خاندان کا اخلاق، جنسی آگاہی اور اسلام : فواد رضا

0
  • 61
    Shares

میری شادی ہوئی تو مجھے ایک کتاب تحفے میں ملی جس کا عنوان تھا “خاندان کا اخلاق”.. کتاب کچھ اسی نوعیت کی تھی جیسا کہ تحفۃ النکاح ہوا کرتی ہے جو کہ عموماً سب ہی کو شادی کے موقع پر ملا کرتی ہے۔۔ یہ اور بات ہے کہ اسے پڑھتا کوئی نہیں ہے۔۔۔

خیر تو ہمیں جو کتاب ملی وہ ذرا مفصل تھی اس میں زوجین کے باہمی حقوق و فرائض کے علاوہ بچوں کی مکمل تربیت کا پلان بھی شامل تھا۔۔ اور ہماری بدقسمتی کے ہم نے وہ کتاب پڑھ بھی لی۔۔۔ کچھ باتیں پہلے سے معلوم تھیں تو کچھ واقعی انکشاف ثابت ہوئیں بالخصوص اسلام بیوی کو جو حقوق دیتا ہے وہ پڑھ کر تو سر ہی چکرا گیا۔۔ خیرسے میں نےآج تک کسی متقی ترین شخص کو بھی وہ تمام حقوق ادا کرتے نہیں دیکھا۔۔۔

کتاب میں جہاں بہت سی دیگرکام کی باتیں تھیں وہیں بچوں کی تربیت کے حوالے سے بھی خاطر خواہ مواد اس میں شامل کیا گیا ہے اور احادیث کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے کہ والدین پر صرف نان نفقے کی نہیں بلکہ عمدہ تربیت، امور انسانی و مذہبی سے مکمل آگاہی، بہترین تعلیم اور بالغ ہوتے ہی ان کی شادی کے انتظامات کرنا بھی والدین کے فرائضِ منصبی میں شامل ہے۔۔۔

خاندان کا اخلاق نامی یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ والدین پر لازم ہے کہ وہ بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے شفقت سے پیش آئیں اور انہیں احترام کا عملی درس دیں۔۔

بچوں کی تربیت اور زوجین کے جنسی تعامل کے باب میں لکھا گیا ہے کہ بچوں کے جاگتے میں اس عمل سے اجتناب کریں کہ اس سے بچوں میں تشویش پیدا ہوتی ہے اور وہ ان رموز سے آگاہی چاہتے ہیں۔۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو سال سے زائد عمر کے بچوں کے سامنے والدین بے لباس نہ ہوں اور نہ ہی کسی ایسے شخص کو ان کے سامنے آنے دیں جو لباس کے معاملے میں غفلت برتتا ہو۔۔

کچھ باتیں پہلے سے معلوم تھیں تو کچھ واقعی انکشاف ثابت ہوئیں بالخصوص اسلام بیوی کو جو حقوق دیتا ہے وہ پڑھ کر تو سر ہی چکرا گیا۔۔

طہارت سے متعلق کہا گیا ہے کہ بچے جیسے ہی تین سال کی عمر میں پہنچیں، انہیں طہارت کا طریقہ سکھانا شروع کریں اور انہیں ان کی شرم گاہ کی حفاظت کی حفاظت کے بارے میں آگاہی فراہم کریں کہ کسی بھی غیر شخص حتیٰ کہ والدین سے بھی اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

ایک مقام پر کہا گیا ہے کہ بچوں کو رشتوں کی تمیز سکھائیں۔۔ محرم اور نا محرم کے فرق سے آشنا کریں۔۔ اور اپنے پرائے کا فرق بھی سکھائیں۔۔

یہی کتاب آگے چل کر کہتی ہے کہ کم عمر بچوں کو ایک بستر میں سلانے سے احتراز برتنا چاہیے خواہ دونوں لڑکیاں یا دونوں لڑکے ہی کیوں نہ ہوں، ہر حال میں دونوں کے کمبل الگ ہوں۔۔

بات پہنچتی ہے سنِ بلوغت پر تو مصنف فقہی حوالوں کے ساتھ لکھتے ہیں کہ جیسے ہی بچے سنِ بلوغت کو پہنچیں انہیں سب سے پہلے نماز کا عادی بنایا جائے اور اس سلسلے میں انہیں طہارت اور بلوغت کے بنیادی مسائل سے آگاہ کیا جائے۔۔ اب جتنے افراد بلوغت کے مسائل سے واقف ہیں، وہ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ ان کے مسلک میں بچے کے بالغ ہونے کی کیا عمر متعین ہے اور کیا وہ بچوں سے عمر کے اس حصے میں بلوغت جیسے معاملات پر گفتگو کرنے کی ہمت خود میں پاتے ہیں۔

اور جیسے ہی بچے عاقل و بالغ ہو جائیں والدین پر لازم ہے کہ اپنے بچے کی شادی کا انتظام کریں یعنی صرف روٹی کپڑا ہی نہیں بلکہ وہ جان جسے آپ دنیا میں لائے ہیں اس کی جنسی ضروریات پوری کرنا بھی آپ ہی کے فرائض میں شامل ہے۔۔۔

اب اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں تو جو مذہبی پبلشر آپ کو پسند ہے اس سے رابطہ کریں اور بچوں کی تربیت کے موضوع پر کوئی کتاب حاصل کریں ایسے ہی سخت احکامات آپ کو ملیں گے اور مجھے یقین ہے کہ تمام مسلک ان امور پر کم و بیش متفق ہوں گے۔

اب میں دونوں ہاتھ جوڑ کر ان لوگوں سے درخواست کروں گا کہ جو سیکس ایجوکیشن کا نام سنتے ہی یوں اچھلتے ہیں جیسے بچھو پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔۔۔ مجھے سمجھا دیں کہ ان نکات میں سے کون سا ایسا نکتہ ہے جو سیکس ایجوکیشن میں شامل نہیں ہے بلکہ بہتر ہوگا اگر میں یہ کہوں کے سیکس ایجوکیشن کے اصول مرتب کرنے والوں نے کون سا نکتہ ہے جو اسلام کے سنہرے تربیتی اصولوں سے نہیں لیا۔۔ آپ کو لفظ سیکس پسند نہیں تو آپ کا اس کا نام بچوں کی اخلاقی تربیت رکھ لیں لیکن صاحب یہ جان لیں کہ یہ سب باتیں بچوں کو احتیاط کے ساتھ سکھانا والدین کے فرائض میں شامل ہے۔۔۔

اگر آپ اپنے فرض سے ناواقف ہیں یا شرم کی وجہ سے بات نہیں کرنا چاہتے تو یہ غلطی آپ کی ہےلفظ سیکس کی نہیں، اور نہ ہی دینِ اسلام کی طرف سے پیش کردہ تربیتی اصولوں کی۔۔۔ آپ اپنی ذمہ داری سے اگر نابلد ہیں اور اسی میں خوش ہیں تو پھر یہ ذمہ داری اسکولوں کو ادا کرنے دیجیے بصورت دیگر معاشرے میں موجود مکروہ عوامل آپ کے بچوں تک وہ سب کچھ انتہائی منفی انداز میں پہنچارہے ہیان جس کے بارے میں ہم سے پچھلی نسل نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ یا خود تربیت کریں یا اسکولوں کو کرنے دیں، اگر آپ اپنی ذمہ داریوں سے یونہی منہ موڑیں رکھیں گے تو معاشرے میں شرمناک حد تک عبرت انگیز واقعات پیش آتے رہیں گے جن کا سدباب کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوگا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: