محکمہ پولیس میں اصلاحات کی ضرورت ۔ میاں ارشد فاروق

0
  • 135
    Shares

ہر معاشرہ ایک خاص وقت پہ پرانے عہد کو بدل کر نیے عہد میں داخل ہوتا ہے اور انسانوں کی اجتماعی فطرت، نیے عہد کے شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل اس نیے عہد کے تقاضوں سے معاشروں کو آگاہ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ان اشاروں کو سمجھنے کیلیے نہ تو کسی ارسطو کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی گہرے ادراک کے حامل صوفیا کی۔ یہ عام فہم سی باتیں ہوتی ہیں جن کی طرف غور و فکر کرنے سے مستقبل کا نقشہ صاف صاف نظر آنے لگتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ تیز ترین تبدیلیوں کے نقطہ آغاز پہ ہے، آنے والے چند سالوں میں یہ سست رو نیم دیہاتی ماحول سے چھلانگ لگا کر ایک تیز ترین تجارتی، صنعتی سماج میں تبدیل ہونے والا ہے۔ ہماری تمام انتظامی مشینری، پولیس، عدلیہ اور نظام انصاف کو اس دور سے ہم آہنگ ہونے کی تیاری کرنے کی اشد ضرورت ہے۔  جس ملک میں ساٹھ ہزار تیل کے ٹرک روزانہ گزریں گے وہاں کس قسم کے حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہو گی؟ اور عالمی سیاست کا ایک مرکزی حصہ ہونے کے باعث پاکستان کو کس طرح اپنے ٹریڈ روٹ کو محفوظ رکھنا ہو گا، ایک کثیر قومیتی سماج کو کس طرح کی پولیسنگ چاہیے ہوگی۔۔۔ ۔۔ یہ آج سوچنے کی باتیں ہیں، کیونکہ کل ہمیں عمل کا وقت تو دے گا، پلاننگ کا نہیں۔

زینب مرڈر کیس میں جو مسلہ ہمارے سامنے کھل کے آیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا پولیس کا نظام فرسودہ ہی نہیں بلکہ یہ بہت عرصہ قبل ہی مر چکا ہے۔ اور اب صرف یہ پروٹوکول سروسز دینے اور قابل خرید انصاف حاصل کرنے کی ایک مارکیٹ کی شکل میں موجود ہے۔ اس نطام کو جب انگریزوں نے قایم کیا تھا تو اسکی بنیاد نظام اطلاعات پہ رکھی گیی تھی جسے مخبروں کا نظام کہا جاتا ہے۔ پوشیدہ مخبروں کے علاوہ تقریبا تمام نمبردار، چوکیدار، نہری پٹواری اور نایب قاصد  بھی مخبر ہی ہوا کرتے تھے جو ہر وقت معاشرے کی ہر تبدیلی پہ نظر رکھتے اور اہم تبدیلیوں کی اطلاعات کشید کرتے، پھر اطلاعات کی چھان پھٹک اور تصدیق کیلیے باقاعدہ سٹاف ہوتا تھا اور ہر ماہ پولیس گزٹ شایع ہوا کرتا تھا جس میں پورے معاشرے کی ایک واضح تصویر سامنے آجاتی تھی۔ یہ گزٹ امن و امان قایم رکھنے والے تمام اداروں کے افسران کو بھیجا جاتا۔ اگر آپ پرانے پولیس گزٹ مطالعہ فرمایں تو حیرت کا اک جہان کھل جاتا ہے کہ سپیشل برانچ کی معلومات کس قدر تیزاور ایڈوانس  ہوا کرتی تھیں۔ پولیس کا سٹاف معاشرے کی سب سے زیریں پرت سے براہ راست رابطے میں ہوتا ہے، اگر اسکے پاس چوکیداروں، نمبرداروں اور چھپے  ہوے مخبروں سے معلومات حاصل کرنے کے وساییل نہیں ہونگے تو یہ ایک منظم گروہ تو ہو سکتا ہے لیکن اسے پولیس کہنا نہ صرف تکنیکی طور پہ غلط ہے بلکہ باعث شرم ہے۔

تقسیم سے قبل نو آبادیاتی ضروریات کے باعث پولیس ریاست کے خلاف ہونے والے تمام جرایم کی سرکوبی کی زمہ دار سمجھی جاتی تھی۔ اس وقت سرکاری املاک کی چوری ہونے پہ رپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کیونکہ اسکا جواب ایس ایچ او کو دینا پڑتا تھا اور قتل  کی واردات پہ تو پورا تھانہ معطل ہو سکتا تھا، کیونکہ معاشرے میں ہونے والی ہر حرکت سے واقف ہونا پولیس کی زمہ داری تھی جسکے لیے اسکے پاس نظام مخبریات تھا۔ تقسیم کے بعد نہ جانے کن وجوہات کی بنا پہ پولیس کا نظام مخبریات غیر فعال ہوتا گیا اور آہستہ آہستہ اس کا کام صرف رپورٹ کیے گیے جرایم پہ کاررواییاں کرنا رہ گیا اور زمانہ حال میںں صرف حکومتی اہلکاروں کی حفاظت اور پروٹوکول مہیا کرنے تک محدود ہو گیا ہے۔ نظام اطلاعات کے معدوم ہونے کی وجہ سے محکمہ کی کارکردگی ہی متاثر نہیں ہوی بلکہ سیاسی مداخلت میں بھی اضافہ ہوا اور منظم جرایم کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا ہے، یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں قبضہ گروپ، منشیات فروشوں اور ناجایز دھندہ کرنے والے بتدریج زیر زمین دنیا سے نکل کر شرفا میں شامل ہوتے گیے اور آہستہ آہستہ ایوان اقتدار اور سرکاری عہدے بھی حاصل کرنے لگے ہیں۔ اور اگر یہ خدمت اعلی جاری رہی تو ایک وقت آے گا جب چور قانون ساز ہونگے، بدمعاش سارے پولیس میں ہونگے اور رسہ گیر جج ہونگے۔ اس وقت حال یہ ہے کہ جب کوئی امیدوار مقابلے کا امتحان پاس کر لیتا ہے تو اسکی رپورٹ طلب کی جاتی ہے تب کچھ سادہ لباس اہلکار اس امیدوار سے مٹھائی لینے پہنچ جاتے ہیں، اگر اس امیدوار کی فیملی ہجرت کر کے آی ہو تو اسکے بیک گراونڈ کے بارے میں معلومات کا کوئی ذریعہ ہمارے کسی بھی ذی وقار ادارے کے پاس موجود ہی نہیں ہے۔

حساس اداروں کا دایرہ کار علاقائی افقی نہیں ہوتا بلکہ عالمی عمودی ہوتا ہے۔ دونوں کاموں میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ بہت سا فرق بھی ہے

تقسیم سے پہلے ایسا نہیں تھا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اسپر باقاعدہ کمیشن بننا چاہیے اور تحقیق ہونی چاہیے۔ میرے خیال میں ایک وجہ تو ہمارے حساس اداروں کی زیادہ فعالیت بھی ہو سکتی ہے، یعنی ہو سکتا ہے اس غلط فہمی کی بنا پہ کہ پولیس کا کام محض امن و امان قایم رکھنا ہے اور حساس معلومات اکٹھی کرنا صرف حساس اداروں کا کام ہے اور پولیس کو یہ کام کرنے کی ضرورت نہٰیں ہے۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ ایک بہت بڑی غلطی کی گئی ہے کیونکہ حساس اداروں کا دایرہ کار علاقائی افقی نہیں ہوتا بلکہ عالمی عمودی ہوتا ہے۔ دونوں کاموں میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ بہت سا فرق بھی ہے اور اس فرق کے ساتھ ہی ساتھ انکا آپس میں ایک گہراتعلق بھی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے بھیانک جرایم کو بے نقاب کرنے میں حساس ادارے معاون ہوتے ہیں (جو زینب کیس میں تو ابھی تک نہایت بری طرح سے ناکام ہوتے دکھای دے رہے ہیں)، جبکہ مشکوک افراد کی جو ہسٹری شیٹ پولیس تیار کرتی تھی اس سے بوقت ضرورت ان اداروں کو بھی بہت سی معاونت حاصل ہوتی تھی۔

آنے والے سالوں میں پاکستان میں غیر ملکیوں کی بڑی تعداد رہایش اختیار کرنے والی ہے، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجیز کے باعث ایسے جرایم جو صرف ترقی یافتہ معاشروں میں سننے کو ملتے ہیں انسے ہمارا واسطہ بھی پڑنے والا ہے اور اس صورت حال سے نپٹنے کیلیے پولیس کے ادارے کو تیار کرنے کی ضرورت ہے اور سب سے اہم یہ ہے کہ اسکے نظام اطلاعات کو منظم اور مربوط بنانا بہت ہی ضروری ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: