مجرم کی نفسیات اور سماج : زینب قتل کے تناظرمیں — عامر منیر (آخری حصہ)

0
  • 23
    Shares

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

اب استغاثہ ایک سیاسی فرد کی حیثیت سے، سیاسی عمل کی ایک فعال اکائی کے طور پر مجھے مخاطب کرتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ عدل و تعزیر کا میکانزم اپنی حرکیات اور اثر پذیری میں ایسا کھوکھلا اور بودا ہو تا جا رہا ہے کہ اس کا خوف انسانی جبلت کے تقاضوں پر غالب آنے سے قاصر ہوچکا ہے؟

عملاً پاکستانی سماج کا ہر فرد جانتا ہے کہ اس امکان کی نفی نہیں کی جا سکتی۔ یہ امکان ہمارے معاشرے کی بہت سی برائیوں اور بہت سے جرائم کے فروغ کے پیچھے موجود ہے۔ لیکن ایک سیاسی اکائی کی حیثیت سے میں سب سے زیادہ چالاک اور مکار شخص ہوں۔ مجھے اپنے آپ کو ہر قسم کے الزام سے بری ثابت کرنے اور اپنے مخالفین پر وہی الزام تھوپ دینے یا جوابی الزام تراشی کا ہنر خوب آتا ہے۔ میں ایک پرفن تقریر کا آغاز کرنے کے لئے پرجوش ہو ں، سماج پر عائد کی گئی فرد جرم میں ایسا بہت سا مواد موجود ہے جسے میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے دلیل کے طور پر پیش کر سکتا ہوں، میں معصوم زینب کے والدین کو اس سانحے کا حقیقی ذمہ دار تک ثابت کر سکتا ہوں۔

لیکن استغاثہ کی فرد جرم مجھے نہ جرم کے انسداد میں ناکامی کا مجرم ٹھہراتی ہے نہ زینب کے قاتلوں کو ڈھونڈنے کا ذمہ دار، میرے ضمیر کی عدالت جانتی ہے کہ میں عدل و تعزیر کے میکانزم کا حصہ نہیں اور اس میکانزم کی کوتاہیوں اور ناکامیوں کا ذمہ دار نہیں۔ یہ مجھ سے نظام عدل و تعزیر کے منتظمین چننے والے ایک فرد کی حیثیت سے پوچھتی ہے کہ جن افراد کا میں نے چناؤ کیا ہے، کیا مجھے ان پر اعتبار ہے کہ وہ سماج کے تاریک گوشوں میں پلتی برائیوں کا ادراک اور ان کے سدباب کی فکر رکھتے ہیں؟ اگر یہ سوال ضرورت سے زیادہ امید پرستانہ ہے تو اسے جانے دیجئے، یہ پوچھ لیجئے کہ ایک ایسے معاملے میں جہاں انصاف کے تقاضے ایک طرف ہوں اور میرے ذاتی مفادات دوسری طرف، کیا میں اپنے چنیدہ امیدوار سے انصاف کے تقاضے نبھانے کی امید رکھوں گا یا میرے ذاتی مفادات کے لحاظ کی؟ کیا حقیقت یہ نہیں کہ نہ ہی نظام عدل و تعزیر کے منتظمین کی ترجیحات میں نے کبھی پوچھی ہیں، نہ ہی میں ان سے انصاف کے تقاضے نبھانے کی توقع رکھتا ہوں۔ اگر میرے سامنے دو امیدوار ہوں، جن میں سے ایک کے بارے میں مجھے یہ معلوم ہو کہ وہ عدل و تعزیر کے معاملات میں انصاف کے تقاضوں کو ہر امر پر مقدم رکھے گا اور دوسرے پر بھروسہ ہو کہ ایسے معاملات میں وہ میری برادری یا میرے ساتھ ذاتی تعلق کو ہر شے پر مقدم رکھے گا، تو میں اس امیدوار کو چننا پسند کروں گا جس پر مجھے تعلق نبھانے کا بھروسہ ہے۔ میں یہ فرض کرلوں گا کہ مجھے اپنی ذاتی ترجیحات، اپنے مفادات کو مقدم رکھنے کا حق ہے لیکن باقی تین سو اکیالیس حلقوں کے ووٹرز کا فریضہ ہے کہ وہ راستی اور انصاف کے تقاضوں کو مقدم رکھیں۔ استغاثہ پوچھتا ہے کہ اگر کسی چائلڈ پورن گینگ کے کرتا دھرتا کا چنیدہ امیدوار، اسی طرح انصاف کے تقاضوں پر تعلق یا برادری کے تقاضوں کو مقدم رکھے ہوئے، مجرموں کا پشت پناہ بنا ہوا ہے تو کیا میں یہ اعتراف کرنے کو تیار ہوں کہ اس صورتحال میں کچھ ذمہ داری میری بھی ہے؟ کیا مجھے اسی طرح کے منتظمین پسند نہیں جو انصاف کے تقاضوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے نظام عدل و تعزیر کی گردن اپنی ایڑی تلے دبائے رکھیں؟

ایک سیاسی اکائی کی حیثیت سے میں سب سے زیادہ چالاک اور مکار شخص ہوں۔ مجھے اپنے آپ کو ہر قسم کے الزام سے بری ثابت کرنے اور اپنے مخالفین پر وہی الزام تھوپ دینے یا جوابی الزام تراشی کا ہنر خوب آتا ہے۔ سماج پر عائد کی گئی فرد جرم میں ایسا بہت سا مواد موجود ہے جسے میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے دلیل کے طور پر پیش کر سکتا ہوں، میں معصوم زینب کے والدین کو اس سانحے کا حقیقی ذمہ دار تک ثابت کر سکتا ہوں۔

اب یہ سب میری برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ میں چیخنا چاہتا ہوں کہ یہ فرد جرم اگر من و عن درست ہو بھی تو اس مشق سے کیا حاصل؟ کیا میں اپنی ذمہ داری کا اعتراف کر لوں تو زینب واپس آ جائے گی؟ میں اس جرم کے خلاف آواز اٹھا رہا ہوں، انصاف کا مطالبہ کرنے والی بلند بانگ آواز کا براہ راست حصہ ہوں۔ کیا یہ اس جرم میں میری بالواسطہ ذمہ داری کے ازالے کے لئے کافی نہیں؟لیکن اپنے اس موقف کے کھوکھلے پن کا احساس مجھے چیخنے نہیں دیتا، انصاف کا یہ مطالبہ کسی غلطی کے اعتراف کا مظہر کم اور من میں اٹکی ایک پھانس، ایک خلش سے بہر طورنجات پانے کی خواہش کا مظہر زیادہ ہے، میں یہ جانتا ہوں اور دھیمی آواز میں استغاثہ کی فرد جرم کے درست ہونے کا اعتراف کر کے خاموش ہو جاتا ہوں۔

لیکن ضمیر کے عدالتی عمل کا سب سے اذیت ناک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ضمیر کی عدالت کوئی فیصلہ نہیں سناتی۔ فرد جرم عائد کر کے اور ہم سے اس کی درستگی کا اعتراف لے کر عدالت برخاست کر دیتی ہے۔ فیصلہ قاضی کل قضاۃ نے حشر کے روز سنانا ہے اور وہ رحمان و رحیم ہے، ہمیں مہلت دینے والا ہے، اس نے ضمیر کی عدالت کو فیصلہ سنانے کا اختیار نہیں دیا کہ وہ چاہتا ہے اس فرد جرم کی روشنی میں ہم اپنی کوتاہیوں کا مداواڈھونڈیں، غلطیوں کی تلافی کریں، آخری اور حتمی عدالت کی طرف ایسی حالت میں پلٹیں کہ ہمارا لمحہ آئندہ، لمحہ موجود ہ سے اور لمحہ موجودہ، لمحہ گزشتہ سے بہتر ہو۔

***************
میں اس فرد جرم کی روشنی میں، سماجی عمل کی ایک اکائی کے طور پر، اپنے اندر کیا بہتری، کیا سدھار لا سکتا ہوں جس کے اثرات سماج کے کم از کم اتنے گوشے پر ضرور مرتب ہوں جتنا میری براہ راست رسائی میں ہے؟ اس فرد جرم میں سامنے آنے والی میری غلطیوں اور کوتاہیوں کی تلافی کیسے ممکن ہے؟
کیا مجھے یہ پوچھنے سے آغاز نہیں کرنا چاہئے کہ غلطی کیونکر سرزد ہوئی؟

میں ایک مذہبی آدمی ہوں، اسلام نے مجھے اپنی شرمگاہ کی حفاظت اور نگاہیں نیچی رکھنے کا جو حکم دیا ہے، اس پر صدق دل سے یقین رکھتا ہوں۔ اس پر عمل پیرا ہونے کو جنسی جبلت کی تہذیب کا مناسب ترین ذریعہ اور پاکیزگی نفس کا ضامن جانتا ہوں۔ اگر میں کسی فرد کو اس کی خلاف ورزی پر مائل یا اس کے خلاف اظہار خیال کرتے پاتا ہوں تو کیا اسے روکنا اور منع کرنا میرے لئے بالکل درست نہیں؟ اگر وہ فرد میرا دوست یا عزیز ہے تو اس کے ساتھ تعلق کی رعایت سے یہ روک ٹوک میرا فریضہ یا استحقاق نہیں ہو سکتی ؟ اگر میں کسی امر کو غلط سمجھتا ہوں تو اپنے دوست یا عزیز کو اس پر کاربند کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ ایک ایسا امر جو بالکل درست اور میرا فریضہ یا استحقاق ہے، اس کے نتائج اگر میری نیت، میرے ارادوں کے بالکل برعکس ظاہر ہوتے بھی ہیں تو اس میں میرا کیا قصور؟ کیا میری نیت کی درستگی کافی نہیں؟ اگر کسی کی جبلت ایک فکری خلا کی لپیٹ میں آ گئی ہے تو میں خود کو اس کے لئے قصور وار کیوں سمجھوں؟

لیکن ٹھہرئیے، کیا میں سچ مچ کسی کو اسلامی اقدار کی خلاف ورزی، پاکیزگی نفس کے ایک آئیڈیل کے خلاف جانے سے روک رہا ہوں، یا محض رسوم و رواج کی خلاف ورزی سے منع کر رہا ہوں تا کہ اس کی معاشرتی حیثیت برقرار رہے اور مجھے اس کے ساتھ تعلق رکھنے میں شرمندگی میں نہ ہو؟ کیا وہ نوجوان جسے میں گمرہی اور بے راہروی کی طرف جاتے دیکھ کر مضطرب ہوں، سچ مچ گمراہی کے راستے پر بڑھ رہا ہے یا سماج کی پشت پر لدے رسوم و رواج کے بوجھل گٹھڑ، ذات، برادری کی حرکیات اور ان سے پھوٹنے والی جابرانہ حدود و قیود کے خلاف آمادہ بغاوت ہے؟ یہ رسوم و رواج اور حدود وقیود ایک قبائلی سماج کی حرکیات کے آئینہ دار ہیں، جبکہ عصر حاضر کا نوجوان ایک قبائلی سماج کا نہیں، گلوبل ولیج کا رکن ہے۔ روح عصر اس سے اپنی انفرادیت کے اظہار کا، اپنے ممکنات کی آزادانہ نمود کا مطالبہ کرتی ہے اور ہر نسل روح عصر کی پکار پر لبیک کہنے کی پابند ہے، خواہ ماضی کتنی ہی مخلصانہ اور دلگداز التجاؤں کے ساتھ اسے رکنے کا کہے۔ ضروری نہیں کہ یہ آمادہ بغاوت نوجوان زنا اور بے راہروی کی آزادی کا ہی طلبگار ہو۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ پاکیزگی نفس کے تقاضے صرف قبائلی رسوم و رواج کی پابندی سے ہی نبھانے ممکن ہوں۔ عین ممکن ہے کہ ہم آزادی دیں تو نئی نسل کا ضمیر روح عصر کے تقاضوں اور پاکیزگی کے اس آئیڈیل کے مابین اشتراک کی صورتیں ڈھونڈ نکالے، گلوبل ولیج کی رکنیت اور مسلمان ہونے کے تقاضوں کو اکٹھے نبھانے کی کوشش میں کامیاب رہے۔ لیکن میں اس نوجوان کو یہ اجازت دینے کو نہیں تیار، میں اسے زبردستی کھینچ کر ماضی میں لے جانا چاہتا ہوں، جب روح عصر کا بلاوا میری فریاد پر غالب آ جاتا ہے تو میں جھنجھلا کر اسے برا بھلا کہنے لگتا ہوں۔

میں جدید فکر کے ایک پروردہ کی حیثیت کی طرف واپس پلٹتا ہوں۔ اس حیثیت سے میں پوری دیانتداری کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ جنسی جبلت کو اظہار اور نمود کی آزادی دینا، اسے تہذیب کے دائرہ میں لانے کا واحد ذریعہ ہے، لیکن یہ تہذیب نفس میرے لئے ثانوی امر کی حیثیت رکھتی ہے، میں اسے زیر غور صرف اس وقت لاتا ہوں جب مجھے سماج میں مذہب کے اثر و رسوخ کا سامنا درپیش ہوتا ہے اور اس کے اٹھائے گئے سوالوں کا بہر طور جواب دینا پڑتا ہے۔ مجھے شخصی آزادی چاہئے، اس لئے کہ یہ میرا حق ہے، دنیا کا ہر سماج انسان کی آزادی اور اس کے حقوق کو تسلیم کرنے کی طرف مائل ہے، میرے ارد گرد ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جو زندگی کو انجوائے کر رہے ہیں تو آخر میں ہی سماج کے تقاضوں کی قید میں ایک گھٹن زدہ، حسرت بھری زندگی کیوں بسر کروں؟

مجھے چونک کر رکنا پڑتا ہے۔ کیا میں شخصی آزادی کو بالذات مقصود سمجھتا ہوں؟ کیا میں واقعی اپنی انفرادیت کے اظہار اور اپنے حقوق پانے کا خواہاں ہوں یا شخصی آزادی میرے نزدیک زندگی کو انجوائے کرنے کا ذریعہ ہے، ایک مقصد نہیں بلکہ ایک ذریعہ ؟ کیا شخصی آزادی اور “زندگی انجوائے کرنے” کا تصور دو الگ الگ امور نہیں؟ شخصی آزادی کا ادراک سچ مچ سماجی گھٹن اور جبر کے خلاف انسانی ضمیر کی بغاوت، انسان پر حق ملکیت جیسے حقوق کی دعویدار اتھارٹیوں کے مقابل اپنی حیثیت کے ازسرنو تعین کی کاوش اور اس عمل میں اپنی فطری حیثیت کی بازیافت کا عمل ہے۔ لیکن “زندگی انجوائے کرنے” کا تصور جیسا کہ ہمیں بھاتا ہے، یہ کلیسا کے پنجوں سے آزادی کی کوشش میں زندگی کی روحانی معنویت کو ترک کر دینے سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کی ایک کاوش ہے، اس کا شخصی آزادی سے تعلق مطلق اور لازم نہیں بلکہ اضافی، ریلیٹیو اور سماجی حرکیات پر منحصر ہے۔ اپنی اصل میں یہ تصور تلاش مسرت کے ایسے فلسفہ کی عملی صورت ہے جو خدا کو غیر موجود، آخرت کو غیر یقینی او ر صرف اس زندگی اور حسیات کی گرفت میں آ سکنے والے حقائق کو حقیقی اور یقینی مان کر ایک آئیڈیل زندگی کا نقش تخلیق کرتا ہے۔ میں اس آئیڈیل کو ایسے سماج پر، خود اپنی شخصیت کے ایسے خد و خال پر منطبق کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جو خدا کو کائنات کا فعال منتظم، آخرت کو یقینی اور ابدی مسرت کے ایک آئیڈیل کو زندگی کا اصل راہنما سمجھتا ہےاور یہ کوشش جب ناکام رہتی ہے تو میں جھنجھلا کر سماج کو صلواتیں سنانے اور اس کی اقدار سے وابستہ افراد کا مضحکہ اڑانے پر اتر آتا ہوں۔

طعنے، تضحیک اور دشنام کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتے، لیکن نہ میں ایک مذہبی فرد کی حیثیت سے آزادی کے جویا نوجوان پر طعنہ زنی سے باز آتا ہوں، نہ ہی جدید فکر کے نمائندہ کی حیثیت سے پاکیزگی نفس کی فکر رکھنے والے نوجوان کا مضحکہ اڑانے سےگزیر کرتا ہوں۔

میں پوری سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہوں کہ طعنے، تضحیک اور دشنام کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتے، لیکن نہ میں ایک مذہبی فرد کی حیثیت سے آزادی کے جویا نوجوان پر طعنہ زنی سے باز آتا ہوں، نہ ہی جدید فکر کے نمائندہ کی حیثیت سے پاکیزگی نفس کی فکر رکھنے والے نوجوان کا مضحکہ اڑانے سےگزیر کرتا ہوں۔ کیا میں ان دونوں حیثتیوں میں اسے کنفیوژن اور بے یقینی کے اندھے کنویں میں دھکیلنے کا مرتکب نہیں ہو رہا، ایسی کنفیوژن اور بے یقینی جس میں کسی بھی آئیڈیل کا پنپنا اور ضبط نفس نا ممکن ہو جا ئیں؟ کیا میں اپنی تقدیس یا انسان دوستی کے تفاخر کو تھوڑی سی لگام دے سکتا ہوں؟ طعنہ زنی اور طنز و تضحیک سے گزیر کر سکتا ہوں؟ جنسی جبلت کے تقاضوں کو سمجھنے اور تہذیب نفس کے عمل سے گزرتے نوجوان کو اتنی سپیس دے سکتا ہوں کہ وہ طعنوں کے خوف یا تضحیک کے ڈر سے نہیں، بلکہ آزادانہ شعوری تفکر کے ذریعے اپنی الجھنوں کو خود سلجھا سکے؟ اگر میں ایسا کر سکتا ہوں، جنسی جبلت کی تہذیب کے بارے میں اپنے تیقنات کا ایک مدلل اور مثبت انداز میں اظہار کر سکتا ہوں، اس بارے اپنے دل میں اگر کوئی الجھن، کوئی بے یقینی موجود ہے تو خود انکاری کے لئے طعنہ زنی اور تضحیک کا ذریعہ اختیار کرنے سے منع رہ سکتا ہوں؟ اگر میں ایسا کر سکوں تو یہ مسئلے کے حل کی طرف، آنے والے کل کی زینب کو ایسے کسی سانحے سے بچانے کی جانب ایک قدم ہو سکتا ہے، ایک چھوٹا سا قدم سہی، لیکن کوئی سفر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، بہر حال چھوٹے چھوٹے اقدام کا ایک مجموعہ ہی ہوتا ہے۔

اس کے بعد ندامت اور تفاخر کے ان پیمانوں کی طرف آ جائیے جو مجرم کو طاقتور ہونے کا فاتحانہ، تفاخرانہ احساس مہیا کرتے ہیں جبکہ متاثرہ فرد پر کمزور، ہزیمت خوردہ اور سماج کے لئے ناقابل قبول ہونے کا احساس لاد دیتے ہیں۔ یہ پیمانے ہمارےسماج کی حد تک محدود نہیں، مغرب میں بھی جہاں عدل و تعزیر کا میکانزم ریاستی سطح پر ایسے جرائم کے سدباب کے لئے بے حد متحرک اور قانون سازی نہایت فعال ہے، جنسی استحصال کے متاثرین کو سماجی سطح پر ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تمام تر قانون سازی کے باوجودمغرب اس صورتحال سے نپٹنے میں ناکام ہے۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ دنیا کے بیشتر سماجوں میں یہ رویہ اسی طرح، انہی خطوط پر استوار ہے۔ ماضی بعید کے خانہ بدوش اور جنگجو قبائل کے کسی جگہ مستقل سکونت اختیار کر لینے سے وجود میں آنے والے سماجوں کا مشترکہ ورثہ ہے، خواہ کہیں بھی ہو۔

اس کا سبب یہ ہے کہ زمانہ قدیم کے جنگجو قبائل سے لے کر ان کی قائم کردہ سلطنتوں میں، جنسی تشدد مغلوب فریق پر اپنی طاقت کے اظہار اور مغلوب کی تذلیل، اس کی مزاحمت توڑنے کا ذریعہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ ان جنگجو قبائل کے لئے جنگ اور تشدد ایک غیر معمولی امر نہیں بلکہ روزمرہ کا معمول اور ذریعہ معیشت تھے۔ آپس کے مناقشوں یا ان زرعی قبائل پر جارحیت میں جو ان کی مانند متشدد نہیں تھے، جنسی تشدد اپنی فتح کے اعلان، قبیلے کی سر بلندی اور مخالف کو نیچا دکھانے، اس کی کمتری اور حقارت ظاہر کرنے کا آلہ تصور کیا جاتا تھا۔ اس جنگجو سماج کی بقا کا انحصار قبائلی عصبیت کے تسلسل اور بقا پر تھا۔ دشمن کو نقصان دینا اور تکلیف پہنچانا اس عصبیت کی مضبوطی اور فروغ کا ضامن تھا جبکہ دشمن کے ہاتھوں ہزیمت، زک اٹھانے سے اس عصبیت پر ضرب پڑتی تھی، اس کی کڑیاں کمزور پڑتی تھیں۔ ان حرکیات نے رفتہ رفتہ ایسی مبالغہ آرایانہ شکل پیدا کی کہ دھوکے، فریب اور رومانوی وعدوں کے ذریعے مخالف قبیلے کی کسی عورت کو اڑا لینا بھی اسی برتری اور تفاخر کا اظہار سمجھا جاتا تھا۔ رومانس کے تصور سے برصغیر کے سماج کی بیزاری اور برادری کے اندر شادی پر مبالغہ آرائی کی حد تک بڑھا ہوا اصرار بھی اسی دور اور انہی تاریخی حرکیات کی پیداوار ہے۔ جنسی تشدد کے فعل میں جارح کے فاتح اور طاقتور تصور کئے جانے اور متاثرہ فرد کے کمزو ر اور حقیر ہونے کا تصور بھی انہی دنوں کا ورثہ ہے۔ اس صورت حال میں جنسی جارحیت اپنی عصبیت کے فروغ اور برتری کے اظہار کے آلہ کی حیثیت سے ایک قابل فخر امر ٹھہرا جبکہ جنسی تشدد سے متاثرہ کوئی فرد، قبیلے کی ہزیمت کے استعارے، قبیلے کی کمزوری اور کمتری کے ایک مظہر کی حیثیت سے ناپسندیدہ ٹھہرا، اس عصبیت کو بچانے کی خاطر متاثرہ فرد کے اپنے ہی اسے بے دریغ قتل کر دینے سے بھی گزیر نہ کرتے تھے کہ اس کی موجودگی اہل قبیلہ کے احساس تفاخر کو مستقل ٹھیس پہنچاتی اور اس عصبیت پر ضرب لگاتی تھی۔ یہ سب رویے، رحجانات اور رواج جذبہ بقا کے عملی تقاضوں کی تحصیل کا ذریعہ تھے، قبیلے کی بقا، فرد کی بقا اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کی ضامن تھی اور اس بقا کو یقینی بنانے والا کوئی امر ناروا یا برا نہ سمجھا جاتا تھا۔

قبائلی اور سلطانی دور کے انسان کو اس کے اپنے ضمیر کی عدالت میں جوابدہ چھوڑ دیجئے۔ وہ دور قصہ پارینہ ہو چکا، ریاستی سماج کی حرکیات، قبائلی سماج سے بہت مختلف ہیں۔ وہ عصبیت جو بقا کی ضامن تھی، ریاستی شناخت کو منتقل ہو کر ایک بالکل مختلف امر بن چکی ہے، ریاستی شناخت کی بے شخصی، پیچیدگی اور تنوع قبائلی سماج سے بالکل الگ ایک جہان ہے، لیکن ہم قبائلی عصبیت اور اس کے ورثے کو آج بھی سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ اسے مقدس سمجھتے ہیں، اس کے وضع کردہ تفاخر اور ندامت کے پیمانوں کو مقدس سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے آباء و اجداد کی روحیں اگر کسی طور ہمیں دیکھ رہی ہیں تو اس عصبیت اور ان ہزاروں سال پرانے پیمانوں سے ہماری وابستگی کی تحسین کر رہی ہوں گی۔ جبکہ اگر ہمارے آباء و اجداد کی ارواح کسی طور ہمیں دیکھ رہی ہیں تو وہ ہماری جہالت اور کم عقلی پر ماتم کناں ہوں گی۔ انہوں نے زندگی کو جس حال میں پایا، معانی کا جتنا قلیل ذخیرہ ان کی رسائی میں تھا ، اپنے طور پر اسے استعمال کرتے ہوئے انہوں نے زندگی بسر کرنے کے طور طریقے وضع کئے، تحریری زبان کی عدم موجودگی اور باضابطہ قوانین کی تشکیل کے لئے درکار فکری استعداد کی نا دستیابی کے عالم میں اپنی بقا کو در پیش چیلنجز سے نپٹنے اور اپنے تہذیبی جوہر کے تقاضوں کو نبھانے کی اپنی سی سعی کی۔ اگر انہیں ہم سے کوئی توقع ہو گی تو یہ ہو گی کہ ہم قرنوں کے فکری ارتقاء میں جمع شدہ ذخیرہ افکار و معانی سے اپنے لئے زندگی گزارنے کا ایسا ڈھب وضع کریں، ایسے طور طریقے اور رحجانات کی تشکیل کریں کہ ایک بہتر، پر امن اور خوشحال دنیا کے جو خواب ان کے وجدان میں کلبلاتے ہوئے ان کے ساتھ خاک ہو گئے، تعبیر پا سکیں۔ ایک کامل تعبیر نہ سہی، دنیا جنت نظیر نہ سہی، ہمارے رویے اور رحجانات ان ہزاروں برس کے فکری ارتقاء سے انصاف تو کرتے ہوں۔

ہماری کیفیت یہ ہے کہ ہم آج بھی ذہنی طور پر قبائلی دور میں جی رہے ہیں۔ مجرم اپنے جرم پر نازاں اور متاثر ہ فرد اپنی بے گناہی پر نادم ہوتا ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ ہمارا ضمیر اور وہ اخلاقی اقدار جن کے ہم مدعی ہیں، چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ مجرم کے حصے میں طعن و تشنیع اور متاثرہ فرد کے حصے میں ہمدردی اور حوصلہ آنا چاہئے۔ لیکن ہم ورثے میں ملنے والے رویوں، تفاخر اور ندامت کے نسل در نسل چلے آتے پیمانوں پر سوال اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ جھجکتے ہیں کہ کہیں ندامت کے کسی پیمانے پر سوال اٹھانا خود ہمارے اندر نہاں کسی ندامت کا اظہار نہ سمجھا جائے۔ ہم متاثرہ فرد کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس کے بارے میں سرگوشیاں کرنے اور اس پر ہنستے ہیں۔ یہ پوچھنے کی جرات نہیں کرتے کہ ایک فرد کا ایسے امر کی بنا پر عزت سے محروم ٹھہرنا کیسے ممکن ہے جس میں اس کا کوئی قصور نہیں، کوئی خطا نہیں؟ کیسے، آخر کیسے ممکن ہے کہ دوسرا فرد ایسے گھناؤنے فعل کا مرتکب ہونے کے باوجود، جو ہر سماجی پیمانے پر ناقابل قبول ہے، معزز اور معاشرے کے لئے قابل قبول ہے؟ یہ تو بھو ل کر بھی نہیں سوچتے کہ ہماری تحقیر اور تضحیک کسی متاثرہ فرد کے لئے کیسی اذیتناک اور کتنی ظالمانہ ہو سکتی ہے۔ اس تحقیر اور تضحیک کا مداوا کرنے کی کوشش کیسے کیسے بھیانک افعال پر منتج ہو سکتی ہے۔

ہم آج بھی ذہنی طور پر قبائلی دور میں جی رہے ہیں۔ مجرم اپنے جرم پر نازاں اور متاثر ہ فرد اپنی بے گناہی پر نادم ہوتا ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ ہمارا ضمیر اور وہ اخلاقی اقدار جن کے ہم مدعی ہیں، چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ مجرم کے حصے میں طعن و تشنیع اور متاثرہ فرد کے حصے میں ہمدردی اور حوصلہ آنا چاہئے۔ لیکن ہم ورثے میں ملنے والے رویوں، تفاخر اور ندامت کے نسل در نسل چلے آتے پیمانوں پر سوال اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔

یہ محض ایک نظریاتی مشق نہیں ہے، تفاخر و ندامت کے یہ کہنہ پیمانے رکھنے والے تمام سماجوں میں یہ آگہی جڑ پکڑ رہی ہے کہ جنسی تشدد کے متاثرہ فریق کے ساتھ سماج کا رویہ غلط ہے، اسے سماجی عمل سے کاٹ کر ایک ایسی کٹی پتنگ بنا دینا جسے جبلت کی منہ زور آندھی کسی بھی سمت لے جا سکتی ہے، آخرش کار سماج کو ہی نقصان دیتا ہے۔ اگر میں اپنے اس رویے کو تبدیل کر سکوں۔ جنسی تشدد کے متاثرہ کسی بھی فرد کو حقارت اور تضحیک کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے عزت اور حوصلہ فراہم کر سکوں تو وہ اپنے آپ سے اور دنیا سے سمٹے پھرنے کی بجائے سماجی عمل کا حصہ اور ایک فعال، کار آمد سماجی اکائی بن سکتا ہے۔ اگر میں مجرم کے تفاخر اور فاتحانہ احساس کو اپنے رویوں سے اثبات کی فراہمی بند کردوں تو اس کا طاقتور اور فاتح ہونے کا احساس دم توڑ سکتا ہے، وہ ریوارڈ (reward) جو مجرم کو جرم کرنے پر اکساتا ہے، اس کی سپلائی بند ہو سکتی ہے۔ میں جرم کے ایک محرک کا کم از کم اپنی سماجی سپیس کی حدود تک خاتمہ کر سکتا ہوں ، مستقبل کی زینب کے لئے گھر سے باہر نکلنا ایک محفوظ تر تجربہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے مجھے اپنے روزمرہ معمولات سے ہٹ کر کچھ نہیں کرنا، کوئی اضافی وقت اور توانائی خرچ نہیں کرنی، فقط اپنی روزمرہ زندگی میں تفاخر و ندامت کے قبائلی پیمانوں کا بوجھ اتار پھینکنا اور اپنے ضمیر کو، اپنے اخلاقی ممکنات کو نئے اور بہتر پیمانے وضع کرنے کی اجازت دینا ہو گی۔

آخر میں نظام عدل و تعزیر کے منتظمین چننے کے حوالے سے میری ذمہ داریاں رہ جاتی ہیں۔ اگر انصاف کے تقاضے، نظام عدل و تعزیر کی فعالیت اس چناؤ کے عمل میں میری ترجیحات کا حصہ ہیں تو میں اپنے چنیدہ امیدوار سے توقع رکھنے میں حق بجانب ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکامی پر جوابدہی کرے۔ لیکن اگر میں اس کا انتخاب ہی نظام عدل و تعزیر کے خلاف ایک دفاعی ذریعے کے طور پر کرتا ہوں تو میرا جواب طلبی کا حق اپنی وقعت کھو بیٹھتا ہے۔ میں نے اپنے امیدوار کا انتخاب کرتے وقت اس سے انصاف کے تقاضے نبھانے کی توقع رکھی ہی نہیں، تو میں اس بارے میں جواب طلبی کا حق کیسے رکھ سکتا ہوں؟ کیا یہی وجہ نہیں کہ ایسے تمام معاملات چند دن شور شرابے کے بعد ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں، عوام الناس کی حیثیت سے، سیاسی عمل کی ایک اکائی کی حیثیت سے میں جواب طلبی کا اخلاقی حق رکھتا ہی نہیں تو حکومت کو جوابدہی کی پرواہ کیونکر ہو؟ کیا میں اپنی ترجیحات تبدیل کر سکتا ہوں؟ کیا میں اپنے چنیدہ امیدوار سے یہ امید رکھ سکتا ہوں کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو مقدم رکھے، چاہے ان تقاضوں کی زد میں میری اپنی ذات ہی کیوں نہ آ رہی ہو۔ اگر میں اپنی ترجیحات تبدیل کر لوں تو قانون کی گرفت کا خوف، جرم سے باز رکھنے والے ایک طاقتور محرک کی حیثیت سے ایسے واقعات کا سد باب کر سکتا ہے۔ استثنائی کیسز سے کوئی سماج نہیں محفوظ، لیکن جرم در جرم کے ایک سلسلے کا سدباب، اس کی بیخ کنی کبھی ناممکن نہیں ہوتی۔

یہ سب میرے اپنے اختیار میں ہے، کوئی فرد ان امور کے باب میں میری اصلاح او ر سدھار کے مانع نہیں ہے۔ اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ میرے اپنے تعصبات، بزدلی اور خودغرضی ہیں۔ کیا میں ان کا مقابلہ کرنے، ان پر غالب آنے کی ہمت رکھتا ہوں؟ اگر ہاں تو میں اپنے لمحہ موجودہ سے لمحہ آئندہ کی طرف اس یقین کے ساتھ بڑھ سکتا ہوں کہ زینب کا خون رائیگاں نہیں گیا، ہم ایک زینب کو نہیں بچا سکے لیکن قوم کی باقی بیٹیوں کو بچانے، انہیں ایک محفوظ مستقبل کا تحفہ دینے کے لئے وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہمارے بس میں ہے۔ اگر یہ میرے بس میں نہیں تو مجھے اس خلش کا دوبارہ سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے جو قصور میں کچرے کے ڈھیر پر پڑ ی بے قصور زینب کی لاش دیکھ کر میرے دل میں اٹک گئی ہے اور نہ جانے کب تک اٹکی رہے گی۔

ختم شد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: