میرا علمی و مطالعاتی سفر —– سجاد میر

0
  • 74
    Shares

میں قیام پاکستان سے کچھ دن پہلے 22جولائی 1947 کو امرتسر میں پیدا ہوا، قیام پاکستان کے بعد میرے والدین ہجرت کر کے ساہیوال میں آبسے، جہاں میری ابتدائی تعلیم ہوئی اور ادھر ہی سے گریجویشن کے بعد میں پنجاب یونی ورسٹی کے شعبہ انگریزی میں آگیا۔ اس دوران میرا شوق صحافت مجھے ہفت روزہ زندگی میں لے گیا، یہ 1973 کی بات ہے اور یہیں سے میری صحافتی زندگی کا آغاز ہوا۔ میں لاہور آنے سے پہلے ہی اپنے ادبی ذوق کی بنا پر ادبی حلقوں میں جانا پہچانا تھا، اور اس کی تمام تر وجہ ہمارے شہر ساہیوال کا علمی ادبی ماحول تھا، میٹرک کے بعد ہی میں شاعری سے لگاو، ادبی ذوق کی بنا پر شہر کے ادبی حلقوں سے وابستہ ہو گیا تھا۔ ذوق مطالعہ میں اگرچہ گھر کے ماحول کا اثر تھا لیکن زیادہ اثر شہر کے ماحول کا ہی تھا۔ بعد میں صحافیانہ ضرورت مجھے لاہور سے کراچی لے گئی جہاں میں نے زندگی کے 35 سال گزارے۔ بہت سے خواب لے کر کراچی گیا، کراچی اس زمانے واقعی روشنیوں کا شہر تھا۔

ہفت روزہ زندگی اس زمانے بھٹو صاحب کے زیر عتاب آگیا، پھر ہم نے تعبیر نکالا، الطاہر نکالا، مختار حسن مرحوم ہمارے ساتھی تھے اور تعبیر ضیاء الحق کے مارشل لاء کی نذر ہو گیا اور اسی طرح دوسرے پرچے بھی آتے جاتے رہے۔ پھر میں نے بطور نیوز ایڈیٹر روزنامہ حریت جوائن کیا۔ اس دوران کچھ عرصہ کویت میں گزارا جہاں ایک اردو پرچے میں Book Section کا انچارج تھا۔ پھر واپس آکر نوائے وقت میں ڈپٹی ایڈیٹر اور پھر حریت میں بطور ایڈیٹر بھی کام کیا۔ نوائے وقت، خبریں، جنگ میں کالم نگاری بھی کی اور پنجاب لوٹنے کی خواہش مجھے مختلف ٹی وی چینلز کی دعوت قبول کرنے کی طرف لے آئی اب پھر لاہور میں مقیم ہوں اور کالم نگاری کے ساتھ ٹی وی پروگرام بھی کر رہا ہوں۔


ہمارے شہر ساہیوال کی ادبی فضا تھی اور میں اس فضا میں اسکول ہی کے زمانے سے مجید امجد صاحب کے ساتھ وابستہ ہو گیا تھا۔ وہاں آنہ لائبریریاں ہوا کرتی تھیں ان لائبریریوں سے میں نے نسیم حجازی، ابن صفی اور دوسرے بڑے ادیبوں کو پڑھا اور ادب کے گہرے اثرات اپنی زندگی میں لیے۔ وہاں بزم فکر و ادب کی لائبریری، گورنمنٹ کالج ساہیوال کی لائبریری بہت معیاری تھی اور پڑھنے والوں کے ذوق کی تسکین کے لیے بہت ہی قیمتی کتابیں یہاں دست یاب ہوتیں۔ سکول ہی کے زمانے میں ادب کا اچھا ذوق پروان چڑھا، جس نے مجھے مجید امجد، مراتب اختر، جعفر شیرازی، گوہر ہوشیارپوری کے ساتھ جوڑ دیا، ان لوگوں کی صحبت میں مطالعہ کا ذوق نہ صرف پروان چڑھا بلکہ یہ ذوق مزید نکھر کر مقصدیت کی طرف چلا گیا۔

ہمارے پڑوس میں میرے ایک عزیز جو میرے استاد بھی تھے، خواجہ احمد دین صاحب، ان کی صحبت نے ہمیں انگریزی لٹریچر کا بہت اعلیٰ ذوق پروان چڑھایا کہ وہ انگریزی ادب کا بہت گہرا مطالعہ کر چکے تھے، اور پڑھانے کا انداز بھی بہت جان دار تھا۔ انھوں نے فرسٹ ایئر ہی میں ہمیں Shakespeare کے ڈرامے اس طرح پڑھا دیے تھے کہ فورتھ ایئر پڑھنے والے بھی بوقت ضرورت ہم سے راہ نمائی لیتے اور اس وجہ سے ہمیں ادبی حلقے میں بہت پذیرائی ملتی تھی، اس ماحول اور تربیت کا اثر تھا کہ میں جب لاہور آیا تو یہاں کے علمی ادبی حلقوں میں معروف تھا۔ شامی صاحب ہم سے کالج میں سینئر تھے اس وجہ سے ان سے تعارف بھی تھا اس بنا پر انھوں نے مجھے تبصرہ کتب لکھنے کی آفر کی جو میں نے قبول کی اور پھر اس ضرورت کے تحت ہی پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے حاصل مطالعہ کو پیش کرنے کا سلیقہ آگیا۔ سکول کی زندگی میں خلیل جبران، فراق گھورکھ پوری جیسے لوگوں کے مطالعہ میں وقت گزارا۔ حسن عسکری ذرا مختلف قسم کے نقاد تھے، ان کو پڑھا اور پسند کیا۔ جناب رامے کی چیزیں بھی پڑھیں، اس طرح شروع ہی سے کچھ مزاج ٹیڑھا ہو گیا تھا۔ Drama Through ages ایک مضمون بھی لکھا اس زمانے میں جس میں پورے ڈرامہ کی تاریخ یونان سے لے کر تب تک کے مراحل لکھے، ظاہر ہے کہ ڈرامے کو اچھی طرح پڑھا ہو گا۔ تب ہی اتنا مفصل مضمون مرتب ہوا۔ اس مطالعے نے آگے جانے کی خواہش بھی پیدا کی۔ دور تک سوچنے کا شوق پیدا ہوا اور اس پذیرائی کی وجہ سے ایسی کتابیں بھی جو بہت بعد میں جاکر سمجھ آئیں وہ بھی پڑھ ڈالیں۔ یعنی سلیم احمد، حسن عسکری اور مغربی نقاد، فلسفہ تصوف، مکتب روایت کے لکھنے والے جیسے رینے گینوں، شواں، مارٹن لنگز وغیرہ ان کو بہت ابتدا ہی میں پڑھا اور میرے خیال میں اگر ابتدائی عمر میں ہی شیکسپیئر کے ڈرامے پڑھنے کا عشق ہو جائے تویہ بہت اچھا ذوق ہے، لاہور کے حلقہ ارباب ذوق میں نظریاتی اور ادبی حوالوں سے بے شمار معرکے لڑے ہیں۔

میں کہا کرتا ہوں کہ ادب میرا دوسرا مذہب ہے اگرچہ مذہب انسان کی زندگی میں ایک ہی ہوتا ہے، ادب ہی میری زندگی کا حاصل اور اوڑھنا بچھونا ہے۔ میں نے ادب ہی کے زیر اثرمذہب، تاریخ، فلسفہ، نفسیات وغیرہ کا مطالعہ کیا ہے اور ان موضوعات پر اہم اور نمایاں لوگوں سے پنجہ آزمائی بھی کی ہے، چاہے وہ سلیم احمد ہوں یا ڈاکٹر منظور احمد یا پھر ڈاکٹر مبارک علی۔ جہاں تک ادبی ماحول کا تعلق ہے کراچی میں میرا گھر طارق روڈ پر لکھاریوں، ادیبوں کا مرکز ہوا کرتا ہے۔ پروین شاکر، احمد جاوید، جمال پانی پتی، عذرا عباس سب لوگ ہی میرے گھر جمع ہوتے۔ اس دور میں ہی احمد فراز کو بھی ہمارے ہی حلقہ نے دریافت کیا اور پھر بلندیوں پر چڑھایا۔

ناولوں میں اگر آپ مجھے کہیں کہ میں اردو کے دس بڑے ناول نگاروں کا تذکرہ کروں تو میں شاید “آگ کا دریا” کو ہی اردو کا بڑا ناول قرار دوں گا۔ اگرچہ میری نظر میں عینی کے افسانے ان کے ناولوں سے زیادہ اچھے ہیں اور ان کا ریورتاژ لکھنے کا بھی اپنا ہی انداز ہے۔ جو ان کی تحریر ستمبر کا چاند میں نظر آتی ہے۔

اس کے ساتھ “اداس نسلیں” میری نظر میں ایک بڑا ناول اور عزیز احمد کا ناول ’’گریز‘‘ ’’ایسی بلندی ایسی پستی‘‘ بھی بہت ہی قابل ذکر ہے۔ انتظار حسین کے ناول ’’بستی‘‘ کو بھی میں بہت اہم سمجھتا ہوں۔ اس میں قدیمی اور داستانی رنگ ہے اور یہ مجھے پسند ہے۔ بانو قدسیہ کا ’’راجہ گدھ‘‘ بھی اردو کا ایک بڑا ناول ہے۔ خدیجہ مستور کے ’’آنگن‘‘ نے مجھے اپیل نہیں کیا۔ عینی آپا کا اسلوب بہت ہی عمدہ ہے لیکن افسانوں میں منٹو کی نثر میں بہائو اور سادگی بے پناہ ہے اس لیے مجھے منٹو پسند ہے، کرشن چند کو پسند نہ کرنے کے لیے میں اپنے آپ سے لڑا ہوں اور اپنے آپ کو کرشن چند سے بچانے کے لیے محنت کی ان کا اسلوب بہت پرکشش ہے میں نے اس اسلوب سے اپنے آپ کو بچایا تھا۔ ان کا خطابت کا انداز بہت پراثر ہے۔ جب کوہستان میں میرا پہلا کالم شائع ہوا اس پر مجیدامجد نے بہت اچھا تبصرہ کیا تھا کہ رومانوی طرز کی نثر لکھی ہے تو میں نے سادہ اسلوب میں لکھنے کے لیے محنت کی اور اس کو سیکھا ہے۔ اس دور کے بڑے اہم اسلوب جو صحافیانہ تناظر میں سمجھے جاتے تھے، وہ شورش کاشمیری کا سٹائل تھا اور پھر الطاف حسن قریشی کا تھا۔ میں نے دونوں کے طرز تحریرکو دیکھا اور اس میں اپنے لیے ایک نیا راستہ نکالا۔ ہمارے لکھنے والوں میں مستنصر حسین تارڑ بے پناہ امکانات کا آدمی ہے، اس کے سفر ناموں کے تجربات بے حد اہمیت کے حامل ہیں، اور اپنی مثال آپ ہیں۔ اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ خالدہ حسین کے افسانے بہت چونکا دینے والے ہیں۔ انور سجاد بھی بہت قابل ذکر ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ بغیر کسی لابی کے اپنے آپ کو منوانا اور پھر زندہ رکھنا ایک بڑا ہی اہم بھی ہے اور بھی۔ زاہدہ حنا اچھی لکھتی ہے، ان کے ساتھ ساتھ مجھے جون ایلیا کی شاعری اور نثر دونوں پسند ہیں، عبید اللہ علیم بھی قابل ذکر لکھنے والے ہیں۔
شاعری کے لحاظ سے ذاتی حوالوں سے مجھے مجید امجد کی شخصیت بہت پسند رہی ہے۔ اس دور کے قابل ذکر شعرا میں یہ لوگ بالخصوص میرا جی، ن م راشد، فیض، مجید امجد بہت اہم شاعر تھے۔ میں ذہنی طور پر مجید امجد کے ساتھ ہوں اور فیض کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا ہوں۔

فیض کے ساتھ میرا اختلاف نظریاتی نہیں ہے اقبال کو حافظ پر جس طرح کے اعتراضات تھے، اس طرح کے اعتراضات بھی مجھ ناچیز کو فیض صاحب سے ہیں۔ زندگی کے کچھ کمزور لمحوں میں مجھے فیض پسند آتا ہے، لیکن فیض کا جادو میڈیا کا مرھون منت ہے اور ہمارا میڈیا فیض سے اچھی شاعری پسند بھی نہیں کر سکتا۔

مظفر علی سید نے کہا تھا کہ علی گڑھ والوں نے غزل کے عناصر اربعہ کو پسند کر کے اردو سے ہمارے بہت سارے مقامی الفاظ اور لہجے چھین لیے ہیں جیسے کیا خوب کہا ہے کہ “ہزار خوف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق”۔

میرے خیال میں تو جیل کو زندان کہنے سے بھی بہت کچھ چھن جاتا ہے۔ ہمارے برصغیر میں بھ، پھ کے الفاظ بڑے اہم ہیں اور دھرتی سے قریب ہیں۔ ان کو بھی چھین لیا گیا ہے۔ ہمارے کراچی میں تو غالب کے مصرع بھوں پاس کا مذاق (بھوں بھوں) کہہ کر اڑایا گیا۔ ہماری علاقائی زبانوں کے لفظ چھن گئے، کراچی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے ہمیں عزیز حامد مدنی جیسا شاعر متعارف کروایا۔ میں نے ان کی وفات پر لکھا تھا کہ جس معاشرے میں احمد فراز ایک مقبول شاعر ہے اور لوگ عزیز حامد مدنی کو کم ہی جانتے ہوں ایسے معاشرے کو سوچنا چاہیے کہ آخر اس معاشرے سے کیا غلطی ہوئی ہے۔
ظفر اقبال اور منیر نیازی کے ہاں الگ طرح کا Image-ism پایا جاتا ہے، منیر نیازی کے ہاں اچھی شاعری ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ فراق اور یگانہ کو کیوں قبول نہ کیا گیا۔ اگر آپ شاعری کی گہرائی میں جائیں تو پھر آپ کی نظر میں میر اور فراق کے بعد کوئی نہ ٹکے گا۔ احمد مشتاق غزل کا اچھا شاعر ہے، مراتب اختر کی بڑی کمال کی غزلیں ہیں۔ اسی طرح ریاض مجید، شکیب جلالی۔

ظفر اقبال بھی ایک غیر معمولی شاعر ہے۔ ان کی شاعری بھی سلیم احمد نے شروع کروائی، سلیم احمد ہر طرح کی شاعری کے تجربے کرتے رہتے تھے، مثلاً میں غبارے بیچتا ہوں، کاغذ کے سپاہی وغیرہ۔ وہ ایک غیر معمولی آدمی تھے، انھوں نے مجمع میں بیٹھ کر سوچنا سیکھا تھا، شاعری، نئی شاعری، نامقبول شاعری، جیسے مضمون انھوں نے لکھے۔ انھوں نے اس موضوع پر 3مفصل مضمون لکھے، عسکری نے کہیں کہہ دیا کہ کون غالب؟ تو انھوں نے کتاب لکھ دی کہ کون غالب؟

غالب دو عہدوں کے درمیان پیدا ہوئے۔ پہلا دور ہمارے شعری روایت میں ابراہیم ذوق، میردرد، میرتقی میر کا دور تھا اور اس نے اپنی شاعری میں آنے والے دور کو بھی پیش نظر رکھا۔ اس لیے آج تک زندہ ہے۔ جس طرح شیکسپیئر انگریزی ادب کے درمیانے دور میں پیدا ہوا۔

اگرچہ میں بھی انشا پردازی کرتا ہوں لیکن انشا پردازی کے خلاف لڑتا ہوں یہ سب ٹولہ ملمع ساز ہے، میں بھی بہت اچھی نثر لکھ سکتا ہوں اگر بناوٹ کروں پھر محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے، اس لیے میں ابوالکلام آزاد کو پسند نہیں کرتا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں شاید ان کو ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے پسند نہیں کرتا حالانکہ ایسا نہیں ہے میں ان کو ان کے بناوٹی فقروں کی وجہ سے نہیں پڑھتا۔ لیکن ہمارے معروف انشاء پردازوں یعنی مختار مسعود اور شیخ منظور الہٰی کے طرز تحریر پسند نہیں کرتا۔ ان لوگوں کی نثر میں مصنوعیت محسوس ہوتی ہے۔ مختار مسعود کا بھی یہی معاملہ ہے، انتظار حسین نے درست لکھا ہے کہ یہ مختار مسعود نے لفظ بناتے بناتے ان کو کچھ زیادہ ہی پیس دیا ہے۔ مشتاق یوسفی صاحب اگرچہ میرے مہربان ہیں اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہم اپنے مزاج کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں کسی حد تک درست لگتی ہے۔ اگرچہ رپور تاژ میں یہ رنگ دکھانے پڑتے ہیں۔ اس کے لیے میں عینی آپا سے متاثر ہوا، ان کی ’’رپورتاژ، ستمبر کا چاند‘‘ مجھے پسند آئی۔

میرے خیال میں اسلوب ذرا سادہ ہونا چاہیے، جس میں برجستگی ہونی چاہیے۔ جہاں تک مزاح کا تعلق ہے تو مجھے بچپن میں پطرس بخاری ہی پسند آئے پھر رشید احمد صدیقی بہت پسند آئے۔ کرنل محمد خان کی پہلی کتاب بجنگ آمد اچھی لگی ضمیر جعفری صاحب، شفیق الرحمن کو بھی دل لگا کر پڑھا، لطف اندوز ہوا لیکن یوسفی صاحب کی ابتدائی چیزیں مجھے بہت پسند آئی ہیں۔

غیر ملکی ادب میں میں روسی اور فرانسیسی ادب سے گہرا اثر لے چکا ہوں۔ دوستو فسکی، ٹالسٹائی، بازاگ، فلائیر وغیرہ اچھے لگے۔ انگریزی ناول کی نسبت مجھے روسی اور فرانسیسی ادیبوں نے زیادہ اپیل کیا۔

فارسی مجھے تھوڑی بہت آتی ہے۔ بہت ضرورت کی حد تک کہ میں فارسی جاننے والوں میں بیٹھ کر انجوائے کر سکوں۔ اس میں میرے عزیز اور چھوٹے بھائی احمد جاوید کا ذوق بہت عمدہ ہے۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے


یہ بھی ملاحظہ کیجئے: دیکھنا تحریر کی لذت: اردو ادب کے قاری کو کیا پڑھنا چاہئے؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: