ہوسکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، کپاس کے سوا ، دیگر اہم فصلوں نے اہداف حاصل کرتے ہوئے زائد پیداوار فراہم کی ہے۔ یہ بہتری، پانی کی دستیابی، اچھی کھاد اور زرعی قرضوں کی وجہ سے بھی ہوئی۔ بڑی صنعتوں میں سب سے زیادہ ترقی ہوئی جو کہ 10 فی صد رہی۔ 2009 کے بعد پہلی مرتبہ ایسی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ تمام ہی شعبوں نے ترقی کی ہے۔ اس کی وجوہات میں دیگر کے علاوہ بہتر توانائی کی دستیابی، بہتر خریداری (صارفین کی اعلی خریداری کی طاقت میں اضافے یعنی آمدن میں اضافے) کے علاوہ صارفین کی بڑھتی ہوئی مانگ اور سستے کریڈٹ کی سہولیات تھیں ۔

سروسز (خدمات) پر بھی اشیاء کی پیداوار میں اضافے کا مثبت اثر نظر آیا ہے۔ جائزے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بروقت پالیسی اقدامات سے خاصی مدد ملی۔ اس کے سوا مناسب معاشی دورانئے (سائیکل) سے بھی معاشی ترقی بڑھی۔ مہنگائی کی شرح کم درجے پر برقرار رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی وجہ سے نجی شعبے کو سرمایہ کاری بھی میسر آگئی۔ سرمایہ کاری کیلئے قرضہ جات اس بار مسلسل 12 ویں سہ ماہی میں بھی بڑھتے رہے۔

جائزے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بروقت پالیسی اقدامات سے خاصی مدد ملی۔ اس کے سوا مناسب معاشی دورانئے (سائیکل) سے بھی معاشی ترقی بڑھی۔ مہنگائی کی شرح کم درجے پر برقرار رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا

رپورٹ میں اقتصادی سرگرمی کے ساتھ سرکاری محصولات کی آمدنی میں قابل ذکر بڑھوتری ہوئی۔ نئے انفراسٹرکچر (ہندسی) منصوبوں، درآمد میں اضافے، صارفین کی جانب سے کارآمد اشیاء کی زیادہ خریداری، اور قیمتوں میں کچھ اضافے کے علاوہ تیل کی مصنوعات کی کھپت سے براہ راست اور بالواسطہ محصولات دونوں میں اہم اضافہ ہؤا۔ اس کارکردگی کے باوجود، ٹیکس کی بنیاد بڑھانے کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہؤا ہے۔ اس سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں برآمدات 5۔ 15 ارب ڈالر رہیں۔ جبکہ اس سے پچھلی سہ ماہی میں بھی برآمدات 1۔5 (پانچ اعشاریہ ایک) ارب ڈالر تھیں۔ ممکن ہے کہ اس طرح سے کل برآمدات 20 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں۔ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری بھی بڑھی ہے۔ تاہم ان حاصلات سے بین الاقوامی ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) کا خسارہ کم نہیں ہو پایا۔ روز افزوں ترقی پذیر معیشت کی وجہ سے درآمدات کی ضرورت بڑھ رہی ہے جس سے برآمدات بڑھانے کیلئے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے موجودہ اکاؤنٹ کے خسارہ میں اضافہ ہوا۔ اس سے ترقیاتی دورانئے (سائیکل( پر ہمیشہ کی طرح منفی اثر مرتب ہوا ہے۔ اس موقع پر ضرورت ہے کہ ایسی مربوط ترجیحاتی حکمت عملی اپنائی جائے کہ غیر ملکی کرنسی حاصل کرکے آمدنی بڑھائی جائے۔ برآمدات کو ترقی دی جائے۔

مختصر یہ کہ پہلی سہ ماہی کی ترقی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے جاری رکھنے کے لئے پاکستانی معیشت اچھی طرح سے تیار ہے۔ تاہم، درمیانی و طویل مدت میں بہتر ترقی اور کم مہنگائی کا بہتر توازن برقرار رکھنے کے لئے حکومتی و بیرونی شعبوں میں ساختیاتی (سٹرکچرل) اصلاحات کرنا ہونگی۔

تعمیری شعبے (حکومتی فنڈ یا سی پیک) دونوں سے سٹیل اور سیمنٹ کی طلب میں اضافہ ہوا۔ اس سے صنعتی ترقی 10 فیصد بڑھی جو کہ اس سے پچھلے سال 2017 میں 1۔ 8 (ایک اعشاریہ آٹھ) فیصد تھی۔ خدمات کے شعبے میں بھی پرچون اور تھوک کے سامان کے علاوہ ٹرانسپورٹ، سٹوریج اور مواصلات کو فائدہ ہوگا۔ ٹیلی مواصلات اور تجارتی سرگرمیوں سے خدمات اور نوکریوں میں مزید فوائد حاصل ہونگے۔

سٹیل کی پیداوار اور درآمد کا گراف
سٹیل کی پیداوار 2017 کی پہلی سہ ماہی سے مسلسل بڑھ رہی ہے جو کہ 2018 میں بھی جاری رہی۔ سٹیل کی کھپت اس قدر زیادہ تھی کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 47 فیصد اضافہ ہؤا جو کہ پچھلے سال 13 فیصد تھا۔ اس کی وجہ گاڑیاں بنانے اور تعمیراتی شعبے کی ضرورت تھی۔ قومی پیداوار سے یہ ضرورت مکمل نہ ہوپائی تو مزید بیرون ممالک سے سٹیل درآمد کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ دلچسپ یہ تھا کہ کچھ مواقع پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی بھی عائد کرنا پڑی خاص طور نیشنل ٹیرف کمیشن نے چین سے سٹیل کی درآمد پر 5 سال کیلئے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کی ہے۔

سیمنٹ کی فروخت ، برآمد اور پیداواری صلاحیت
سمنٹ کی پیداوار میں 12 ۔4 (بارہ اعشاریہ چار) فیصد اضافہ ہؤا۔ جو کہ پچھلے مالی سال میں اسی دوران 7۔ 8 (سات اعشاریہ آٹھ) فیصد تھا۔ برآمدات میں 16۔ 7 (سولہ اعشاریہ سات) فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ اسکی اہم وجہ مقامی طلب میں اضافہ تھا۔ پیداوار اور پیداواری صلاحیت 2013 کی پہلی سہ ماہی سے مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ لیکن برآمدات 2۔ 3 (دو اعشاریہ تین) ملین ٹن سے کم ہوکر 1۔ 3 (ایک اعشاریہ تین) ملین ٹن رہ گئی ہیں۔ برآمدات کم ہونا ملکی صنعت کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے۔

کار اور جیپ بنانے کا جائزہ
مالی سال 2016 میں کار؍ جیپ کی پیداوار 55 ہزار تھی (کل پیداواری صلاحیت کا 88 فیصد) جو مالی سال 2018 کی پہلی سہ ماہی میں 65 ہزار سے بڑھ گئی ہے (جو کہ کل پیداواری صلاحیت کا 102 فیصد ہے) ۔ چونکہ ملکی درآمدات بڑھ رہی ہیں، اس لئے غیر خوردنی اشیاء کی درآمد پر محصول 15 تا 80 فیصد کردیا گیا ہے۔ جسکے نتیجے میں مقامی صنعت کاروں کو تحفظ میسر آیا ہے۔ اب مقامی گاڑیوں کی طلب بڑھ جائیگی۔ طلب میں اضافے سے مقامی صنعت کار کی قیمت وصول کرنے کی قوت میں اضافہ ہوجائیگا۔ اس کے بعد ضرورت محسوس ہو گی کہ پالیسی کے مطابق مقابلاتی میدان میں ٹیرف (محصول) کو کم کردیا جائے۔ چونکہ مقامی صنعت کار پہلے ہی اپنی مکمل پیداواری صلاحیت کے قریب گاڑیاں بنارہے ہیں، اس لئے مزید طلب بڑھنے سے لوگوں کے لئے انتظار کی مدت بڑھ جائیگی۔ (اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ مزید کارخانے لگ جائیں یا مزید کمنیاں میدان میں آجائیں)۔ وفاقی حکومت کی عائد کردہ ریگولیٹری ڈیوٹی ’’قومی پالیسی2016 تا 2021 ‘‘ کے خلاف بھی ہے جس میں ذکر ہے کہ ٹیرف کو کم کیاجائیگا تاکہ مقامی مارکیٹ میں مقابلے کا رجحان بڑھ سکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: