وقت کی قید سے آزاد نثر لکھنے والا ایک آزاد ـــ عزیز ابن الحسن

0
  • 91
    Shares

محمد حسین آزاد نئ اردو شعریات کے بانی اور پنجاب کو نئے ادبی طرزِ احساس کا گہوارہ بنانے کی بنا رکھنے والوں میں سے تھے۔ نئے اردو تنقیدی و تخلیقی ادب کی سارے کی سارے تحریک ــــ کیا تینقید کیا نظم و غزل اور کیا فکشن ـــــ بلاشبہ لاھور (پنجاب) سے اٹھی جسکا بیج ایک دلی والے (آزاد) نے ڈالا تھا۔ جو ۱۸۵۷ کے ہنگامۂ رستاخیز کے بعد بقول خود یوں دلی چھوڑنے پر مجبور ہوا جوں اسکے جدِ اول آدم نے بہشت چھوڑی تھی۔

۱۸۵۷ کے بعد جب قو م نصاریٰ نے دہلی پر اپنا تسلط دوبارہ قائم کر لیا تو آزاد کے والد مو لوی باقر بغاوت میں شرکت اور اپنے دہلی کالج کے سابقہ ہم کار پرنسپل فرانسس ٹیلر کو مروانے کے جرم میں سولی پر چڑھا یا گولی سے مار دئے گئے۔ آزاد کی ایک شیر خوار بچی بھی ا س سانحے کا شکار ہو گئی تھی، جس کا دکھ انہں عمر بھر رہا۔ والد کی گرفتاری کے بعد آزاد کو نفسا نفسی کے عالم میں خاندان کے٢٢/ افراد کے ساتھ دلی سے نلکنا پڑا تھا۔ صرف ایک مہینے کے اندر اندر آزاد کو اپنے باپ کی پھانسی اور بچی کی موت کا سانحہ دیکھنا پڑا، گھر لٹ گیا، دوست بچھڑ گئے اور خاک ِدلی جو ان کے خمیر میں رچ گئی تھی، انہیں چھو ڑنی پڑی۔

١٨٦١؁ میں آزاد کسی گوشۂ عافیت تلاش میں لاہور پہنچے اور یہاں اردو زبان و ادب کیلیے نئ زمین اور نیا آسمان تخلیق کردیا۔
انہوں نے اردو زبان کو آب حیات اور دربارِ اکبری جیسے نثر کے شاہکار دئیے۔ انکی زندگی کے آخری بیس برس کامل عالم وارفتگی میں بیتے اور اردو زبان و نثر کے اس شہید کا یہ دورجنوں بھی مسلسل لکھنے لکھانے میں گزرا تھا۔ ان کے اس دور کے مسودات آج بھی نبیرہ ابن نبیرہ آزاد آغا سلمان باقر (حال مقیم لاھور) کے توسط سے جی سی یونیورسٹی میں محفوظ ہیں۔

آزاد کی وفات ۲۲ جنوری ۱۹۱۰ کو ہوئ تھی۔
۲۰۱۰ میں پنجاب یونی ورسٹی اورینٹل کالج لاھور شعبہ اردو میں ڈاکٹر تحسین فراقی کی زیر نگرانی جب صد سالہ آزاد صدی کا سہ روزہ بین الاقوامی جشن منایا گیا تو راقم کو بھی اسکی تقریبات کے انتظامی امور سرانجام اور مقالہ پڑھنے دینے کا موقع ملا تھا۔ اس تقریب میں پاک و ہند کے نامور ادبا و محققین نے شرکت کی تھی۔ اور انہی دنوں جناب تحسین فراقی ناصر عباس نیر اور راقم نے اوریئنٹل کالج کے بغل میں واقع کربلا گامے شاہ میں آزاد کے مزار پر عقیدت کے پھول بھی چڑھائے تھے۔

آئندہ کسی موقع پر اس تقریب کی تصویری جھلکیاں پیش کی جائنگی۔
اردو کے اس ادیب شہیر کو ہمارا عقیدت بھرا سلام ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: