زینب اور فلسفہ ہائے نظریات : صفتین خان

0
  • 147
    Shares

زینب نے بہت سے فکری مباحث کو جنم دیا. سیاسی, قانونی, تہذیبی, سماجی, تعلیمی اور مذہبی تعبیرات موضوع سخن بنیں۔ اس حوالے سے محسوس کیا کہ مختصراً سب حوالوں سے اس پر بات کی جائے اور لوگوں کی غلط فہمی کو دور کیا جائے. اکثر لوگ محض ایک پہلو کو لیکر تصویر مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں. ہر شخص جزئیات کو مسئلے کا حل بتا رہا ہے۔”

ان سزاوں کا نفاذ ممکن ہی اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب مجرم کے حالات و نفسیات کسی رعایت کے مستحق نہ ہوں۔ یہ بات بذات خود سزا کے پراسس کا حصہ ہے۔ دنیا و آخرت دونوں میں اگر گناہ گار و مجرم کسی اخلاقی, سماجی, معاشی و نفسیاتی رعایت کا مستحق ہو تو عطا کی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت قرآن نے لونڈیوں پر زنا کے حد کی آدھی سزا بیان کی۔ تعلیم و تربیت کا نظام اور معاشی آسودگی بھی اسلامی تصور عدل میں نمایاں مقام رکھتے ہیں جن کو نظرانداز کر کے محض سزاوں سے نتائج حاصل کرنا فلسفہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ بھی غلط فہمی ہے کہ مجرم تعلیم و تربیت کی کمی کی وجہ سے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔شدید نوعیت کے جرائم کی شناعت انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ گناہ و نیکی کا تصور خدا نے انسانی شعور میں پیدائش کے ساتھ ہی ودیعت کر دیا ہے جو کسی خارجی تعلیم کا محتاج نہیں۔ لہذا مذہبی طبقے کو مورد الزام ٹھرانا نوعیت معاملہ کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔

بعض افراد نے بچوں کی جنسی تعلیم سے محرومی کو وجہ قرار دیتے ہوئے مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ جنسی تعلیم ضروری ہے لیکن جرائم کی روک تھام کا اس پر انحصار نہیں۔ بچوں میں آگہی کا حصول مجرم کو اپنے عزائم سے باز نہیں رکھتا۔ جنسی تعلیم سے بھی مراد جنسی عمل کی تفہیم نہیں بلکہ جرم کی پہچان اور اس سے بچنے کی آگہی ہونی چاہیے۔

زینب جیسے واقعات صرف اسلامی سزائیں دے کر روکے جا سکتے ہیں۔ عبرتناک طریقے سے سر عام قتل کرنا جس کی ایک صورت ہے۔ خدا سے بڑھ کر کوئی انسانی مزاج سے واقف نہیں۔

ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اسلامی سزاوں کی ظاہری عملی صورت اس دور کے تمدن کا تقاضا تھی اور الہامی نہیں۔ تہذیب جدید کے عرف کے مطابق مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی طرح ان پر عملدرآمد کیا جا سکتا ہے۔ مغربی ذہن اس میں وحشیانہ علامت تلاش کرتا اور اس کو فرد کے حق کے خلاف سمجھتا ہے۔ یہ تصور اس لیے درست نہیں کیوں کہ ان سزاوں کا اصل مقصد کلام الہی میں اللہ کے حق میں تصرف کے طور پر بیان ہوا ہے۔ سماج میں جرائم کی بیخ کنی اس کا ضمنی منطقی نتیجہ ہے۔ جان, مال اور عزت میں دست اندازی کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور اس لیے ان کو حدود اللہ کے نام سے منسوب کیا گیا۔

فحاشی و عریانی کو بھی اس بحث میں ایک اہم عنصر کی حیثیت دی گئی۔ اس لحاظ سے بھی دو انتہاوں کا سامنا رہا۔ ایک طرف معاشرے میں پھیلی بے حیائی کو اس کا سبب قرار دیا جا رہا تو دوسری طرف سماجی و جنسی گھٹن سے اس کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ فحاشی سے انسان میں جنسی احساسات کا برانگیخت ہونا فطری ہے لیکن یہ اس جرم کی توجیہ نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کروڑوں لوگ مجرم بنے پھرتے۔ جنسی گھٹن کی دلیل بھی لایعنی ہے کیوں کہ یہ واقعات مغرب میں بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ البتہ وہاں مجموعی طور پر عورت میں احساس تحفظ موجود ہے ہمارے سماج کے برعکس۔ یہاں عورت جب باہر نکلتی ہے خاص کر پسماندہ روایتی علاقوں میں تو عمومی طور پر اس آسانی کا سامنا نہیں کرتی جو مغربی عورت کو حاصل ہے۔ یہ بات بھی درست کہ ہمارے سماج میں معاشی و سماجی عناصر گھٹن کا باعث ہیں اور ایک عام فرد کو ذہنی آسودگی و تفریح کے زیادہ مواقع حاصل نہیں۔ لیکن یہ اس جیسے شنیع جرم کے لیے محض ایک جزئی بنیاد ہے۔

یہ دلیل کہ مغربی ملکوں میں جرائم کی شرح کم ہے ان سزاوں کی عدم موجودگی کے باوجود تو اس کے دیگر وجوہ ہیں۔ تعلیم, برتر سماجی شعور, معاشی آسودگی, اور قانون کا بلاتفریق سخت نفاذ وہ عوامل ہیں جو ان کے حالات کو ہم سے ممیز کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجموعی معاشرتی تہذیب کی بلندی کے حصول کے بعد یہ سزائیں غیر متعلق ہو جائیں گی کیوں کہ قانون الہی کی حکمت زمان و مقام سے ماورا ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ زینب جیسے واقعات صرف اسلامی سزائیں دے کر روکے جا سکتے ہیں۔ عبرتناک طریقے سے سر عام قتل کرنا جس کی ایک صورت ہے۔ خدا سے بڑھ کر کوئی انسانی مزاج سے واقف نہیں۔ یہ سزائیں وحشیانہ اسی وقت لگتی ہیں جب اس کو مجرم کی نفسیات سے دیکھا جاتا ہے معاشرے کے حوالے سے نہیں۔ یہی غلطی مغربی فلسفہ قانون نے کی۔ یقین کریں بہت کم مجرموں پر اس کے اطلاق کی نوبت آئے گی اگر اس کو جاری کیا گیا۔ لہذا یہ دلیل کہ معاشرے پر اس کے مضر اثرات پڑیں گے قوی نہیں۔

قانون کا خوف جرم کے سدباب کا واحد ذریعہ ہے جب وہ فطری اخلاقی احساس, تعلیم و تربیت اور سماج کے دباو سے ماورا ہو جائے۔ ان مراحل کے بعد بھی اگر کوئی نہ رکے تو وہ سخت ترین سزا کا حقدار ہے۔

نوعیت و ثبوت جرم کی بحث اگلے مضمون میں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: