مجرم کی نفسیات اور سماج : زینب قتل کے تناظرمیں — عامر منیر (حصہ دوم)

1
  • 59
    Shares

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ دیکھا جاسکتا ہے۔

میری خواہش ہے کہ استغاثہ کی کارروائی یہیں اختتام پذیر ہو جائے اور مجھے ان ناخوشگوار سوالوں سے چھٹکارا ملے، ان کی چبھن اور کاٹ سے رہائی میسر ہو۔ لیکن کیا ہم اس جرم کے تمام ممکنہ محرکات کا احاطہ کر چکے ہیں؟ کوئی بھی جرم ہو، ایک واحد محرک کی نمود نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی عوامل کا ایک پیچیدہ مرکب ہوتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ خواہش نفس کی تہذیب میں ناکامی اس جرم کا نہایت طاقتور محرک ہو سکتا ہے، لیکن سماج صرف خواہش نفس کی تہذیب کا بند و بست ہی نہیں کرتا، اس نے ایک بہت وسیع اور باجبروت حفاظتی نظام، ایک فیل- سیف میکانزم بھی مہیا کر رکھا ہے جو اس تہذیب کے عمل میں ناکامی پر بروئے کار آتا ہے۔

جبلی تقاضوں کا انسان کے ملکہ و فہم و ادراک پر غالب آجانا کبھی حیطہ امکان سے باہر نہیں ہوتا اور اس صورتحال سے نپٹنے کے لئے عدل و تعزیر کا ایک بہت بڑا میکانزم ہمہ وقت سماج میں مصروف عمل رہتا ہے۔ یہ میکانزم فرد کی حدود کا، ناقابل قبول افعال و حرکات کا واضح الفاظ میں تعین کرتا ہے اور ان حدود سے تجاوز کرنے والوں، ناقابل قبول افعال کے مرتکب ہونے والوں کے لئے سزا کا تعین بھی کر دیتا ہے۔ سماج نے باہم اتفاق رائے سے اس میکانزم کوہر فرد تک رسائی کا حق دے رکھا ہے۔ اس میکانزم کا خوف افراد کو ناقابل قبول افعال کا ارتکاب کرنے اور اپنی حدود سے تجاوز کرنے سے باز رکھنے والا ایک نہایت موثر امر ہے، ایک عام آدمی اپنی عمومی کیفیت میں اس میکانزم کی گرفت سے خوفزدہ اور اس کے منع کردہ افعال سے باز رہتا ہے، اس کی جبلت ایسے کسی فعل پر اکسائے بھی تو خوف، جبلت کے تقاضوں پر غالب آ جاتا ہے اور فرد ارتکاب جرم سے باز رہتا ہے۔ اس میکانزم کی موجودگی کے باوجود اگر فرد جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے کیا اسباب ممکن ہیں۔ کیا خواہش نفس کے تقاضے کے علاوہ بھی کوئی قوت، کوئی محرک مجرم کی شخصیت میں کارفرما ہے جو خواہش نفس کی تسکین کے ساتھ مل کر مجموعی طور پر ارتکاب جرم کو، اس فعل کے ممکنہ ریوارڈ کو مجرم کے لئے اتنا پر کشش بنا رہا ہے کہ اس ممکنہ ریوارڈ کی خواہش، اس میکانزم کی دہشت اور سزا کے خوف پر غالب آ جاتی ہے؟ یاکسی سبب اس میکانزم کا خوف اپنا اثر کھو بیٹھا ہے، فرد کو یقین ہے کہ ارتکاب جرم کے باوجود وہ اس میکانزم کے پنجوں اور اس کی مقرر کردہ سزا سے بچ نکلے گا اور جبلی تقاضوں کو اپنے بدترین کی نمود سے روکنے والا کوئی امر نہیں رہا؟

ایسا ممکن ہے کہ ہمارا مطلوبہ مجرم خود بھی بچپن میں ایسے ہی کسی تجربے سے گزرا ہو، اس کے ذہن نے اس تجربے کو ایک نارمل امر کے طور پر انٹرنلائز کر لیا ہو اور اس نارملائزیشن کے عمل میں اس فعل کی مجرمانہ نوعیت کا ادراک کھو بیٹھا ہو؟

استغاثہ پہلے امکان کو سامنے رکھتا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہمارا مطلوبہ مجرم خود بھی بچپن میں ایسے ہی کسی تجربے سے گزرا ہو، اس کے ذہن نے اس تجربے کو ایک نارمل امر کے طور پر انٹرنلائز کر لیا ہو اور اس نارملائزیشن کے عمل میں اس فعل کی مجرمانہ نوعیت کا ادراک کھو بیٹھا ہو؟ جنسی تشدد کے واقعات، متاثرہ فرد کی نفسیات میں ندامت، شرمندگی اور اپنے آپ سے نفرت کے ایسے شدید احساس کا سبب بنتے ہیں جن کے ساتھ جیناقریب قریب ناممکن ہے۔ ان منفی اثرات کی طوفانی لہریں فرد کی شخصیت کے پرزے اڑا دینے، اس کی سوچوں کے ڈھانچے کو تہہ و بالا کر دینے کی ایسی زبردست قوت رکھتی ہیں کہ ذہن کا دفاعی میکانز م کسی طور اس تجربے کو نارملائز کر لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس تجربے کو کچھ ایسے معنی دینے، اس کی ایسی توجیہہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ندامت اور نفرت کا امڈتا سیلاب تھم جائے۔ اپنے آپ سے یہ کہنے پر مجبور ہو سکتا ہے کہ در حقیقت میری خواہش یہی تھی ، جو کچھ ہوا میری مرضی سے ہوا اور مجھے اچھا لگا۔ یا یہ کہ میں درحقیقت دوسرے انسانوں سے ایک کمتر اور پست حیثیت کا مالک ہوں اور میرے ساتھ ایسا ہونا ہی تھا، یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں بلکہ محض میری پستی اور بے وقعتی کا ایک مظہر ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ ندامت اور خود نفرینی تھم جاتی یا کم از کم اس طور سوچوں کی بنت میں سمو جاتی ہے کہ اس کا احساس فرد کے لئے کوئی غیر معمولی امر نہیں رہ جاتا، وہ اس کے ساتھ سمجھوتہ کر سکتا ہے، زندگی گزار سکتا ہے۔ اس عمل کا کچھ حصہ شعوری طور پر بھی رونما ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر حصہ انسانی دماغ میں سرگرم عمل خود کار قوتوں کا ایک میکانکی عمل ہے جس پر فرد کا کنٹرول بہت ہی کم ہوتا ہے۔

یہ دونوں ہی توجیہات عملی طور پر غلط اور طویل مدت میں بہت سی نفسیاتی پیچیدگیوں پر منتج ہوتی ہیں، جن میں سب سے خطرناک یہ غلط فہمی ہے کہ یہ تجربہ مجھے اچھا لگا، یہ سوچ اس گھناؤنے اور قبیح فعل کو جس طرح ایک عام، بلکہ پر کشش امر بنا سکتی ہے، اس کا اندازہ مشکل نہیں۔ اپنے آپ کو حقیر اور پست ٹھہرا لینا بھی اس ندامت کو نارملائز تو کر لیتا ہے لیکن انسانی فطرت میں ایک شدید رد عمل، ایک باغیانہ قسم کی شورش کا سبب بنتا ہے جو احساس برتری کی صورت میں اس احساس کمتری کو جھٹلانے پر کمر بند ہو جاتی ہے۔ فطری طور پر ہر انسان یہ آگہی رکھتا ہے کہ وہ ایک انسان کی حیثیت سے دوسرے تمام انسانوں کے مساوی اور برابر ہے، کسی سے کمتر نہیں، کسی کی چیرہ دستیوں کو خاموشی سے سہنے کامکلف نہیں۔ ذہن کا دفاعی میکانزم خود کو جتنا حقیر اور پست ٹھہرائے، اتنا ہی زیادہ فطرت اس تصور کو جھٹلانے پر سرگرم عمل ہوتی ہے اور اس کوشش میں یہ خیال بھی تخلیق کر سکتی ہے کہ تم دوسروں سے کمتر نہیں بلکہ حقیقت میں برتر اور ارفع حیثیت رکھتے ہو، برتری اور علو کے اس احساس کا خبط عظمت کی شکل میں نمود کر نا ایک عام نفسیاتی مرض ہے جس سے ہر سائیکا ٹرسٹ کو پالا پڑتا رہتا ہے، یہ احساس اپنی نوعیت میں ایک مبالغہ آرایانہ لیکن بے ضرر خود ستائشی بھی ہو سکتا ہے اور ایک خطرناک نفسیاتی کیفیت بھی جس میں عملاً فرد کو دوسرے انسانوں کی وقعت، ان کی حرمت اور عزت کا پاس نہیں رہتا، وہ اپنی برتری کے زعم میں ان کے حقوق کی پامالی اور انہیں نقصان پہنچانے کو اپنا استحقاق اور ایک معمول کا امر سمجھ سکتا ہے۔ یہ دونوں عوامل محض مفروضے نہیں بلکہ جنسی تشدد اور بچوں کی معصومیت کے استحصال کے کیسز میں ماہرین نفسیات کے سامنے تواتر سے آنے والے عوامل ہیں۔ ماہرین نفسیات نے اکثر و بیشتر پایا ہے کہ ایسے واقعات کا مجرم خود بھی بچپن میں ایسے تجربے سے گزر ا ہوتا ہے او ر اس جرم کا ارتکاب یا تو اس کے لئے خواہش نفس کی تسکین کا ایک عمومی طریقہ بن چکا ہوتا ہے کیونکہ اس کے ذہن نے اس گھناؤنے فعل کو انٹرنلائز کر لیا ہے، ایک عمومی امر کی حیثیت دے دی ہے یا یہ فعل اسے اپنے اندر سرگرم شرمندگی اور ندامت کا مداوا کرنے، اپنے آپ کو ایک طاقتور اور برتر فرد کے طور پر دیکھنے کے ذریعے پستی اور حقارت کے احساس کی تلافی کا ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔

نارملائزیشن کی یہ دونوں صورتیں نفس مسئلہ کو کسی حد تک واضح تو کرتی ہیں لیکن ارتکاب جرم کی خواہش کے، قانون کی گرفت کے خوف پر غالب آ جانے کی توضیح نہیں کرتیں اور یہ وہ مرحلہ ہے جہاں پھر استغاثہ میری طرف رخ کرتا ہے۔ میں سٹپٹا جاتا ہوں، عشروں نہیں تو برسوں پہلے کسی نامعلوم فرد کے ہاتھوں ہمارے مطلوبہ مجرم کے جنسی استحصال اور اس استحصال کے منفی مضمرات کا مجرم کی شخصیت میں پروان چڑھنا، اسے بھی جرم کی طرف راغب کر نا بظاہر ایک ایسا عمل ہے جو تنہائی اور دل کے تاریک گوشوں میں رونما ہوتا رہا ہے، اس پراسیس کے بہت سے حصے کو کبھی دن کی روشنی اور کھلی فضا دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا ہوگا، چہ جائیکہ میری ذمہ داری؟

استغاثہ واضح کرتا ہے کہ اس عمل میں سماج کا فریضہ یہ بنتا ہے کہ متاثرہ فرد کے حق میں نرم دل اور جارح/ مجرم کے حق میں سخت دل ہو۔ متاثرہ فرد کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعے پر شرمندگی اور ندامت ہونا ایک فطری امر ہے، سماج اس شرمندگی اور ندامت کو صحتمندانہ انداز میں اظہار کا حق دے، اسے مثبت معانی دے اور جنسی استحصال کے واقعہ کو ایک حادثہ کے طور پر لے، جیسے کسی روڈ ایکسیڈنٹ میں ایک فرد کے جسمانی چوٹیں / زخم کھانے کو لیا جاتا ہے۔ متاثرہ فرد کی عزت نفس اور اپنے آپ پر اس کے اعتما د کی بحالی میں اسی طرح معاون ہو جیسے روڈ ایکسیڈنٹ میں مجروح ہونے کی شفایابی اور بحالی تک اس کی صحت کا خیال رکھا جاتا ہے او ر نگہداشت کی جاتی ہے۔ دوسری طرف جارح کو نہ صرف تعزیری میکانزم کی گرفت میں لایا جائے، بلکہ ایسے جارحانہ رویوں کی نمود کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جائے، بجائے اس کے کہ کوئی فرد ارتکاب جرم کا مرتکب ہو تو ہم اسے لعن طعن کرنے میدان میں اتریں، ان علامات اور اظہاریوں کی بروقت سرکوبی کی جائے جو اس رحجان کی موجودگی کے مظہر ہوں۔

لیکن عملاً ہمارے سماج کا رواج یہ ہے کہ ایسے کیسز کو عدل و تعزیز کے میکانزم کی گرفت سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ مجرم نہ صرف آزاد پھرتا ہے بلکہ بے تکلف صحبت میں اس جرم کو ایک فاتحانہ نوعیت کی روداد کے طور پر بیان کرتا ہے جس میں متاثر ہ فرد کی حیثیت ایک کارٹون جیسی مضحکہ خیز دکھائی دیتی ہے اور سننے والے ٹھٹھہ مار کر نہ بھی ہنسیں تو ایک دبی دبی سی ہنسی ضرور ہنس دیتے ہیں۔ جبکہ متاثرہ فرد کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے، سماج حقارت اور تضحیک کی جن نظروں سے اسے دیکھتا ہے وہ تو الگ، اس کے اپنے بھی اسے ایک ایسا بوجھ، ایک ایسا داغ سمجھنے لگتے ہیں جو ان کی پاکیزہ زندگیوں اور اجلے معاشرتی رتبے پر لادد یا گیا ہے۔

میں احتجاج کرتا ہوں کہ ایسے کیسز کی تعداد بہت ہی کم ہے جن میں یہ واقعہ کھل جاتا ہے، بیشتر کیسز میں یہ معاملہ مجرم اور متاثرہ فرد کے مابین ایک راز کی صورت میں عمر بھر دفن رہتا ہے، یہ رواج ان چھپے رہنے والے کیسز میں بگاڑ کا سبب کیسے بن سکتا ہے۔ بظاہر یہ مضبوط نکتہ اعتراض ہی و ہ مقام ہے جہاں استغاثہ مجھے پکڑ لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ عدالت کے روبرو توضیح کرتا ہے کہ یہی تو اصل پوائنٹ ہے۔ یہ چھپے ہوئے، کبھی سامنے نہ آنے والے کیسز ہی تو ہیں جن میں اصل بگاڑ جنم لیتا ہے۔

عملاً اس گھناؤنے فعل کے مرتکب کی حیثیت سے اس کا راز کھل بھی جائے تو رسوائی اور ندامت اس کے حصے میں نہیں آئے گی بلکہ متاثرہ فرد کے حصے میں آئے گی۔ اسے کسی طعنہ و دشنام کا سامنا کرنا بھی پڑا تو اس کی حیثیت رسمی ہو گی۔ متاثرہ فریق اپنے آپ سے شرمندہ، اپنی عزت نفس کو سنبھالنے کی کوشش میں سمٹا سمٹا، سہما سہما پھرتا ہے۔

مجرم اپنی مجرمانہ حیثیت میں نازاں پھرتا ہے کیونکہ معاشرہ اس کے فاتحانہ احساس کی نفی نہیں کرتا، اسے طاقتور اور غالب فریق کی حیثیت سے شناخت کرتا ہے۔ باایں ہمہ کہ سماجی اقدار اور اخلاقیات کے پیمانے پوری طرح اس فعل کے جرم ہونے اور اس کے گھناؤنے پن پر متفق ہیں، عملاً اس گھناؤنے فعل کے مرتکب کی حیثیت سے اس کا راز کھل بھی جائے تو رسوائی اور ندامت اس کے حصے میں نہیں آئے گی بلکہ متاثرہ فرد کے حصے میں آئے گی۔ اسے کسی طعنہ و دشنام کا سامنا کرنا بھی پڑا تو اس کی حیثیت رسمی ہو گی، متاثرہ فرد کے حصے میں آنے والے طعنہ و دشنام کے مقابلے میں کچھ بھی نہ ہوگی۔ متاثرہ فریق اپنے آپ سے شرمندہ، اپنی عزت نفس کو سنبھالنے کی کوشش میں سمٹا سمٹا، سہما سہما پھرتا ہے۔ انٹرنلائزیشن کا وہ پراسیس جو جرم پر منتج ہونے والی پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے، انہی چھپے ہوئے، سامنے نہ آنے والے کیسز میں مصروف عمل ہوتا ہے۔ ماہ و سال اس ناخوشگوار تجربے پر دیگر تجربات و حوادث کی اتنی تہیں چڑھا دیں کہ یہ تجربہ اور اس سے جنم لینے والی ندامت، شرمندگی اور خود نفرینی دفن ہو کر بظاہر یادداشت سے محو ہو جائے تو بھی یہ محسوسات ان تہوں کے نیچے متحرک اور متاثرہ فرد کو ایسے اضطراب اور بے چینی سے دوچار کئے رکھتے ہیں جنہیں سمجھنا خود اس کے لئے بھی ممکن نہیں رہتا۔ اس صورتحال کی ذمہ داری ہم سب پر برابر عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ ہمیں نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہے۔ مجرم اپنے جرم پر نازاں او ر متاثرہ فرد اپنی بے گناہی پر نادم کیوں ہے۔ ہمارا ضمیر اور وہ اخلاقی اقدار جن کے ہم مدعی ہیں، سرگوشی کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے، مجرم کو سزا اور متاثرہ فرد کو ہمدردی اور حوصلہ ملنا چاہئے۔ لیکن تفاخر اور ندامت کے کچھ عجیب و غریب پیمانے اس سیدھی، سچی بات کے آڑے آ جاتے ہیں، میں ان پیمانوں پر سوال اٹھانے سے ڈرتا ہوں کیونکہ یہ نسل در نسل چلے آ رہے ہیں، میں جھجھکتا ہوں کہ کہیں ندامت کے کسی پیمانے پر سوال اٹھانا خود میرے اندر نہاں کسی ندامت کا اظہار نہ سمجھا جائے، کہیں میں معاشرے میں نکو نہ بن جاؤں اور میری بھد اڑائی جانے لگے۔ اس خوف کے مارے، اس جھجھک کے زیر اثر میں ان رویوں کو اپنا لیتا ہوں، اپنی سوچوں کا حصہ بنا لیتا ہوں۔ متاثرہ فرد کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھنے، اس کے بارے میں سرگوشیاں کرنے، ہنسنے اور اس کے ساتھ حقارت آمیز برتاؤ کو فطری امر سمجھتاہوں اور دل ہی دل میں اپنی عزت او ر فخر پر خود کو سراہتا ہوں۔ یہ پوچھنے کی کبھی جرات نہیں کرتا کہ ایک فرد کا ایسے امر کی بنا پر عزت سے محروم ٹھہرنا کیسے ممکن ہے جس میں اس کا کوئی قصور نہیں، کوئی خطا نہیں؟ کیسے، آخر کیسے ممکن ہے کہ دوسرا فرد ایسے گھناؤنے فعل کا مرتکب ہونے کے باوجود، جو ہر سماجی پیمانے پر ناقابل قبول ہے، معزز اور معاشرے کے لئے قابل قبول ہے؟ یہ تو میں کبھی بھو ل کر بھی نہیں سوچتا کہ میری تحقیر اور تضحیک کسی متاثرہ فرد کے لئے کیسی اذیتناک اور کتنی ظالمانہ ہو سکتی ہے۔.

شرمندگی اور شماتت کے ڈر سے متاثرہ فرد بھی آپ بیتی کو دل میں چھپائے، بظاہر ہمارے ساتھ اس ہنسی اور سرگوشیوں میں شریک، لیکن دل ہی دل میں اپنے آپ پر گریہ کناں اور اپنے وجود پر نفرین بھیجنے میں مصروف، اپنے آپ سے فرار کا طالب رہتا ہے۔ ایسے خوش نصیب بھی ہیں جنہیں کوئی فرار کی راہ، کوئی درد کا درماں مل بھی جاتا ہے، گردش ایام ان کے زخموں پر پھاہا رکھ بھی دیتی ہے کہ فطرت سخت گیر ضرور ہے، سنگدل ہر گز نہیں۔ اس کے دامن میں زخم نہیں، زخموں کا درماں بھی ہے۔ لیکن ہر متاثرہ فرد ایسا خوش نصیب بہرحال نہیں ہوتا۔ وہ بھی ہیں جنہیں اپنے آپ سے نفرت، اپنے وجود پر ندامت کا احساس یوں گھیر ے رکھتا ہے کہ کوئی جائے اماں ان کے لئے نہیں بچتی۔ جو کچھ ان کے ساتھ ہو چکا، اسی کو کسی اور کے ساتھ دہرانے سے طاقتور اور برتر ہونے کا ایسا لمحاتی احساس ضرور مل سکتا ہےجو اس نفرت اور ندامت سے عارضی طور پر چھٹکارا دلا دے اور بد قسمتی سے یہ احساس فراہم کرنے والا امر کوئی اور نہیں، تفاخر و ندامت کے وہی موروثی پیمانے ہیں جن پر سوال اٹھانے کے تصور سے ہی ہم کانپنے لگتے ہیں۔ استغاثہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ کیا ان پیمانوں کو سوال اٹھائے بغیر قبول کر لینا اور اگلی نسل کو اسی طرح سوال اٹھائے بغیر یہ پیمانے قبول کر لینے کی تلقین مجھے اس تمام عمل کا حصہ اور ایک اجتماعی ذمہ داری کا حصہ دار نہیں بنا دیتی؟
میں ایک بار پھر گردن جھکا کر سوچنے لگتا ہوں کہ کیا جواب دوں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: