دہشت گردی کے خاتمہ میں مذہبیین کا کردار: باسط حلیم

0

پاکستان کو خارجی اور داخلی طور شدت پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔ داخلی طور پر شدت پسندی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب مسلکی نزاع ہے جس کی بنیاد پر ہزاروں افراد طرفین سے قتل کیے گئے۔ داخلی فساد سے نکلا جاسکتا ہے۔ اگر مذہبیین مخلص ہیں تو بلا امتیاز چند ضروری اقدام سب کی طرف سے اٹھائے جانے چاہییں۔

۔ امن عامہ اور اجتماعی مفاد کے لیے مذہبیین کو واضح نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔ رواداری کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی ہے کہ آپ دوسرے کا حقِ آزادی مانتے ہوئے اسے اپنے نظریات کے مطابق زندگی گزارنے دیں۔ دوسرا معنی ہے کہ آپ امن کے لیے مصنوعی رواداری اوڑھ لیں دوسرے کے مذہب، مسلک اور نظریہ کو سراہیں، صحیح سمجیں، صحیح کہیں اور اپنے مذہب پر چلتے رہیں۔ مصنوعی روادی پاکستان کے مذہبیین نے اوڑھ لی ہے۔ اس مصنوعی رواداری کو بین المذاہب ہم آہنگی اور تقارب ادیان کا نام دیا جارہا ہے۔ ٹی وی پروگرامز سے لے کر سوشل میڈیا تک اسی رواداری کا اظہار ہوتا ہے۔ دل کچھ اور کہتے ہیں زبان کچھ اور۔ نتیجہ دلوں میں منافقت بڑھ رہی ہے جو ایک دن لاوا بن کے پھوٹے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی رواداری کو معاشرتی مصالح کی بنیاد قراردیا جائے۔ اسلام میں آزادی ہے کہ آپ کسی خاص نظریہ حیات کو مانیں۔ آپ علمی انداز میں اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھیں اور دوسرے کی آزادی کا خیال بھی رکھیں۔ مکالمہ کی فضا بنائیں۔

۔ جو چیزیں بالاتفاق غلط، ناجائز اور حرام ہیں انہیں چھوڑا جائے۔ ہر مسلک اپنے تئیں دیکھے اور اپنے متبعین کو ہدایت کرے کہ فلاں کام درست نہیں اسے چھوڑدیا جائے۔ مفتی منیب الرحمان نے اس موضوع پر کالم بھی لکھا تھا، اہل سنت کو ہدایت کرتے ہو ئے کہا کہ درباروں پر غیرشرعی افعال کا بائیکاٹ کردیں۔ جب ہر مسلک اس نہج پر سوچے گا تو یقیناً اختلافات کم ہوں گے۔ نیز جن احکام میں اتفاق ہے اُن پر عمل کر کے اختلاف کی فضا ختم کی جائے۔

اگر صرف پہلے سے موجود آئین کوصحیح طرح لاگو کر دیا جائے داخلی طور پر دہشت گردی بہت حدتک ختم ہوجائے گی۔

۔ مفادِعامہ کے لیے اپنے اپنے معبد خانوں تک محدود ہو جائیں۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعزیہ تک، جو بھی پروگرام ہو وہ اپنے خاص ماحول میں کریں تاکہ سیکورٹی مسائل بھی پیدا نہ ہوں اور آپ کی آزادی میں بھی دوسرا مُخِل نہ ہو۔ لڑائی شروع ہی تب ہوتی ہے جب آپ اپنے گھر سے نکل کر دوسرے کو گالی دیتے ہیں۔ اس امر کا ایک اور فائدہ بھی ہو گیا کہ جو غیرترقیاتی فنڈ سیکورٹی پر خرچ ہوتا ہے وہ صحت اور تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں ہر خرچ ہوگا جس سے پوری قوم مستفید ہوگی۔

۔ بہت سے اختلافات کی وجہ 1973کے آئین کی اسلامی اور انتظامی دفعات پر عمل نہ ہونا ہے۔ قانون کی بالادستی کو بلا امتیاز بحیثیت قوم مانیے، ایمپلئ فائر ایکٹ پر سب کے سب عمل کریں۔ قانون کو بالائے طاق نہ رکھیں۔ اس سے مسالک کے درمیان نفرت نہیں رہے گی۔ حکومتیں بھی قانون کا اطلاق سب ہر یکساں کریں۔

۔ ماورائے عدالت، ماورائے قانون سزا اور قتل کی حصلہ شکنی کریں۔ لوگوں میں شعور پیدا کریں اگر آپ کو کسی پر اعتراض ہے تو اس کے خلاف عدالت میں جاؤ، قانونی چارہ جوئی کرو، ملزم کو صفائی کے تمام مواقع دو۔ ملزم مجرم ہونے کے باوجود اگر عدالتی نظام سے بچ بھی جائے گا تو آخری عدالت عنقریب اس کا حساب کرلے گی لیکن دنیا میں امن رہے گا۔

۔ تمام لوگوں کی ترجیح سویلیئن بالادستی ہونی چاہیے، پاکستان کے تمام طبقات کا احتساب یکساں ہونا چاہیے، جب انصاف ہو گا تو قوم یکجہت ہوگی، اگر بے انصافی ہوتی رہی، قانون یکساں نہ ہوئے تو ردعمل کی قوتیں امن قائم نہیں ہونے دیں گی نیز مجبور و محروم اور ماتحت لوگ اسلام اور ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار بنتے رہیں گے۔

۔ ہر قسم کے مناظروں پر پابندی عائد کی جائے، ایمپلی فائر ایکٹ اور سائبر کرام قانون کو فعال کیا جائے، عوام میں شعور پیدا کرنے کے لیے معتبر علمائے کرام کو چینلائز کیا جائے تاکہ اصلاح و تنقیح کا عمل چلتا رہے اور شدت پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہوتی رہے۔

۔ جن فقہی معاملات سے متعلق قانون میں صراحت ہے ان معاملات میں علمااور مدارس پر پابندی عائد کردیں کہ وہ فتوی نہ دیں خصوصاً نکاح و طلاق وغیرہ کے معاملات تب میچور ہوں گے جب قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔

قارئین! اگر صرف پہلے سے موجود آئین کوصحیح طرح لاگو کر دیا جائے داخلی طور پر دہشت گردی بہت حدتک ختم ہوجائے گی۔ ہر آدمی اگر مثبت سوچے اور ان تصریحات کے مطابق اپنی سوچ بدل لے تو انشاأللہ مسائل کم ہوں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: