شیخ مجیب الرحمٰن باغی نہیں تھا؟ ڈاکٹر رئیس صمدانی

0
  • 38
    Shares

مجیب الرحمٰن باغی نہیں تھا، یہ منطق پیش کی ہے سابق وزیر اعظم جنہیں نے تیسری باری میں ملک کی اعلیٰ عدالت نے نا اہل قرار دیا۔ جب سے ان کے ساتھ یہ وارداد عمل میں آئی ہے وہ پریشانی، حیرانی، تحیُر اور اچنبھے کے عالم میں ہیں، دن رات بے چینی، بے بسی، بے تابی میں بسر ہو رہے ہیں۔ انہیں اس کی بھی فکر نہیں کہ ان کی بیگم صاحبہ لندن میں کس کرب اور کس اذیت میں ہیں۔ انہیں فکر کھائے جارہی ہے بیچاری غریب عوام کی، معصوم اور پریشان عوام کی جس کے دن مشکل میں بسر ہو رہے ہیں جب سے انہیں وزارت اعظمیٰ سے الگ کیا گیاہے۔ ان کے حلق سے کھانا تو دور کی بات پانی بھی نہیں اتر رہا اس غم اور پریشانی میں کہ بیچاری عوام کا ان کی وزارت عظمیٰ کے بغیر کیا حال ہورہا ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو سخت ہدایت کی کہ ننھی معصوم سی پری زینب کے قاتلوں اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ پر یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں یہ تو 12 واں قصہ ہے، میاں صاحب کے دورمیں بھی یہ سب کچھ ہوتا رہا، انہوں نے معصوم بچوں کی حفاظت کے لیے کیا کچھ کیا، جو اب یہ لولی لنگڑی نا اہل سربراہ کے رحم وکرم پر چلنے والی حکومت کچھ کرے گی۔

میاں نواز شریف کے گزشتہ پانچ ماہ کی جدوجہد کا جائزہ لیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچنا مشکل نہیں کہ میاں صاحب نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو تسلیم تو کیا لیکن وزارت اعظمیٰ سے علیحدگی ان پر ایسی گراں گزری ہے کہ وہ اس زخم سے چور چور دکھائی دیتے ہیں۔ اگر عدالت کے فیصلہ ہر انہیں تحفاظات بھی ہیں تو قانونی جنگ لڑیں، کرسی چھوڑنے میں تو آپ نے دیر نہیں لگائی، اس لیے کہ ڈر تھا، خوف تھا، اب آپ کا لہجہ اور رویہ سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے، اداروں کے خلاف، عدالتوں کے خلاف، مجھے کیوں نکالا ؟ مجھے کیوں نکالا؟ کی گردان کے سوا کچھے نہیں، اگر آپ کو سمجھ نہیں آرہی تو اپنے سینئروکلا کی ٹیم کو بٹھائیں سامنے اور ان سے تفصیل معلوم کر لیں کہ عدالت نے یہ فیصلہ کیوں کیا، کیاصرف بیٹے کی کمپنی میں ملازمت اور تنخواہ نہ لینا، اقامہ کو ہونا ہی قصور ہے یا کچھ اور بھی۔ اس کا علم آپ کو بھی بخوبی ہے، دنیا بھی اچھی طرح جانتی ہے۔ بے شمار احباب، تجزیہ نگار لکھ چکے، ٹی وی پر بیان کر چکے، یہاں ان کی تفصیل میںجانا مناسب نہیں۔ میاں صاحب اپنی نا اہلی کے غم و غصے، صدمے، افسوس، رنج والم، ملال، دھک، تاسف اور صدمے کے نقطہ انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔

وہ جس وقت شیخ مجیب الرحمٰن کے بارے میں یہ فرما رہے تھے کہ ’’شیخ مجیب پاکستان کا حامی تھا اسے غداربنایا گیا، میرے ساتھ ہونے والا سلوک لیڈروں کو باغی بناتا ہے، میرے دکھوں کو اتنا زخم نہ لگاؤکے میرے جذبات قابو سے باہر ہوجائیں‘‘۔ اس کے پیچھے کیا پیغام پوشیدہ ہے اس کا اندازہ کرنے والے بخوبی کر چکے، ان کی باڈی لینگویج، ان کا انداز، ان کی گلو گیر آواز، سر و تان ان کی جماعت کے جداہوجانے اور پھر مل جانے والے ساتھی جاوید ہاشمی کے نعرے اور ان کی کتاب کا عنوان ’’ہاں میں باغی ہوں‘‘ کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔ سچ پوچھا جائے تو میاں صاحب کی اس تنقید کو اور اپنے اوپر ہونے والے سلوک جسے وہ ظلم و زیادتی کہتے ہیں کو غدار وطن شیخ مجیب الرحمٰن سے جوڑنا کسی بھی طور مناسب نہیں لگتا۔ ہوسکتا ہے وہ درست کہہ رہے ہوں کہ شیخ مجیب الرحمٰن پاکستان کا ہامی تھا، غدار نہیں تھا، لیکن تاریخ رقم ہوچکی، اسے اب چھٹلایا نہیں جاسکتا، شیخ مجیب الرحمٰن اس وقت تک پاکستان کا حامی تھا جب تک اس کی دوستی کے تانے بانے دشمن ملک سے نہیں جڑے تھے، اس کے 6نکات کیا تھے، آزادی کی جانب راہ دکھانے کا راستہ ہی تو تھا۔ اگر شیخ مجیب الرحمٰن چاہتا اور وہ دشمن سے ساز باز نہ کرتا تو مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہیں بن سکتا تھا۔ میاں صاحب وہ حالات اور صورت حال کچھ اور تھی، مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سمندر حائل تھا، فاصلے کا اور نفرت کا، اب یہ صورت نہیں، ابھی تو آپ پر مقدمات کو چلے پانچ ماہ ہی ہوئے ہیں، ماضی کے سیاست دانوں پر چلنے والے مقدمات تو سالوں پر محیط رہے۔ آپ اتنی جلدی گھبراگئے اور شیخ مجیب الرحمٰن جس کے ہاتھوں پاکستان دولخت ہوا اس کا حوالہ دے رہے ہیں۔

اس کے 6نکات کیا تھے، آزادی کی جانب راہ دکھانے کا راستہ ہی تو تھا۔ اگر شیخ مجیب الرحمٰن چاہتا اور وہ دشمن سے ساز باز نہ کرتا تو مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہیں بن سکتا تھا

کیا آپ بھی اس غدار کے نقشہ قدم پر چلنا چاہتے ہیں، اگر آپ یہ کہتے کہ مشرقی پاکستان کے عوام پاکستان کے حامی تھے، وہ غدار نہیں تھے تو اس بات میں تو سچائی ہے، وہاں تو آج بھی پاکستان کے بہی خواہ موجود ہیں جنہیں وہاں کی حکومت تختہ دار پر لٹکا رہی ہے۔ اگر مجیب غدار نہ ہوتا تو قدرت اس کا وہ انجام نہ کرتی جو اس کا ہوا اور دنیا نے دیکھا۔ آپ ان خیالات کو آپ کے مخالفین نے تو پسند ہی نہیں کیا، کرنا بھی نہیں چاہیے تھا، آپ کی جماعت کے ساتھیوں نے بھی اسے اچھا تصور نہیں کیا، بعض آپ کے ڈر و خوف سے خاموش رہے لیکن ایسے بھی ہیں جنہوں نے آپ کی اس تشریح کی کھلے الفاظ میں نفی کی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے کنوینر سردار عاشق حسین گوپانگ نے پارٹی قائد نواز شریف کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجیب الرحمٰن کو پاکستانی قرار دینا تاریخی حیققت کو جھٹلانے کے مترادف ہے، مجیب الرحمٰن سکہ بند بھارتی ایجنٹ تھا۔ ان کا کہناتھا کہ کسی بھی مسلم لیگی رہنما سے ایسے بیان کی توقع نہ تھی، سات پردوں میں چھپے بھارتی ایجنٹس نے ہمارے قائد ین کو اپنا ہم نما بنا لیا ہے، یہ بیانیہ کسی بھی محب وطن پاکستانی کو قابل قبول نہیں ہوسکتا‘‘۔ (ایکسپریس، 13جنوری2018ء)

میاں صاحب دیکھا آپ نے آپ ہی کا یک مسلم لیگی آپ کے اس بیان کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے۔ آ پ کی سوچ کو تاریخی حقیقت کو جھٹلا نے کے مترادف اور مجیب کو سکہ بند بھارتی ایجنٹ قرار دے رہا ہے۔ تاریخ جو لکھی جاچکی وہ اٹل حقیقت، ماضی کے مورخ نے جو کچھ دیکھا، سمجھا، محسوس کیا اس نے لکھ دیا، وہی اصل تاریخ ہے۔ آج اگر کوئی حالات کو اپنے تناظر میں دیکھتا ہے اور اندازے لگا کر بات کرتا ہے تو وہ اس کی اپنی سوچ تو ہوسکتی ہے لیکن تاریخ اس کی خیالات سے بدل نہیں سکتی۔ تاریخ تو لکھی جاچکی، اسے کوئی یا ایک سے زائد لوگ اپنی سوچ، اپنے ساتھ بیتے حالات اور واقعات کی بنیاد پر بدلنے کی کوشش تو کرسکتے ہیں لیکن اسے بدلنا یا مسخ کرنا اتنا آسان نہیں۔ پاکستان کی 70سال کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ مجیب الرحمٰن پاکستان کی تاریخ کا ایک انمٹ سیاہ حصہ ہے، اسے اس کے عمل کے ساتھ کوئی نہ نکال سکتا ہے نہ ہی اس کے عمل کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد 11سال بعد ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا، ایوب خان کا اقتدار اور پھر یحییٰ خان کا اقتدار، مشرقی پاکستان کی سیاست، شیخ مجیب الرحمٰن کی سیاست اور پھر دشمن ملک بھارت سے گٹھ جوڑ، مغربی پاکستان میں بھٹو صاحب کی سیاست ان سب کے نتیجے میں مشرقی پاکستان 26 مارچ 1971 کوبنگلہ دیش کی صورت میں سامنے آگیا۔ بھارت اور مجیب کاگٹھ جوڑ پاکستان کو دو لخت کرنے کا بنیادی سبب بنا، جو غلطیاں ہوئیں وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔

حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ اور دیگر شواہد تاریخ کا حصہ ہیں۔ تاریخ یہی ہے کہ مجیب الرحمٰن بنگلہ دیش کا بانی ہے، اس نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ پاکستان کے اس باغی کا انجام کیا اہوا، وہ بھی دنیا نے دیکھا کہ اس کے اپنے بنائے ہوئے ملک میں وہ صرف چار سال بعد یعنی15اگست 1975ء کو اپنے خاندان کے ساتھ بنگلہ دیش آرمی کے ایک گروپ کے ہاتھوں قتل کر د یا گیا، یہ ہوتا ہے ایک باغی کا انجام۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مجیب ایک باغی تھا، وہ پاکستانی رہا ہوگا لیکن جب اس نے محسوس کیا کہ وہ ایک قوم کا ہیرو بن سکتا ہے، ایک ملک کا بنانے والا بن سکتا ہے تو اس نے اپنی سوچ بدل لی، اس کے لیے اس نے پاکستان کے دشمن بھارت کا سہارا لیا جو پہلے ہی سے تیار بیٹھا تھا پاکستان کو دو لخت کرنے کے لیے۔ قیام پاکستان کو 70سال گزرگئے اس بدبخت کی سوچ اور اس کا عمل آج بھی وہی ہے، وہ آج بھی پاکستان کے لیے ہر اُس کو گلے لگانے کوتیار ہے جو شیخ مجیب الرحمٰن کا کردار ادا کرے گا۔

میں حیران ہوں، مَیں ہی نہیں بلکہ ہر تجزیہ نگار حیران ہے کہ میاں صاحب کو کرسی سے اترے ابھی صرف پانچ ماہ ہوئے ہیں۔ مشکلات کا سامنا کرنا تو سیاست داں کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔ اس مختصر سے وقت میں ہی انہوں نے اپنی سوچ کے دھارے کو کس جانب دھکیل دیا، کہاں وہ کہاں پاکستان کو دو لخت کرنے والا شیخ مجیب، میاں صاحب تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے اور کوئی ممکن نہیں اقتدار چوتھی بار بھی انہیں اپنے گلے سے لگالے۔ وہ خالص سیاسی ہیں، محب وطن ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، اگر ان کے کسی قریبی ہدایت کار، مشیر یا درباری نے انہیں اس قسم کا مشورہ اس وجہ سے دیا کہ اس قسم کے خیالات کا اظہار مخالفین میں ڈر و خوف پیدا کردے گا، تو اس نے میاں صاحب سے دوستی نہیں بلکہ دشمنی کی ہے۔ کسی بھی پاکستان دشمن کے ساتھ اپنی سوچ کو قریب بھی لانا سیاسی اعتبار سے خصارے کا سودا تو ہوسکتا ہے، فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ میاں صاحب احتیاط لازمی ہے۔ صبر کیجئے، برداشت سے کا م لیں، سیاست تو ہے ہی ایسا گھوڑا جو سوار کو کبھی سرپٹ دوڑاتا ہوا اقتدار پر پہنچا دیتا ہے اور کبھی ایسی پٹخنی مارتا ہے کہ سیاست داں کو چاروں خانے چت کر دیتا ہے۔ یہ دور آپ کو چاروں خانے چت کرنے کا ہے، حوصلہ رکھیں، سیاست کا مقابلے سیاست کے میدان میں، عدالتی معاملات کا مقابلہ عدالت میں کریں۔ مجیب الرحمٰن یا کسی اور باغی سے اپنے آپ کو ہر گز نہ جوڑیں۔ ان باغیوں اور غداروں کا آپ سے کوئی مقابلہ نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: