سیکس ایجوکیشن: حفاظتی تعلیم یا کچھ اور؟ آخری حصہ — لالہ صحرائی

0
  • 57
    Shares

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔


سیکس ایجوکیشن کے پروز اینڈ کونز:
ان پہلؤوں پر نئے سرے سے کسی بحث کی ضرورت سرے سے ہے ہی نہیں، اسلئے کہ یہ تھیسز مغربی معاشرے میں نہ صرف well discussed ہے بلکہ اس کے نتائج بھی سب کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔

اس معاملے کا لائٹر ایسپیکٹ یا قابل ہضم پہلو صرف یہ ہے کہ بچے عموماً اپنی معصومیت کی بنا پر جنس کے حوالے سے آسان شکار ثابت ہوتے ہیں، لہذا بچوں کو اپنی حفاظت کیلئے کچھ نہ کچھ احتیاطی تدابیر ضرور بتا دینی چاہئیں۔

کم و بیش سات سال کے بچوں کو نامعلوم لوگوں سے بہرصورت دور رہنے کی تلقین، گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ کا فرق، کسی سے کچھ کھانے والی اشیاء لینے یا اپنے گھر پہ بتائے بغیر کسی کے ساتھ جانے سے قطعاً گریز کرنا، بازار میں والدین سے بچھڑ جانے پر کیا کرنا چاہئے، بچوں کو اپنے گھر کا نمبر، ایڈریس، کالونی اور اپنے شہر کا نام پتا یاد کرانا چاہئے، بلکہ اپنے قریبی عزیز و اقارب کے فون نمبر بھی یاد کرانے چاہئیں تاکہ کہیں بازار میں بچھڑ جائیں تو یہ چیزیں ان کے کام آسکیں۔

لیکن ان بچوں کا کیا ہو گیا جو غربت کے باعث اسکول کی تعلیم سے محروم رہتے ہیں یا چائلڈ لیبر کے طور پہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

لہذا اسکولنگ کی بجائے محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کو مل کر ایک ہفتے کا ایک کورس ڈیزائن کرنا چاہئے جو شادی کے بعد ہر ماں کیلئے فرض ہو، اس میں ماؤں کو آگاہی دینی چاہئے کہ ابتداء میں زچہ و بچہ کی صحت اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اٹھارہ سال کی عمر تک بتدریج انہیں کیا کیا تعلیمات ماؤں کی طرف سے دی جانی چاہئے۔

اگر یہ چیزیں نصاب میں ڈال دی جائیں کہ ہارمونل چینجز، زیرناف بال، احتلام، ایام، بچوں کو کیسے خطرات درپیش ہوتے ہیں اور ان معاملات سے ڈیل کرنے کیلئے آپ کو کیا کیا تدابیر اختیار کرنی ہیں تو اصل مسئلہ تب شروع ہوگا جب بچہ اس گفتگو سے نہ صرف حذ اٹھائے گا بلکہ کچھ آگے بھی نکل جائے گا اور جنسی فریم ورک کا مکمل احاطہ کئے بغیر نہیں رکے گا، پھر اسے کنٹرول کرنے کیلئے شرم و حیا کی اہمیت اور عفت و عصمت کے تقاضوں پر مبنی ایک اور نصاب بھی تعلیم میں شامل کرنا پڑے گا۔

 

جب مشرقیت تباہ کرکے گھوم پھر کے اسی نصاب پہ واپس آنا ہے جو ہمارے سماج میں پہلے سے موجود ہے اور رازداری کیساتھ اس کی تعلیم بھی بچے کو بتدریج ملتی رہتی ہے تو پھر بیٹھے بٹھائے ایک نئی مصیبت میں پڑھنے کی ضرورت کیا ہے۔

دیدہ وَر روئیں گے، مت تیشہ چلاؤ ان پر
کئی سمتوں کے نشاں ہیں یہ شجر، رہنے دو

سیکس ایجوکیشن کی وکالت کے پس منظر میں اس بات کو نظر انداز کرنا حماقت ہوگی کہ موجودہ دور ایک کمرشل دنیا کا دور ہے جس میں کارپوریٹ ورلڈ اپنی پراڈکٹس کی وسیع تر سیلز کیلئے ہر قسم کی اخلاقی و غیر اخلاقی ٹیکٹس آزمانے سے کبھی باز نہیں آتی، اگر یہ ماحول پیدا نہ کریں تو دیوالیہ ہو جائیں۔

معاشروں کے اندر جنسی آگاہی اور ارزانی پیدا کرنے سے براہ راست فائدہ اس کمرشل ورلڈ کو پہنچتا ہے جو پورن انڈسٹری، جنسی ادویات، مانع حمل اشیاء، سیکس گیجٹس، ابارشن کے آپریٹس اور جنسی تلذذ کیلئے فوڈ سپلیمنٹس وغیرہ بناتا ہے۔

بہرحال اس معاملے کے پروز اینڈ کونز، فوائد اور مضمرات حقیقی طور پر اس وقت ہی طے ہو سکتے ہیں جب اس کا ایک نصاب سامنے آئے گا، تاہم انسانی فطرت کے اعتبار سے ہم اسے انسان کے ہم مزاج نہیں سمجھتے کہ بلوغت سے پہلے بلکہ بعد میں بھی اسے کسی نصاب کی صورت میں پیش کیا جائے۔

سیکس ایجوکیشن کا فطری طریقہ:
گائے کا بچہ اپنی پیدائش کے پچیس پچاس منٹ بعد لڑکھڑاتا ہوا اٹھتا ہے اور اپنی ماں کے دودھ تک پہنچ جاتا ہے، سمجھ نہیں آتی، اسے کس نے سمجھایا کہ تمہاری خوراک ماں کے تھنوں میں رکھ دی گئی ہے، سمجھایا ہوا ہو بھی تو اسے یہ پہچان کیسے ہوتی ہے کہ اتنی بڑی گائے کے ساتھ تھن کا مقام کونسا ہے، یقیناً اس کی میموری میں کوئی ایسی بریفنگ ضرور موجود ہوگی جو اسے موقع کے مطابق اپنا رخ اختیار کرنے پر مائل کرتی ہے۔

لیکن انسان کے بچے کا معاملہ بڑا عجیب ہے کہ جو خود کو اشرف المخلوقات سمجھتا ہے اور کئی جہتوں میں یہ دیگر مخلوقات پر جبلی برتری بھی رکھتا ہے، پھر بھی اس کا بچہ پیدائش کے بعد بھوک تو محسوس کرتا ہے مگر ناتوانی کے باعث ماں کے دودھ تک پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتا نہ ہی کوشش کے طور پر لپکتا ہے اور حیوان ناطق ہونے کے باوجود نہ ہی منہ سے مانگ سکتا ہے کہ مجھے کھانے کیلئے کچھ دو، اس ہمہ جہت عارضی معذوری کی کوئی تو معقول وجہ ہونی چاہئے جو اسے گائے کے بچے سے ممتاز کرتی ہو ورنہ اس کا اشرف المخلوقات ہونے کا دعویٰ بیکار ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک اسے ایک خاص ماحول میں رکھ کے پالنا چاہتا ہے جس کی ذمہ داری والدین پر ڈالی ہے کہ وہ اسے اچھی چیز دیں اور بری چیز دینے سے اجتناب کریں اور اسے تربیت لینے کا عادی بنائیں تاکہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے اسے اچھے برے کی تمیز سیکھنے کی عادت پڑ جائے اور سن بلوغت کو پہنچنے پر اسی عادت کے تحت وہ خدائی احکام کو سننے، سمجھنے اور قبول کرنے کا خوگر بن سکے۔

اس کے برعکس انسان کو اگر پہلے ہی دن سے خودمختاری دے دی جاتی تو گائے کے بچے کو دیکھ کر وہ گھاس کھانے اور جوہڑ کا پانی پینے بھی چل دیتا اور کوئی اسے روکنے والا بھی نہ ہوتا۔

انسان کی تربیت میں تدریج کی بڑی اہمیت ہے، اسی لئے حیوان کے برعکس، انسان کی تمام صلاحیتیں، آہستہ آہستہ بیدار ہوتی ہیں، اور جیسے جیسے یہ صفات پروان چڑھتی ہیں اسی ترتیب سے ان صفات کو استعمال کرنے کی تربیت بھی اسے ملتی جاتی ہے، یہ تربیت آج تک نہ صرف ہوتی آئی ہے بلکہ کسی نے اس پر کبھی اعتراض بھی نہیں کیا کہ اس طریقہ تربیت کی وجہ سے اسے کسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مخفی تربیت کے سلسلے کا نقصان اب بھی کوئی نہیں ہے مگر جہاں سورج کی تپش سے ہوا اوپر اٹھ جائے وہاں کا خلاء پُر کرنے کیلئے دوسری جگہ کی ہوا پہنچ جاتی ہے، دہر میں ہوائیں عموماً اسی اصول پر چلتی ہیں۔

غلطی ہائے مضامیں مت پُوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
۔ غالب۔

جہاں کے لوگ اپنے انتظامی خلاء کو انتظامی اصلاحات سے پُر کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں وہاں پراسرا قوتیں اپنے مفادات کیلئے فنڈنگ ضرور کیا کرتی ہیں، یہ اسلام دشمنی نہ بھی ہو تو کمرشل ورلڈ کی ہمہ جہت چابکدستیوں میں سے ایک بزنس ٹیکٹس ضرور ہے۔

اسلام دینِ فطرت ہے اور فطرت سے متعلق ہر قسم کی آگہی اور اس کے متعلق ضابطہ حیات بھی اس کے اندر موجود ہے، اسلام فطرت کے تقاضوں کو دباتا نہیں البتہ انہیں ایک ضابطے کا پابند ضرور کرتا ہے تاکہ مخفی رکھنے والی باتیں مخفی رہیں اور اجاگر کرنیوالی باتیں اجاگر کی جائیں۔

اقوام عالم میں سیکس ایجوکیشن لینے والی نسلیں کسی ضابطے کی پابند کم ہی دیکھی گئی ہیں، عموماً یہ ننگے ڈیوڈ اور برہنہ وینس کے مجسموں کی پرستش میں اس حد تک غرق ہیں کہ ان کے آپریٹرز چہار سو نوع انسان کو لباس کے تکلف سے نجات بخشنے کے داعی ہیں۔

ایسی نہ چالیں چل کہ تیری ریشخندی ہو:
علی الصبح کھیتوں کا رخ کرنے والے کسان دم واپسی بیل گاڑیوں پر اپنا سامان، گھریلو جانوروں کا چارہ اور سبزی اناج وغیرہ رکھ کے عصر کے قریب گھروں کو لوٹنا شروع ہو جاتے تھے، رستے میں پیدل جانے والے بعض لوگ بھی اپنا سامان اس پر رکھ کے ساتھ بیٹھ جایا کرتے تھے۔

ایک دن ایک سردار جی کا لدا پھندا گڈا رستے میں کیچڑ کے اندر پھنس گیا، کئی سردار دھکا لگا لگا کے تھک گئے مگر کام نہ بنا۔

ان کا گرو نعرہ لگاتا
جو بولے سو نہال
اس پر
ایک ست کہہ کے زور لگاتا
ایک سری کہہ کے دھکا مارتا
اور دو اکال کہہ کے طاقت لگاتے

ست سری اکال سکھوں کا مقدس کلمہ ہے، لیکن عدم اتحاد کی بنا پر ان سب کی طاقت ایک جگہ مجتمع نہیں ہو پاتی تھی اسلئے غیرمتوازن زور لگانے کا فائدہ نہیں ہو رھا تھا۔

ان کے پیچھے ایک مسلمانوں کی ٹولی بھی آگئی، جب تک رستہ نہ کھلتا، آگے کوئی بھی نہیں جا سکتا تھا، چنانچہ “مُسلوں” نے سرداروں کا گڈا نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔

مُسلوں کے گرو نے کہا، لو بھئی جوانوں، اللہ کا نام لے کے سینے میں سانس بھرلینا اور اکبر کہہ کے زور کا ایک ہی دھکا مارنا، پھر اس نے گڈے پہ ہاتھ رکھ کے نعرۂ تکبیر لگایا اور جوانوں نے ایک ہی دھکے میں سرداروں کا گڈا پار کر دیا۔

سردار نے کہا، من گئے جوانوں، تہاڈا گرو کھوبے دا بڑا سیانا اے، پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا، مرجاؤ کش کھا کے سالیو، تم نے تو گرووں کا نام ڈبو دیا، گرو وہی اچھا جو کھوبے میں کام آئے۔

ہمارے ہاں اسٹریٹجیک ڈیپتھ کو احمقانہ قرار دینے والوں کی طرح ٹرمپ نے بھی اپنے پیش رووں کو احمق قرار دیا ہے جن کی وجہ سے ان کا تینتیس ارب ڈالر ضائع ہو گیا، ان دونوں کو پتا نہیں کہ ٹرمپ کے پیش رو جس ریچھ کے خوف سے پیسہ بہانے کو تیار تھے انہیں یہ بھی پتا تھا کہ ان کا گڈا نعرۂ تکبیر کے بغیر نکلنے والا نہیں اور وہ خود یہ نعرہ لگانے سے انہی صاحبوں کی طرح گریزاں تھے جو آج اس نعرے سے چڑتے ہیں لہذا انہوں نے پیسہ لگایا اور ہم نے نعرۂ تکبیر لگایا، یہ الگ بات ہے کہ جب ایک گڈا نکل گیا تو یہ دوسرا پھنسا کے بیٹھ گئے۔

مسلمان کچھ بھی کرے مرے لیکن وہ اپنا نعرہ کبھی نہیں بھولتا، اب ہم خود اس کیچڑ سے باہر نکلنا چاہتا ہے تو بھی انہیں برا لگتا ہے۔

سادہ پُرکار ہیں خوباں غالبؔ
ہم سے پیمانِ وفا باندھتے ہیں

بھیا گزارش یہ ہے کہ معاشرے میں عدم انصاف سے پیدا شدہ خلاء میں انصاف مضبوط کرنے کی بجائے بقول آپ کے وہ تعلیم ہی کافی ہے جس سے آپ اپنی قوم کا گڈا بداخلاقی کے کیچڑ میں پھنسائے بیٹھے ہیں تو ہم اتنے بھی بھولے نہیں کہ اس بات کو دانشمندی سمجھ لیں جس نے خود آپ کا بھی بھرکس نکال کے رکھ دیا ہے، البتہ ہم آپ کی طاقتور جولانیوں سے واقف بھی ہیں اور آپ کی بات ماننے سننے کیلئے مجبور بھی ہیں۔

آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے
ہم بھی اک اپنی ہوا باندھتے ہیں
۔ غالب۔

اب یہ آپ کے اوپر منحصر ہے کہ ہمیں اپنا نظام بہتر بنانے دو گے یا اپنی تعلیم ہی ٹھونسو گے، اپنا نصاب ٹھونسنے سے پہلے اتنا ضرور سوچ لیجئے گا کہ پہلے آپ کا تینتیس ارب ڈالر لگا تھا اب کل ملا کے آپ کے ایک سو تینتیس ارب ڈالر، چار پانچ کروڑ ویزے اور آٹھ دس کروڑ گوری مہیلائیں اس راہ میں کھپ جانی ہیں۔

ہمارا کیا ہے، پہلے ایک کام کی خاطر چالیس سال خستہ خوار ہوئے ہیں، اب چالیس سال ننگے ڈیوڈ اور برہنہ وینس کا قصیدہ بھی پڑھ لیں گے، لیکن یاد رکھیں ہم اپنا نعرہ کبھی بھی بھولنے والے نہیں، جس دن آپ کی کمان ایک نئے ٹرمپ نے سنبھال کے آپ کو احمق قرار دے دیا اس دن پھر سے اپنا نعرہ مار کے ہم خود کو اس کیچڑ سے پھر باہر نکال لیں گے۔

لہذا اس کام کا کوئی فائدہ نہیں، سوائے اس کے کہ آپ کے فرینچائزی امیر ہو جائیں گے، پہلے جہاد سے نوٹ بنانے والے فیضیاب ہوتے تھے، اب روشن خیال فیضیاب ہوں گے، مگر آپ کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا الٹا آپ کا مال ضائع ہوگا اور ہماری کچھ نسل خراب ہوگی۔

بلآخر نصاب ہمارا ہی کام آوے گا، یقین نہیں آتا تو اپنی قوم سے پوچھ لو جو آپ کا نصاب پڑھنے کے باوجود ہماری کتاب پڑھ کے “مُسلے” بن جاتے ہیں اسلئے کہ ہر زندہ ضمیر انسان باآسانی یہ بات سمجھ جاتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں ہر گڈا صرف نعرۂ تکبیر کا ہی محتاج ہے اور کچھ بھی کام آنے والا نہیں۔

ویسے ہم نے بھی اسلامک سینٹرز ایسے ہی نہیں کھول رکھے، ہمیں بھی اس بات کا شدید احساس ہے کہ آگے بڑھنے کیلئے رستہ صاف ہونا نہایت ضروری ہے، آپ کا گڈا آگے سے ہٹے گا تو ہی ہم آگے بڑھ سکیں گے، اختلاف صرف نعرے پہ ہے آپ اپنا نعرہ لگوانا چاہتے ہیں اور ہم اپنا، آپ اپنا زور لگا لیں، ہم اپنا، لیکن جیتے گا وہی جس کے نعرے میں دم ہوگا۔

نعرررررررۂ تکبیررررررر

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: