“پیرا لیگل” تحریر، میر محسن الدین

0
  • 2
    Shares

آج کل ایک نئی اصطلاح سامنے آگئی ہے اور وہ ہے “پیرا لیگل” سنا ہے آپ نے یہ نام؟؟ کہتے ہیں کہ پیرالیگل علاقے میں ایک متاثر شخص کو قانونی مشورے دیگا اور گھریلو اور کیمونٹی کے باہمی جھگڑوں اور دوسرے مسائل حل کرنے میں ثالث اور صلاح کار کے طور پر کردار ادا کریگا- یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن جب مجھے پتا چلا کہ پیرالیگل ٹریننگ کے تمام تر اخراجات یورپی یونین اور یو این ڈی پی اٹھا رہی ہے تو مجھے اس میں اندر جا کر اس کے بارے مزید جاننے کی تجسس ہوئی— آخر کار میں پیرالیگل کورس کیلئے فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گیا اور ہم سوات پہنچ گئے- دس روزہ ٹریننگ کے دوران جو میں نے دیکھا وہ یہ تها کہ یورپی یونین کے سپانسر کردہ پیرالیگل ٹریننگ کورس میں بنیادی قانونی تعلیم دینے کے بہانے فیملی لاز کے زیل میں طلاق کو عام کرنے پہ زور دیا جاتا ہے-

جنڈر ڈسکریمینیشن کے ٹاپک میں خواتین کو بھی آئمۂ مساجد بنانے کی بات کی جاتی ہے چائلڈ پروٹیکشن کے عنوان میں ہمارے بچوں کی اپنی مرضی کے عقائد چننے کا زکر ہوتا ہے جبکہ کچھ گیمز اور گروپ اکٹیوٹیز کے ذریعے غیر محسوس انداز میں الحاد کی طرف بھی رغبت دلائی جاتی ہے- وہاں ایک ایکٹیوٹی سے کچھ مواد بھی اپنے ساتھ نکال لایا ہوں جو میرے پاس موجود ہیں- اس بات کی بھی وضاحت کر دوں کہ پورپی یونین اور یو این ڈی پی سے جس مقامی آرگنائیزیشن نے یہ پراجیکٹ لیا تھا اس کے اکثر منتظمین اور پریزنٹیٹرز سمجھدار لوگ تھے، شائد انہوں نے بھی اس شرارت کو محسوس کیا تھا اس لئے وہ حتٰی الوسیع کوشش کرتے کہ بیرونی اداروں کا جو مقصد ہے وہ پورا نہ ہو لیکن یورپی یونین اور یو این ڈی پی کے مرتب کردہ پیرالیگل کورس اور ان کے اپنے کچھ بندوں میں تخریب کاری موجود تھی-

دوسرا ان ٹریننگز کے اکثر شرکاء بے روزگار اور نوجوان ہوتے ہیں جو پندرہ بیس ہزار کے پیکج کیلئے آتے ہیں اور لاعلمی میں شکار ہو جاتے ہیں- مغربی اداروں اور این جی اوز کو جب نام نہاد سول سوسائٹی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہ ہوئے تو اب وہ براہ راست ہمارے اصل سول سوسائٹی کو اپنے اثر میں جھکڑنا چاہتے ہیں- “پیرالیگل” کے جامے میں ہمارے گھریلوں معاملات، ہمارے محلے کے تعلقات، ہماری خوشی غمی، ہمارے رسم و رواج اور ہمارے حجروں اور عبادت گاہوں کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے- چترال، ملاکنڈ ڈویژن، کوہاٹ اور ڈی آئی خان میں یہ ٹریننگ ہو چکے ہیں، اب ان جگہوں پر باقاعدہ دفتر بنانے کی بھی بات ہو رہی ہے—آپ کی سوسائٹی کو یرغمال بنایا جارہا،، تمہیں کچھ خبر ہے کہ نہیں__؟؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: