ڈاکٹر حسن عارف کی وفات کے حقائق: بیٹی کی زبانی ۔ مترجم سیدہ صبیح گل

0
  • 241
    Shares

شہرہ زادی ظفرعارف جوکہ ڈاکٹر ظفر عارف کی صاحبزادی نے بذات خود بروز بدھ 17 جنوری بذریعہ اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ان کے والد جناب ڈاکٹر ظفر عارف (مرحوم)  کی موت طبعی ہے ان کی موت کو قتل کی شکل دینا اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلانا انتہائی غلط اقدام ہے۔ انکے مکمل بیان کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔


“عام طور پر مجھے بالکل نہیں پسند کہ میں اپنی نجی زندگی کے معاملات کی تشہیر اس طرح سماجی ویب سائٹس پر کروں مگر بد قسمتی سے ایک انتہائی ذاتی سانحہ عوامی مسئلے کی شکل اختیار کر گیا اور اسی وجہ سے میں نے محسوس کیا کہ کچھ مخصوص باتیں مجھے عوام کے سامنے کرنی چاہئیں تاکہ دنیا کو حقیقت کا پتا چلے۔

میرے والد ڈاکٹر ظفر عارف جن کا انتقال بروز اتوار 14 جنوری کو ہوا اور تمام شواہدات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان کی وفات دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ جبکہ میڈیا اس موت کو انتہائی غلط معنوں میں ایک دردناک قتل کی صورت میں پیش کر رہا ہے کچھ لوگ ذلت آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے جعلی طریقوں سے ترمیم شدہ تصاویر اور ویڈیوز سماجی ویب سائٹس پر پیش کر رہے ہیں  جس میں دکھایا جارہا ہے کہ ان کو انتہائی اذیت ناک تریقے سے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت ہے  کہ اس طرح کی چیزیں ان کی یاد میں کتنا غلط تاثر دے رہی ہیں جو ان کے خاندان کے لئے ذلت کا سبب بن رہیں ہیں جو کہ انتہائی غلط اور غیر اخلاقی ہیں۔ کچھ لوگ ان کی موت کو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر استعمال کر رہے ہیں جبکہ  کچھ لوگ ان سے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار میں انصاف کے متلاشی ہیں کیونکہ ان کو ایسا لگ رہا ہے کہ میرے والد کے ساتھ ظلم ہوا۔

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنے والد کے انتقال کے بعد مجھے اتنی مفصل گفتگو کرنے کی ضرورت پڑے گی مگر حالات نے مجھے مجبور کردیا اور میرے پاس کوئی دوسری راہ نہ چھوڑی۔ ہم نے یعنی کہ ان کے خاندان نے ہوش سنبھالتے ہی ان کی جسد خاکی کا مکمل معائینہ کیا اور پولیس سے ان کی وہ تصاویر بھی حاصل کیں جو ان کو دریافت کرنے کے فوراً بعد کھینچیں گئی تھیں۔ ان کے جسد خاکی پر ایک نشان بھی ایسا موجود نہ تھا جو اس بات کی نشاندہی کر پاتا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی تشدد ہوا ہے یا ان کو قتل کیا گیا ہے۔ خون کے جمے ہوئے کچھ زرات جو ناک کے اندر موجود تھے وہ بالکل بھی مشکوک نہیں ہمیں پتا ہے کہ انسانی موت کے بعد خون ٹھیک سے نہیں جمتا اور ناک سے خون کا بہاؤ ایک عام بات ہے اور جن حالات میں وہ برآمد ہوئے وہ بھی اتنا مشکوک اور ڈرامائی نہیں جتنا کہ میڈیا اس کی چرچا کر رہا ہے۔ وہ ایک رات قبل گھر سے غائب ہوئے ان کی گاڑی جس جگہ سے دریافت ہوئی وہ علاقہ ان کے لئے غیر نہ تھا وہ اکثر وہاں جایا کرتے تھے اور ان کے موبائل فونز بھی وہاں پہ موجود عام لوگوں نے ہی چرائے ہوں گے کیونکہ جب پولیس وہاں پہنچی تو ان کی گاڑی کے شیشیے کھلے ہوئے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی تک نہیں آئی ہم سب اسی کا انتظار کر رہے ہیں اور اس وقت تک ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے مگراس بات کا یقین ہے کہ انھیں دل کا دورہ ہی پڑا ہوگا۔

میں امید کرتی ہوں کہ جو لوگ اس وقت مجھے پڑھ رہے ہیں میری بات کا مکمل یقین کریں گے جو بات میں اپنے والد کی موت  کے بارے میں کر رہی ہوں۔ میں صرھ یہ چاہتی ہوں کہ لوگوں کو حقیقت معلوم ہو نا کہ وہ کسی جھوٹی بات ، پروپگینڈا یا مبالغہ آرائیوں میں پڑیں جب تک موسٹ مارٹم رپورٹ کچھ نہ کہے ہمیں اس بات کا یقین کرنا ہوگا کہ تمام شواہد کے پیش نظر میرے والد کی طبعی موت ہے۔

یہاں میں ایک اور معیوب چیز کی نشاندہی بھی کرنا چاہتی ہوں کہ میرے والد صاحب کے جسد خاکی کے ساتھ کیسا سلوک رواں رکھا گیا تو بتاتی چلوں کہ ان کی باڈی کو جے پی ایم سی لے جایا گیا تھا اور ایمبولینس سے کچھ دیر کے لئے باہر نکالا تاکہ میڈیا رپورٹرز ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنا سکیں جو کہ بعد میں وہ سوشل میڈیا کی زینت بن سکیں۔ شرم آنی چاہیئے تھی  جے پی ایم سی کی انتظامیہ اور پولیس کو جنھوں نے ایسا کرنے سے میڈیا کو نہیں روکا اور اس سے بھی  زیادہ شرم میڈیا کی اس حرکت پر جس نے اپنے تمام انسانی اقدار کو پامالی کرتے ہوئے ہمدردی کا کوئی مظاہرہ نہ کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے قبرستان تک ان کی فیملی کی تصاویر اور مناظر قید کیئے جب تک وہ دفنا نہیں چکے۔

برائے مہربانی اس بات کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجیئے اور میں ان سب سے التجا کرتی ہوں جو میرے والد کا خیال کرتے تھے ان سے محبت کرتے تھے کہ مہربانی فرما کر اپنی زمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے شواہدات کو ضرور مد نظر رکھیں میں آپ سب سے التجا کرتی ہوں کہ من گھڑت کہانیوں میں نہ الجھیں اور میرے والد صاحب کی تصاویر نہ لگایئے اور جو لگا چکے ہیں وہ ہٹا دیں تاکہ ہمیں ان کے خاندان کو اس مشکل کی گھڑی میں مزید تکلیف نہ پہنچے۔ میں تہہ دل سے ان سب کی شکر گزار ہوں جو ان کی زندگی کے مثبت پہلوؤں کو یاد کر رہیں ہیں اور دوستوں سے اچھی یادیں بانٹ رہے ہیں۔

میرے والد کسی بھی قسم کی سازش کا شکار نہیں ہوئے اور میں نہیں چاہتی کہ انہیں اس طرح یاد رکھا جائے۔ میں ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دوں گی کہ جھوٹ ان کی میراث بنے ان کا تعلق نہ صرف مجھ سے تھا بلکہ پوری پاکستانی قوم سے تھا جن کے لئے انہوں نے اپنی تمام عمر مشقت اٹھائی۔

نوٹ: کچھ آراء کی روشنی میں میں دو باتیں مزید بیان کردوں، پہلی بات یہ کہ میرے والد بیک سیٹ پر تھے ہوسکتا ہے لمبے اور تھکا دینے والے سفر کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے بیک سیٹ پر آرام کی غرض سے گئے ہوں ان کے دل کی دوا بھی ان کے ساتھ ہی پائی گئی جس سے یہ بات مکمل واضح ہوتی ہے ان کو دل کا دورہ پڑا باقی واللہ اعلم۔

دوسری بات، وہ یہ کہ میں اور میرے خاندان کو کوئی بھی فرد بالکل بھی کسی ‘دباؤ’ میں آکر کوئی بات نہیں کر رہے جو لوگ جانتے ہیں کہ ماضی میں، میں اپنے والد کے لئے کس حد تک لڑی ہوں اور میں نے کبھی بھی شکست قبول نہیں کی صرف انصاف کی خاطر چاہے مجھے اس کے لئے کتنی ہی قیمت ادا کرنی پڑی۔ کسی بھی صورت میں اب یہ بات سوچنا مشکل ہے کہ کوئی اہمیت حاصل کرنے کی چاہ میں اگر ان کی موت کی کہانی کا سہارا لے سکتا ہے تو وہ مان لے کہ عورت کی ایک بات لوگوں کو وہ سوچنے سے روک سکتی ہے جس کا وہ یقین کرنا چاہتے ہیں۔”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: