شاید کے ترے دل میں اتر جائے میری بات : شنیلا بیلگم والا

1
  • 55
    Shares

پچھلے ایک ہفتے سے طبیعت پہ ایک بے کلی سی چھائی ہے۔ ایک یاسیت، بے بسی اور بے کسی، اپنے انتہائی مجبور ہونے کا احساس ہے جو کسی پل چین نہیں لینے دیتا۔ اس اندوہناک سانحے کے بعد جتنے بھی ہم خیال لوگوں سے بات ہوئی، وہاں بھی یہی کیفیت تھی لیکن پھر یہی بات کہ اگر اس وقت ایک نہ ہوئے اور آواز نہ اٹھائ تو شاید ہم اپنی نسلوں کو تباہ کر لیں گے۔

بہرحال اس حادثے کے بعد ہم نے ثابت کیا کہ ہم ایک منتشر المزاج قوم ہیں، جس کا کسی بھی مدعے پہ ایک ساتھ کھڑا ہونا تقریبا ناممکنات میں سے ہے۔ حسب عادت ہم بالکل مختلف دھڑوں میں بٹ گئے۔ کچھ اس کے بعد بچوں کو سیکس ایجوکیشن دینے کی اہمیت پہ لکھنے لگے اور کچھ بچوں کو قبل از وقت ان باتوں کی آگاہی دینے کے نقصانات پہ لیکچر دینے لگے۔ کچھ نے اعتراض کیا کہ زینب کے والدین اسے اکیلا چھوڑ کر عمرے پر کیوں گئے اور کچھ نے کہا کہ قصور کے اس چھوٹے سے علاقے میں 12 ایسے کیسز ہو گئے ہیں۔ کیا سب کے والدین عمرے پہ گئے ہوئے تھے۔ یعنی کہ سوشل میڈیا بھانت بھانت کی بولیوں سے گونج رہا تھا۔ کچھ نے یہاں بھی اپنی سیاسی وابستگی کو اس اندوہناک سانحے پر مقدم جانا اور دور کی کوڑی لاتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ کچھ لوگ صرف اس لئے زینب کیس پہ شور مچا رہے ہیں کیونکہ یہ مذکورہ سیاسی پارٹی کے مخالف ہیں۔ ایسی ذہنی مریضوں کے لیے انا للہ کے علاوہ اور کیا پڑھ کر تعزیت کی جا سکتی ہے۔ صرف دعا ہی دی جا سکتی ہے کہ اللہ نہ کرے آپ کبھی اس کرب سے گزریں جس سے ان بچوں کے والدین گزرے ہیں۔ ورنہ اس وقت آپ سے پوچھتے کہ کیا اہمیت ہے سیاسی پسندیدگی کی اس سمے۔

اتنے دنوں سے یہ سب کچھ دیکھنے اور پڑھنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف حکومت کے پاس نہیں ہے۔ بحیثیت والدین ہمارے بہت سے فرائض ہیں جو اگر ہم اچھی طرح سے ادا کریں تو ان سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر حکومت اس سلسلے میں سخت اقدامات کرے تو ان حادثات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ لیکن بات وہی کہ دونوں طرف سے پوری کوشش کی جائے۔

سب سے پہلے بیحیث ماں، میں ماں کے فرائض کے بارے میں بات کروں گی۔ ہر ماں کو اپنے ارد گرد کے ماحول کا پتا ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اپنے بچے کو کیسے بچایا جائے۔ کوتاہی صرف اس لئے ہوتی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا جب تک کچھ ہو نہ جائے۔ مجھے یاد ہے میں پہلی جماعت میں تھی جب میری امی نے مجھے سمجھا دیا تھا کہ اگر آپ گھر میں اکیلی ہیں تو کوئی بھی آئے گا، آپ دروازہ نہیں کھولیں گی، چاہے وہ ماموں ہوں چچا ہوں یا کوئی کزن۔ یہ نہیں کہ انہیں اپنے سگے بھائ یا رشتہ داروں پہ اعتبار نہ تھا مگر مجھے یہی سمجھانے کے لیے کہ بیٹا گھر میں جب آپ اکیلی ہوں تو صرف ابو اور بھائی آ سکتے ہیں اور کوئی نہیں اس سے بہتر مثال نہیں دی جا سکتی تھی۔ امی کا ایک جملہ مجھ آج تک یاد ہے کہ” سونے کی پیٹی کسی کو سونپ دو مگر بیٹی نہ سونپو”۔ کوشش کیجئے کہ اپنے بچوں کو خود ہی اسکول لینے چھوڑنے جائیں۔ مدرسے کے بجائے اپنے بچوں کو گھر پہ مولوی صاحب بلوا کر قرآن پڑھوا لیں۔ اور بچوں کو مولوی صاحب کے پاس بھی تنہا نہ چھوڑیں۔ بچوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ توجہ دیں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ آپ جب ماں بن گئیں تو آپ کی اپنی ذات سے اوپر چلی جاتی ہے آپ کی اولاد کی ذمہ داری۔ اس بات کو یاد رکھیں کہ یہ ننھی جان اب آپ کے رحم و کرم پہ ہے۔ اپنی اولاد کے لیے جہاں جہاں ضروری ہو وہاں اسٹینڈ ضرور لیں۔ یاد رکھیں کہ رشتہ دار چند دن ناراض رہ کر مان جائیں گے لیکن اگر اولاد کی زندگی برباد ہوگئ تو یہ نقصان ناقابل تلافی ہے۔

کتنے ہی گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ مائیں دوپہر کو سوجاتی ہیں بچے گلی محلے میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ اس مختصر عرصے میں بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ بچوں کو دکانوں پہ خریداری کے لئے نہ بھیجیں۔ خود جائیں یا سارا سودا ہفتہ وار گھر لائیں۔ یہ سب احتیاطی تدابیر ہیں جن پہ عمل کر کے ان حادثوں سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔

اب آتے ہیں سب سے اہم مدعے پر۔ حکومت کی ذمہ داری۔ حکومت اپنی ذمہ داری کتنے احسن طریقے سے نبھا رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہی ہوتا ہے کہ ایک ہفتہ ہونے کے باوجود کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ایک چھوٹے سے علاقے میں کچھ عرصے میں اس قسم کے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں اور حکومت کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتی۔ کچھ وزراء کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات کے سننے کے بعد، کچھ حلقوں کی طرف سے ان پہ مجرموں کی پشت پناہی کرنے کا بھی شک ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب ایک ایم پی اے سے پوچھا گیا کہ آپ زینب کے گھر کیوں نہیں گئے تو جواب ملا کہ وہ علاقہ میرے حلقے میں نہیں آتا۔ پولیس کا ننھی زینب کی لاش اٹھانے پہ گھر والوں سے دس ہزار کا مطالبہ کرنا۔ زینب کی گمشدگی کی رپورٹ کے باوجود پولیس کا کچھ نہ کرنا۔ پنجاب پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بدنما داغ ہے۔ خاص طور پر جب اس علاقے میں ایسے واقعات مسلسل ہورہے ہوں۔

اس قسم کے حالات میں ہمارا کیا کردار ہونا چاہیے۔ یہی وہ کام ہے جو باشعور عوام کو کرنا ہے۔ حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ اس قسم کے جرائم کے سد باب کے لئے قانون سازی کرے۔ اس قسم کے گھناؤنے جرائم پر سرعام سزائیں دی جائیں۔ جب تک یہ مجرم دوسروں کے لئے عبرت کا نشان نہیں بنیں گے ہمارے ہاں اس قسم کے جرائم کی سرکوبی نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ کچھ بھی ایسے اقدامات کرنے ہونگے جس کے نتائج دور رس ہوں۔ جیسے ہندوستان میں دہلی کے مشہور نربھیا ریپ کیس میں کیا گیا۔ اگر ہندوستان میں اس قسم کے واقعے کے بعد قانون سازی ہوسکتی ہے تو ہمارے ہاں کیوں نہیں۔ فوری طور پر وفاقی اور صوبائی سطح پر ایسا تحقیقاتی ادارہ قائم کیا جاۓ جسکا مقصد صرف بچوں اور خواتین کیخلاف ہونے والے جنسی جرائم کی تحقیقات، تفتیش اور مجرموں کی سرکوبی ہو۔ ادارے میں میرٹ پر تقرری کی جاۓ، افسران کو خصوصی تربیت دی جاۓ اور فارینسک تحقیقات کیلئے درکار تمام سہولیات مہیا کی جائیں۔ ملک کے کسی بھی علاقے میں ہونے والے چائلڈ ابیوز / سیکسوئل ابیوز واقعے کی تفتیش اس ادارے کی ذمے داری ہو۔

اس ادارے کی ایک اور ذمے داری ملک کے ہر علاقے میں معلوم و سزا یافتہ سیکس افینڈرز / پیڈوفائل افراد کی ایک لسٹ ترتیب دینا ہو۔ یہ لسٹ ادارے کی ویب سائٹ پر عوام کی دسترس کیلئے دستیاب ہونی چاہئے۔ کہنے کو تو چائلڈ پروٹیکشن کا ادارہ موجود ہے۔ ادارے ہر طرح کے موجود ہیں لیکن ان کی کارکردگی کیا ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگ واقف بھی نہیں ہونگے کہ یہ ادارے وجود بھی رکھتے ہیں۔ ہمیں ان اداروں کو فعال بنانے کی سخت ضرورت ہے۔

کرنا چاہیں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے مگر سب سے پہلے قوم متحد تو ہو۔ اگر آج اس مدعے پہ ہم نے ہر طرح کے صوبائی، لسانی اور سیاسی تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر آواز نہ اٹھائی تو ہماری زینبیں، ام کلثومیں، نمرائیں، امان فاطمائیں، کائناتیں، ساجدائیں اسی طرح پامال ہو کر کچرے کے ڈھیر پر پھینک دی جائیں گی۔ آنے والوں نسلوں کے لئے یہ ہمارا فرض ہے جو ہم سب کو نبھانا ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. زبردست تحریر ہے ۔ اللہ آپ کی کاوش قبول فرمائے ۔۔۔ ایسے معاملات میں ہمیں متحد ہو کر جدجہد کرنے سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں وگرنہ پھر کچرے کے ڈھیر تو ہر گلی محلے میں وافر موجود ہیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: