مجرم کی نفسیات اور سماج: زینب قتل کے تناظرمیں — عامر منیر

2
  • 98
    Shares

ضروری گزارش: یہ تحریر ان عوامل کی کھوج لگانے کی ایک کوشش ہے جو سماج میں ننھی زینب کے قاتل جیسے مجرموں کو جنم دیتے ہیں۔ یہ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش ہے کہ ہم اپنے آپ میں، اپنے رویوں میں کیا تبدیلیاں لا سکتے ہیں جو ہمارے سماج میں ایسے مجرم کے جنم لینے کا امکان گھٹا سکے؟ زینب جیسے کسی اور سانحے کو رونما ہونے سے روکنے کے لئے کن سماجی رویوں میں طویل مدتی تبدیلیاں درکار ہیں؟ یہ جرم اور اس کے عوامل کی توضیح کی ایک کوشش ہے، توجیہہ کی ہرگز نہیں۔

اس تحریر کا ایک حصہ تہذیب نفس میں ناکامی کے سبب وحشیانہ افعال کے ارتکاب، دوسرا جنسی تشدد سے متاثرہ کسی فرد کے خود مجرم بن جانے کے امکان اور تیسرا ہمارے نظام تعزیر کے ایسے مجرموں کو روک پانے میں ناکامی کے پس پردہ عوامل پر بحث کرتا ہے۔ چوتھا اور آخری حصہ ان سوالوں کے جواب دینے کی ایک سعی ہے۔ یہ تحریر نہ تو جامعیت کی دعویدار ہے، نہ ہی زیر بحث موضوع کے مکمل احاطے کی، تحریر کی طوالت کم کرنے کی غرض سے ایسے سانحے کی روک تھام کے لئے فوری نوعیت کے اقدامات کو زیر بحث نہیں لایا گیا اور سیاسی عوامل کا تذکرہ مختصر رکھا گیا ہے، ان موضوعات پر بہت سے اہل فکر عمدہ اور مدلل بات کر رہے ہیں، اس تحریر کو ان کی تحاریر کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو مسئلے کی نوعیت اور حل کے بارے میں ایک واضح اور مفصل تصویر کا سامنے آنا زیادہ ممکن ہے۔


ننھی زینب اپنے رب کے پاس چلی گئی، اس سے آگے بہت سی دلسوز اور دلخراش باتیں لکھنا ممکن ہے۔ لیکن انہیں جانے دیجئے۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر ہیں تو آپ کی نیوز فیڈ کئی دن سے حزن، رنج اور اشتعال کا مرقع بنی رہی ہو گی۔ زینب کی مُسکراتی، زندگی سے بھرپور تصویر کے ساتھ حزن اور ملال سے بھرپور بہت سی سطریں آپ پڑھ چُکے ہوں گے۔ کسی نے دل کو چھو لیا ہو گا، کسی پر آنکھ سے آنسو ڈھلکا ہو گا۔ کسی پر غیض و غضب سے آپ نے مُٹھیاں بھینچی ہوں گی۔ اگر آپ کو خُدا نے کسی ننھی پری سے نوازا ہے تو شاید آپ اُسے باہوں میں سمیٹے کچھ سہمی سہمی سوچیں سوچنے کے تجربے سے بھی گزرے ہوں گے۔ یا ہو سکتا ہے میری طرح آپ نے بھی ارادتاً سوشل میڈیا اور خبروں سے فاصلہ اختیار کر کے دلی سکون پانے کی کوشش کی ہو۔ سوشل میڈیا پر اُمڈتی چلی آتی پوسٹوں کو محض سائبر ہجوم کی نفسیات کا آئینہ دار کہہ کر، حادثے کے گِرد جمع ہو جانے والی بھیڑ سے تشبیہ دے کر نظر انداز کرنے اور ذہن سے جھٹک کر کام پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی ہو۔ اپنے دل میں اُمڈتی چلی آتی اُداسی اور ناخوشی کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے سعی کر کے جھٹلانا چاہا ہو۔ لیکن یہ سوال آپ نے بھی خود سے پوچھا ہو گا کہ ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ کون کرتا ہے؟ آخر وہ کیسی کیفیت ہوتی ہو گی کہ ایک انسان ایسی بہیمانہ حرکت کا ارتکاب کر گزرتا ہےجس کے تصور سے ہی انسان کی روح کانپ اُٹھتی ہے۔ کونسے عوامل ہیں جو انسان کو اسفل السافلین کی سطح پر لاپٹختے ہیں اور ان عوامل کا کیا تدارک ممکن ہے؟

مجرم کو درندہ کہہ کر، ایک شقی القلب حیوان کا لقب دےکر انسانی برادری سے الگ ٹھہرانے اور اس کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کرنے، سرعام پھانسی پر لٹکانے، ذمہ داروں کو نشانِ عبرت بنانے اور حاکمانِ وقت کو بُرا بھلا کہنے سے کتھارسس ہو جاتاہے، اس ندامت اور پشیمانی کے بوجھ سے گلو خلاصی ممکن ہے جو مجرم کے ہم جیسا انسان ہونے کے تصور اور سماج کی ایک فعال اکائی ہونے کے ناطے ہمار ے ضمیر کو کچوکے دیتی ہے، لیکن ان سوالوں کا جواب نہیں مل پاتا۔

ہر سانحے کو بھلا کر بالآخر روزمرہ زندگی کے معمولات کی طرف پلٹنا جتنا غیر انسانی امر معلوم ہوتا ہے، اپنی اصل میں اتنا ہی انسانی ہے کہ لمحہ موجود کی مخلوق کے لیے ماضی کے کسی بھی موڑ پر تادیر بیٹھنا ممکن نہیں۔

شاید ان سوالوں کے جوا ب ہمارے پاس موجود ہیں، یہ ہم سے کہیں دور پوشیدہ اور مرموز نہیں ہیں۔ ہمارا ضمیر ان کے جواب جانتا ہے لیکن ہم ان جوابوں کا سامنا کرنے کی تاب نہیں رکھتے، اس لئے کہ ضمیر کے آئینے میں ہمیں اپنا چہرہ دکھائی دیتا ہے اور ہم لمحہ بھر کے لئے بھی یہ تصور نہیں کر سکتے کہ ایسے سانحات کی ذمہ داری میں کچھ حصہ ہمارا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم ذمہ دار نہیں ہیں تو کون ہے؟ اگر سماج ذمہ دار ہے تو سماج کون ہے؟ ہم اور آپ ہیں؟ اگر ریاست ذمہ دار ہے تو ریاست کون ہے؟ ہم آپ کے دم سے وجود اور اختیار پانے والا ایک ادارہ ہے نا؟ اگر حکومت ذمہ دار ہے تو حکومت کون ہے؟ کارپردازان سیاست کیا اسی سماج کی پیداوار اور اس کی سیاسی حرکیات کے ڈھالے ہوئے نہیں؟؟ آپ کسی بھی نظریے یا مسلک سے تعلق رکھتے ہوں، چاہے کسی بھی سیاسی پارٹی کے حامی ہوں۔ اس سوال کی کاٹ سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ بھلے کسی ایسے سبب، امر یا وجہ پر ذمہ داری لادنے کی کوشش کیجئے جو آپ کو اس ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کی دلیل فراہم کر سکے، ضمیر کی عدالت میں یہ ثابت کر نے کی سہولت فراہم کرے کہ اس ذمہ داری کا کوئی کُھرا میری جانب نہیں آتا، میں بےقصور ہوں۔ بھلے کتھارسس کے توسط سے اس سوال کی دھار کند کرنے کی کوشش کیجئے کہ دل کی خلش کا کسی طور مداوا ہو اور ہم اپنی روز مرہ زندگی کے امور میں پھر دلجمعی سے مصروف ہو سکیں۔ ہر سانحے کو بھلا کر بالآخر روزمرہ زندگی کے معمولات کی طرف پلٹنا جتنا غیر انسانی امر معلوم ہوتا ہے، اپنی اصل میں اتنا ہی انسانی ہے کہ لمحہ موجودہ کی مخلوق کے لیے ماضی کے کسی بھی موڑ پر تادیر بیٹھنا ممکن نہیں۔ لیکن اس وقت، اس مقام پر جبکہ کچھ دیر کے لیے ہمارے سماج کا وقت جیسے اس کچرا کنڈی کے گرد منجمد ہو کر رہ گیا جہاں سے معصوم زینب کی لاش ملی، کیا مناسب نہیں کہ وقت کا بہاؤ بحال ہو تو ہمارے دامن میں ایک یقین یا کم از کم ایک اُمید ہو کہ ہم دوبارہ ایسا نہیں ہونے دیں گے، یہ آگہی ہو کہ سماج کی ایک زندہ، متحرک اور فعال اکائی کی حیثیت سے ہم کچھ ایسا کر سکتے ہیں جو ایسے بہیمانہ واقعات کی روک تھام کر سکے۔

لیکن اس کے لیے ہمیں ضمیر کی عدالت سے فرار کی راہیں ڈھونڈنے کی بجائے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو گا، اس کے چُبھتے سوالات کا جواب دینا ہو گا چاہے یہ جواب دیتے وقت ہماری گردن، نگاہیں اور شملہ کتنے ہی نیچے کیوں نہ ہوں۔ سب سے مشکل امر یہ کہ ہمیں اپنے دائرہ اختیار کی جواب دہی کرنا ہو گی۔ اس عدالت کا قاضی جو سوال ہم سے پوچھے، اس کے جوا ب میں ہم کسی فرد کی طرف انگلی نہیں اُٹھا سکتے کہ اس سے پوچھیے کہ یہ اس کا ذمہ دار ہے، اپنی ذات سے باہر کسی امر پر ملبہ ڈال کر گلو خلاصی نہیں کروا سکتے، کیونکہ ضمیر کا قاضی ہماری ذات سے باہر کسی امر کے متعلق سوال پوچھتا بھی نہیں، یہ ہمیشہ اس امر کی جواب طلبی کرتا ہے جس کا کھرا ہماری ذات کی طرف آتا ہو۔ صرف اور صرف ایک ایسی جواب دہی کے توسط سے ہی ایسی کوئی اُمید یا آگہی ہمیں مل سکتی ہے، ہمارا لمحہ موجود، لمحہ گزشتہ سے اور لمحہ آئندہ، لمحہ موجودہ سے بہتر ہو سکتا ہے۔

تو لمحہ موجود ہ میں، اپنے سماج کی ایک انفرادی تجسیم کی حیثیت سے، ایک سماجی اکائی کے طور پرمیں اپنے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا ہوں۔ یہ سانحہ استغاثہ کے طور پر موجود ہے اور فردِ جُرم پڑھ رہا ہے۔

ایک معضوم جان سے اس کی معصومیت اور جینے کا حق چھین لیا گیا، فطرت نے ہمارے سماج کو ایک ننھی جان کا تحفہ دیا۔ اس کی پرورش اور تحفظ کا فریضہ سونپا اور سماج بحیثیت مجموعی اس ذمہ داری میں ناکام رہا۔ لیکن فرد جرم اس ناکامی تک محدود نہیں۔ اس سے بھی پہلے فطرت نے ایک اور ایسا ہی کورا، سادہ وجود ہمیں پرورش اور نگہداشت کے لیے دیا تھا جس کی پرورش اور نگہداشت میں، تعلیم و تربیت میں سماج ناکام رہا۔ لمحہ موجودہ میں یہ بحث فضول ہے کہ وہ فرد کیا بن سکتا تھا۔ اس کی زندگی اپنے دامن میں کیا ممکنات رکھتی تھی۔ لمحہ موجود ہ کی حقیقت یہ ہےکہ ہم انسانیت کے ایک مسخ شُدہ وژن کا ذکرکر رہے ہیں، لیکن گزشتہ لمحوں سے پوچھا جائے تو وہ گواہی دیں گے کہ مجرم جو کوئی بھی ہے ماں کے پیٹ سے ایسا پیدا نہیں ہوا تھا۔ اس کی پیدائش سے اس جرم یا جرائم کے سلسلہِ ارتکاب تک ایک طویل سماجی عمل تھا جس نے انسانیت کے نقوش مسخ کیے، وہ ہمارے درمیان موجود ہے، ہم جیسا دکھائی دیتا ہے، ہماری طرح چلتا بولتا پھرتا اور اپنے اعزا و اقارب کے درمیان بیٹھا انہی امور پر گفتگو کرتا ہے جن پر ہم سب کرتے ہیں۔ اس کی کوئی سیاسی وابستگی، نظریاتی پیوستگی اور سماجی شناخت بھی ہو گی۔ جب تک اس کی شناخت نہیں ہو جاتی تب تک شاید اس کے جاننےوالوں کو شُبہ بھی نہیں گزرے گا کہ وہ درندگی اور بہیمت جس نے پورے سماج کو جھنجوڑ رکھا ہے، اس کا ماخذ یہی فرد تھا۔ جس کے تصور سے ہر بیٹی کا باپ سہم جاتا یا اشتعال سے دانت پیسنے لگتا ہے۔ استغاثہ کی فرد جرم یہ ہے کہ سماج کی ناکامی زینب کے تحفظ میں ناکامی ہی نہیں اس انسان اور تہذیب اور تربیت میں ناکامی بھی ہے جس نے یہ وحشیانہ فعل انجام دیا۔ زینب کے تحفظ میں ناکامی، اس ناکامی کا تسلسل اور شاخسانہ ہے۔

سب سے پہلے میں اس تصور سے ٹھٹھک جاتا ہوں کہ مجرم مجھ جیسا ایک انسان ہی ہے، یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ تو ایک وحشی درندہ، ایک خونخوار عفریت ہے، جس کاانسانوں میں شمار کیا جانا ممکن ہی نہیں، کجا یہ کہ میں اسے مسلمان، پاکستانی اور دیگر شناختوں کے ساتھ نتھی کر دوں جو میری شخصیت کی صورت گری بھی کرتی ہیں۔

لیکن استغاثہ واضح کرتا ہے کہ مجرم خونخوار، درندہ اور وحشی کہنا نفرت یا غصے کے اظہار سے زیادہ خود کو یہ یقین دلانے کی کاوش ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اس احساسِ جُرم سے فرار کی کوشش ہےکہ وہ اسی سماج کی پیداوار ہے اور شاید اس کی انسانیت کو مسخ کرنے، اس جُرم کی راہ پر ڈالنے والے عوامل کے پسِ پردہ سماجی رحجانات کی فعالیت اور تسلسل میں میر ے تیقنات رویوں اور افعال کا بھی حصہ ہو۔ اسے ایک وحشی درندہ کہہ کر میں خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ و ہ ایک استثنائی کیس، سماجی عمل کے کسی نقص کا، کسی خرابی کا انفرادی نتیجہ تھا جیسے کسی صنعت کے پیداواری عمل میں کسی سٹیج پر مشینری کی خرابی یا کاریگر کی غلطی کے سبب کچھ پیداوار خراب ہو جاتی ہے، جسے مسترد کرنا اور پھینکنا پڑتا ہے، اس طرح ایسے سماجی عمل میں ایسے “ایرر” (error) رونما ہوتے رہتے ہیں، دُنیا کے ہر سماج میں ہوتے ہیں اور ان کے لیے سماج کو مطعون نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

استغاثہ ان واقعات کے بڑھتے ہوئے تواتر کی یاد دہانی نہیں کرواتا، مجھے یہ کہنے کا موقع ہی نہیں دیتا کہ ایسےواقعات ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں، فقط اب آکر میڈیا اور سوشل میڈیا کے توسط سے ان کی آگہی عام ہوئی ہے۔ بلکہ میرے اپنے دل کی خلش، ضمیر کی چُبھن کی طرف اشارہ کر کے پوچھتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ اگر مذکورہ مجرم ایک استثنائی کیس، سماجی عمل کا ایک ایرر اور ایک درندہ یا عفریت ہے تو یہ خلش کیسی ہے؟ کیا ہے؟ کیا سماج کے ایک نمائندے کی حیثیت سے کسی سطح پر کچھ بہت ہی غلط اور ناروا ہونے کا ادراک اس خلش میں نہیں بول رہا؟؟

میں سر جُھکا کر سوچتا ہوں اور عدالت کے روبرو یہ اعتراف کرتا ہوں کہ یہ ایک استثنائی کیس نہیں، ایک تنہا واقعہ نہیں ہمارے سماج میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جس کی نوعیت شاید اتنی شدید یا ڈرامائی، ہلا کر رکھ دینے والی نہ ہو لیکن ان کا تسلسل ایسے واقعات پر منتج ہو سکتا ہے اور ہو رہا ہے۔ کہیں نہ کہیں کچھ غلط ضرور ہے ہا شاید بہت کچھ غلط ہے جس کے اعتراف کی ہمت چاہے مجھے بھی نہ ہو، ادراک ضرور ہے۔

اب استغاثہ مر د کی حیثیت سے مجھے طلب کرتا ہے۔ میرے پاس عموماً صنفِ مخالف کی جانب سے اشتعال دلائے جانے کا جواز موجود ہوتا ہے جسے استعمال کرنا کبھی فیمننزم کی جذباتی جارحیت کے خلاف میری مجبوری ہوتا ہے تو کبھی قبائلی، جی ہاں، پدرسری نہیں بلکہ قبائلی سماج کی بنت میں ایک آسان عذر، یکے از مراعات مردانہ ! لیکن اس کیس میں میرے پاس کوئی ایسا عُذر جواز موجود نہیں، مجھے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے یہ مردانہ جنسیت کے حیوانی، وحشیانہ ممکنات کا ایک مظہر ہے اور ایک مرد کی حیثیت سے میں اپنے ضمیر کے اس سوال کی جوابدہی کا مکلف ہوں کہ آخر کیوں ایسے ہوتا ہے کہ وہی جذبہ جو مودت اور رومانس کی شکل میں ایسے خوبصورت مظاہر تخلیق کرتا ہے، ایسے بھیانک اور بدصورت افعال کو جنم دینے پر منتج ہوتا ہے ؟وہ کونسا امر ہے جو اس کی نمود کو مسخ کر کے مجرمانہ افعال کو جنم دینے پر منتج ہوتا ہے۔

یہ جوابدہی اب مجھے ایک مذہبی فرد کی حیثیت سے کرنا ہو گی۔ ایک ایسے فرد کی حیثیت سے جو اپنے سماج پر، اسلامی اقدار پر یقین رکھتا ہے مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ اس جبلت کی تہذیب کس کی ذمہ داری ہے اور ناکامی کی صورت میں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا میں مجرم کا بطور ایک مشروع اور مذہب سے منسوب کیے جانے والی وضع اور رحجانا ت کے حامل ایک فرد کے طور پر تصور کر سکتا ہوں؟

میں بڑے فخر سے اس کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس کی جبلت کی تہذیب میری ذمہ داری ہے۔ میرے پاس قرنوں کی آزمودہ پریکٹس اور آفاقی و ابدی اقدار ہیں جو انسانی نفس کی پاکیزگی کی ضامن ہیں او ر اس جبلت کی تہذیب ایسے طور سے کرتی ہیں۔ خواہش ِ نفس کی اس طور تسکین کا سلیقہ سکھاتی ہیں کہ یہ زندگی اور سماجی عمل کو نکھار بخشنے کا سبب بن جاتی ہے۔ لیکن میں اس امر پر بھی اصرار کرتا ہوں کہ اس جبلت کی تہذیب میں ناکامی میری ناکامی نہیں ہے، یہ جدید فکر کی مسلط کردہ لعنت ہے جو انسانی نفس کو میری ے عائد کردہ پابندیوں سے بغاوت پر اکساتی ہے اور اسکے لیے ایک سے ایک رنگین، پرکشش اور بیہودہ آئیڈیل تخلیق کرتی ہے جن کے سامنے میری پابندیاں میری اقدار اور میری تعلیمات اپنی تاثیر کھو بیٹھتی ہیں۔ فر د خواہشِ نفس کی کی لامتناہی اور ہزار ہا اعتبار سے تسکین کا وعدہ کرنے والی طلسماتی دُنیا کے دام میں پھنستا چلا جاتا ہے اور بلآخر ہر قسم کی پابندیوں اور پہرا توڑ ڈالنے اور اس جبلت کے حیوانی ممکنات وحشیانہ نمود پر منتج ہوتا ہے۔ دوسرے سوال پر میرے اندر کا مذہبی فرد پوری شدت سے نفی میں سر ہلاتا ہے اور کہتا ہے ہر گِز نہیں، اگر اس کا حلیہ مذہبی ہوا بھی تو وہ فرد سماجی عمل میں مذہبی اثر پذیری کی پیداوار ہر گز نہیں ہو سکتا۔

ازبسکہ میں فکر جدید کا پروردہ بھی ہوں، میری شخصیت کی صورت گری میں عصر حاضر کا حصہ بھی اتنا ہی ہے جتنا پرکھوں سے ورثے میں ملنے والے روجواں اور اقدار کا، فکر جدید پر یہ ذمہ داری عائد کرنا مجھے کلین چٹ فراہم نہیں کرتا بلکہ مجھے اب جدید فکر کے نمائندے کی حیثیت سے کٹہرے میں طلب کیا جاتا ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ اس سماج میں جنسی جبلت کی تہذیب کا ذمہ دار کون ہے؟ اورکیا میں مجرم کا ایک پینٹ شرٹ میں ملبوس جدید تعلیم یافتہ اور ممکنہ طور پر انگریزی بول سکنے والے ایک فرد کی حیثیت سے تصور کر سکتا ہوں؟

میں ایسے ہی فخر کے ساتھ دعوی کرتا ہوں کہ انسان کی جنسی جبلت کی تہذیب میری ذمہ دا ری ہے اور میں زمانہ قدیم کی فرسودہ روایات کے مقابلے میں کہیں نئی اور موثر پریکٹس رکھتا ہوں جو فطرتِ انسان سے ہم آہنگ ہے۔ اس جبلت پر بےجا اور ناروا پابندیاں عائد کرنے کی بجائے اسے آزادی اور تازگی کا احساس بخشتی ہےاسی آزادی کے توسط سے اسے کچھ ذمہ داریوں اور حدود و قیود کا پابند بناتی ہے جنہیں وہ اپنی آزادانہ حیثیت میں نبھانے کا پابند ہے، بھلے رضاکارانہ طور پر ہو، بھلے قانونی جبر کے ذریعے۔ لیکن میں اس حیثیت سے بھی مصر ہوں کہ یہ ناکامی میری ناکامی نہیں ہے۔ یہ مذہب کی ناکامی ہے، سماج کی ناکامی ہے، ا ن دونوں نے مل کر اس جبلت کو جیسی گھٹن اور کڑی پابندیوں کے دائرے میں قید کر رکھا ہے، اس کے خلاف بغاوت اس جبلت کی عادت ہے۔ یہ جبلت اس گھٹن کے خلاف کڑھتی اور مسلسل آمادہ بغاوت رہتی ہے۔ ایک بغاوت پر اُتری قوت میرے بس میں نہیں، اسے وہ آزادی فراہم کر دی جائے جو میری اقدار اور آئیڈیلز کا فریم ورک ہے تو میں اس کی تہذیب کر پاؤں لیکن جب تک مذہب اس جبلت پر مسلط ہے میرے بس میں کچھ بھی نہیں۔ دوسرے سوال پر میرے اندر کا جدید فکر کا پروردہ اسی شدومد کے ساتھ نفی میں سر ہلاتا ہے اور کہتا ہے ہر گِز نہیں۔ اگر اس کا حلیہ ماڈرن ہوبھی تو وہ کسی طور سماجی عمل میں جدید فکر کی اثر پذیری کی پیداوار ہر گز نہیں ہو سکتا۔

میری شخصیت کے خد و خا ل کی صورت گری کرنے والے دونوں فکری دھارے اس فرد کو مسترد کر چکے ہیں اور اس یقین پر پختہ ہیں کہ مجرم ہم میں سے نہیں ہو سکتا، دونوں کے دلائل جاندار ہیں جنہیں درست تسلیم کیا جانا مناسب ہے، لیکن دونوں بیک وقت درست کیسے ہو سکتے ہیں؟

استغاثہ میری دونوں حیثیتوں سے پوچھتا ہے کہ یہ کیوں نہ فرض کیا جائے کہ دونوں فکری دھارے سماج کے اندر جس طرح باہم برسر پیکار ہیں اور ہمہ وقت ایک دوسرے کو مطعون کرنے اور الزام تراشی اور اپنی ناکامی کا ذمہ ایک دوسرے پر دالنے میں مصروف ہیں، اس نے سماج کے اندر ایک ایسا فکری خلا پیدا کر رکھا ہے جو مذہبی اور لبرل کے مابین سر زمین بے آدم کی حیثیت رکھتا ہے، جو نہ اس طرف ہے نہ اُس طرف۔ فرد کی شخصیت کا جو بھی پہلو ، جو بھی انسانی جبلت اس خلا کی لپیٹ میں آجائے، اس کے تمام تر معانی کو، تہذیب و انضباط کے اصولوں کو یہ خلا نگل جاتا ہے اور یہ جبلت کسی تصور، کسی آئیڈیل، کسی ضابطے کے معنوی پیرہن سے محروم ایک بے معنی چنگھاڑ یا غراہٹ کا روپ دھار لیتی ہے، اس خلا میں چاروں طرف گونجتی اپنے آپ سے ہی الجھتی اور ٹکراتی پھرتی ہے۔ جس طرح ایک ناسور کے اندر ہر قسم کے جراثیم اور انہیں پروان چڑھانے والی پیپ پنپتی رہتی ہے اسی طرح یہ خلا اس معاشرے کا ناسور ہے جس کے اندر بدترین انسانی ممکنات بے ہنگم انداز میں اپنی نمود کیے جاتے ہیں اور ناسور کے زہریلے اثرات کی مانند پورے سماج کے وجود میں پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ مذہبی اور لبرل کے مناشقے میں الجھا ایک فرد فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کیا درست ہے اور کیا غلط اور جبلت کے تقاضے اس الجھن کے پیچھے کھولتے، کلبلاتے بلاآخر ایک زوردار بھبھاکے کے ساتھ پھٹ نکلتے اور اپنی خام، وحشیانہ شکل میں فرد کے شعور پر غلبہ حاصل کر لیتے ہیں۔

استغاثہ پوچھتا ہے کہ مذہبی اور لبرل کی لڑائی کھیلتے کبھی تم نے سوچا کہ بزعم خویش تقدیس کے علمبرداروں اور انسان دوستی کے دعویداروں کی یہ لڑائی سماج پر کیا اثر مرتب کر رہی ہے؟کیا مذہبی اور لبرل دونوں ایک لمحہ کے لیے تصور کر سکتے ہیں کہ ہم دونوں اس سانحے کے برابر ذمہ دار ہیں۔ ہم نے اپنی اناؤں کی جنگ میں معاشرے کو میدانِ کارزار بنا رکھا ہے اور یہ ہمارے تقدیس، پاکیزگی اور انسان دوستی، شخصی آزادی کے بھاشن ہیں جو آخرش کار ایسے سانحات اور ایسے افراد پر منتج ہو رہے ہیں؟ نہ ہی ایک مذہبی شخص اور نہ ہی فکر جدید کے ایک پرورد ہ کی حیثیت سے میں اس سوال کا سامناکرنے کو تیار ہوں۔ حالانکہ وہ فرد نامعلوم ہے اور اس جرم کے حقیقی اسباب و عوامل بھی، ہم محض ایک نظری سطح پر یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کونسے عوامل ہیں جو انسان کو ایسی پستی، اسفل سافلین کے اس درجے پر دھکیل دیتے ہیں۔ کیا ہم ایک نظر ی سطح پر بھی اس امکان کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ شاید وہ مجرم اسی فکری خلا کا پروردہ ہو اور اس کے وحشیانہ فعل کی نمود اسی فکری خلا میں ہوئی ہو جو تقدیس / انسان دوستی کے دعویداروں کی باہم معرکہ آرائی نے پیدا کر رکھا ہے؟ میری شدید خواہش ہے کہ دونوں میں سے ایک حیثیت پر سارے الزام کا ملبہ ڈال کر بے فکر ہو جاؤں۔ لیکن یہ عدالت میرے ضمیر کی ہے، روز مرہ زندگی اور سوشل میڈیا پر جس کج بحثی کے استعمال سے میں ایسے سوالوں اور احساس جرم سے صاف بچ نکلتا ہوں، اس کج بحثی کو یہاں بروئے کار لانے کی کوشش کروں تو من کی دنیا میں ایسا شور برپا ہو گا کہ راتوں کی نیندیں اڑ جائیں۔ یہاں سچائی کا ادراک کا م دیتا ہے اور اس کا اعتراف، باقی سب حیلے یہاں بے اثر ہیں، ناکام ہیں۔ کیا مجھے کم از کم ایک بار سچائی سے اعتراف نہیں کر لینا چاہئے کہ چاہے میں خود کو مذہبی کہلاؤں، چاہے لبرل، اس نامعلوم فرد کے مجرم بننے میں میرے اپنے تیقنات اور آئیڈیلز کے بتوں کی اندھی پرستش کا ہاتھ ہونا عین ممکن ہے؟

جاری ہے۔۔۔۔۔۔ دوسرا حصہ اس لنک پر ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. استغاثہ پوچھتا ہے کہ مذہبی اور لبرل کی لڑائی کھیلتے کبھی تم نے سوچا کہ بزعم خویش تقدیس کے علمبرداروں اور انسان دوستی کے دعویداروں کی یہ لڑائی سماج پر کیا اثر مرتب کر رہی ہے؟کیا مذہبی اور لبرل دونوں ایک لمحہ کے لیے تصور کر سکتے ہیں کہ ہم دونوں اس سانحے کے برابر ذمہ دار ہیں۔ ہم نے اپنی اناؤں کی جنگ میں معاشرے کو میدانِ کارزار بنا رکھا ہے اور یہ ہمارے تقدیس، پاکیزگی اور انسان دوستی، شخصی آزادی کے بھاشن ہیں جو آخرش کار ایسے سانحات اور ایسے افراد پر منتج ہو رہے ہیں؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: