آج کے کنسنٹریشن کیمپس: سحرش عثمان

0
  • 73
    Shares

ٹورازم کی کسی سائٹ پر تصویریں دیکھ رہی تھی۔ موسٹ وزٹ پلیسسز, میونخ، نیاگرا فال،برج خلیفہ، تاج محل، کنسنٹریشن کیمپس۔۔

کنسنٹریشن کیمپس۔۔۔ خود سے پوچھا سیریسلی۔۔ لوگ کنسٹرکشن کیمپس بھی دیکھنے جاتے ہیں کیا ؟
کیا دیکھتے ہوں گے لوگ وہاں جا کر؟ انسان کی بے بسی۔۔بے اختیاری یا انسان کا اختیار انسان کی رعونت؟
سوال نے سوچ پر لگی گرہ کھول دی۔ خیال کی رو بھٹکی تو کنسٹرکشن کیمپس میں جا ٹھہری۔
چھوٹے پتھروں والا رستہ جہاں پر پیروں کے نشان آنے والے وقتوں کے لیے عبرت بن گئے۔

ایک کمرے میں گھٹن تھی بہت گھٹن۔ کسی نے بتایا یہ گیس چیمبر تھا۔ یہاں لوگوں کو سفوکیٹ کر کے مار دیا جاتا تھا۔ نصف صدی گزر جانے کے باوجود یہاں سے گھٹن نہیں جاتی۔ من میں کسی نے چٹکی بھری۔ سنتی ہو ؟ یہ یہاں سے گھٹن ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انسانوں کو سفوکیٹ کرکے مارنے سے گھٹن ختم ہوتی ہے کیا ؟
جواب دیا اب تو نہیں مارتے نا۔۔ اب تو مہذب ہوگئے ہیں۔
جوابی سوال آیا نہیں مارتے کیا؟ اب سفوکیٹ نہیں کرتے کیا؟ اس سے پہلے کہ تڑاخ سے کہہ دیتی، نہیں، اس دوست کا خیال آیا وہ جس کی بات سننے والا کوئی نہ تھا۔ جس کے ہر سوال پہ ماں گھر بچانے کا مشورہ دیتی اور محرم راز گھر سے نکالنے کی دھمکی۔
اس کی آنکھوں کی گھٹن نے مجھے مار دیا تھا۔
جب میں نے کہا رب آسانی کرے گا۔ تو اس کی سرد آنکھوں نے میرے یقین کو اندر تک منجمند کردیا تھا۔

خاموشی سے سر جھکا کر ایک اور عمارت کی طرف بڑھی۔ وہ کمزوروں (بچوں اور عورتوں) کی جیل تھی۔ اس پر تو خود ہی ہنس دی۔ بھلا کمزوروں کے لیے کوئی آزادی بھی ہوتی ہے کیا؟
گائیڈ کہنے لگا یہاں نوزائیدہ بچوں پر تجربے کیے جاتے تھے۔ روانی میں پوچھ بیٹھی کیسے تجربے؟
اس نے عجیب نظروں سے دیکھا۔ اور کہنے لگا کہ نوزائیدہ بچہ کتنے دن بغیر خوراک کے رہ سکتا ہے وغیرہ۔
دل حلق میں آکر پلٹا۔۔۔ یا الہی رزاق تو تو ہے یہ اپنے بندے کی اس جرات پر زمین کیوں نہ الٹا دی تونے۔؟
یہ کیسی بربریت تھی ربا؟
اندر کسی نے دہائی دی۔۔ کیا بربریت رک گئی ہے یہ؟
ذہن میں وہ تیس بتیس سالہ کڑیل جوان آیا جو پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔ یہ کہتے ہوئے میں ہار گیا ہوں۔
پوچھنے سے پہلے ہی گویا ہوا۔ پانچ دن کا بچہ نرسری میں ہے۔ دو دن کا تھا بیوی کا باپ گھر چھوڑ گیا تھا۔ شادی کے بعد الگ رہنے لگا تھا۔ اب ماں اور بہنیں “اس چڑیل” کی اولاد نہیں پالنا چاہتیں۔ آج دفتر سے واپس آیا تو بچہ نیم جاں سا پڑا تھا۔ ہلانے جلانے پر ہلچل نہیں ہوئی تو بھاگم بھاگ ہسپتال لایا ہوں۔ ڈاکٹر کہتا بچہ پندرہ بیس گھنٹوں سے بھوکا ہے۔
اس چھوٹے بچے کے جسم پر تجربے کے نشان تھے۔ وہ لیبارٹری ریٹس سا چھوٹے کاٹ میں تنہا پڑا کنسنٹریشن کیمپس کے ہونے کا ثبوت تھا۔

میرا جی چاہتا ہے کسی دن کسی منظر کی گہرائی میں مجھے تو ملے۔ اس دنیا سے پرے اور اُس دنیا سے پہلے۔ میں تجھ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ تجھے بتانا چاہتی ہوں تو صرف بے اختیاروں کو ہی یاد ہے۔ اختیار والے نہیں ڈرتے نہ تجھے یاد کرتے ہیں۔

کسی زندہ لاش کی طرح وہاں جا پہنچی۔ جہاں لاغر قیدیوں کو کھائی میں گرایا جاتا تھا یا پھر جنگل میں چھوڑ دیا جاتا تھا مرنے کے لیے۔
روہنگیا کے سارے لوگ میرے اردگرد جمع ہوگئے بھوک پیاس کی شدت سے لاغر و کمزور۔ لاشوں کی طرح جنگلوں میں لیٹے۔ اور کشتیوں میں۔بھر کر سمندر کی کھائی میں گرنے کی طرف رواں۔
وہ شامی بچہ بھی سکرین پر آیا جسے سمندر نے اگل دیا تھا۔اور وہ جو کرسی پر بیٹھا درزیدہ نگاہوں سے دنیا کو دیکھتا تھا۔
کسی کو کہتے سنا کہ آزادی بڑی نعمت ہے جنگی قیدیوں اور مفتوح قوموں کی کوئی مرضی کوئی پسند اور کوئی رائے نہیں ہوتی۔ یہ ہم آپ تو خوش قسمت ہیں کہ آزادی کے عہد میں جی رہے ہیں۔
من میں جلتے شعلوں پر پٹرول کا کام کر رہی تھی یہ تقریر۔
ہم آپ صرف آزادی کی فوٹو کاپی میں جی رہےہیں آزادی میں نہیں۔
ابھی بھی یہاں آپکی کوئی مرضی کوئی پسند کوئی رائے نہیں ہے۔
سوچ کے پردے پر آئی بی اے کی وہ گریجویٹ لہرائی جس نے فل برائٹ ڈالر شپ جیتا تھا اور ماں نے دوپٹہ پیروں میں رکھ کے امریکہ پلٹ دلہا کے لئے ہاں کروالی تھی۔
اس سے کہا تو کیا ہوا وہاں پڑھ لینا۔ تلخی سے کہنے لگی اگر اسے کرئیر وومن چاہیے ہوتی تو اس سماج میں کرتا تلاش۔ یہاں سے تو گھریلو ملازمہ جا رہی ہے۔
پھر کہا کیا ہوا اپنا ہی تو گھر ہے۔ جواب آیا۔جب یہ اپنا نہ ہوا تو وہ کیسے ہوگا۔
جب میں اس سے ملی تھی تو اس کے چہرے پر مفتوح قوموں سا مجروح تاثر تھا۔
اس کو حرف تسلی دینے کے لیے کچھ کہنا چاہا تو رسان سے کہنے لگی۔ اب تسلی دلاسے مرحم دوا دعا کچھ نہیں چاہیے۔
کہا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہوتی ہے۔
وہ ہنسنے لگی۔ اس کی ہنسی میں اتنی وحشت تھی جیسے کوئی پاگل جنونی رونے کے فورا بعد ہنستا ہو یا ہنستے ہوئے رو دیتا ہو۔ گھبرا کر کہا مت ہنسو۔
اور وہ کندھے اچکا کر چل دی۔
مجھے اقبال کے اس سوال کے گرداب میں چھوڑ کر کہ کیا تجھ کو راس آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟

میرا جی چاہتا ہے کسی دن کسی منظر کی گہرائی میں مجھے تو ملے۔
اس دنیا سے پرے اور اُس دنیا سے پہلے۔ میں تجھ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ تجھے بتانا چاہتی ہوں تو صرف بے اختیاروں کو ہی یاد ہے۔ اختیار والے نہیں ڈرتے نہ تجھے یاد کرتے ہیں۔
بے بس جب بے بسی سے گھبرا جاتے ہیں تو تجھے پکارتے ہیں۔ تو جانتا ہے میرے کرب کو میرے جیسوں کے کرب کو۔ بے بسوں کے درد کو۔ تو نے بھی تو اختیار والوں کے لہجے میں بولتے فرعون سنے ہیں۔ تو بھی تو روز اپنے عاجزوں کو دنیا میں جہنم بھگتتے دیکھتا ہے اور تو نیل میں کھلتا رستہ بند نہیں کرتا۔ تیرے اختیار میں اور بندوں کے اختیار میں فرق تو رہنا چاہیے۔۔
تو کیوں نہیں زمین الٹا دیتا۔ کیا سارے سوال حشر کے لیے اٹھا رکھے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو پھر حشر کیوں نہیں اٹھاتا۔۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟
منصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: