سیکس ایجوکیشن: حفاظتی تعلیم یا کچھ اور؟ لالہ صحرائی

0
  • 96
    Shares

صاحب گانا اچھا تھا کہ فلاں کے بچوں کو پڑھانا ہے، مگر سارا مزا کرکرا ہو گیا جب کچھ استاد لوگ غیر کا نظریہ تھامے الٹا ہمیں سے یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ اپنے بچوں کو یہ والی تعلیم دو، اب ان کو بندہ کیا سمجھائے، پھر بھی ایک کوشش کر کے دیکھ لیتے ہیں۔

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
ہم بھی مضموں کی ہَوا باندھتے ہیں
۔ غالب۔

قصہ ماضی کی برطانوی اشرافیہ کا:
سر زمین ہند پہ آخری بین الاقوامی معاشقہ ایک انگریز حاکم کی نصف بہتر اور ایک مہامنت پُرش شریمان اہنسا پجاری کے درمیان لڑا گیا تھا، مگر کتنی حیرت کی بات ہے کہ اس مطلق العنان حکمران نے بھی غیرت میں آکے ایسا کچھ نہیں سوچا کہ جاتے جاتے ان کالوں کی نسل ہی خراب کرنے کا کوئی بندوبست کر جانا چاہئے حالانکہ ہندوستان کا وسیع تعلیمی نظام انہی کا وضع کیا ہوا چل رہا تھا۔

جان گِل کرائسٹ جن دنوں فورٹ ولیم کالج سے بہترین درجے کی جنسی تعلیم کی بنیاد رکھ سکتے تھے ان دنوں وہ میر امن کے پاس بیٹھے اردو کا شاہکار باغ و بہار تخلیق کروا رہے تھے اور ان کے گورنر لارڈ مارننگٹن کو بھی جنسی تعلیم کا ایک نصاب وضع کرنے کی بجائے ادب کی گھاٹیوں میں ان کے سرگراں رہنے پر چنداں کوئی اعتراض نہیں تھا۔

ڈی سی انبالہ Capt. Taghe نے جب چار دانگ عالم میں اپنے خیال کا توسن بھگا کے یہ نظریہ وضع کیا کہ اس اس طرح کا نصاب رکھنے والا ایک ایسا ادارہ قائم کرنا چاہئے جو ایلیٹ کلاس کے نوجوان شہزادے شہزادیوں کی بہترین تعلیم و تربیت کا امین بنے تو اس کے خیال میں بھی کوئی موہوم سا نقشہ بھی جنسی تعلیم کا نہ گزرا، کیپٹن ٹیگ کا یہ نظریہ اتنا مقبول ہوا کہ انبالہ کے بعد لاہور میں سر گنگا رام کے ہاتھوں چیف۔ ز کالج کی بنیاد بنا، پھر یہ کالج جب گورنر کے نام سے موسوم ہوا تو سر چارلس ایچیسن کو بھی ایسا متبرک خیال عنقا ہی رہا۔

لارڈ میکالے کو ہندوستان کیلئے نیا تعلیمی نظام وضع کرتے ہوئے اس بات میں کوئی عار محسوس نہیں ہونی چاہیے تھی کہ جہاں کے نواب اپنی حرام سراؤں میں بیک وقت سینکڑوں حسینائیں دل پشوری کیلئے موجود رکھتے ہیں، جہاں کالونئیل اینکروچمنٹ کیلئے آگے بڑھتی ہوئی چھاؤنیوں کے پیچھے پیچھے سپاہیوں کی داشتائیں بھی اپنا جلوۂ حسن فروزاں کئے خراماں خراماں رستہ ناپتی رہتی ہیں، جہاں لکھنو کے بازاروں میں ہند کی اشرافیہ اپنے بچوں کو ادب آداب سیکھانے کیلئے طوائفوں کے پاس بھیجتی ہے وہاں سیکس ایجوکیشن کا سرکاری سطح پہ بندوبست کر دینا کسی معاشرتی بے چینی کا رتی بھر بھی باعث نہیں ہوسکتا۔

مگر لارڈ میکالے اپنے ایک مقالے میں سارا زور اس بات پر دیتا ہے کہ:
“In every branch of physical or moral philosophy, the relative position of the two nations is nearly the same.”

لہذا یہاں سکینڈری ایجوکیشن، گریجوایشن اور ماسٹرز کیلئے برطانوی نظام لانا چاہئے جس سے پیدا ہونے والی افرادی قوت ایک طرف برٹش انتظامیہ کی دفتری معاملات میں معاونت کرسکے، دوسری طرف مقامی آبادی اور حکومت کے درمیان معاملات کو سمجھنے اور سمجھانے کیلئے پُل کا کام کر سکے، تیسری طرف مغربی لٹریچر جو ان کے خیال میں دنیائے ادب کا سپریم لٹریچر ہے اسے ہندوستان میں متعارف کرا سکے اور آخری درجے میں یہاں کا فارسی، اردو، سنسکرت اور عربی کا جو ادبی سرمایہ ہے اسے انگریزی ادب میں کنورٹ کر سکے۔

انگریزی زبان سے پہلی بار آپ کا واسطہ اگر چھٹی کلاس میں جا کے پڑا تھا تو سمجھ لیجئے کہ یہ لارڈمیکالے کا ہی وضع کیا ہوا طریقہ تعلیم تھا جو انگلش میڈیم اسکول آنے سے پہلے تک یہاں رائج تھا۔

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیمی نظام اور نصاب تعلیم کے حوالے سے انگریز اتنے اچھے اچھے کاموں میں محض اسلئے لگا ہوا تھا کہ اسوقت ان کے ہاں بھی جنسی گفتگو ایک tabbo کا درجہ رکھتی تھی تو یہ آپ کی بھول ہے یا لاعلمی۔

انگریز اس وقت بھی جنسی معاملات میں اتنا ہی فرینک تھا جتنا اب ہے، اس بات کا اندازہ یہاں سے لگا لیجئے کہ مشہور زمانہ لارڈ Dikkie نے اپنی نصف بہتر کے سینے کا نام Mutt & Jeff رکھا ہوا تھا اور یہ بات ہر خاص و عام میں کافی مقبول بھی تھی۔

ویسے تو یہ ایک وار میڈلز کی جوڑی تھی جو پہلی جنگ عظیم لڑنے والی برٹش فورسز کو ملی تھی، ان میں سے ایک کا اصلی نام برٹش وار میڈل اور دوسرے کا نام وکٹری میڈل تھا، لیکن عرف عام میں اس جوڑی کو مٹ اینڈ جیف کہا جاتا ہے، تاہم لارڈ ڈکی کی مراد یہ تھی کہ چھوٹے بڑے یعنی ایک دوسرے سے مختلف، یہ نصف بہتر وہی ہیں جن کیساتھ سرزمین ہند پر شریمان جی نے آخری اینگلو۔انڈین معاشقہ لڑا تھا۔

اس وقت انگریز بھی چُوک گیا اور ہمارے اسلاف کو بھی اتنا شعور نہیں تھا ورنہ اسی وقت جنسی تعلیم کی بنیاد رکھ دی جاتی تو آج ہمارے اور مغرب کے درمیان کوئی تہذیبی تناؤ موجود نہ ہوتا اور ہماری نسلوں کی ذہنی سطح دقیانوسی ہونے کی بجائے آج یورپ کے ہم پلہ ہوتی۔

واضع رہے کہ وہ تمام لارڈز جو ہندوستان میں متعین ہوتے رہے وہ برطانوی اشرافیہ یعنی وہاں کے آئرش اور اینگلو۔ سیکسن نوابین Earls & Dukes تھے جو برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین تھے یا برٹش فورسز کے اعلیٰ عہدیدار، انہیں بھی اس بات کا احساس تھا کہ معاشرہ چاہے مغرب کا ہو یا مشرق کا، بچوں کو قبل از وقت بالغ شعور سے آشنا کرنا معاشرتی تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں، مغرب میں بھی تبدیلی کی جو ہوا چلی وہ ان کے بعد ہی چلی۔

منقسم ہندوستان میں دونوں طرف دونسلوں تک مشرقی اقدار کے تحت زندگی گزارنے کے بعد آج سیکس ایجوکیشن کا سوال دونوں طرف ہی کشمکش کا باعث ہے، اس خطے کی تیسری نسل سیکس ایجوکیشن کے حق میں اپنے آرگومنٹس اور آواز چاہے کتنی بھی بلند کر لے پھر بھی اس کے مضمرات اور مغرب کیساتھ تقابلی جائزے کے تحت ننانوے فیصد سوالوں کے جواب اپنے اندر انتہائی تلخ حقیقت رکھتے ہیں جو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں لیکن …

نشۂ رنگ سے ہے وا شُدِ گل
مست کب بندِ قبا باندھتے ہیں
۔ غالب۔

ڈالر سے بگڑتی ہوئی ہوائیں:
ایک رئیس نے سائل سے پوچھا، کہو میاں! کیا کھاؤ گے…؟ سائل نے پیٹ بھرنے کی امید دیکھ کے کہا، غریب کا بچہ ہوں سرکار، ہر چیز کھا لیتا ہوں۔
غربت ایمان بیچنے تک مجبور کر دیتی ہے، ہمارے ہاں غربت ہے اور ان کے پاس…

پلاؤ بھی ہے، چلاؤ بھی، مُرغ اور متنجن بھی
گویا دستر خوان میں بھی ایک استلذاذ ہے

رئیس کچھ بھی کہے غریب پیٹ بھرنے کی خاطر سب کچھ ماننے کو تیار ہو جاتا ہے اور کلہاڑے کے پیچھے درخت کا ہی ایک حصہ بطور دستے کے نہ لگا ہو تو کلہاڑے کی کیا مجال کہ درخت کو کاٹ کھائے۔

ہم اس وقت اسی دور سے گزر رہے ہیں جب مغربی مائینڈ سیٹ رکھنے والا ہمارا ہی ایک طبقہ مشرقیت سے جان چھڑانے کی فکر میں مگن ہے، غربت اور مصیبت کی ماری یہ عوام آہستہ آہستہ ان عناصر سے مرعوب تر ہوتی چلی جا رہی ہے کیونکہ یہ لوگ ہماری روایتی اور انتظامی خامی و خرابی کو موضوع بنانے کی بجائے انتہائی نفسیاتی داؤ پیچ سے ایسا شوشہ چھوڑتے ہیں کہ اکثریت ان کے مطابق سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے… گویا وہ جانتے ہیں کہ وار کہاں اور کیسے کرنا ہے۔

کچھ مزا گیہوں کا کچھ بنت حوا کے انداز
آپ ہی کہیے کہ اس موقع پر آدم کیا کریں

جنسی تعلیم کا مشرقی فریم ورک:
اب ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم بالکل کور ذہن واقع ہوئے ہیں، اور ایسا بھی نہیں ہے کہ ہمیں اب تک کسی نے جنسی تعلیم نہ دی ہو یا آگے ہم نہ دے رہے ہوں، مگر ہم ڈھکنے والی چیزوں کو ڈھک کے رکھنے کے قائل ہیں اور جہاں ایسی ضرورت پیش آئے وہاں رازداری کیساتھ یہ ساری تعلیمات آنے والی نسل کی امانت سمجھ کے انہیں سونپ دی جاتی ہے۔

ایسا کیوں نہ کریں جبکہ عنفوان شباب، Pubescency، سے متصل شرم و حیا، عفت و عصمت و دیگر فطری تقاضوں پر آگہی ہمارے دینی نصاب میں بھی بڑی صراحت کیساتھ موجود ہے، آپ کا مسئلہ اگر اتنا ہی ہے کہ یہ ایجوکیشن بچوں کو دینی چاہئے تو یہ کام ہمارے نصاب اور طریقے کے مطابق صدیوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔

لیکن روشن خیال دنیا کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے بلکہ وہ ہمیں اس کتاب سے ہی برگشتہ کرنے پر مائل ہے، جس میں اس ایجوکیشن کے علاوہ کئی اور تعلیمات بھی موجود ہیں جو انہیں پسند نہیں، لہذا اس تعلیم سے ہمارا عدم اتفاق صرف نصاب اور طریقے کی بنیاد پر ہے کیونکہ مغرب کے نصاب اور طریقے نے جو نتیجہ دیا ہے اس کی حیثیت ان کا معاشرہ دیکھ کے ہمارے اوپر بڑی اچھی طرح سے عیاں ہے۔

مسائل کے اصل حل سے صرف نظر:
ہمارے ہاں جب بھی کوئی قومی سانحہ ہوتا ہے، یا انفرادی سانحہ اپنی حساسیت کے باعث قومی سوگ کا باعث بن جاتا ہے تو ایک طرف ازالے کے ذمہ دار سرکاری ادارے، منتخب عوامی نمائندے اور سول گورنمنٹ اپنی اپنی تساہل پسندی، کرپشن اور غفلت پر پردہ ڈالنے کیلئے رنگ برنگی توجیحات پیش کرنے لگتے ہیں تو دوسری طرف ان کے بہی خواہ اپنی اپنی سرکاری پارٹی کی فیس سیونگ کیلئے ساری ذمہ داری عوام کی اپنی بے احتیاطی پر ڈالنے لگتے ہیں۔

نمک پاشی کا واں موقع ہے اے فیضؔ
جہاں تیغ اس نے ہنس ہنس کے جڑی ہے

ایسے موقع پر روشن خیال طبقہ آزاد خیال سوسائٹی کیلئے اور دیگر عناصر جو بیک وقت بیرونی قوتوں کے مفادات اور کرپشن کی دلدادہ اندرونی قوتوں کے مفاد کیلئے سربکف رہتے ہیں وہ رائے عامہ کو مسائل کے اصلی حل کی طرف راغب کرنے والی مثبت اور قابل عمل بحث چھیڑنے کی بجائے ایسے ایسے راگ چھیڑتے ہیں جن کا اصلی حل سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔

اہلِ تدبیر کی واماندگیاں…!
آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
۔ غالب۔

مسائل کا اصلی حل:
ہماری بدحالی کی اصل وجہ کرپشن ہے، جو عدم توجہ یا نان۔ گورنینس کی وجہ سے بیروزگاری کو جنم دیتی ہے، بیروزگاری، غربت اور جرائم کا باعث بنتی ہے، اور کرپشن پھر سے آگے بڑھ کے جرائم کو تحفظ دے دیتی ہے، ہمارا بنیادی مسئلہ صرف نظامِ قانون و انصاف اور روزگار کی ناکامی ہے اور کچھ بھی نہیں، جرم کی وجہ بھی یہی نان۔ گوورنینس، عدم انصاف اور مایوسیوں کی وجہ بھی یہی ہے، پرتشدد احتجاجی مظاہرے اور سراپا احتجاج سوشل میڈیا دن رات انہیں ناکامیوں کا ماتم کرتے ہیں۔

 

بے وقت کی راگنی:
سانحہ قصور کے اسباب میں جنسی ویڈیو کا جب تذکرہ نکلا تو ساتھ ہی سیکس ایجوکیشن کا اراٹ ڈال دیا گیا تاکہ اس بات سے توجہ ہٹ جائے کہ مغرب کی پورن انڈسٹری ایسی ویڈیوز کی بھاری اجرت ادا کرتی ہے اور یہ کہ وہ جانے انجانے بلواسطہ یہاں کے جرائم پیشہ عناصر کو فائنانس کرتے ہیں۔

ہمارے جیسے بے آسرا معاشرے میں ہر خلفشار کے بیچوں بیچ معاشرتی اقدار کو دھچکا دینے والے عناصر بھی اپنا راگ الاپنے پہنچ جاتے ہیں کیونکہ میلہ ہو یا میت والا گھر، جہاں اچھا رش دِکھے گا خوانچہ فروش تو وہیں اپنا خوانچہ لگائے گا۔

معاشرہ خواہ کوئی سا بھی ہو، جرائم پیشہ افراد تو وہی کام کریں گے جس سے انہیں اچھے پیسے مل سکیں، جہاں قانون کی عملداری نہیں ہوگی وہاں کی اشرافیہ بھی جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرے گی اور وہاں بیرونی دخل اندازی کی بھی بھرمار ہوگی۔

ہمارے جیسے بے آسرا معاشرے میں ہر خلفشار کے بیچوں بیچ معاشرتی اقدار کو دھچکا دینے والے عناصر بھی اپنا راگ الاپنے پہنچ جاتے ہیں کیونکہ میلہ ہو یا میت والا گھر، جہاں اچھا رش دِکھے گا خوانچہ فروش تو وہیں اپنا خوانچہ لگائے گا۔

اس غمزدہ ماحول میں صرف انصاب طلبی کی مؤثر تحریک ہونی چاہئے یا قانون کی عملداری، اداروں کے اخلاقی کردار کو بہتر بنانے اور انہیں جدید ٹیکنالوجیز سے لیس کرنے پر زور دیا جانا چاہئے تاکہ ان کی کارکردگی ایسی تسلی بخش ہو جائے کہ عوام کسی بھی سانحے میں نظام انصاف پر اعتبار کرکے قانون ہاتھ میں لینے یا توڑ پھوڑ کرنے سے باز رہیں۔

لیکن اس بحث کی بجائے جو لوگ یہاں ایک نیا بیانیہ لیکر پہنچ جاتے ہیں ان کی بات پہ حیرت ہونا لازمی سی بات ہے۔

تیرے بیمار پہ ہیں فریادی
وہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں
۔ غالب۔

سیکس ایجوکیش کی اہمیت:
ایک مغربی ادیب جارج کورلن نے کہا تھا، Bombing for peace is like screwing for virginity، اسی اصول کے تحت بچوں کو جنسی جرائم کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے سیکس ایجوکیشن فراہم کرنے کا اصول بھی ہماری سمجھ میں بالکل نہیں آتا۔

سرِ دست اس نظریے کو ہم بلی کو دودھ کی رکھوالی بٹھانے جیسا مہمل ہی سمجھتے ہیں، تاہم یہ ممکن ہے کہ سیکس ایجوکیشن کے حامی معاشرے کیساتھ واقعی مخلص ہوں، لیکن وہ اپنی بات ٹھیک طرح سے سمجھا نہ پا رہے ہوں اسلئے کسی معاملے کے Pros & Cons دیکھے بغیر اسے مسترد کر دینا بھی علمی و عقلی رویہ نہیں ہو سکتا۔

دل در خمِ زلفِ دلبرانست ہنوز
افسانۂ عشق درمیانست ہنوز

دل ابھی تک دلبر کی زلف میں اٹکا ہوا ہے، اسلئے بات ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ فسانہ ابھی تک درمیان میں ہے۔


جاری ہے۔۔۔۔۔ دوسرا اور آخری حصہ اس لنک پہ ملاحظہ فرمائیے

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: