سعادت حسن منٹو : عزیز ابن الحسن

0
  • 227
    Shares

آج منٹو کی برسی کے دن، صاحب طرز اور شگفتہ اسلوب کے تیکھے شبدوں کے لکھاری، عزیز ابن الحسن کی خاص تحریر۔


ہوئی مدت کہ ’’منٹو‘‘ مر گیا پر یاد آتا ہےــــ

منٹو کے بہت سے کمالات میں سے ایک کمال یہ بھی ہے کہ اسکی بعض پڑھی ہوئی تحریریں دوبارہ پڑھ کے خیال آتا ہے کہ
’’ارررررے یہ بات تو ہم نے پہلی مرتبہ پڑھی ہے‘‘
اور بعض پہلی دفعہ کی پڑھی تحریر پر یہ تأثر ابھرتا ہے کہ ’’یہ باتیں تو میں نے پہلے بھی کہیں پڑھ رکھی ہیں‘‘
منٹو جانی بوجھی شے کو انجانا اور انجانی چیز کو جانی بوجھی بنا دینے کا فن جانتا ہے۔ یوں تو یہ شے ہر بڑے فنکار کا اختصاص ہوتی ہے مگر منٹو کے پاس تو گویا اس خزانے کی شاہ کلید ہے۔

روسی ہیئت پسندوں کے ہاں ایک شے آتی ہے جسے Defamiliarization کہتے ہیں جس کے مطابق آرٹ روز مرہ کی جانی بوجھی بیتی برتی معمول کی زندگی کو ’’اجنبیاکر‘‘ تجربے کی تازگی کے ذریعے نئے سر ے سے بازیافت کرتا ہے۔

انہی مفاہیم کیلیے جدید فارسی میں ’’آشنائی زدائی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔

حسن عسکری کی معیت میں ترقی پسند ادب سے مختلف نظریۂ ادب کا ادبی رسالہ ’’اردو ادب‘‘ جاری کیا تو ترقی پسند تحریک،عسکری کے ساتھ ساتھ منٹو کے بھی خلاف ہوگئ تھی، مگر حالات کی ستم ظریفی نے جب آج کے لبرلوں اور سابقہ ترقی پسندوں کے موقف کو غلط ثابت کر دی۔ا

ہمارے گرد و پیش کی زندگی میں ایسی کوئی بھی شے نہیں تھی جو منٹو نے ایجاد کی ہو مگر انہی دیکھی بھالی چیزوں کو جب منٹو نے ہمیں دکھایا تو ہم ہکابکا رہ گئے۔

منٹو کا اگلا بڑا کمال یہ تھا کہ وہ زندگی کو فیشن زدگی کی نظر اور اوپر سے لادے گئے نظریئے کی عینک سے بہت کم دیکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب اس نے قیام پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر دل سے قبول کر لیا اور اُس دور کے مسئلۂ کشمیر پر حکومت پاکستان کے موقف کو درست سمجھتے ہوئے پاکستان کی کشمیر پالیسی پر سکہ بند ترقی پسندانہ موقف سے الگ موقف اختیار کرلیا اور محمد حسن عسکری کی معیت میں ترقی پسند ادب سے مختلف نظریۂ ادب کا حامل ایک نیا ادبی رسالہ ’’اردو ادب‘‘ جاری کیا تو ترقی پسند تحریک، من حیث الجماعت، عسکری کے ساتھ ساتھ منٹو کے بھی خلاف ہوگئ تھی، مگر حالات کی ستم ظریفی نے جب آج کے لبرلوں اور سابقہ ترقی پسندوں کے موقف کو غلط ثابت کر دیا تو پھر بعد میں ممتاز حسین جیسے بڑے جغادیوں کو اُس دور کے منٹو کے “سیاہ حاشیے” میں بھی ترقی پسندی کی لکیریں نظر آنا شروع ہو گئ تھیں۔

خیر یہ ایک لمبی بحث ہے۔ سردست اردو کے اس قابلِ فخر افسانہ نگار کی تریسٹھویں برسی پر ہماری طرف سے یہ ایک چھوٹا سا خراج تحسین ہے اور بس۔

جب منٹو نے ہمیں آپنا آپ دِکھایا تو فوری طور پر ہمارا ردِعمل ہسٹیریائی ہو گیا تھا مگر آج ہمیں منٹو بہت اپنا اپنا لگتا ہے کیونکہ اس نے ہمیں اپنے ضمیر کے روبرو کر دیا ہے۔ منٹو سے بعض بے اعتدالیاں بھی سرزد ہوئی ہونگی مگر بحیثیتِ مجموعی وہ ہمارا آئینہ بھی ہے اور ہمارا چراغ بھی۔ وہ بیک وقت ہمیں ہمارا باطن بھی جَھنکواتا ہے اور دنیائے ادب میں ہمیں ہمارا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ محمد حسن عسکری نے جب پاکستانی ادب کی بات کی تھی تو انکے مزعومہ پاکستانی ادب کی ایک سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ پاکستانی ادب کو سچا ادب ہونا ہو گا۔ جو محض پروپیگنڈا نہ ہو اور دوسری طرف حق کی گواہی دینے والا بھی ہو چاہے یہ گواہی اپنے ہی خلاف کیوں نہ دینی پڑے۔ منٹو ایک ایسا ہی سچا ادیب تھا جس نے ’’کھول دو‘‘ کی صورت میں اپنے خلاف گواہی بھی دی اور چچا سام اور نہرو کو ایک کھرے پاکستانی کے طور پر جوتے بھی مارے۔

منٹو کا تصورِ فن اور اسک کا نظریۂ حیات دونوں اپنے زمانے میں اتنے منفرد تھے کہ آج تک نہ کوئی ترقی پسند اسکی ہمسری کر سکا اور نہ کوئی تعمیر پسند ادیب اسکی گرد کو پہنچ سکا۔

منٹو کی خدمت میں صائب کا یہ شعر بطور تبریک پیش ہے

عشرت ما معنی نازک بدست آ وردن است
عید ما نازک خیالاں را ہلال این است و بس

غور کیجیے گا تو اس میں منٹو کے سے دھان پان شخص کے فنی جوہر کی پوری روح موجود پائیے گا۔


منٹو پر جناب ممتاز رفیق کا خوبصورت خاکہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں:

منٹو کا خاکہ، ممتاز رفیق کے قلم سے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: