کار لیزنگ، بینکنگ اور انشورنس کلیم: مکمل رہنمائی — لالہ صحرائی

1
  • 29
    Shares

بینک کی مدد سے قسطوں پر کار خریدنے والے کئی حضرات سوشل میڈیا فورمز پر بینک کی طرف سے پیش آنے والی مشکلات کا اظہار کرتے ہیں۔ دانش کے قارئین کے لئے جناب لالہ صحرائی ان معاملات پر اس تحریر میں مکمل راہنمائی پیش کر رہے ہیں  تاکہ تنازعات و شکایات کا باعث بننے والے معاملات میں آپ پہلے سے معلومات رکھنے کی وجہ سے نہ صرف درست فیصلہ کرسکیں بلکہ کسی ممکنہ تنازعہ یا نقصان سے بھی بچ سکیں۔


آپ بزنس مین ہوں یا سیلریڈ پرسن، لیزنگ کیلئے درکار ضروری کاغذات میں صرف آپ کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، دو تصاویر، ڈرائیونگ لائسنس، این ٹی این سرٹیفکیٹ، لاسٹ انکم ٹیکس ریٹرن، رہائش گاہ کا ایک جمع شدہ یوٹیلٹی بل، سیلری سلپ یا بزنس انکم اسٹیٹمنٹ اور ایک سال کی بینک اسٹیٹمنٹ شامل ہیں، اگر آپ کی تنخواہ بینک میں نہیں آتی تو اپنی سیلری، سلپ کیساتھ اپنے ادارے سے انکم سرٹیفکیٹ لے کر بھی پیش کر سکتے ہیں البتہ بینک اکاؤنٹ اور بینک اسٹیٹمنٹ کا ہونا ضروری ہے۔

بنیادی طور پر صرف یہی چیزیں درکار ہیں تاہم بینک اگر آپ کی آمدنی سے مطمئن نہ ہوں تو وہ ثبوت کیلئے کچھ اور چیزیں بھی مانگ سکتے ہیں، لیکن گارینٹی کے طور پہ کچھ نہیں طلب کیا جا سکتا مثلاً زیور، بانڈز، گھر، مکان، دکان، آپ کی دوسری گاڑی یا کسی اور پراپرٹی کے کاغذات بطور ضمانت وغیرہ نہیں مانگے جا سکتے نہ ہی ایسی کوئی چیز گروی رکھوانی چاہئیے۔

لیزنگ کے اخراجات:
اگر آپ کا لون منظور ہو جائے تو مبلغ سات ہزار روپے پراسیسنگ فیس بینک کو ادا کرنی ہو گی، گاڑی کی رجسٹریشن اور ٹیکسز کا خرچہ بھی آپ کو ہی برداشت کرنا ہو گا، آپ کی مطلوبہ گاڑی مارکیٹ میں شارٹیج کی وجہ سے اگر کہیں پر صرف ’’اون‘‘ پہ دستیاب ہے تو یہ فالتو رقم بھی آپ کو ہی ادا کرنی ہے۔

گاڑی کی خریداری:
اون سے بچنے کا واحد طریقہ بکنگ و انتظار ہے، آپ کسی بھی کمپنی کی نئی گاڑی بک کرا سکتے ہیں، مینوفیکچرر کی طرف سے ہزار سی سی تک کی گاڑی کم و بیش ایک ماہ اور بڑی گاڑی کی ڈلیوری تقریباً تین ماہ میں مل جاتی ہے۔

آجکل بعض بینک اپنی انویسٹمنٹ کرکے اپنے کسٹمرز کی سہولت کیلئے خود ہی گاڑیاں بک کراکے بھی رکھتے ہیں، ایسے بینکوں سے گاڑی لینے میں آپ انتظار اور اون کی زحمت سے تو بچ سکتے ہیں لیکن بینک جو انویسٹمنٹ کرتا ہے اس کا ازالہ کہیں نہ کہیں سے تو کرے گا لہٰذا وہ اپنے اخراجات نہایت چابکدستی سے آپ کے پیکیج میں ڈال سکتا ہے، اس بات کو پہلے کلیئر کر لینا چاہئے۔

پرانی گاڑی خریدنا چاہیں تو کہیں سے بھی لے سکتے لیکن ایسی گاڑی پانچ سال سے زیادہ چلی ہوئی نہ ہو تو لیز ہو سکتی ہے، امپورٹڈ گاڑی خواہ کوئی بھی ماڈل ہو مگر ان رجسٹرڈ ہو یا رجسٹرڈ ہو تو بھی پانچ سال سے زیادہ پہلے کی رجسٹرڈ نہ ہو، آپ کسی بھی شوروم سے پرانی گاڑی پسند کرلیں یا نئی گاڑی بک کرا لیں، بکنگ سلپ یا گاڑی کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد بینک انہیں پیمنٹ جاری کر دیتا ہے اور آپ ڈلیوری لے لیتے ہیں۔

گاڑی کی ملکیت:
گاڑی کی رجسٹریشن بینک کے نام ہوتی ہے اور معاہدے کی مدت مکمل ہونے تک اصل کاغذات اور گاڑی بینک میں گروی رہتی ہے، اس دوران رجسٹریشن بک کا ٹریولنگ پارٹ، گاڑی چلانے کا اتھارٹی لیٹر اور انشورنس کی اصل پالیسی آپ کے پاس رہتی ہے، تکمیل مدت اور فل ادائیگی کے بعد بینک آپ کو کلیئرینس سرٹیفکیٹ، اپنے نام پر ٹرانسفر کیلئے این او سی اور گاڑی کے تمام اوریجنل کاغذات آپ کو واپس کر دیتا ہے۔

گارنٹی کے طور پہ کچھ نہیں طلب کیا جا سکتا مثلاً زیور، بانڈز، گھر، مکان، دکان، آپ کی دوسری گاڑی یا کسی اور پراپرٹی کے کاغذات بطور ضمانت وغیرہ نہیں مانگے جا سکتے نہ ہی ایسی کوئی چیز گروی رکھوانی چاہئیے۔

شرائط معاہدہ کی قانونی حیثیت:
بینک ایک کاروباری ادارہ ہے جو معاہدے کی شرائط اپنے نفع اور انویسٹمنٹ کی حفاظت کو مدنظر رکھ کے تیار کرتا ہے، اس میں کوئی قانونی و اخلاقی عیب نہیں، ہر بزنس مین اسی طرح سے کام کرتا ہے۔

کار لیزنگ کیلئے تمام بینک، اسٹیٹ بینک کی، پروڈینشئیل ریگولیشنز کو فالو کرتے ہیں جس میں انہیں کئی طرح سے پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی لین دین کی شرائط میں ان حدود سے تجاوز نہیں کریں گے، پھر ہرسال اسٹیٹ بینک کی طرف سے ان کا آڈٹ بھی ہوتا ہے جس میں ایک ایک کیس کو دیکھا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی کے ساتھ ان مجوزہ حدود سے تجاوز تو نہیں کیا، اس پر طرہ یہ کہ باہمی مقابلے کی وجہ سے بھی سارے بینک ان حدود کے اندر رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

دھوکہ دہی کسی بھی بینک کی پالیسی نہیں ہوتی لیکن بینکر یا ڈیلنگ اسٹاف اپنا ٹارگیٹ پورا کرنے کے چکر میں بعض معاملات میں آپ کو کھل کر گائیڈ نہیں کرتا تاکہ شرائط کی سختی سے گھبرا کے کسٹمر بھاگ نہ جائے بلکہ یہ ہر بات آپ کی فیور میں کرتے ہیں اور اپنی یقین دہانیوں سے آپ کو مطمئن بھی کر لیتے ہیں لیکن جو کنٹریکٹ سائن کراتے ہیں وہ قطعی مختلف ہوتا ہے۔

اول تو کوئی بھی کسٹمر دستخط کرنے سے قبل اس کنٹریکٹ کو پڑھتا ہی نہیں، اگر پڑھ بھی لے تو اسٹاف یہ کہہ کے خاموش کرا دیتا ہے کہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، ہم آپ کی خدمت کیلئے بیٹھے ہیں، جو ہم نے کہہ دیا اس کے خلاف کچھ نہیں ہوگا، لیکن اگلے سال وہی لوگ کسی دوسرے بینک میں جا چکے ہوتے ہیں۔

بینک آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کرے تو بینکنگ محتسب کا ادارہ ہر شہر میں موجود ہوتا ہے جہاں وکیل کی بھی ضرورت نہیں، صرف اپنی شکایت بیان کریں اور ایگریمنٹ ساتھ نتھی کر دیں تو وائلیشن کی صورت میں فوری انصاف ہوتا ہے لیکن اس کنٹریک پر دستخط کر دینے کے بعد بینک، قانون اور تصفیہ کاروں کی نظر میں صرف وہی ایک قانونی دستاویز ہے جس کی شرائط کے آئینے میں آپ کی شکایت کا فیصلہ ہوگا، بینکرز کی طرف سے زبانی کلامی کی یقین دہانیوں اور مراعات کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہتی۔

ہم بنیادی طور پر اسے دھوکہ نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ عموماً وہ چیزیں ہوتی ہیں جو ڈیلنگ کے وقت مخفی رہ جاتی ہیں یا کم علمی کی بنیاد پر ان کی طرف آپ کی توجہ نہیں ہوتی، اسے ہم کنٹریکٹ کے hidden features کہتے ہیں، اسی طرح پرائسنگ میں بھی hidden charges ہوتے ہیں جو عموماً بعد میں ہی سامنے آتے ہیں۔

باعث نزاع معاملات:
بینک آپ کو دوسرے بینک کے مقابلے میں اپنا پرافٹ ریٹ تو کم کرکے بتا دیتا ہے مگر اس ریٹ کو کیلکولیٹ کرنے کا طریقہ نہیں بتاتا، نہ آپ خود اسے ویریفائی کر سکتے ہیں، مثال کے طور پہ آپ نے چھ لاکھ کی گاڑی لی، دس فیصد پرافٹ ریٹ طے ہوا اور تین سال کی مدت رکھی تو؛

پہلے طریقے میں یہ پیمنٹ شیڈیول ایسے بناتے ہیں کہ چھ لاکھ پر تین سال کا پرافٹ تیس فیصد کیلکولیٹ کرکے اصل رقم میں جمع کیا اور اس کل رقم کی چھتیس قسطیں بنا دیں۔

دوسرے طریقے میں چھ لاکھ پر ایک سال کا دس فیصد پرافٹ اٹھایا اور دولاکھ پلس ساٹھ ہزار کی بارہ قسطیں بنا دیں، پھر دوسرے سال کیلئے چار لاکھ کا دس فیصد پرافٹ اٹھایا اور دولاکھ پلس چالیس ہزار کی بارہ قسطیں بنا دیں، پھر آخری سال میں دولاکھ کا دس فیصد اٹھایا اور دولاکھ پلس بیس ہزار کی بارہ قسطیں بنا دیں۔

پہلی صورت میں آپ کو ایک لاکھ اسی ہزار روپے پرافٹ ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری صورت میں ایک لاکھ بیس ہزار دینا پڑتا ہے، لہٰذا آپ پہلے کے مقابلے میں اس دوسرے پر راضی ہو جاتے ہیں۔

اب ہوتا یہ ہے کہ پہلے والے نے فکس ریٹ رکھا ہوتا ہے، اگر بدقسمتی سے ریٹ بارہ فیصد ہوجائے تو آپ کو زائد نہیں دینا پڑتا لیکن اگر بینک کی خوش قسمتی سے ریٹ کم ہوجائے تو وہ کم بھی نہیں کرتا، جبکہ دوسرے نے اپنی دی ہوئی رعایت کو کوور کرنے کیلئے اندرخانے آپ کو فلوٹنگ ریٹ پر رکھا ہوتا ہے تاکہ اگلے سال ریٹ بڑھنے یا بینک پالیسی بدل جانے کے بہانے سے ریٹ کو اوپر لے جائے، اس صورت میں بھی یہ پہلے والے سے تو آپ کو سستا ہی پڑتا ہے لیکن شروع میں نظر آنے والا بڑا فرق آخر میں گھٹ کے محض ایک فیصد تک ہی رہ جاتا ہے۔

تیسرا طریقہ ڈمینشنگ کا ہے جو صرف اسلامی بینک اپناتے ہیں، یہ پہلی قسط پر پرافٹ چھ لاکھ پر اٹھاتے ہیں، اور دوسری قسط پر پہلی قسط کی اصل رقم کل لیزنگ کی رقم سے منہا کرکے باقی پر پرافٹ لگاتے ہیں، اسی طرح ہر ماہ اصل رقم جتنی کم ہوتی جاتی ہے اس کے بعد بچنے والی اصل رقم پر پرافٹ بھی کم ہوتا چلا جاتا ہے۔

بظاہر یہ ٹھیک لگتا ہے اور پہلے دو کی نسبت مزید سستا لگتا ہے لیکن جہاں آپ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہر ماہ چھ لاکھ کا چھتیسواں حصہ اصل رقم سے خارج ہو رہا ہے وہاں اندر خانے کہانی کچھ اور ہوتی ہے، ابتداء میں یہ اصل رقم کا معمولی سا حصہ خارج کرتے ہیں تاکہ بقایا پر پرافٹ زیادہ بنتا رہے، شروع کی قسطوں میں پچانوے فیصد پرافٹ اور اصل رقم کا محض پانچ فیصد شامل ہوتا ہے، یہ صورتحال اسی پروپورشن سے بدلتی رہتی ہے یہاں تک کہ آخری سال کی قسطوں میں معاملہ برعکس ہو کے پچانوے فیصد اصل رقم خارج ہو رہی ہوتی ہے اور پرافٹ محض پانچ فیصد لوڈ ہوتا ہے، الٹیمیٹ نتیجہ اس کا بھی وہی نکلتا ہے کہ کل ملا کے آپ کو دس نہیں تو نو فیصد سالانہ پر پڑ جاتا ہے۔

ایسی کسی بدلتی ہوئی صورتحال پر جب آپ کو آگاہی حاصل ہو جائے تو بیشک آپ کو لگے گا کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے مگر چونکہ وہ ایگریمنٹ میں شامل کلازز کے تحت ایسا کر رہے ہوتے ہیں اور پھر پروڈینشئیل ریگولیشن کے بھی اندر رہتے ہوئے کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا قانونی طور پر انہیں غلط نہیں کہا جا سکتا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ من و عن ہر کسٹمر کے ساتھ ہر کیس میں ایسا ہی ہوتا ہے بلکہ یہ ایک تمثیل بیان کی ہے جس پر کسی نہ کسی درجے میں لازمی عمل ہو رہا ہوتا ہے کیونکہ کسٹمر رعایت مانگتا ہے، مارکیٹ میں کمپیٹیشن ہے اور بینکوں کو کام بھی کرنا ہے لہٰذا وہ کسٹمر کو مطمئن کرنے کیلئے بظاہر خواہ کچھ بھی کہیں لیکن اندرخانے اپنی پوزیشن کو ریسائز کرکے زیادہ سے زیادہ ایک آدھ فیصد کا ریلیف دیتے ہیں باقی کوور کر لیا جاتا ہے۔

آجکل قدرے فیئر مارکیٹ کا رجحان ہے پھر بھی کسی کا بھروسہ کچھ نہیں، پھر ان چابکدستیوں کو ماہرین کے علاوہ کوئی عام آدمی سمجھ بھی نہیں سکتا، ان حالات میں الجھنوں سے بچنے کے کچھ آسان سے طریقے بتا دیتا ہوں۔

سب سے پہلے تو آپ یہ کیجئے کہ ہر بینک کی ویب سائٹ پر اس کا کار لیزنگ کیلکولیٹر موجود ہے، آپ وہاں جا کے اپنی مطلوبہ گاڑی کی کل مالیت، ڈاؤن پیمنٹ جتنی آپ دینا چاہتے ہیں اور جتنے عرصہ میں لون کلیئر کرنا چاہتے ہیں وہ متعلقہ خانوں میں لکھ کر کیلکولیٹ یا سبمٹ کا بٹن دبائیں تو ماہانہ قسط آپ کے سامنے آجائے گی۔

تمام بینکوں کو کھنگالنے کے بعد جو آپ کو کم قسط آفر کریں ایسے تین بینکوں کا انتخاب کر لیں، پھر باری باری ان سے نیگوشئیٹ کریں، جو آپ کو مزید ریلیف دینے پر رضا مند نظر آئے اس کے ساتھ معاہدہ کرلیں، سردست کیلکولیشن کے معاملے میں اس سے بہتر اور کوئی حل نہیں دیا جا سکتا۔
دوسرے مرحلے میں ان سب کا کنٹریکٹ فارم لے کر اسے بغور پڑھیں جس کی ٹرم اینڈ کنڈیشنز زیادہ نرم ہوں اس کے ساتھ معاہدے کو ترجیح دیں۔

تیسرے نمبر پر کنٹریکٹ میں ایسی شق کی شناخت ضرور کریں کہ جس میں دوران مدت ریٹ بڑھنے یا نہ بڑھانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہو، یا یوں لکھا ہو کہ ریٹ مسلسل کائبور پلس تھری رہے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ریٹ اسٹیٹ بینک کی طرف سے بڑھے گا اس پر بینک اپنا تین فیصد برقرار رکھے گا، آجکل کائبور چھ فیصد ہے اس حساب سے بینک چھ جمع تین اپنا ملا کر نو فیصد چارج کرتا ہے، کائبور کل کو سات ہو جائے تو بینک سات جمع تین رکھے گا، اگر کائبور بڑھنے کی خبر آئے تو اسے اسٹیٹ بینک کی ویب سائیٹ پر کنفرم کیا جا سکتا ہے، وہاں کائبور کی ٹیب میں روزانہ کا ریٹ ریکارڈ ہو رہا ہوتا ہے۔

اس کے بعد معاہدے میں ارلی پیمنٹ early payment کا آپشن ضرور رکھوانا چاہئے، یعنی دوران معاہدہ جب کبھی آپ کے پاس فالتو پیسے آجائیں تو مدت مکمل کرنے سے پہلے بھی اپنا حساب کلیئر کر سکتے ہیں، بعض بینک منع کر دیتے ہیں باقی پہلے سال میں اس کی اجازت نہیں دیتے لیکن دوسرے سال آپ کو فل ادائیگی کی اجازت تو دے دیتے ہیں البتہ اس بقایا رقم پر ارلی پیمنٹ پینلٹی چارج کرتے ہیں۔

اس ارلی پیمنٹ پینلٹی کی ضرورت یوں ہے کہ اگر کسی نے تین سال کیلئے مکان کرائے پہ دے رکھا ہے تو اسے پتا ہوتا ہے کہ آخری تین ماہ میں نیا کرائے دار ڈھونڈنا ہوگا تاکہ اِدھر مکان خالی ہو اور اُدھر دوبارہ کرائے پر چڑھ جائے۔

بینک نے بھی ہر سال واپس آنے والی رقم آگے بڑھانے کی پلاننگ کر رکھی ہوتی ہے، جیسے جیسے رقم واپس آتی ہے وہ اسے ٹھکانے لگاتا جاتا ہے لیکن اگر وقت سے پہلے آدھی رقم واپس آجائے تو وہ اچانک کرائے دار کہاں سے ڈھونڈے، چنانچہ وہ اس رقم پر آدھا کرایہ بطور ہرجانہ وصول کر لیتا ہے، یہ بات کنٹریکٹ میں موجود ہوتی ہے۔

یہاں تک کی جملہ گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ گاڑی اس بینک سے لیجئے جو سب سے کم انٹرسٹ چارج کرے، جس کی شرائط نرم ہوں، کائبور کے علاوہ ریٹ نہ بڑھنے کی شق معاہدے میں موجود ہو، ارلی پیمنٹ کا آپشن موجود ہو، ارلی پیمنٹ پر پینلٹی نہ لگائے، کوئی وسط مدتی پیمنٹ یا پینلٹی لاگو نہ کرے، علاوہ ازیں معاہدے کی تمام شقوں کو بغور پڑھے اور سمجھے بغیر کبھی بھی دستخط نہ کیجئے اسلئے کہ کسی تنازعے کی صورت میں اس معاہدے کے مقابلے میں آپ کی جذباتی کیفیت، زبانی کلامی شرائط اور آپ کے مغالطے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اس لیے بینکرز کی زبانی کلامی باتوں پر بھی کوئی اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں جب تک کہ اس کا بیان کردہ کہیں لکھا ہوا موجود نہ ہو۔

آپ کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ چاہیں تو انشورنس بینک کے پیکج میں ڈلوا لیں یا کوئی سستا ریٹ آفر کرے تو بینک کو انوالو کئے بغیر کسی سے بھی اپنی ڈائریکٹ پالیسی لے لیں

اس کے بعد انشورنس کی باری آتی ہے، انشورنس کے چارجز اصل رقم پر چار یا ساڑھے چار فیصد تک چارج کئے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی بینک زیادہ چارج کر رہا ہے تو وہ لازمی اس سے بھی فائدہ اٹھا رہا ہے، اس کا توڑ یہ ہے کہ جو انشورنس کمپنیز بینک کے پینل پر موجود ہوں ان کے نمبر لے کے آپ خود ان سے بات کرلیں، پھر جو سستا پڑے اسے اختیار کرلیں، آپ کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ چاہیں تو انشورنس بینک کے پیکج میں ڈلوا لیں یا کوئی سستا ریٹ آفر کرے تو بینک کو انوالو کئے بغیر کسی سے بھی اپنی ڈائریکٹ پالیسی لے لیں لیکن انشورنس بہرحال کرانی ضروری ہے۔

بیمہ جاتی تحفظ اور زرِ تلافی کے معاملات:
گاڑی کی حفاظت سے متعلق تمام تر امور کی ذمہ داری کسٹمر کے اوپر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی گاڑی کی حفاظت اور سیف ڈرائیونگ کو ہمیشہ مدنظر رکھے پھر بھی کوئی نہ کوئی مشکل پیدا ہو سکتی ہے۔

کسی حادثے کی صورت میں متاثرہ گاڑی کی ریپئرنگ مقصود ہو تو اس کا بل انشورنس کمپنی دے گی، گاڑی اگر ٹوٹل لاس total loss ہو جائے، چوری ہو یا گن پوائنٹ پر چھین لی جائے تو انشورنس کی طرف سے کسٹمر کو گاڑی کی قیمت زرتلافی کی صورت میں مل جاتی ہے مگر اس پر کچھ شرائط لاگو ہوتی ہیں۔

حادثے کے وقت جو کوئی بھی گاڑی ڈرائیو کر رہا ہو اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس کا ہونا بہت ضروری ہے، لیز شدہ گاڑی آپ کے علاوہ آپ کی اجازت سے ڈرائیور، دوست یا رشتے دار کوئی بھی چلا سکتا ہے، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حادثے کی وجہ آپ کی اپنی غلطی تھی یا کسی دوسرے کی، لیکن اگر ڈرائیور کے پاس لائسنس نہ ہو، وہ رانگ وے پر ہو، ٹریفک رولز کی وائلیشن یا اوور اسپیڈ کی وجہ سے حادثہ ہوا ہو تو آپ کا ریپیئرنگ یا ٹوٹل لاس کا کلیم ریجیکٹ ہو سکتا ہے۔

حادثے کی صورت میں اگر کوئی جانی نقصان نہ ہو تو ایف آئی آر کی ضرورت نہیں پڑتی خواہ گاڑی ٹوٹل لاس ہی کیوں نہ ہو چکی ہو، البتہ چوری ہو جائے یا چھین لی جائے تو پہلے مرحلے میں ایف آئی آر درج کرائیں، پھر اپنے لِیزر یعنی بینک اور انشورنس کمپنی کو فوراً زبانی اور تحریری طور پر مطلع کریں، پھر انشورنس کلیم داخل کریں لیکن یہ کلیم آپ کو فوراً نہیں ملے گا بلکہ کم از کم ایک یا دو ماہ گزرنے کے بعد کیس کلوزنگ رپورٹ درکار ہوتی ہے جس میں پولیس یہ لکھ کے دیتی ہے کہ اب گاڑی کا ملنا دشوار ہے لہٰذا کیس کلوز کیا جاتا ہے، جب آپ کیس کلوزنگ رپورٹ پیش کر دیں گے تو اس کے بعد ایک دو ہفتوں میں آپ کو کلیم کی رقم مل جائے گی۔

آپ کلیم تو پوری رقم کا ہی کریں گے لیکن زرتلافی گاڑی کی کل ملکیت یعنی جتنی مالیت کی گاڑی آپ نے خریدی تھی اس کے برابر نہیں ملے گا بلکہ کلیم کے وقت اس ماڈل کی جو قیمت ان دنوں مارکیٹ میں چل رہی ہوگی وہ مالیت آپ کو ملے گی، یہ مالیت انشورنس کمپنی کا متعین کردہ سرویئر طے کرتا ہے جو سروے کمپنی سے ہائر شدہ تھرڈ پارٹی ایجنٹ ہوتا ہے، ریپئرنگ کی صورت میں کیا کیا کام کرانے کی اجازت دینی ہے یہ فیصلہ بھی سروئیر ہی کرتا ہے۔

بوقت کلیم اپنے ماڈل کی مارکیٹ ویلیو آپ خود بھی مارکیٹ سے پوچھ سکتے ہیں اور اگر انشورنس کمپنی کے مقرر کردہ سروے ایجنٹ کی بتائی ہوئی قیمت پر آپ متفق نہیں تو آپ انشورنس کمپنی سے یہ درخواست کر سکتے ہیں کہ اپنے سروئیر کو ہمارے ساتھ مارکیٹ بھیجا جائے تاکہ ایک جوائنٹ سروے کیا جائے اور متفقہ رقم طے کی جا سکے۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مارکیٹ ویلیو کا تعین کرتے وقت یہ نہیں پوچھا جاتا کہ فلاں ماڈل کی گاڑی آپ کتنے میں فروخت کر رہے ہیں بلکہ تین چار موٹر شوروم سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ فلاں ماڈل کی منٹ کنڈیشن گاڑی آپ کتنے میں ہم سے خریدیں گے، کیونکہ شوروم والا خریدتا سستی ہے اور بیچتا مہنگی ہے، اب چونکہ یہ حادثہ آپ کی اپنی غلطی سے یا بدقسمتی کی وجہ سے ہوا ہے اسلئے تصور یہ کیا جاتا ہے کہ آپ اپنی متاثرہ گاڑی بیچنے آئے ہیں لہٰذا زر تلافی کی قیمت وہ طے ہوگی جو موٹر شوروم والا خریدنے کے طور پہ بتائے گا کہ فلاں ماڈل کی گاڑی اچھی کنڈیشن میں ہو تو وہ اس دام میں خرید سکتا ہے، ایسے کم از کم تین شوروم والے جو قیمت بتائیں گے ان تینوں کو جمع کرکے تین پر تقسیم کرکے ایک ایوریج فگر نکالا جائے گا جو بطور زرتلافی آپ کو مل جائے گا۔
کلیم کے وقت گاڑی کی حالت مس یوز کی وجہ سے خواہ انتہائی خراب ہی کیوں نہ ہو لیکن دام اچھی کنڈیشن کے ہی پوچھے جائیں گے اور وہی ملیں گے جو سروے رپورٹ میں ایوریج کر کے سامنے آئیں۔

ریپیئرنگ کیلئے بھی سب سے پہلے حادثے کی زبانی اور تحریری اطلاع بینک اور انشورنس کمپنی کو دیں، پھر گاڑی کسی بھی ایسے شوروم پر لے جائیں جو انشورنس کمپنی سے منظور شدہ ہو اور کام کے معاملے میں اس کی شہرت بھی اچھی ہو خواہ آپ کے گھر سے کچھ دور ہی کیوں نہ پڑے۔

ہر شوروم پر سروس ایڈوائزر موجود ہوتے ہیں جو آپ کو ہر طرح سے گائیڈ کرتے ہیں کہ متاثرہ گاڑی کو واپس اپنی صحیح حالت میں لانے کیلئے کیا کیا کام کرانے ضروری ہیں، وہی ایڈوائزر آپ سے کاغذات لے کے انشورنس کمپنی کے سروئیر کو بھی خود ہی بلوا لیتے ہیں، ان کا چونکہ روزانہ واسطہ پڑتا ہے اسلئے وہ انشورنس اور سروے کمپنیز دونوں کے اہلکاروں سے بھی واقف ہوتے ہیں، وہ آپ کو یہ بھی بتا دیں گے کہ کون کون سے کام فری میں ہو جائیں گے اور کن کن چیزوں پر آپ کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہو گا، یہاں کچھ چیزیں میں بھی گوش گزار کر دیتا ہوں۔

جب گاڑی کی حالت اسی فیصد تک تباہ ہو چکی ہو یا گاڑی کی ریپئرنگ پر آنے والے خرچے کا ایسٹیمیٹ اس کی کل قیمت کے اسی فیصد تک بن رہا ہو تو پھر انشورنس کمپنی خود ہی اسے ٹوٹل لاس قرار دے دیتی ہے تاہم یہ آپ کی اپنی مرضی پر ہے کہ اسے بنوائیں یا ٹوٹل لاس کلیم داخل کر دیں۔

گاڑی کا نقصان کم ہو یا زیادہ اس کی ریپئرنگ کا ایک ہی اصول ہے کہ مرمت کے تمام کام بشمول ڈینٹنگ پینٹنگ، ڈس پلیسڈ چیزوں کو ان کی جگہ پر لگانا، چیسز اور وہیلز کی بیلینسنگ کرنا اور دیگر تمام چیزیں جنہیں ری اسیمبل کرنا پڑے ان سب کا بل انشورنس کمپنی دے گی، لیکن جو پارٹس نئے لگیں گے جیسے کہ بمپر، دروازے، ہیڈلائیٹس، انڈیکیٹر یا شیشے وغیرہ ہیں تو ان کی لاگت کا اتنا پورشن آپ کو ادا کرنا ہوگا جتنی ان کی ڈیپریسیئیشن ہو چکی ہو گی یا بوقت حادثہ جتنی ان کی اصل قیمت باقی رہ گئی ہو گی۔

نئی گاڑی پہلے سال اگر ریپئرنگ پر جاتی ہے تو پارٹس پر دس فیصد رقم آپ کو ادا کرنا ہوگی، دوسرے سال زیادہ، تیسرے سال اس سے بھی زیادہ، چوتھے سال اور اس کے بعد اسی فیصد تک رقم آپ کو ادا کرنی ہوگی کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ پانچ سال میں یہ چیزیں اپنی قیمت پوری کر چکی ہوتی ہیں بہرحال اس میں بھی کچھ نہ کچھ گفت و شنید کی گنجائش ہوتی ہے مگر زیادہ نہیں۔

ایک بار ٹوٹل لاس کا کلیم وصول کرنے پر انشورنس مستقل طور پر ختم ہو جاتی ہے، البتہ ریپئرنگ کے جتنے بھی چاہیں کلیم کر سکتے ہیں مگر ہر کلیم کے بعد چار پانچ ہزار روپے کی اینڈورزمنٹ کرکے اسے دوبارہ رینیو کرانا پڑتا ہے۔

اس آئینے میں انشورنس کا ایگریمنٹ بھی سائن کرنے سے پہلے اچھی طرح پڑھ لینا چاہئے، انشورنس کی طرف سے آپ کے علاوہ کسی کو گاڑی چلانے کی اجازت ہے یا نہیں، ٹوٹل لاس کا کلیم سیٹل کرنے کی شرائط کیا ہیں اور وہ کہاں لکھی ہوئی ہیں، مقررہ مدت کے دوران ریپئرنگ کے کتنے کلیم کر سکتے ہیں اور ہر کلیم کے بعد پالیسی جاری رہے گی یا نہیں اگر جاری رہے گی تو رینیول فیس کتنی اینڈورز کرانی پڑے گی، اگر ختم ہو جائے گی تو پھر نئی پالیسی کتنے کے عوض بنے گی، ان چیزوں کے علاوہ بھی انشورنس کے نمائندے سے ان کے ڈوز اینڈ ڈونٹس معلوم کر لینے چاہئیں تاکہ ایسے معاملات سے محتاط رہ سکیں جو کسی کلیم کو ریجیکٹ کرا دیں۔

مزید کوئی سوال ہو تو آپ نیچے کمنٹس میں پوچھ سکتے ہیں۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. لالہ جی، آپ نے کچھ چھوڑا ہو تو پوچھا جائے نہ۔
    بس ایک بات کی تصیح کرتا چلوں۔کہ تمام اسلامی بینک ڈیمینشنگ مشارکہ پر ہی گاڑی نہیں دیتے (یعنی آپ ماہ بہ ماہ گاڑی کے مالک بنتے جائیں) بلکہ اجارہ یعنی کرایے پر بھی دیتے ہیں (جیسے میزان بینک). اس صورت میں اجارہ مدت تک گاڑی بینک کی ملکیت میں ہوتی ہے اور آپ اسے کرایے پر چلاتے ہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: