ہم سے ہے معاشرہ: نادیہ ندیم

0
  • 17
    Shares

زندگی میں بہت کم ایسے مواقع آ تے ہیں جب الفاظ مافی الضمیر بیان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں کہا گیا اس موضوع پر کچھ کہئے کیا کہئے

ماں نڈھال صدمے سے باپ خون روتا ہے
بیٹیوں کی لاشوں پر شعر کون کہتا ہے

گنگ تھی صدمے سے باہر آئی تو دنیا دیکھی ہر شخص زینب کا وارث بنا تعزیت سمیٹ رہا ہے ہماری عادت ہے ہم ہمیشہ مظلوم کے رشتے دار بن جاتے ہیں تاکہ فرائض سے غفلت کی ذمہ داری سے بچ سکیں ہمارا دشمن کوئی اور نہیں ہم خود ہیں ہم گناہگار کا رشتہ دار بننے سے بچتے ہیں تاکہ کوئی ذمہ داری ہم پر عائد نہ ہو

زینب کے ماں باپ بن کر ہم بہت بین کرچکے ذرا قاتل کے وارث بن کر بھی صورتحال کا جائزہ لینا چاہئے

اصل مسئلہ کب بنتا ہے کیا ہم صرف مظلوم ہیں کیا ہم ظالم بنانے کا باعث نہیں کیا ہم ان مسائل کو بڑھانے میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے ہم اولاد کو بچاؤ کے سیلف پروٹیکشن سکھا رہے ہیں کیا ہم نے اپنے بچوں کو سکھایا کہ دوسروں کو اپنے شر سے کیسے محفوظ کیا جائے ہم جنسی تعلیم کے حق میں ہیں لیکن اپنے بچوں کی تربیت نہیں کررہے کہ دوسروں کی حفاظت کیسے کی جائے

اپنی اولاد کو اچھائی برائی کی تمیز سکھائیے اپنی بہن بیٹی اور دوسرے کا فرق ختم کیجئے ہر انسان کی عزت و حرمت کی پاسداری سکھائیے بچوں پر نظر رکھئے انکی صحبت انکی مصروفیات انکی تنہائی کیسے کہاں کس طرح گزرتی ہے خود جاگئے اپنوں اپنے بچوں کی برائیوں پر پردہ نہ ڈالیں اولاد کو دوسروں کے رحم وکرم پر نہ رکھیں خود بہتر بن کر انہیں بہتر بنائیے گندے کپڑے سے آئینے صاف نہیں ہوسکتے برے اخلاق و کردار کے حامل اپنے بچوں کی اچھی تربیت کیسے کرسکتے ہیں ہم درندے نہ سہی لیکن تھوڑی بہت چیر پھاڑ تو دانستگی نا دانستگی میں اپنی اولاد کو سکھا ہی رہے ہیں معاشرہ یوں ہی تو زبوں حالی کا شکار نہیں ہم والدین بن کر اپنے اہم ترین فرض سے ناواقف ہیں ہماری اولاد ہی آگے بہترمعاشرے کی تشکیل کا ضامن ہوگی یہ احساس ہمیں جگاتا ہی نہیں کہ اس فرض سے پہلو تہی نے معاشرہ کی بدترین صورت بنادی ہے

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: