فیس بک پہ مردوں کی اقسام: سٹیج کے پیچھے بھی پرفارمنس دیجئے — طاہر عمیر

0
  • 128
    Shares

میں نے لڑکیوں کے لئے دس اصولوں پر مبنی اپنی پچھلی تحریر (لڑکیاں فیس بک پہ کیوں آتی ہیں؟ دس مشورے) میں وعدہ کیا تھا کہ اس کے دیگر پہلوئوں پر بھی لکھوں گا۔۔ تو یہ تحریر بھی اسی معاملے کا ایک پہلو ہے۔ جس پرمرد حضرات کو خاص طور پر توجہ دینا چاہئے۔ طاہر عمیر


سوشل میڈیا پر مرد جب کسی خاتون سے مخاطب ہوتے ہیں تو یہ تین انداز سے مخاطب ہوتے ہیں۔ دراصل یہ تین انداز نہیں ہیں۔۔ یہ مردوں کی تین کیٹیگریز ہیں۔ انہیں آپ اے، بی اور سی میں تقسیم کرلیں لیکن یہ دھیان رہے کہ اے بی اور سی “ویلیوز” نہیں صرف نمبرنگ ہے۔

کوئی مرد جب سوشل میڈیا پر ان تینوں میں سے کوئی ایک انداز اپنائے تو آپ بنا اس سے مزید بات کئے یا رابطہ رکھے ان کے بارے میں کچھ باتیں جان سکتے ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے ہم وہ تخاطب کے تین انداز بتائے دیتے ہیں۔
اے:-  پیارے بھائیو اور ان کی بہنوں
بی:-  بہن۔۔سسٹر۔۔ آپی۔۔۔ باجی۔۔۔ آنٹی
سی:- مس۔۔۔ میڈم۔۔ مادام۔۔ ڈئیر یا ڈائریکٹ نام

میں ہرگز ان تینوں کی وضاحت نہیں کروں گا کیونکہ میں یہ گمان رکھتا ہوں کہ آپ مرد ہیں یا خاتون۔۔ان تینوں انداز کو اپنی عقل علم شعور اور تجربے سے “سمجھ” سکتے ہیں۔

مشہور روایت ہے۔ سقراط کے پاس ایک آدمی آیا اس حالت میں کہ اس نے قیمتی کپڑے پہن رکھے تھے۔۔ مہنگے جوتے۔۔اعلی خوشبو۔۔اور نک سک سے تیار ہوا۔
سقراط نے اس کا طائرانہ جائزہ لیا اور کہا “بولئے۔۔۔ تاکہ میں آپ کی شخصیت کو پہچان سکوں”
سقراط صدیوں پہلے گزر کیا تھا اس کے دور میں فیس بک نہ تھی۔ ورنہ اسے معلوم ہوجاتا کہ اب “بات” کرنے والے کی پہچان ہی سب سے مشکوک اور مشکل ہے۔

فیس بک یا اس جیسے دیگر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کسی پولٹری فارم سے الگ نہیں نظر آتے۔۔ کہ جہاں سینکڑوں مرغیاں ایک ساتھ کڑکڑا رہی ہیں۔۔ اس کی آواز بھی اتنی ہی اونچی ہے جس نے انڈہ دیا اور اس کی بھی جس نے نہیں دیا۔ اور اس کی آواز بھی کم نہیں ہے جو کسی اور کے انڈہ کے ساتھ کھڑی ہے۔
لیکن۔۔۔ دراصل میں جو کہنا چاہتا ہوں اس کا تعلق مرغی یا انڈہ سے نہیں۔۔ بلکہ ان کے بولنے سے ہے۔۔ بات کرنے سے ہے۔۔ خود کو پیش کرنے سے ہے۔

سقراط صدیوں پہلے گزر کیا تھا اس کے دور میں فیس بک نہ تھی۔ ورنہ اسے معلوم ہوجاتا کہ اب “بات” کرنے والے کی پہچان ہی سب سے مشکوک اور مشکل ہے۔

ہم فطری طور پر لوگوں اور دنیا کے سامنے اپنا اچھا رخ۔۔ اپنا روشن خیال۔۔ اپنی بہترین خوبیاں اور اپنا اجلا پن دکھانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اور یقینا اس میں کوئی بری بات نہیں۔۔ آپ اپنی خامیاں، برائیاں یا منفی عادات کیوں پیش کریں کہ اس بارے میں جان کر آپ کو دھتکاردیا جائے اور آپ سے دور ہوجایا جائے۔۔۔۔ دوسری بات اچھائی پھیلائی جاتی ہے برائیاں دبائی جاتی ہیں۔

لیکن اگر آپ اپنی ایک ایسی شخصیت بنا کر لوگوں کو پیش کریں جو دیکھنے میں خوبصورت ہو۔۔ خوب سیرت ہو۔۔ روشن ہو۔۔ پرکشش ہو۔۔ مثبت ہو۔۔۔ آئیڈیل ہو۔۔ لیکن۔۔ اس میں سچائی نہ ہو۔ اس کا آپ کی حقیقی ذات سے کوئی تعلق نہ ہو۔
تو پھر اسے صرف ایک ہی لفظ دیا جاسکتا ہے اور وہ ہے “دھوکا”

آپ علمیت کے مقام پر نہیں ہیں لیکن خود کو عالم بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
آپ کا فہم کمزور ہے مگر دانشور بنے بیٹھے ہیں۔
ادب سے لگائو معلومات کی حد تک ہے لیکن ادیب بن کر داد وصول کر رہے ہیں۔
اور صرف یہی نہیں۔۔

بلکہ اگر آپ حقیقت میں ایک خوش اخلاق انسان نہیں ہیں لیکن یہاں آپ کا جملہ اسمائلی کے بغیر پورا نہیں ہوتا
تب بھی۔۔ تب بھی آپ ایک دھوکا ہیں۔کیونکہ جو چیز آپ کے پاس ہے ہی نہیں اس کا مظاہرہ کرنا ایک دھوکا ہے۔
(ہرگز میرا مطلب یہ نہیں کہ اصل میں بات کرتے وقت “گالیاں” دینا آپ کا تکیہ کلام ہے تو لکھتے ہوئے بھی اس کا استعمال کر کے “سچا” ہونے کا ثبوت دیں) بلکہ میرے کہنے کا مطلب اور میرا موضوع کچھ اور ہے۔

فیس بک کاپلیٹ فارم کسی پولٹری فارم سے الگ نہیں نظر آتا۔۔ کہ جہاں سینکڑوں مرغیاں ایک ساتھ کڑکڑا رہی ہیں۔۔ اس کی آواز بھی اتنی ہی اونچی ہے جس نے انڈہ دیا اور اس کی بھی جس نے نہیں دیا۔ اور اس کی آواز بھی کم نہیں ہے جو کسی اور کے انڈہ کے ساتھ کھڑی ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ آپ خود کو “اچھا” پیش نہ کریں۔۔ بلکہ میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں۔۔ کہ آپ جو ایک “آئیڈیل” یا “مہربان” یا “خوبصورت” یا “نرم خو” یا “مدد گار”۔۔۔ یا “خوش اخلاق” یا “علم والا” بن کے لوگوں کو دکھا رہے ہیں۔۔ لیکن اصل میں آپ ایسے نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں۔۔۔ زیادہ پریشان ہونے کی یا غم میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔۔ بس ایک کام کیجئے۔۔اور وہ یہ کہ آپ اپنے آپ کو ایسا بنانے کی کوشش کریں۔ پردے کے آگے آپ کا خوشنما وجود پردے کے پیچھے بھی اتنا ہی خوشمنا ہونا چاہئے۔ بات پرفیکشن کی نہیں۔۔ دوغلے پن کی بھی نہیں۔۔ دہری شخصیت کی بھی نہیں۔۔ بات کردار کی ہے۔۔ جو سٹیج کے اوپر بہترین ہے تو سٹیج کے پیچھے بھی بہترین ہونا چاہئے۔

آپ سمجھتے ہیں کہ آپ سیکولر لبرل یا رائٹ لیفٹ والے ہیں تو آپ کو ان نظریات کا مکمل علم بھی حاصل کرنا چاہئے۔۔اور اپنے نظریات پر زندگی بھی گزارنی چاہئے۔
اگر آپ مذہبی مسائل اور ان کے حل پیش کرکے لوگوں کی یا دین کی خدمت کررہے ہیں تو محض حلیہ عالم والا کافی نہیں۔۔ آپ کو علم مذہب پر تعلیم بھی مکمل کرنی چاہئے اور عملی زندگی میں بھی انہیں لاگو کرنا چاہئے۔
آپ تبدیلیوں کی باتیں کرتے ہیں۔۔ تو یہ تبدیلی آپ میں بھی نظر آنی چاہئے۔۔ آپ ظلم کے خلاف احتجاج کی باتیں کرتے ہیں تو اپنے گھر سے بھی احتجاج کے لئے نکلنا چاہئے۔

بالکل اسی طرح۔۔۔۔۔۔
اگر آپ لڑکے ہیں۔۔ اور لڑکیوں سے خوش اخلاقی سے بات کرتے ہیں۔۔ ان کی باتیں سنتے ہیں۔۔ لیٹ نائٹ ان باکس میں ان کی دکھ بھری کہانیاں سنتے ہیں۔۔ ان کی مدد کرتے ہیں۔۔ نصیحتیں کرتے ہیں۔۔ گفٹس بھیجتے ہیں۔
تو آپ کا یہ انداز یہ رویہ آپ کے گھر میں موجود آپکی والدہ بہن بیوی اور بیٹی سے بھی ہونا چاہئے۔۔ آپ کو ان سے بھی مسکرا باتیں کرنا چاہئیں۔۔ دیر تک ان کی باتیں سننا چاہئے۔۔ ان کے پرابلمز جان کر ان کی مدد کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ان کو وقت دینا چاہئے۔۔ان کے معاملات اور مسائل سے باخبر ہونا چاہئے۔۔ ان کو بھی اچھے مشورے۔۔ حوصلہ افزائی۔۔ اور نرم زبان سے گفتگو کی ضرورت ہے۔

اگر آپ ایک باپ بھائی خاوند اور بیٹے ہیں۔
اور فیس بک پر لڑکیوں کے ساتھ مہذب اور باخلاق رویہ رکھتے ہیں۔۔ لیکن آپ کے گھر میں بیٹھی ایک خاتون کی آنکھوں میں آپ کی وجہ سے آنسو ہیں۔۔ یا وہ آپ کی وجہ سے عدم تحفظ یا احساس محرومی کا شکار ہے۔
تو میرے دوست! آپ کچھ بھی نہیں ہیں۔۔ سوائے ایک دھوکے کے۔

یاد رکھئے۔۔۔
اگر آپ اپنے گھر پر موجود خاتون کو احساس محرومی کا شکار بنا کر۔۔ فیس بک پر کسی غم میں مبتلا لڑکی کے آنسو صاف کرنے نکلے ہیں۔۔ تو عین ممکن ہے۔۔ آپ کی بے اعتنائی کا شکار آپ کی بہن یا بیٹی کے احساس محرومی کو ختم کرنے کے لئے کوئی اجنبی ان کے آنسو صاف کرنے پہنچ جائے۔

اس کے بعد اگر آپ “غیرت کے نام پر قتل” کرنا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کی خاتون کا نہیں آپ کو اپنا گلا کاٹنا چاہئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: