۔۔۔۔۔۔۔۔اور اب بریلوی بھی۔ عامر ہزاروی

0
  • 63
    Shares

خدا کے خود ساختہ نائبین نے حکم جاری کیا ہے کہ سات دن کے اندر اندر شریعت کے نفاذ کا اعلان کیا جائے، اسلام کی اس سے زیادہ غریبی اور کیا ہو گی کہ اسے خادم رضوی اور صوفی محمد جیسے لوگ ملے، نکمی عمر میں پیر سیالوی بھی جاگ اٹھے، پیر سیالوی کیوں جاگے؟ کس کے اشارے پر جاگے؟ میرا یہ موضوع نہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ شرعی نظام کا مطالبہ کس سے کیا جا رہا ہے؟ موجودہ حکمرانوں سے نا؟ جنہیں خود اسلام کا علم نہیں، جو سورہ اخلاص بھی نہیں پڑھ سکتے، ان سے شریعت کا مطالبہ کرنا سادگی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ بالفرض حکومت مطالبہ مان لیتی ہے اور آئینی ترامیم لے آتی ہے تو کیا آئینی ترامیم سے اسلام آجائے گا؟ یہ سوال جواب طلب ہے، میں چاہوں گا اس سوال پر بات چیت ہونی چاہیے۔

میرا ناقص خیال یہ ہے کہ ہم اس وقت مکی دور سے گزر رہے ہیں، اگر روایتی مذہبی جماعتوں کو اقتدار مل بھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، اسلام آئینی ترامیم سے مضبوط نہیں گا، اس وقت کون سا ایسا جرم ہے جو اس قوم میں نہیں پایا جاتا ؟

حکم ربی ہے قتل نہ کرو، ہمارے ہاں روز قتل ہوتے ہیں، زنا سے بچنے کا کہا گیا یہاں روز بچے اور بچیوں سے زیادتیاں ہو رہی ہیں، سود کو اللہ اور رسول سے جنگ کہا گیا یہاں محلے محلے اور گلی گلی تک سودی کاروبار ہوتا ہے، رشوت سے منع کیا گیا یہاں رشوت بغیر کام ہی نہیں ہوتا، فائلوں کو پہیہ لگانا پڑتا ہے، ملاوٹ سے منع کیا گیا، یہاں کوئی چیز خالص نہیں ملتی، بہنوں کو حق دینے کا کہا گیا یہاں بھائی بہنوں کا حق ہڑپ کر لیتے ہیں، غیبت اور چغلی سے منع کیا گیا، ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہی غیبت ہے، ماں باپ کے سامنے اف سے بھی روکا گیا یہاں والدین اب ایدھی سینٹرز میں پائے جاتے ہیں، بوڑھوں کے احترام کا کہا گیا مگر یہاں بوڑھوں پر آوازیں کسی جاتی ہیں، پڑوسیوں کے حقوق بتائے گئے مگر حرام ہے جو پڑوسی پڑوسی سے خوش ہو، اقلیتوں کو اپنے دامن میں رکھنے کا کہا گیا، یہاں اقلیتیں خستہ حال ہیں، ان سے نفرت کی جاتی ہے، انہیں چوڑا کہا جاتا ہے، اختلاف کو رحمت کہا گیا یہاں اختلاف کرنے والے اندھی گولیوں کا نشانہ بنے یا انہیں ہجرتوں پر مجبور کیا گیا، نظم اجتماعی کے خلاف بغاوت سے منع کیا گیا یہاں نظم اجتماعی چیلنج کیا گیا، فساد فی الارض کو جواز مہیا کرنے کے لیے فتوی دیے گئے،

خدا کی بستی میں کیا کیا نہیں ہوا، عمر کی ستائیس بہاروں میں وہ کچھ دیکھا جس کا تصور بھی نہیں کیا تھا،

خیر میں دیگر کئی جرائم لکھ سکتا ہوں مگر لکھنا نہیں چاہتا، یہ چند مثالیں ماحول کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں، قرآن و حدیث میں تو یہ سب لکھا ہوا ہے مگر اسکے باوجود یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ کیا لکھا ہونا کافی ہے ؟

نہیں ہر گز نہیں،
اس قوم کو اگر کوئی چیز ٹھیک کر سکتی ہے تو وہ ریاستی ڈنڈا نہیں بلکہ دعوت ہی ٹھیک کر سکتی ہے، اہل مذہب پانچ سال کے لیے آئیں گے اسکے بعد پھر وہی حال ہو گا، اہل مذہب کو سیاست، جلاو گھیراؤ، مسلح جنگ اور دھرنے چھوڑ کر دعوت کی طرف جانا چاہیے،

دعوت کی طاقت کتنی ہے؟ یہ دیکھنا ہو تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی دیکھنی ہو گی۔

مکہ والوں نے اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو اقتدار کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا اپنی دعوت سے باز آ جائیں، اقتدار لے لیں، حسین لڑکی لے لیں، پیسہ لے لیں، مگر حضور نے ایک شرط بھی قبول نہیں کی، آپ نے ستھرے اور صاف لوگوں کی ایسی جماعت تیار کی جو دین کی اساس بنی۔

اقتدار کے ذریعے لوگ بدلتے تو میرے آقا اقتدار قبول کر لیتے مگر نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا، آپ نے دعوت جاری رکھی، آج ایک بھی ایسی جماعت نہیں جس میں اقتدار کی صلاحیتیں ہوں، آج ایسے لوگ نہیں جو پاکیزہ و صاف ستھرے ہوں،ہماری پوری سوسائٹی میں ایک محلہ بھی ایسا نہیں جسے آئیڈیل قرار دیا جا سکے، موذن پانچ وقت اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتا ہے مگر لوگ توجہ نہیں دیتے۔

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے، طاق میں پڑا غلاف سے لپٹا ہوا قرآن منتظر ہے کہ مجھے کھول کر پڑھا ہی نہیں سمجھا بھی جائے، خدا دل کے باہر بیٹھا ہے کہ دل صاف ہوں تو میں دلوں میں جاوں، خانقاہیں سسکیاں بھرتی ہیں کہ میرے اندر بھی دنیا گھس آئی ہے، مدرسوں کی پر شکوہ عمارتیں اداس ہیں یہاں امت نہیں گروہ تیار کیے جا رہے ہیں، یونیورسٹیاں اور کالجز اساتذہ کی بے حرمتی پر نوحہ پڑھتے ہیں، کچے مکانوں کے باسی دو وقت کی روٹی کے لیے تڑپتے ہیں۔

ایک ہم ہیں کہ ہم نے آنکھیں بند کر لی ہیں، دل پتھر بنا لیے ہیں، کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہیں، وقت کی صدائیں سنیں، وقت نے گزرنا ہے گزر جائے گا،مگر پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی، قدرت کے قوانیں بدل نہیں سکتے، ایسے مطالبوں کا نتیجہ ذلت کے سوا کچھ نہیں نکلتا، ہم مزید پستی کی طرف جائیں گے، لوگوں کی نفرت کا نشانہ بنیں گے، پلٹ آو، نہیں تو قرآن کی اس آیت کو یاد رکھیں۔

وان تتولو یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونو امثالکم_

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: