ہماری ذمہ داری ۔ ۔ ۔ عبدالوہاب وابی

0
  • 30
    Shares

“زینب” قتل کردی گئی، اسے دفنا دیا گیا، اس کے گھر والوں کے سوا کچھ تو اسے بھول چکے اور بقیہ نے چند دنوں میں بھول جانا ہے۔

وہ اگر یاد رہے گی تو اس “تڑپتی ماں” کو جس نے اسے نو مہینے اپنی کوکھ میں پالا اور پھر اسے دنیا میں لانے کا سبب بنی۔

اس “سسکتے باپ” کو جس نے اپنی گڑیا کیلئے سینکڑوں خواب دیکھے تھے۔

ان “بلکتے بھن بھائیوں” کو جو اس کی معصوم شرارتوں پر مسکراتے تھے۔

لیکن ہمارے ذمے کیا ہے؟؟

کیا ہر بار کی طرح اس بار بھی وقتی ابال کے بعد لمبی خاموشی تاوقتیکہ کوئی نئی زینب کسی درندے کا نشانہ بنے؟؟؟

دنیا کا کوئی ملک اس قسم کے واقعات سے خالی ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا، چاہے وہ صف اول کے تعلیم یافتہ ممالک میں سے ہو یا تیسری دنیا کا کوئی ترقی پذیر ملک۔

لیکن ان میں اور ہمارے یہاں میں کچھ بنیادی فرق البتہ ضرور ہیں۔ وہ لوگ واقعہ نہیں بلکہ اس کے عوامل پر غور کرتے ہیں، معاملے کی تہہ تک پہنچتے ہیں پھر مجرم کو سزا دیتے ہیں۔

انکی عدلیہ اور اعلی حکام اس معاملے پر باقاعدہ کئی کئی گھنٹے غور و خوض کرتے ہیں اور پھر جا کر مستقبل کیلئے محفوظ اور کارگر حکمت عملی طے کی جاتی ہے۔

اس کے برعکس ہمارے یہاں وقتی طور پر اچھل کود مچتی ہے، وزراء سے لیکر عام آدمی تک لمبی لمبی ڈینگیں مارتا ہے، کچھ روز ٹی وی، اخبار اور سوشل ورکرز سمیت ایرے غیرے سب روتے دھوتے ہیں اور پھر صحرا کی مانند ایک لمبا سکوت چھا جاتا ہے۔

ہمارے حکمران تو ان “چھوٹے واقعات” کا نوٹس تک نہیں لیتے، آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

ہمارے اعلی حکام کا کام صرف ملک کو لوٹنا اور اپنی جیبیں بھرنا جبکہ پولیس کا کردار حکمرانوں اور امراء کی لونڈی کے سوا کچھ نہیں۔ سو ان سے امید لگانا نر سے بچے کی پیدائش کا مطالبہ کرنے جیسا ہے۔

لیکن کیا سارا قصور حکمرانوں کا ہے؟؟؟

کیا ہماری خود کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟؟

مشہور بات ہیکہ سانحات یکلخت نہیں ہوتے بلکہ برسوں پہلے ان کی تیاری جانے یا انجانے انداز میں شروع ہو چکی ہوتی ہے۔

آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آج ایک شخص کے دل میں اچانک خیال آ گیا اور اس نے اٹھتے ہی کسی عورت کی عصمت دری کرڈالی؟؟

نہیں نہیں بلکہ پہلے معاشرہ اسے اس کام کیلئے تیار کرتا ہے، پھر اسے دلیر بناتا ہے، اس کے بعد جا کر وہ شخص کسی کی چادر پر ہاتھ ڈالتا ہے۔

اگر معاشرہ اس شخص کا ساتھ نہ دے تو وہ شخص اس طرح کا کوئی بھی عمل کبھی نہیں کر سکتا۔

بات تھوڑی کڑوی ہے مگر سچ ہیکہ ہم بذات خود ایسے واقعات میں بالواسطہ ملوث ہوتے ہیں۔

فرض کیجیئے اگر اس قاتل کی تربیت اچھے اصولوں پر کی گئی ہوتی تو کیا پھر بھی وہ یہ ظلم کرتا؟؟

اگر اسے ضروری تعلیم دی جاتی تو کیا وہ یہ عمل کر گزرتا؟؟

اگر جنسی جذبات کو مشتعل کرنے والے ٹی وی پروگرامز، ڈرامے اور سائٹس تک اسکی رسائی نہ ہوئی ہوتی تو کیا پھر بھی ممکن تھا کہ وہ انسان سے درندہ بنتا؟؟

اسے اگر حکومت یا قانون کا ذرہ برابر بھی ڈر ہوتا تو کیا وہ یہ قیامت بپا کرتا؟؟؟

ان سب سوالوں کا جواب نہیں کی صورت میں ہی آتا ہے۔

جس کا لازمی مطلب یہ نکلتا ہے کہ عدم تعلیم و تربیت، قانون کی پکڑ سے بےخوفی اور روز بروز پھیلتی بےحیائی ہی اصل و بنیادی عوامل ہیں جو اس واقعے کے پیچھے کارفرما ہیں۔

لیکن ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس سب کے خلاف آواز اٹھا سکے۔

ہمیں نہ تو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی روزبروز عام ہوتی فحاشی و عریانی کا ملال۔

ہمیں نہ ارباب اقتدار کے خلاف کھڑا ہونے کا خیال آتا ہے اور نہ قانون کی آزادی کا۔

ہم صرف کچھ وقت کے لئے جذباتی ہو جاتے ہیں اور پھر سے وہی سردمہری جس کے ہم بحیثیت قوم عادی بن چکے ہیں۔

اللہ معاف کرے ہم تو اس قدر گر چکے ہیں کہ اس طرح کے سانحات پر بھی ہم سیاست سے باز نہیں آتے۔

دوسری و سب سے اہم بات اولاد اور والدین کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے۔

ہماری اولاد ہم سے کتنی قریب ہے؟؟ ہمیں ان کے مسائل کا علم ہے کہ نہیں؟؟

تقریبا نوے فیصد والدین اپنی اولاد کے اکثر کاموں سے کلی طور پر بےخبر ہوتے ہیں یا نظرانداز کر جاتے ہیں۔

ہم شرم کرتے ہیں کہ اپنی اولاد سے جنسیات کے بارے میں کوئی بات کریں حالانکہ ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے بچے کی رسائی موبائل کے ذریعے فحش سائٹس تک بآسانی ہو رہی ہے۔

ظاہر سی بات ہے جب آپ کے کرنے کے کام آپ سرانجام نہیں دیں گے تو وہی کام کوئی اور کرے گا لیکن اس کا انجام انتہائی بھیانک ہو گا۔

اگر آپ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کا بچہ ایسی کسی حرکت کا مرتکب نہیں تو آپ دنیا کے سب سے بےوقوف والدین ہیں۔

یاد رکھیے آپ کو خود ہی اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ جنسی تربیت بھی کرنی ہو گی۔ آپ نے ہی انھیں گڈ اور بیڈ ٹچ کے بارے میں بتانا ہے۔

بات جہاں تک باقاعدہ سیکس ایجوکیشن کی ہے تو اس کی نہ پاکستان میں ضرورت ہے اور نہ ہی پاکستان اسے برداشت کرنے کا متحمل ہے۔

یہ سب باتیں صرف ٹی وی پروگرام تک ہی اچھی لگتی ہیں۔

لہذا حکمرانوں و قانون سے شکوے مت کیجیئے اور نہ ہی ان سے امیدیں باندھیے بلکہ اپنے حصے کا چراغ جلائیے، کم سے کم آج نہیں تو آنے والے وقتوں میں تو ہمارے بچے محفوظ ہوں گے۔ بلا خوف و خطر آزاد گھوم پھر سکیں گے، پھر سے کوئی زینب کسی درندے کی بھینٹ چڑھنے سے بچ سکے گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو “زینب بھی بھت ہیں اور درندے تو ہم اتنے پیدا کر چکے کہ ختم ہونے کیلئے بھت لمبی مدت چاہیئے”۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: