بزرگ ہمارے عہد کے خراب ہوگئے!! شوکت علی مظفر

0
  • 45
    Shares

والدہ مارکیٹ سے سبزی گوشت لے کر گھر آئیں تو چھوٹی بچیوں کی گھٹی گھٹی آواز نے قدم گیٹ پر ہی روک لیے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی چھوٹی بچی التجا کررہی ہو۔ پڑوس میں کرائے دار مقیم تھے۔ والدہ نے ان کا گیٹ بجایا کہ خیریت تو ہے لیکن ان کا بھی خیال تھا، ایسی آوازیں انہوں نے بھی سنی ہیں لیکن سمجھ نہیں آرہا کہ کہاں سے آئی ہیں؟ اسی پڑوسی کے ساتھ ایک بیٹھک ایک بزرگ کو کرائے پر دی گئی تھی جو لنڈے کے کپڑے ریڑھی پر فروخت کرتے اور پوری بیٹھک اسی طرح کے کپڑوں سے بھری رہتی۔ دوپہر کا وقت اور گیٹ پر تالا نہ ہونے کی وجہ سے والدہ کو اس بزرگ پر شک ہوا۔ گیٹ بجایا گیا تو بالکل خاموشی چھا گئی۔ کئی بار گیٹ بجانے پر کوئی جواب نہ ملا تو شک یقین میں بدلنے لگا۔ والدہ سامنے والے گھر میں گئیں کہ اوپری منزل سے جھانک کر کوئی اندازہ کیا جاسکے۔ پھر قریب کے دو اور گھروں سے خواتین اس مہم پر جُت گئی کہ کسی طرح اس بزرگ کی کوٹھڑی کا کوئی منظر کسی جھری سے دکھائی دے جائے مگر کامیابی نہیں مل پارہی تھی۔ اسی دوران سامنے گھر کی خاتون نے اپنے شوہر کو کال کرکے معاملے سے آگاہ کیا۔ اس دوران بزرگ نے اچانک گیٹ کھولا اور دروازہ کھلا ہی رہنے دیا۔ پھر جھاڑو لے کر اپنی کوٹھڑی کے سامنے صفائی میں مگن ہوگئے۔ والدہ نے خوامخواہ گیٹ کے سامنے سے گزر کر اندر جھانکا مگر کوئی بچی نہ دکھائی دی۔ بزرگ، والدہ پر تپ گئے کہ کیا تانکا جھانکی لگا رکھی؟ والدہ نے بچیوں کی آواز کے متعلق پوچھا، دیگر خواتین بھی تجسس کے باعث بالکنی اور، دروازوں سے جھانکنے لگیں۔ بزرگ نے کہا ایسے ہی وہم ہوگا۔ گلی میں اتنے بچے ہیں کسی کی آواز سن کر مجھ پر الزام مت لگائو۔ مَالک مکان بھی اس دوران آگیا والدہ نے اسے دیکھ کر کہا ’’بیٹا! تم اس کی کوٹھری میں دیکھو کوئی بچی تو نہیں ہے کہیں؟‘‘

مَالک مکان اندر گیا تو چندلمحوں بعد واپس آیا اور کہا اندر تو کوئی نہیں ہے۔ لیکن والدہ کو تسلی نہ ہوئی۔ بزرگ کا غصہ بڑھ گیا۔ گلی کی خواتین بھی والدہ کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگیں۔ تب ہی سامنے والا شاہد آگیا جسے اس کی بیوی نے کال کرکے بلوایا تھا۔ اس نے آتے ہی بزرگ کو تھپڑ جڑ دیا۔ معاملہ اور سنگین۔ مالک مکان بھی تپ گیا کہ کیوں ایک بزرگ پر ہاتھ اُٹھا رہے ہو، پہلے بات سن اور سمجھ لیا کرو۔ شاہد نے والدہ کی طرف دیکھ کر کہا ’’بھابی! بات کیا ہے؟‘‘

والدہ نے اسے مختصر بتایا اور ساتھ یہ بھی کہا وہ خود جاکر اپنے انداز سے تلاشی لے۔ مَالک مکان نے فوراً کہا کہ وہ تلاشی لے چکا ہے لیکن شاہد نے سنی ان سنی کردی اور اندر جاکر لنڈے کے کپڑوں کی گٹھڑیوں کو ہٹانے لگا، ابتدا میں تو اسے بھی ایسا ہی لگا جیسے والدہ کو وہم ہوا مگر پھر اچانک ہی ایک بچی کا ہاتھ اسے دکھائی دیا تو شاہد نے جلدی جلدی کپڑے ہٹائے تو نیچے سے دو چھوٹی چھوٹی بچیاں بے ہوشی کی حالت میں برآمد کرلی گئیں۔ بزرگ یہ دیکھ کر بھاگنے لگا لیکن والدہ ایک زور دار دھکا دے کر اسے گرادیا۔ بچیوں کو والدہ کے حوالے کیا اور شاہد نے تو بزرگ کو مار مار کر لہو لہان کردیا۔ اسی دوران پولیس بھی آگئی اور بچیوں کو ہوش میں لے آیا گیا۔ جن کے مطابق پانچ روپے دینے کے بہانے وہ اسے گھر میں لے آیا۔ دوسری چھوٹی بچی اس کی بہن تھی اسی لیے ساتھ ہی آگئی۔ بزرگ کے تو مزے ہوگئے اور اس نے انہیں بے ہوشی کی کوئی دوا پلائی مگر بے ہوش ہونے سے قبل ہی وہ اپنی شیطانی حرکت شروع کرنے لگا تو بچیاں گھبر کر رونے لگیں۔ یہ وہی لمحہ تھا جب والدہ نے ان بچیوں کی آواز سنی تھی۔ والدہ کی حاضر دماغی سے ان بچیوں کی عزت محفوظ رہی لیکن پولیس نے بزرگ کو گرفتار کرنے کے دو دن بعد ہی چھوڑ دیا کیوں چھوڑ دیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

زینب قتل کیس کے بعد چند برس قبل کا یہ واقعہ مجھے یاد آگیا۔ اب ہر کوئی اپنے مطلب سے زینب کیس کو کیش کرنے کی کوششوں میں ہے۔ وہ لبرلز جو سیکس ایجوکیشن کے ذریعے ہماری نئی نسل کو مادر پدر آزاد کردینا چاہتے ہیں وہ تو جیسے ایسے کسی سانحے کی منتظر تھی۔ میڈیا پر کچھ اور آزاد خیال قسم کے لوگ حقیقی چاچوں ماموں کے گرد شک کا دائرہ کھینچ رہے ہیں۔ مانا کہ شیطان غالب آجائے تو پھر باپ بھی اپنی سگی اولاد کو نہیں بخشتا۔ کتنی ہی ایسی خبریں تلاش کرنے پر مل جائیں گی جو باپ کے روپ میں شیطانوں نے اپنی بیٹیوں کی عزت کو بھی نہیں بخشا۔ یورپ تو ایک سازش کے تحت ماں اور بہن کو بھی قابل استعمال شے باور کرانے کیلئے ایسی فلمیں تیار کرکے حساس اور ناپختہ ذہنوں کو منتشر کررہا ہے۔ بھارت کی بھی ایسی اُردو فلمیں آنا شروع ہوگئی ہیں جس میں بہن کے ساتھ وہ سب کچھ کرکے دکھایا گیا ہے، گویا یہ سب درست عمل ہو اور بھابی جو کبھی بھارتی فلموں میں ’’بھابی ماں‘‘ کے روپ میں پیش کرکے اس کی عزت بڑھائی جاتی تھی اب سویتا بھابی کے انداز میں دعوتِ گناہ دیتی دکھائی دیتی ہے۔ جس کے بعد بھارتی معاشرے میں بھابی سب سے زیادہ آسان ہدف سمجھی جانے لگی۔ کچھ بعید نہیں کہ ہمارا معاشرہ بھی اسی راہ پر آج نہیں تو کل چل پڑے۔ بلکہ ایک کیس تو میرا آنکھوں دیکھا ہے جب میں ڈبل سواری کے جرم میں حوالات کی ہوا کھا رہا تھا تو ایک اٹھارہ انیس سال کا لڑکا بھی اسی لاک اَپ میں تھا اور جرم تھا ’’بڑی بھابی کے ساتھ رنگ رلیاں منانا۔‘‘

زینب سانحے کے بعد ہم انصاف انصاف کی رٹ لگا رہے ہیں لیکن یہاں انصاف کون فراہم کرے گا؟ میڈیا؟ قانون؟ اس میں شک نہیں کہ قانونِ قدرت اپنے انداز سے انصاف دیتی ہے مگر خدا نے انسانوں کو بھی کچھ اختیارات دیئے ہیں کہ وہ اپنے معاشرے کے ساتھ خود انصاف کرے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میڈیا سب سے زیادہ طاقت ور ہے اور انصاف دلانے میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ میڈیا کے اندر خود اتنی غلاظت ہے، وہ کیسے کسی کی عزت بچا سکتا ہے؟ میڈیا کیلئے وہی خبر اہم ہے جس میں ریٹنگ ہو۔ وہی ایشو قابل قبول ہے جہاں سے دو پیسوں کی آمدن متوقع ہو۔ انصاف سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ورنہ کتنی ہی زینب اسی میڈیا کے ہاتھوں اپنی عزت تار تار کرواچکی ہیں؟ خاتون نیوز اینکر ز کو پروڈیوسر اور اعلیٰ افسران سے بنا کر رکھنی پڑتی ہے۔ رپورٹر اگر لڑکی ہے تو اس کے مسائل بھی کم نہیں۔ ایکٹرس اور ماڈل ہے تو بغیر ’’تعاون‘‘  آگے نہیں بڑھ سکتی۔ رہا قانون تو اس میں دو حصے ہیں۔ پہلا پولیس اور دوسرا عدالت۔ دونوں کا حال سب کے سامنے ہے۔ رائو جیسے کائونٹر اسپیشلسٹ کیا کچھ گُل نہیں کھلاتے۔ عدالتیں حالات و وَاقعات کو مد نظر رکھ کر جس طرح کے فیصلے کرتی ہیں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ ایک نہیں ہزاروں مثالیں ہیں کہ قانون انصاف فراہم کرنے میں بری طرح ناکامی سے دوچار ہے۔ مجھے ڈبل سواری کیس سے نجات کیلئے تین مہینے پیشیاں بھگتنی پڑیں، وکیل کو پیسے الگ دیئے، پولیس والوں کو الگ سے چائے پانی۔ نوکری سے چھٹیاں الگ، گھر والوں کی پریشانی دگنی۔ باقی جرائم میں انصاف کے حصول کا موازنہ کوئی راکٹ سائنس نہیں۔

جلد شادی اس کا سادہ سا حل ہے۔ لیکن یہاں جوانوں سے زیادہ اُن بزرگوں کی شادیوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جن کی رفیق حیات جہانِ فانی سے کوچ کرچکی ہیں۔ اور ایسی آنٹیاں بھی جن کے شوہر داغِ مفارقت دے چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پھر معاملہ کیسے حل ہوگا؟ کیسے چھوٹی بچیاں شیطانی درندوں سے بچ پائیں گی۔ جلد شادی اس کا سادہ سا حل ہے۔ لیکن یہاں جوانوں سے زیادہ اُن بزرگوں کی شادیوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جن کی رفیق حیات جہانِ فانی سے کوچ کرچکی ہیں۔ اور ایسی آنٹیاں بھی جن کے شوہر داغِ مفارقت دے چکے ہیں۔ ایسے بزرگ’’ لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ کی وجہ سے شادی نہیں کرپاتے اور پھر اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے کیلئے کم عمر بچوں اور بچیوں کو بہلا پھسلا کر اپنا مطلب پورا کرلیتے ہیں۔ کیونکہ ایسے بزرگوں کے پاس وقت بھی ہوتا اور پیسہ بھی۔ جوان ہوتے لڑکوں کو تو پڑھائی کی فکر، نوکری کی تلاش اور شادی کی خواہش میں ایسی حرکات کا کم ہی موقع مل پاتا ہے پھر ان کے پاس ناجائز ہی سہی ’’گرل فرینڈ‘‘ آپشن بھی موجود ہی ہوتا ہے۔ ہمیں بچوں کو بچانا ہے تو بزرگوں پر نظر رکھنی ہوگی۔ بات تو تلخ ہے لیکن حقائق سے آنکھیں چرا کر ہم پھر کسی اور زینب کو موت کے منہ میں دھکیل دیں گے۔ انصاف حاصل کرنے کے علاوہ ہمارے اپنے بھی کرنے کے کچھ کام ہیں۔ تنہا بزرگوں کی شادیوں کو طعنہ مت بنائیں۔ جیسے پیٹ بھرنا بچے، بوڑھے کی ضرورت ہے اسی طرح فطرت کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی لازم ہے۔ ایسے بزرگ جب کوئی حرکت کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں تو پھر لوگ کیا کچھ نہیں کہتے؟ اس پر بھی کبھی غور کرلیا جائے تو کتنا اچھا ہو۔ ایسی ہی ایک بیوہ آنٹی کو رنگے ہاتھوں اُس وقت پکڑا گیا جب ایک نو عمر لڑکا اس آنٹی کی ’’شفقت‘‘ میں تھا اور کسی طرح لڑکے کی ماں کو خبر ہوگئی اور اس ماں نے آئو دیکھا نہ تائو جاتے ہی ڈنڈے سے پٹائی شروع کردی بیوہ کی۔ ویسے بھی آخر ی عمر میں بندے کی ہوس، دولت کی لالچ اور زندہ رہنے کی خواہش حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

ابھی تو صرف چند ایک ہی قصے تحریر کیے ورنہ ایک طویل فہرست ہے ایسے واقعات کی اور کتنی کہانیاں ہیں میرے پاس اس طرح کے بزرگوں کی۔ لگے ہاتھوں ایک پروفیسر صاحب کی مختصر مثال اور دیتا چلو ں جو لرزتی ٹانگوں کے ساتھ لیکچر دینے آتے اور جوان لڑکیوں کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں چمک سی آجاتی۔ ایک اسائنمنٹ کے بعد ایک کلاس فیلو کو ’’واہ میرا بیٹی شاباش‘‘ کہتے ہوئے پروفیسر صاحب نے شانے سے لے کر کمر سے بھی نیچے تک شاباش دے ڈالی۔ پہلے تو کلاس فیلو کچھ کسمسائی پھر دلیری سے کہا ’’سر! بیٹی کی شاباش تک تو کاندھے پر ہی ختم ہوگئی تھی۔ آگے جو کچھ آپ کررہے ہیں وہ ایک ٹھرکی ہی کرسکتا ہے۔‘‘

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: