جمہوریت کا تقدس پائمال کرنے والوں پر لعنت ۔ محمود فیاضؔ

0
  • 113
    Shares

شیخ رشید کے پیچھے عمران خان کو “ایسی پارلیمنٹ” پر لعنت بھیجنے کی ضرورت ہرگز نہیں تھی۔ اس لیے نہیں کہ اس نے اس سے کسی پارلیمانی تقدس کو مجروح کیا، بلکہ اس لیے کہ یہ ایک فالتو کی بحث ہے جس کا موقع انکو مل گیا جو کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں، عمران خان کی زبان پکڑنے کے لیے۔

البتہ آئیے دیکھتے ہیں کہ پارلیمان کا تقدس کیا ہوتا ہے اور اسکو مجروح کون کرتا ہے؟

اگر آپ کے محلے میں ایک بلڈنگ بنائی جائے اور اس کا نام مسجد رکھ دیا جائے۔ مگر اس کے اندر شراب اور جوئے کا اڈا بنا دیا جائے۔ تو آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جو اس اینٹ گارے کی بنی عمارت کو مسجد کا تقدس اور احترام دیں گے؟

اگر آپ کے علاقے میں ایک عمارت بنائی جائے، جس کے سامنے ایک ترازو لٹکایا جائے۔ اور بڑے بڑے حروف میں عدالت عالیہ لکھا جائے۔ اسکے بعد ایک کے بعد ایک مقدمہ اس عمارت میں لگایا جائے جس میں مظلوم کو مرنے دیا جائے اور ظالم اور طاقتور کو چھوٹ دے دی جائے۔ آپ میں سے کتنے اس عمارت کو عدالت کہیں گے اور اس کے تقدس کو سلام کریں گے؟

چلیں یہ خیالی مثالیں ہو سکتی ہیں۔ حقیقی دنیا کی مثال لے لیں۔ ایک اسکول کی عمارت کو اکثر آپ کے گاؤں میں بنا دی جاتی ہے۔ اسکے احاطے میں گاؤں کے چوہدری اپنی بھینسیں باندھتا ہے۔ شام ہوتے ہی بھنگی، چرسی اس کے ٹوٹے کمروں میں سوٹے لگاتے ہیں۔ اسکول کے ماتھے پر مٹتا مٹتا رب زدنی علما بھی لکھا ہوا ہے۔ یہ اسکول کی عمارت تو کسی وجہ سے بنا دی گئی مگر استعمال بچوں کے لیے تعلیم کی بجائے طاقتوروں اور بدکرداروں کے مقاصد کے لیے ہو رہی ہے۔ آپ میں سے کتنے با ہوش اس عمارت کو اسکول سمجھ کر عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے؟

سادہ سی بات ہے، تقدس عمارت کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتا، اس عمارت سے جڑے مقصد کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب وہ مقدس عمل، یا مقدس مقصد پورا ہوتا ہے تو اس عمارت اور اس میں بیٹھنے والے خود بخود اس عزت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔

جمہوریت میں پارلیمنٹ ایک مقدس ادارہ اس لیے کہلاتی ہے کہ اس میں پوری قوم کے نمائندے بیٹھے ہوتے ہیں جو اپنی قوم، معاشرے، ملک، ریاست کے لیے سب سے مقدس کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اور وہ مقدس کام اپنی عوام کی زندگیوں کو بہتر کرنے کے لیے قانون سازی کرنا ہوتی ہے۔

اب آئیے ہماری پارلیمنٹ کی عمارت اور اس میں بیٹھے لوگوں کی طرف۔ ہمارے پارلیمان کا عالم یہ ہے کہ بقول شاعر
؎ مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے ، برسوں میں نمازی بن نہ سکا

ہماری جمہوریت میں پارلیمان کی بلڈنگ تو ویسے ہی ہے۔ اس میں کرسیاں بھی ہیں۔ بیٹھنے کا رنگ ڈھنگ بھی ویسا ہی ہے۔ مگر اس میں عوام کے نمائندے کم کم ہی آتے ہیں۔ اس میں کروڑوں روپے لگا کر اربوں کی دیہاڑی لگانے والے زیادہ ہیں۔ اپنی مراعات میں سو دو سو فیصد اضافہ کرنے والے بھی موجود ہیں۔ اپنی اس کرسی سے فائدہ اٹھا کر اپنے رشتے داروں کو ملک اور بیرون ملک مراعات یافتہ ملازمتیں دلوانے والے بھی کثیر تعداد میں ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو عوام کے دکھ درد سے آگاہ اور اسکا مداوا کرنے والے۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ اس پارلیمنٹ کے سابقہ سربراہ نواز شریف نے عوامی دکھوں سے لاعلمی ان الفاظ میں ظاہر کی کہ “مجھے علم نہیں تھا کہ عدالتی انصاف اس قدر مہنگا ہے” ۔

پارلیمان کا تقدس جمہوریت سے وابستہ اصولوں کی پاسداری سے بھی مشروط ہے۔ اگر جمہوریت کی روح کے مطابق عوام کے نمائندے عوام کے حقیقی ووٹوں سے منتخب ہو کر آئیں تو پارلیمان کے تقدس کو سلام مگر جمہوریت کے نام پر پولیس پٹوار سے عوام کے ووٹ کو ہر دھاندلی سے اپنے بیلٹ بکس تک پہنچا کر، اور پھر بھی کسر رہ جائے تو بعد کے معاملات میں اپنے پسندیدہ آر اوز کے ذریعے عوام کے نمائندہ بن جانے کے ڈرامے پر ہزار بار لعنت۔

اگر جمہوریت کے اصولوں کے مطابق عوامی نمائندے عوام کے دکھ درد دور کرنے کے لیے قانون سازی کریں، جس سے دکھی عوام کی اجیرن زندگیاں کچھ آسان ہوں تو ایسی پارلیمان کو سات سلام، اس کے تقدس کو سلام، ۔ ۔ ۔ مگر جمہوریت کے نام پر ایک عمارت میں اکٹھے ہو کر غریب عوام کے پیسوں کو کک بیکس، کمیشن، اور صوابدیدی فنڈز کے نام پر آپس میں بانٹنے پر لاکھ بار لعنت۔

اگر جمہوریت کے اصولوں کے مطابق عوامی نمائندے جمہوری اصولوں کی پاسداری کریں، خود پارلیمان کی عزت کریں، پارلیمان میں باقاعدہ حاضری دیں، اور ایک دوسروں کے اختلاف کو جمہوری طریقوں سے ڈیل کریں، تو ایسے جمہوری پارلیمان کی عزت ہماری سر آنکھوں پر، ۔ ۔ ۔ مگر جمہوریت کے نام پر پورے ملک سے طاقتوروں کے گٹھ جوڑ، اور پارلیمان سے حاصل شدہ طاقت کو اپنی دولت و تعلقات بڑھانے پر اور پارلیمان میں صرف اس وقت حاضری دینے پر جب اپنا کوئی کام اٹک گیا ہو، یا اپنی کرسی خطرے میں ہو، ایسی تمام غیر جمہوری حرکتیں کرنے والوں پر لعنت در لعنت۔

عمران خان نے شیخ رشید کے پیچھے پیچھے جس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی ہے وہ سمجھنے والوں کے لیے ویسی ہی ایک عمارت ہے، جس میں مراعات یافتہ اور طاقتوروں نے جمہوری اصولوں کی ایسی کی تیسی پھیر دی ہے۔

عمران کے بیان پر مجھے مغربی ممالک کا ایل لطیفہ نما واقعہ یاد آگیا۔ جس میں کسی اپوزیشن رہنما نے یہ بیان دے دیا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے آدھے ممبران احمق ہیں۔ اس پر بہت لے دے ہوئی اور سب نے اس بیان پر اس لیڈر کی خوب کلاس لی۔ اس پر اس نے اپنا پہلا بیان واپس لیتے ہوئے یہ کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے آدھے ممبران احمق نہیں ہیں۔

میں عمران خان کو بھی اپنا بیان واپس لینے کی صلاح دیتے ہوئے کہتا ہوں کہ اس کو کہنا چاہیے کہ ایک ایسی پارلیمنٹ جس میں غریب عوام کی بھلائی کے لیے قانون سازی ہوتی ہے اور جمہوری اصولوں کو پائمال نہیں کیا جاتا پر ہزار بار سلام۔ مجھے یقین ہے لعنت پھر بھی وہیں رہے گی، اور بولنے والوں کا منہ بھی بند ہو جائے گا۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: