مظہر کلیم کی عمران سیریز : پیر الطاف

2
  • 334
    Shares

گزشتہ دنوں ہمیں جناب عاصم رضا صاحب اور مشہور ناول نگار جناب مظہر کلیم صاحب کی ملاقات کی تصاویر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ گفتگو کے دوران عاصم رضا صاحب نے ہمیں بھی اس بارے میں کچھ لکھنے کی دعوت دے ڈالی۔ اگرچہ راقم کا بچپن مظہر کلیم صاحب کی عمران سیریز پڑھتے گزرا ہے۔ مگر یہاں مسئلہ دوچند ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ راقم کو ادبی تنقید لکھنے کا ادراک و تجربہ نہیں۔ اس آرٹ سے نابلد قاری تو صرف اپنی ذاتی رائے کا اظہار ہی کر سکتا ہے۔ لہذا میرا نہیں خیال کہ یہ مہمل عبارت آرائی کسی تحقیقی کام میں مدد دے سکے گی۔ یوں بھی کسی ایک تحریر میں اس موضوع کا احاطہ ممکن نہیں۔ دوسری بات یہ کہ مظہر صاحب کو پڑھے تیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یادوں پر وقت کی دبیز تہہ چھا چکی ہے۔ تاہم ایک ایسے مصنف کے بارے میں لکھنا جس نے ہمیں بچپن میں اپنے سحر میں گرفتار کیے رکھا، بذات خود ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ لہذا یہ گرد جھاڑ کر جو کچھ بھی ہاتھ لگا مظہر کلیم صاحب کے پرستاروں کی نذر ہے۔


مظہر کلیم

ہر دور کے کچھ مخصوص معیارات ہوتے ہیں۔ کسی بھی تخلیق کار کے کام کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک خاص دور،ایک خاص نسل اور عمر کے تناظر کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً نیٹ فلیکس کے دور میں پی ٹی وی کےکلاسیکی ڈرامے شاید آج آپ کو دلچسپ دکھائی نہ دیں۔ لیکن اس کی وجہ آپ کا موازناتی مغالطہ ہو سکتا ہے۔ پی ٹی وی کے کلاسیکی ڈراموں پر تجزیہ آپ کو اُس دور میں موجود ایک ناظر کی ذہنی کیفیت اور معاصر متبادلات کے پس منظر میں کرنا پڑے گا۔ بالکل اسی طرح مظہر کلیم کے جاسوسی ناول بھلے آپ کو چالیس سال کی عمر میں دلچسپ نہ لگیں۔ مگر اسّی نوے کی دہائی میں سکول جانے والے ایک بچے سے پوچھیں کہ سنسنی خیز ناول کیا ہوتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں تیسری جماعت تک عمرو عیار، ٹارزن، چھن چھنگلو، آنگلو بانگلو اور چلوسک ملوسک کی کہانیاں پھونک چکا تھا۔ میری دلچسپی کے پیمانے تبدیل ہو چکے تھے۔ تیسری جماعت میں مظہر کلیم کی عمران سیریز کا پہلا ناول ہاتھ آیا جو کہ غالباً “کیلنڈر کلر” تھا۔ پھر باگوپ، کایا پلٹ، آپریشن ڈیزرٹ ون اور زندہ سائے وغیرہ کا ایسا چسکہ لگا کہ ساتویں اور آٹھویں جماعت میں میں طارق اسمٰعیل ساگر، جاسوسی اورسسپنس ڈائجسٹوں وغیرہ کی رسائی تک اسی میں مد ہوش رہا۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ہر عمر اور دور کے تقاضے اور معیارات مختلف ہوتے ہیں۔ میٹرک کے بعد میں فکشن کی دنیا سے ایسا نکلا کہ پھر برسوں تک پلٹ کر نہیں دیکھا۔ مظہر کلیم صاحب کے بارے لکھنے کے لئے مجھے ٹائم مشین میں بیٹھ کر اپنے بچپن کا سفر کرنا پڑے گا۔ ان جذبات اور احساسات کو محسوس کرنا پڑے گا جن سے اب دل و دماغ آشنا نہیں رہا ہے۔ بہر صورت یہ ایک پر کیف تجربہ ہے۔ راقم کو مظہر صاحب کی جن خصوصیات نے متاثر کیا ان میں منظر نگاری اور کردار نگاری سر فہرست ہیں۔ لہذا زیادہ توجہ فنی نکتہ ہائے نظر پر ہی دینے کا ارادہ ہے۔

کوئی بھی لکھاری جب کچھ تخلیق کرتا ہے تو اس کے پس پردہ کچھ شعوری اور لا شعوری عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ لکھاری کسی تصور یا کسی جذباتی کیفیت سے بری طرح متاثر ہوتا ہے اور اسے ہر صورت صفحِہ قِرطاس پر منتقل کر دینا چاہتا ہے۔ یہاں قاری کی ضروریات ثانوی ٹھہرتی ہیں۔ لکھاری اپنے تصور کی منظر کشی میں اس قدر محو ہوتا ہے کہ قوائد و ضوابط کی بھی پرواہ نہیں رہتی۔ اس منہج میں جہاں یہ امکان ہوتا ہے کہ کبھی کبھار کوئی لازوال تصنیف وجود میں آجاتی ہے۔ تو وہاں ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بیشتر تحریروں کو وہ پذیرائی میسر نہیں ہوتی جو کہ مصنف کا ہدف ہوتی ہے کیونکہ ایسی تصانیف قارئین کو نظر میں رکھ کر لکھی ہی نہیں گئی ہوتیں۔ میری ناقص رائے میں مظہر صاحب کی مجموعی کاوشوں کا محور قاری کی تصوراتی دنیا ہے۔ وہ کہانی کے پلاٹ کو تو ضرور آگے بڑھاتے ہیں مگر ہر دم اپنے قاری کو مقدم رکھتے ہیں۔ وہ تِحتٌ الشعور کی سطح پر قاری کے ساتھ ایک ایسا رشتہ استوار کرتے ہیں کہ جہاں مصنف ان تصورات کی قربانی دینے کے لئے تیار رہتا ہے جو قاری کے چشم تصور پر گراں گزریں۔ ممکن ہے میرا یہ تجزیہ محض ایک ذاتی تجربہ ہو مگر بیشتر ناولوں میں یہ احساس یکساں رہا۔ کبھی یہ نہیں لگا کہ انہوں نے اپنے کسی تصور کو قاری کی ضرورت پر ترجیح دی ہو۔ شاید یہ ان کے ناولوں کی یکساں مقبولیت کی ایک وجہ ہو۔

کوئی بھی کہانی تفصیل کی متقاضی ہوتی ہے، بالکل کسی پیٹنگ کی طرح۔ راقم پکاسو کے بارے بچپن سے سنتا آیا ہے۔ ان کی تخلیقات انٹرنیٹ اور کتابوں میں بارہا دیکھیں۔ مگر سچ پوچھیے تو ان کی وجہ شہرت کبھی سمجھ نہیں آئی۔ چند برس قبل بارسلونا میں پکاسو کے عجائب گھر جانے کا اتفاق ہوا تو ان کی تخلیقات کوقریب سے دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ آرٹ کی سمجھ بوجھ نہ ہونے کے باوجود جس شے نے بری طرح متاثر کیا وہ ان کی خوردبینی سطح پر برش کے وہ “سٹروکس” تھے جن کو دیکھنے کا تجربہ اس سے پہلےکبھی نہیں ہوا تھا۔ جو لوگ فوٹوگرافی سے شغف رکھتے ہیں اور “میگا پکسل” کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں ان کی خدمت میں اتنا عرض کیے دیتا ہوں کہ پکاسو کی تخلیقات بہت ہی “ہائی ریزولیوشن” کی ہیں اور انسان پر ایک ایسی کیفیت طاری کرتی ہیں جو کہ شاید تخلیق کے وقت محسوس کی گئی ہوں۔ مظہر کلیم صاحب کے ہاں بصری اور صوتی کنایوں کی جانب توجہ تو دی ہی جاتی ہے۔ مگر ان کے ہاں کرداروں کے جذباتی تاثرات کی تفصیل نگاری ایک ایسی سہہ جہتی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں پہلے ہی سے قاری کی تمام حسیات کا پر بندھ کیا گیا ہے۔ پریم چند کے افسانوں کے بارے میں کیا خوب کہا گیا کہ ان کے افسانوں سے گوبر کی بو تک آنے لگتی ہے۔ بالکل ایسے ہی مظہر کلیم صاحب کی منظر نگاری ایک ایسا سماں باندھ دیتی ہیں کہ قاری اپنے آپ کو گویا جیمز بانڈ کی کسی فلم کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہاں بے اختیار واچوسکی برادرز کی شہرہ آفاق فلم “دی میٹرکس” یاد آتی ہے۔ مظہر صاحب ایک ایسا میٹریکس تخلیق کرتے ہیں کہ جس میں قاری ایک مجازی دنیا کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہ کیا دیکھتا ہے اور کیا محسوس کرتا ہے، یہ سب مصنف کے قلم پر منحصر ہوتا ہے۔ متن پڑھتے ہوئے قاری دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔مظہر صاحب اس فن میں طاق ہیں۔ یہاں قاری کے ذہن کو “برین ان اے ویٹ/Brain.In.A.Vat” کی تشبیہ دئیے بغیر تشنگی محسوس کرونگا۔شاید یہ استعارہ فلسفے سے رغبت رکھنے والے قارئین کے تصور کو مزید کشادگی دے۔

بچپن میں جو بھی تجربہ ذہن کو متاثر کرتا ہے حقیقی زندگی میں اس کے اثرات نظر آنے لگتے ہیں۔ لہذا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے بچپن کے دوست مظہر صاحب کی تخلیق کردہ متوازی مجازی دنیا میں اس قدر کھو چکے تھے کہ سکول میں تنظیمیں بنا کر عمران سیریز کھیل رہے ہوتے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آج کل کے بچے سپائڈر مین اور بیٹ مین کے کرداروں کے لباس پہن کر کھیلتے ہیں۔ ابن صفی، اشتیاق احمد، مظہر کلیم اور صفدر شاہین جیسے لکھاریوں نے ہماری نسل کے قارئین کے چشم تصور کو نہ صرف تحریک دی بلکہ اس دور میں تفریح کا سامان کیا جب برقیاتی انقلاب ابھی نہیں آیا تھا۔ کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ نظریہ ارتقاء کی رو سے آج کل کے بچے جو تھری ڈی گیمز اور فلمیں دیکھنے کی عادی ہو چکے ہیں، شاید ان کا چشم تصور فعال نہ رہنے کی وجہ سے معدوم ہو جائے۔ہمارے ہم عصروں میں شاید چشم تصور کی یہی فعالی بعد میں کتب بینی کے شوق کی وجہ بنی۔

 مظہر کلیم کے جاسوسی ناول بھلے آپ کو چالیس سال کی عمر میں دلچسپ نہ لگیں۔ مگر اسّی نوے کی دہائی میں سکول جانے والے ایک بچے سے پوچھیں کہ سنسنی خیز ناول کیا ہوتے ہیں۔

جیمز بانڈ کے ذکر سے ایک اور پہلو یاد آیا۔ تیس برس گزرنے کےبعد اور خصوصاً فلمسازی میں دلچسپی کی بناء پر راقم کو سکرین رائٹینگ کے بارے میں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ میرا خیال ہے کہ مظہر صاحب کے لکھنے کا انداز سکرین رائٹنگ سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ ان کا “سیکوئنس اپروچ /Sequence.Approach” کے مماثل لکھنے کا انداز لگتا ہے جسے ہدایتکار اور قلمکار فرینک دانیال (ٖFrank Daniel) نے ترتیب دیا تھا۔ اس طریقہ کار میں کہانی کو چھوٹے چھوٹے مناظر میں بانٹ دیا جاتا ہے مگر ہر منظر کو اس طریقے سے لکھا جاتا ہے کہ وہ بذات خود اپنے اندر ایک سیٹ اپ، ایک کشمکش اور ایک کلائمکس رکھتا ہے۔ اس مثلث کو سکرین رائیٹنگ کی اصطلاح میں “سہ ڈرامائی ساخت/Three.Act.Structure کہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ مظہر صاحب نے سکرین رائیٹنگ کے مناہج کا باقاعدہ مطالعہ کیا ہو گا یا نہیں۔ مگر یہ بات محض اپنے مشاہدے کی بنیاد پر عرض کر رہا ہوں۔ تاہم یہاں پر ایک معمہ یہ ہے کہ سکرین رائیٹنگ میں ہدف چونکہ بصری اور صوتی حواس ہوتے ہیں لہذا کرداروں کے بیشتر کیفیات کو تفصیلاً سپرد قلم کیا ہی نہیں جاتا کیونکہ یہ کام کیمرے کی آنکھ نے کرنا ہوتا ہے۔ تو پھر مظہر صاحب نے یہ توازن کیسے برقرار رکھا کہ ایک طرف تو وہ جدید سکرین رائٹنگ کے طرز پر لکھ رہے ہیں اور دوسری طرف وہ ایک ایسی منظر نگاری کر رہے ہیں کہ بصری حس کو کمی کا احساس تک نہیں ہوتا؟ میری یہ الجھن عاصم صاحب نے اس وقت دور کر دی جب انہوں نے یہ بتایا کہ مظہر صاحب نے ابتدائی طور پر ریڈیو ملتان میں فیچر رائیٹنگ اور صدا کاری کے میدانوں میں کام کیا ہے۔ ہم سب کو کسی نہ کسی میچ کی کمنٹری ریڈیو اور ٹیلیوژن دونوں پر دیکھنے اور سننے کا اتفاق ہوا ہو گا۔ اگر غور فرمائیں تو ریڈیو کی کمنٹری میں صوتی مواد کے ذریعے بصری حواس کی تشنگی کا سامان کیا جاتا ہے۔ ہر عمل کو اس تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے کہ سامع کے ذہن میں نقشہ خود بخود کِھنچتا چلا جاتا ہے اور اسے بصری مواد کی غیر موجودگی کا احساس نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں مظہر صاحب نے ریڈیو میں سیکھا ہوا ہنر اپنے ناولوں میں بھی استعمال کیا ہو گا۔۔ مظہر صاحب کے قارئین ان کے “ایکشن کے مناظر” کی مخصوص تراکیب سےضرور واقف ہونگے۔ آج بھی جب جیمز بانڈ کی کوئی فلم دیکھتا ہوں تو مظہر کلیم کی منظر نگاری یاد آتی ہے۔ جس طرح وہ مارشل آرٹس کے مختلف داؤ پیچ کو الفاظ کے ذریعے بیان کر کے قاری کو سحر زدہ کرتے تھے کم ازکم میری یاداشت میں کوئی اور ہم عصر لکھاری ایسا نہیں کر سکا۔ ان کی کچھ تراکیب مثلًا ” اڑتا چلا گیا”، ” نکلتا چلا گیا” بالکل ویسا ہی تاثر پیدا کرتی ہیں جو کسی ایکشن فلم میں سلو موشن پیدا کرتی ہے۔

مظہر کلیم کا ذکر ہو اور ابن صفی کا نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے۔ قطع نظر اس جذباتی بحث کے، کہ کون بڑا لکھاری ہے میرا خیال ہے کہ توجہ بنیادی اسلوب کے فرق پر ہونی چاہئے۔ہر لکھاری کا اپناانداز اور اپنی وجہ شہرت ہوتی ہے۔ اگاتھا کرسٹی کا طرہ امتیاز جرم کی تفتیش اور پراسرار پلاٹ تھا تو ریمنڈ چانڈلر کی وجہ شہرت اعلی ترین ڈائیلاگ تھے۔ اسی طرح کلاسیکی دور میں جائیں تو آرتھر کینن ڈوئیل کی وجہ شہرت شرلک ہومز کی تخلیق تھا۔ شیکسپئیر کی وجہ شہرت تراکیب کا استعمال،کہانیوں اور کرداروں کا تنوع تھا۔ چونکہ راقم کا ابن صفی کی تصانیف کا مطالعہ محدود ہےلہذا قو ی امکان ہے کہ کوئی رائے قائم کرنے میں مغالطے کا شکار رہے گا۔ لہذا اس بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہیے۔ تاہم میرے محدود مشاہدے میں فنی اعتبار سے دونوں لکھاریوں کے درمیان تہہ در تہہ فرق واضح ہے۔

پہلا یہ کہ ابن صفی کا اسلوب قدرے افسانوی/سست لگتا ہے جبکہ مظہر صاحب کا قدرے سنسنی خیز/چست۔ بالفرض اگر آج مجھ سے بحیثیت ایک فلم ڈائرکٹر پوچھا جائے کہ آپ کو ایک تھرلر فلم بنانی ہے تو آپ ان دونوں میں سے کس کے ناول کا انتخاب کرینگے۔ میرا جواب یقیناً مظہر کلیم کا ناول ہو گا کیونکہ وہ مجھے جدید سکرین رائٹنگ کے تقاضوں سے ہم آہنگ لگتے ہے۔ اس کا مطلب خدانخواستہ ابن صفی کا قد گھٹانا نہیں بلکہ محض ایک فنی فرق کو واضح کرنا ہے۔

دوسرا فرق مجھے مظہر صاحب کے نت نئے اور متنوع تصورات لگتے ہیں۔ مظہر صاحب ہمیشہ ایسے نت نئے تصورات کی تلاش میں رہتے تھے جو نصف صدی گزرنے کے بعد بھی کافی سحر انگیز لگتے ہیں۔ مثلاً کاغذی قیامت، ڈاگ ریز اور ویدر باس جیسے تصورات کو لیجیے اور آج کل کے سائبر حملے، بٹ کوائین کے تصورات اور ایڈورڈ سنوڈن کی کہانی ہی کو لے لیں۔ آپ اُن کے ناولوں میں نت نئے جرائم کے طریقے دیکھ لیں اور آج کل کے سائنس فکشن اور تھرلر فلموں کو چھان ماریں۔ آپ کو کچھ اجنبی نہیں لگے گا۔

ایک تیسرا اور واضح فرق مظہر صاحب کی کردار نگاری ہے۔ کسی کہانی کا کردار اگر چہ انسانی فطرت پر مبنی ہوتا ہے۔ تاہم کردار اور حقیقی انسانوں میں کافی فرق ہوتا ہے۔کہانی کے کرداروں کے بارے میں حتمی رائے قائم کی جاسکتی ہے مگر ایسا حقیقی دنیا کے انسانوں کے بارے میں نہیں کیا جا سکتا۔ کہانی کے کردار کے دو پہلو ہوتے ہیں :خصوصیات اور شخصیت۔ کردار کی خصوصیات بظاہر نظر آنے والے خواص ہوتے ہیں، مثلًا، عمر، جنس، نسل، بات چیت کرنے کا انداز، لباس، ذہانت، پیشہ، اقدار اور رہن سہن وغیرہ۔ کسی کردار کی شخصیت وہ خواص ہوتے ہیں جو ان بظاہر خصوصیات کے پس منظر میں جھلک رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً وفادار یا بے وفا، سچا یا جھوٹا، مہربان یا ظالم، دلیر یا بزدل، مخلص یا خود غرض اور مضبوط یا کمزور وغیرہ۔ یوں کہہ لیجئیے کہ کسی کردار کی شخصیت کسی خاص صورت حال میں اس کے انتخاب پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی کردار کی شخصیت میں تضادات بھی ہوتے ہیں جو اس کی شخصیت کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ چونکہ بیشتر کہانیوں میں مرکزی کردار ایک ہوتا ہے لہذا مرکزی کردار باقی ثانوی کرداروں سے زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس کے شخصیت کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ مثلاً شیکسپئیر کے مشہور زمانہ کردار “ہیملٹ ” کو ہی دیکھ لیں جس کی شخصیت کے بے شمار پہلو ہیں۔ ھیملٹ اس وقت تک روحانیت پسند نظر آتا ہے جب تک اس کا کفر “بلاسفمس رویہ” سامنے نہیں آ جاتا۔

ایک ثانوی کردار کی جانب وہ کافی محبت کرنے والا ہوتا ہے مگر پھر ایک سرد مہر انسان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ کھبی ایک دلیر انسان ہوتا ہے تو کبھی ایک بزدل۔ کبھی وہ ایک محتاط اور ساکن انسان ہوتا ہے تو کبھی ایک جذباتی اور متحرک انسان۔ اس کے شخصیت کے یہ پیچیدہ پہلو اور تضادات ثانوی کرداروں کے ساتھ باہم میل جول اور ٹکراؤ سے اجاگر ہوتے ہیں۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ ثانوی کردار وہ مشعلیں ہوتیں ہیں جو اس کی پیچیدہ مرکزی کردار کی شخصیت پر وقفے وقفے سے روشنی ڈالتی جاتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی مظہر صاحب نے علی عمران کے کردار کو مزید تراشا اور مزید پیچیدگی دی۔ اور ان پیچیدگیوں کو ثانوی کرداروں کے ذریعے اجاگر کیا۔ مثلاً علی عمران پبلک کو ایک احمق نظر آتا ہے مگر سیکرٹ سروس میں وہ ایک ذہین ترین شخص ہوتا ہے۔ جولیا فٹزواٹرکے جذبات کے ساتھ کھیلتا اور مذاق کرتا نظر آتا ہے مگر مجرموں کے سامنے ایک سفاک شخص ہوتا ہے۔ کرنل فریدی جیسے حریف کو ہر وقت ہرانے کی کوشش میں رہتا ہے مگر ڈائمنڈ آف ڈیتھ میں پہاڑ سے لٹکتے کرنل فریدی کی جان بچاتا ہے۔ تنویر کے ساتھ رقابت کا رشتہ بھی رکھتا ہے اور ایک ساتھی کا بھی۔ تنویر اس بات کو بارہا کہتا ہے کہ وہ عمران کو بطور انسان بہت پسند کرتا ہے لیکن عمران کی زبان سے اس کو چڑ ہوتی ہے۔ جولیا سے بے پناہ لگائو بھی ہے لیکن شادی سے فرار بھی ہے۔ میرے ان تاثرات کے متعلق یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ عمران کی شخصیت میں ایسا تضاد خود ابن صفی نے رکھا تاہم میرے خیال میں علی عمران کے کردار کو جو پیچیدگی مظہر صاحب کے ہاں ملی وہ ابن صفی کے ہاں نہیں تھی۔ مظہر صاحب، کمال مہارت قارئین اور علی عمران کے مابین ایک جذباتی تعلق پیدا کرتے ہیں اور پھر علی عمران کی شخصیت کے بیشتر تضادات کو ثانوی کرداروں کے ذریعے اجاگر کر کے قارئین کو جذباتی کیفیات سے گزارتے رہتے ہیں۔ قاری کا مرکزی کردار سے جذباتی لگاؤ قلم کار کا ایک بنیادی ہدف ہوتا ہے۔ اس حد تک کہ کہانی کے ہر موڑ ہر قاری کے دل کی دھڑکنیں بڑھتی جاتیں ہیں۔

راقم سے اگر پوچھا جائے کہ آپ مظہر کلیم کے کام پر صرف ایک تنقید کریں۔ تو راقم یہی شکایت کرے گا کہ ان کے ہاں اردو تراکیب کا ویسا تنوع نہیں جو دیگر لکھاریوں کے ہاں نظر آیا۔ مگر ان کے ہاں سائنسی اور انگریزی تراکیب  کا ایک وسیع ذخیرہ ہے۔ یہ بھی ان کا کمال ہے کہ وہ سائنسی اصطلاحات کا استعمال کر کے قاری کی دلچسپی ان موضوعات میں پیدا کرتے تھے۔ راقم کو تجربہ ہے کہ “فیثاغورث “کا مسئلہ اور “فشن ری ایکشن” وغیرہ جیسی اصطلاحات نصاب سے پہلے مظہر صاحب کے ناولوں میں پڑھنے کو ملیں۔ عاصم صاحب کو ان کے ناولوں کے حالیہ مطالعے سے بے شمار اردو اور فارسی کی اصطلاحات اور ان کی مفاہیم ملیں۔ تیس سال پرانے حافظے کی بنیاد پر راقم اس پہلو پر مزید کوئی رائے دینے سے گریز کرے گا۔

بہر حال مضمون کی طوالت اور موضوع کے وسعت کے باعث قلم مزید ساتھ نہیں دے رہا۔ مختصر وقت میں جو خیالات ذہن میں آئے، عرض کر دیے۔ اگر وقت اجازت دیتا تو ان کے تخلیق کردہ کرداروں اور کئی مزید پہلوؤں پر بھی بحث کرتا۔ مثلاً مظہر کلیم کے ہاں فرد اور معاشرے کا تصور، اس پر بھی بات ہوتی مگر امید ہے کہ دیگر دوست اور قاری اپنے تجربات اور آراء سے  مستفید فرماینگے اور اس بحث میں اپنا حصہ مثبت انداز میں ڈالیں گے۔

About Author

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. متفق۔۔ جیسا کہ اگر کوئی تنویر نام کا بندہ دکھائی دے تو سب سے پہلا تاثر ” direct action” کا ذہن میں آتا ہے ۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: