پاکستان اور جاپان کے ادبی رشتے : خرم سہیل

2
  • 89
    Shares

پاکستان اور جاپان کے مابین ادبی رشتے استوار ہونے کی تاریخ کا احاطہ کیا جائے، تو محتاط اندازے کے مطابق ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان زبان و تدریس کے روابط قائم ہوئے۔ تقریباً 110 برس پہلے، جاپان میں غیر ملکی زبانوں کی تدریس میں اردو زبان کو شامل کیا گیا، اس وقت اردو کی بجائے اسے ہندوستانی زبان کہا جاتا تھا۔ اردوکے شعبے کا نام بھی یہی تھا، تقسیم ہند کے بعد اردو زبان کا الگ شعبہ قائم ہوا۔ 1925 میں پہلی مرتبہ کوئی جاپانی، ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیزمیں، اردوکے شعبے میں بطور صدر شعبہ تعینات ہوئے، ان کا نام ’’پروفیسر آرگامو‘‘ تھا۔

قیام پاکستان کے بعد ’’پروفیسر تاکیشی سوزوکی‘‘ وہ نمایاں مدرس اور محقق تھے، جنہوں نے اردو زبان کے لیے طویل عرصہ تک خدمات فراہم کیں، جاپانی طلبا کو اردو زبان سے روشناس کروایا، انہی طلبا میں سے آگے چل کر ایک طالب علم نے اردو کی خدمت کرنے کا بیڑا اٹھایا، آج اس کو اردو زبان سے وابستہ ہوئے تقریباً 50 برس ہو چکے ہیں، ان کا نام’’پروفیسر ہیروجی کتائوکا‘‘ ہے، گزشتہ برس، دسمبر کو کراچی میں منعقد ہونے والی دسویں عالمی اردو کانفرنس میں وہ تشریف لائے، اردو زبان، ادب اور بالخصوص فیض کی شخصیت اور شاعری پر خوب اظہار خیال کیا۔

جاپان میں اس وقت اردو زبان سکھانے کے تین بڑے مراکز ہیں، جن میں سرکاری طور پر دو مراکز، ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز اور اوساکا یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز ہیں، جبکہ ایک نجی جامعہ’’دائتوبنکا یونیورسٹی‘‘ہے۔ پروفیسر ہیروجی کتائوکا نے ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز سے اردو زبان کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ بھی کیا۔ 1971 میں جامعہ کراچی کے شعبہ اردو سے دو سال مزید تعلیم حاصل کی پھر وہ ٹوکیو اور اوساکا کی جامعات میں اردو کے شعبے سے بطور استاد منسلک رہے، بعدازاں دائتوبنکا یونیورسٹی سے وابستہ گئے۔

پروفیسر ہیروجی کتائوکا نے اپنے تدریسی سفرمیں سب سے پہلے سعادت حسن منٹو کے افسانے اپنے استاد پروفیسر تاکیشی سوزوکی کے ساتھ مل کر ترجمہ کیے، اس کے بعد انفرادی طور پر کئی دہائیوں کی ریاضت کے بعد، مرزا اسد اللہ خاں غالب، علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کے کلام کا مکمل ترجمہ جاپانی زبان میں منتقل کیا۔ ان کے جنون کا سفر یہی تک نہیں تھا، بلکہ یہ دیگرپاکستانی ادیبوں اور شعراکے کام کو بھی تھوڑا تھوڑا کر کے جاپانی زبان میں منتقل کرتے رہے، جس کی تفصیل کے لیے ایک الگ مضمون درکار ہوگا۔ دسویں عالمی اردو کانفرنس کے لیے بھی انہوں نے فیض صاحب کے تراجم کے تناظر میں اپنا کلیدی مقالہ پڑھا، جبکہ پاکستان کے شہر کراچی میں اپنے نو روزہ قیام کے دوران، انہیں مختلف اداروں کی طرف سے مدعو کیا گیا، جن میں کراچی آرٹس کونسل کے علاوہ، انجمن ترقی اردو، حلقہ ارباب ذوق کراچی، شعبہ اردو جامعہ کراچی، اسٹارز کلب وغیرہ شامل ہیں۔ دوران قیام انہوں نے مختلف پاکستانی مشاہیر سے ملاقاتیں بھی کیں، جن میں ڈاکٹر معین الدین عقیل، ڈاکٹر رئوف پاریکھ، پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر فاطمہ حسن، رضا علی عابدی، کشور ناہید، افتخار عارف، ڈاکٹر یونس حسنی، ڈاکٹر آصف فرخی، ڈاکٹر انوار احمد ودیگر شامل ہیں۔

پروفیسر ہیروجی کتائوکا کو 2009 میں حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز سے بھی نوازا۔ جاپان میں ان کے سب سے مقبول ترجمے کو، وہاں کی معروف ترجمے کی ایسوسی ایشن کا ایوارڈ بھی ملا، یہ ترجمہ علامہ اقبال کی شاعری کا تھا، جس کو وہاں بے حد مقبولیت ملی۔ کراچی میں اپنے قیام کے دوران، راقم کو ان سے تفصیلی بات چیت کرنے کا موقع ملا، کیونکہ میں ہی ان کا میزبان تھا۔ وہ بہت حیران تھے کہ پاکستان میں بہت کچھ تبدیل ہو گیا ہے، خاص طور پرجغرافیائی مگر کافی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں، اب گلیاں کوچے، بڑی بڑی سڑکوں میں تبدیل ہوگئے ہیں، کراچی کے بازار، اب بڑے بڑے شاپنگ پلازوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، لوگوں کے رہن سہن میں بھی کافی انفرادیت عود آئی ہے۔

ایک شخص نے میری قومی زبان کے لیے اپنی زندگی کے پچاس برس وقف کر دیے تو کیا میں کچھ دن اس کی خدمت میں صرف نہیں کر سکتا۔ ان کی رفاقت اور گفتگومیرے لیے اعزاز تھا

پروفیسر ہیروجی کتائوکا نے اپنے قیام کے دوران مقامی کھانے کھائے اور خوب لطف اٹھایا۔ انہوں نے غالب، اقبال، فیض اور منٹو کے تراجم کے لیے لغات کی مدد تو لی مگر ساتھ ساتھ وہ کئی بار پاکستان آئے، یہاں کے دانشوروں سے گفتگو کی، ان تخلیق کاروں کی گہرائی کو مقامی پس منظر کے ساتھ سمجھااور پھر قلم بند کیا۔ انہوں نے اپنے تراجم صرف درسی کام تک محدود نہیں رکھے، بلکہ اس کو جاپان میں بھی عوامی سطح تک پہنچانے کی کوششیں کیں۔ جاپان کے چندبڑے اشاعتی اداروں کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ اردو زبان و ادب پر کیے جانے والے کام کو محفوظ کریں اور ان کے تعاون سے پھر اردو زبان کے ان شعرا اور ادیبوں کا کام جاپانی زبان میں شایع ہو کر جاپان کی مختلف جامعات کے کتب خانوں تک پہنچا اوراب وہاں محفوظ ہے، اس سے جاپان کی نئی نسل سے تعلق رکھنے والے طلبا استفادہ کر رہے ہیں۔

پروفیسر ہیروجی کتائوکا کو کراچی میں قائم ’’پاکستان جاپان لٹریچر فورم‘‘ کی دعوت پر مدعو کیا گیا، جس میں کراچی آرٹس کونسل نے معاشی و انتظامی معاونت کی۔ اس فورم پر بات کرنے کے لیے راقم سمیت، پاکستان میں موجود جاپانی زبان کے ماہر استاد محمد الیاس نے گفتگو کی۔ اس موقع پر محمد الیاس نے جاپانی نسخوں سے اقتباسات پڑھ کر سنائے جبکہ اردو شاعری کے مختلف ٹکڑے اور ادبی نثرپاروں کو پروفیسر ہیروجی کتائوکا نے پڑھا۔ قونصل خانہ جاپان، کراچی میں ہونے والے اس فورم کے اجلاس میں، کراچی میں مقیم، جاپان کے قونصل جنرل ’’توشی کازو ایسومورا‘‘ نے اپنی شستہ اور رواں اردو میں اس محفل کو چار چاند لگا دیے، پاکستان اور جاپان کے ادبی رشتوں کی قربت پر مسرت کا اظہار کیا۔

پروفیسر ہیروجی کتائوکا کی جاپان واپسی کے دن میرا دل بہت اداس تھا، کیونکہ اتنے دن محسن اردو کے ساتھ گزارے، یہ میرے لیے بہت اعزاز کی بات تھی۔ کسی دوست نے مجھ سے کہا، اتنے دن تم اپنے باقی کاموں کو کس طرح مکمل کرو گے، میں نے کہا، ایک شخص نے میری قومی زبان کے لیے اپنی زندگی کے پچاس برس وقف کر دیے تو کیا میں کچھ دن اس کی خدمت میں صرف نہیں کر سکتا۔ ان کی رفاقت اور گفتگومیرے لیے اعزاز تھا۔ ایک سادہ مزاج، محنتی اور لگن سے اپنا کام کرنے والا استاد، جس نے اردو زبان کوپانچ دہائیوں سے، اپنے سینے سے لگا کر رکھاہوا ہے، وہ کرشن چندر کی ایک کہانی’’سفید پھول‘‘ سے اردو ادب پر فریفتہ ہوا، آج تک ان کے عشق کا یہ چراغ روشن ہے۔ اس دورے میں بھی پاکستان میں انہوں نے بے شمار محبتیں سمیٹیں، ان یادوں کی خوشبو سے پاکستان اور جاپان کے ادبی رشتے مہکتے رہیں گے۔

About Author

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. تحریر پڑھتے ہوئے پروفیسر ہیروجوکتالوکا ایک واقعی ہیرو محسوس ہوے۔ ایک عہد اور مسلسل جدوجہد کرنے والے انسان سے روشناس کروایا آپ نے۔
    اپنی قومی زبان سے ایسی محبت اور وہ بھی غیروں کی طرف سے، سرفخر سے بلند ہوگیا آپ کی تحریر سے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: