پاکستان کا بھارت کو دبنگ جواب: ڈاکٹر رئیس صمدانی

0
  • 38
    Shares

بھارت نے کبھی دل سے پاکستان کو قبول ہی نہیں کیا، پاکستان کے خلاف کوئی موقع بھارتی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جس طرح وہ اکثر و بیشتر کنڑول لائن پر فائرنگ کر کے پاکستانیوں کو شہید کرتا رہتا ہے اسی طرح اس کے سیاستداں، فوجی، صحافی، انتہا پسند جو منہ میںآتا ہے پاکستان کے خلاف اناب شناب بکتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں بھارتی آرمی چیف نے بیان دیا کہ ’’پاکستان کا جوہری پروگرام دھوکا ہے‘‘ اس طرح کا بیان کوئی پہلی مرتبہ نہیں دیا گیا، اس قسم کی بیہودہ باتیں بھارتیوں کی جانب سے ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن بھارت کے آرمی چیف ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز ہیں، وہ فور اسٹار عہدے کے افسر ہیں، ان کی جانب سے اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان سامنے آنا ان کی شخصیت کو بھی متاثر کرتا ہے اور انہیں یہ زیب بھی نہیں دیتا کہ وہ اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان دیں۔ بھارتی آرمی چیف کے اس بیان پر پاکستان کے سیاسی حکمرانوں کی خاموشی کوئی انہونی بات نہیں۔ خاص طور پر موجودہ حکومت جو اب بھی میاں نواز شریف کے اشاروں پر حکوتی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے کی جانب سے بھارتی آرمی چیف کے اس بیان پر کسی قسم کا تبصرہ اور اس کی مذمت سامنے آنا مشکل ہی ہوتا ہے۔ میاں صاحب کی نریندر مودی سے دوستی کوئی ڈھکی چھی بات نہیں۔ وہ سب پر عیاں ہے۔ میاں صاحب نے دوستی کو خوب نبھایا ہوا ہے۔ ان کی دوستی اپنی جگہ لیکن پاکستان کے خلاف بھارت رویہ اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے، خلفشار پیدا کرنے، دہشتگردی کی سربرستی کرنے میں بھارت کے کردار کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کا قیام ہی بھارت کے حلق کا کانٹا بنا ہوا ہے، وہ بھلا اس کانٹے کو کیسے نگل سکتا تھا، وہ اسے نہ تو نگل سکتا ہے اور نہ ہی باہر نکال سکتا ہے۔ ممکت خداداد پاکستان بھارت کے گلے کا ایسا پھندا ہے جس سے بھارت کی موت تو واقع ہوسکتی ہے جان نہیں چھوٹ سکتی۔

بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کو افواج پاکستان نے انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کا بھر پور ہی نہیں بلکہ بھارت کو دبنگ جواب دیا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ردعمل میں کہا ’’بھارت ہمارا عزم آزما نا چاہتا ہے تو آزما لے، نتیجہ دیکھ لے گا، میجر جنرل آصف کا کہنا تھا کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان بچگانہ اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف فور اسٹار عہدے کا افسر ہوتا ہے، آرمی چیف ایک ذمے دارانہ تقرری ہوتی ہے اس قسم کے غیر ذمے دارانہ بیانات اہم عہدے والوں کو زیب نہیں دیتے۔ میجر جنرل آصف غفور نے بہت درست کہا کہ دونوں جوہری ریاستوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں لیکن اگر بھارت ہمارا عزم آزمانہ چاہتاہے تو آزما لے تاہم اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا، بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ ہم پاکستان کے خلاف کسی بھی بھارتی مس ایڈونچر کا بھر پور جواب دیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کا کہنا تھاکہ ہم پیشہ ورانہ فوج، ذمے دار جوہری ریاست اور تحمل کرنے والی قوم ہیں، پاکستان کی جوہری صلاحیت مشرق کی طرف سے آنے والے خطرات کے لیے ہے۔ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت بھارت کو حملہ کرنے سے روک رہی ہے، جوہری ہتھیار جنگ کو روکنے کے لیے ہیں ۔ خواہش سے استعمال کے لیے نہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے ہمیں نشانہ بنا رہا ہے لیکن اس میں بھی وہ ناکام ہوگا، اگر بھارت روایتی جنگ کے ذریعے ہم پر ہاوی ہوسکتا تو اب تک ہوجاتا ‘‘۔

 آئی ایس پی آر نے کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت مشرق کی طرف سے آنے والے خطرات کے لیے ہے۔ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت بھارت کو حملہ کرنے سے روک رہی ہے، جوہری ہتھیار جنگ کو روکنے کے لیے ہیں ۔ خواہش سے استعمال کے لیے نہیں۔

بھارت اور پاکستان دو الگ آزاد ملک ہیں ۔ پاکستان نے تو بھارت کو تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ بھارت کے ساتھ برابری کے دوستانہ تعلقات کی کوششیں شروع ہی سے کرتا رہا ہے لیکن بھارت کی 70سالہ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کو دل سے تسلیم ہی نہی کیا بلکہ اس کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش ہے کبھی پاکستان سے الگ نہیں ہوسکتا تھا اگر بھارت مشرقی پاکستان کے علیحدگی پسندوں کو فوجی اور سیاسی قوت فراہم نہ کرتا ۔ اس نے یہ قوت فراہم ہی نہیں کی بلکہ اس کی افواج نے مکتھی باہمنی کے روپ میں پاکستان کے ایک بازو کو الگ کرنے میں عملی کردار ادا کیا۔ جس کا نتیجہ بنگلہ دیش کا قیام سامنے ہے۔ یہی عمل بھارت کا کشمیر میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر میںبھارت کا ظلم و زیادتی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، کراچی میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کے کردار کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

بلوچستان میں بھارت کھل کر علیحدگی پسندوں کی پیٹھ ٹھونک رہا ہے۔ علیحدگی پسند قوتوں کو سیاسی پناہ دینا دہشت گردی کے زمرہ میں ہی آتا ہے۔ افغانستان ایک مسلم ملک ہے اور پاکستان کا قریبی ہمسایہ ہے لیکن بھارت امریکہ کے ذریعے افغانستان کو پاکستان سے لڑانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھارت کی کاروائی اور دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنا ہے ایک گھنوانا عمل ہے۔ پاکستان نے قبائلی علاقے دہشت گردی سے پاک کر دیے ہیں ۔ یہ کہنا ہے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل باجوہ کا۔ بھارت کنٹرل لائن پر بلاجواز کاروائی کرتا رہتا ہے، یہ دہشت گردی نہیں تو پھر کیا ہے۔ 15جنوری کو بھارت نے کنٹرول لائن پر بلا جواز فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار پاکستانی جوان شہید ہوگئے۔ وہ جوان جندروٹ، کوٹلی سیکٹر میں مواصلاتی لائن کی مرمت میں مصروف تھے۔ بھارتی فورسز نے بلا اشتعال بھاری مارٹر اور فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ پاکستان کے خلاف بھارت کی مسلسل دہشت گردی دنیا کے سامنے ہے۔ جس طرح ہماری بہادر افواج میدان جنگ میں اور الفاظ کی جنگ میں اپنا کامیابی کے ساتھ کردا ر ادا کررہی ہیں، پاکستان کی جمہوری حکومت کو بھی ہر موقع پر بھارت کو اسی طرح دو ٹوک اور کرارا جواب دینا چاہیے لیکن افسوس ہمارے حکمراں، یوں تو ہر روز ان کی توپوں کے منہ کسی نہ کسی مخالف کے لیے گولے برسارہے ہوتے ہیں، بد سے بد زبانی کی جار ہی ہوتی ہے لیکن بھارت کے کسی بھی غلط ایکشن پر وزیر اعظم سے درباریوں کو سانپ سونگھا دکھائی دیتا ہے۔

خاموشی سے مذمت تو شاید کردی جاتی ہے جس کاانہیں خود کو بھی علم نہیں ہوتا ہوگا، مذمتی بیان ان کے سیکریٹری خود ہی لکھ کر جاری کردیتے ہوں گے ۔ خاتون وزیر اطلاعات بڑے ذوق و شوق سے میڈیا کے سامنے صحافیوں کی موجودگی میں اپنے مخالف سیاست دانوں کو للکار اور پھنکاررہی ہوتی نظر آتی ہیں کبھی انہیں بھارت کے جانب سے ہونے والی کسی ذیادتی پر خیال نہیں آتا کہ وہ اسی طرح محفل سجا کر بھارت کو بھی للکاریں۔ وزیر اعظم صاحب کی تو بات ہی کیا ہے انہیں تو دو جملے بولنے کے لیے جاتی امرا جانا ہوتا ہے، وہاں سے اجازت ملتی ہے تو ان میں کچھ ہل چل ہوتی ہے، میاں صاحب کیوں یہ کام کرنے لگے کہیں ان کا دوست مودی نازاض نہ ہوجائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: