لڑکیاں فیس بک پہ کیوں آتی ہیں؟ دس مشورے : طاہر عمیر

0
  • 154
    Shares

“آپ اندازہ نہیں لگاسکتے کہ میں کس کرب میں زندگی گزار رہی ہوں”
“میرے گھر والے مجھے پسند نہیں کرتے”
“باقی بہن بھائیوں کے مقابلے میں میرے والدین کا رویہ مجھ سے الگ ہے”
“جتنی کئیر وہ میری بڑی بہن کی کرتے ہیں اتنی میری نہیں۔۔ جتنی آزادی اسے ہے اتنی مجھے نہیں دی جاتی”
“میری بڑی بہنیں مجھے حقارت سے بلاتی ہیں”
“میرا بھائی اپنی دنیا میں مست ہے اسے گھر کی یا بہنوں کی کوئی فکر نہیں”
“مجھے کوئی چیز میری خواہش کے مطابق نہیں ملی”
“کوئی میرا خیال نہیں رکھتا”
“لوگ اکثر میری حساسیت کا فائدہ اٹھاتے ہیں”
“ایک لڑکا ہے جس نے مجھے زندہ رہنا سکھایا۔۔ اس نے میری سوچ بدل دی۔ زندگی بدل دی۔ آج میں جو بھی ہوں اسی کی وجہ سے ہوں۔ لیکن پھر وہ مجھے چھوڑ گیا”
“میں اپنے ماں باپ کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتی ہوں لیکن کر نہیں پاتی کیونکہ مجھ پر بہت ساری پابندیاں ہیں”
“انہوں نے میری شادی طے کردی لیکن میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں”
“میرے گھر والے اس لڑکے کے لئے راضی نہیں ہیں۔ اور وہ میرے بغیر خودکشی کرلے گا۔ پہلے بھی دو بار کوشش کرچکا ہے۔”
“میں اسے بھول جانا چاہتی ہوں۔ وہ جہاں رہے بس خوش رہے۔ اور مجھے بھلاکر اپنی خوشیوں بھری زندگی کا آغاز کرے”
“میں مرجانا چاہتی ہوں”
“کوئی میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا”
“مجھے لگتا ہے میں بہت گھٹن میں ہوں مجھے آزادی چاہئے”
“زندگی ہماری خواہش کے مطابق کیوں نہیں ہوتی۔ خدا کو ہم پر رحم کیوں نہیں آتا؟”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اور ان جیسے کچھ اور فقرے ہوں گے۔
ان لڑکیوں کی تعداد کم نہیں ہے۔۔ جو ایک اجنبی سے اپنے دکھ درد کی باتیں کہنے آتی ہیں۔ پہلے اور پلیٹ فارم اور وسائل اور مواقع میسر تھے اب سوشل میڈیا پر زیادہ ہے۔
میں سمجھتا ہوں یہ اچھے کردار کی معصوم لڑکیاں ہیں۔ لیکن یہ اپنے کرب کا احوال سنانے یا اپنے مسائل کا حل لینے کے لئے ایک اجنبی کے پاس کیوں آتی ہیں؟ یہ اسے اپنے گھر کے پرائیویٹ معاملات کے بارے میں کیوں بتاتی ہیں؟ یہ اپنے والدین یا بہن بھائیوں سے ناراضگی کا ذکر ایک اجنبی سے کیوں کرتی ہیں؟
شاید۔۔۔۔ ایک تو پریشان ہیں دوسرا کم عمر۔۔ (نیت کا احوال رب جانتا ہے)

ان میں اکثریت ایسی بھی ہے جو اپنے مسائل کا “حل” ڈھونڈنے نہیں آتی بلکہ یہ ایک ایسے ہائیڈ پارک کی تلاش میں آتی ہیں جہاں یہ اپنے دل کی بھڑاس نکال سکیں یا پھر انہیں کوئی ایسا درکار ہے جو انہیں مظلوم سمجھ کر ان کے دکھوں کا اندازہ کرسکے۔

مگر ان میں اکثریت ایسی بھی ہے جو اپنے مسائل کا “حل” ڈھونڈنے نہیں آتی بلکہ یہ ایک ایسے ہائیڈ پارک کی تلاش میں آتی ہیں جہاں یہ اپنے دل کی بھڑاس نکال سکیں یا پھر انہیں کوئی ایسا درکار ہے جو انہیں مظلوم سمجھ کر ان کے دکھوں کا اندازہ کرسکے۔
“آپ ایک رائٹر ہو۔آپ نے کتابیں پڑھی ہیں۔ بڑا علم ہے۔ آپ تو انسانی نفسیات کو سمجھتے ہو۔ آپ میری بات سمجھو گے۔ آپ میرے دکھ کو سنیں”
جب کہ ادیب بچارہ خود اپنے یوٹوپیا میں رہتا ہے۔۔ نصیحتوں کی زنبیل لئے۔۔ لفاظی سے رنگ بھرنے والا۔۔ لیکن سدا کا نکما اور بے عمل انسان۔ آپ کا مسئلہ اگر نفسیاتی ہے تو آپ کو باقاعدہ معالج کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کا المیہ احساس کی حد تک ہے تو آپ کو خود اس کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔

پھر ایک مسئلہ یہ ہے کہ آپ اپنے حالات کی مکمل تصویر نہیں دیکھنا چاہتیں۔ صرف اسی اینگل کو سچ مانتی ہیں جو آپ کے سامنے ہے۔ اس تصویر کو کسی اور رخ سے دیکھنا چاہتی ہیں نہ کسی اور نظر سے۔اپنے آپ کو دوسروں کی نظر اور ان کے مقام سے دیکھنے کی کوشش بھی بہت مفید ہوسکتی ہے۔
میں نے زیادہ تر ایسی لڑکیوں کو بھی سنا ہے جن کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے نالاں ہیں۔
یہ بظاہر عجیب اورکافی سیرئس مسئلہ ہے۔ مگر یہ زیادہ تر پیاز کے چھلکے جیسا ہوتا ہے۔ غلط فہمی کی پرتیں چڑھی ہوتی ہے۔۔ ایک ایک کر کے اتارتے جائو آخر میں کچھ نہیں نکلتا۔

عموما والدین پہلی اولاد سے زیادہ پیار اور لاڈ کرتے ہیں۔ اور آخری سے بھی۔۔ درمیان والے بہت زیادہ لاڈلے نہیں ہوتے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ والدین ان سے نفرت کرتے ہیں۔ بہنوں کے آپس کے معاملات میں بڑی بہن چھوٹی کو تنگ تو کرسکتی ہے لیکن کمتر نہیں سمجھتی۔ بھائی آپ کا کام نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ آپ سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ جیسے بھی ہیں۔۔ لیکن یاد رکھئے آپ کا بھائی وہی ہے جو آپ کے گھر میں ہے۔۔ باپ وہی ہے جو گھر میں ہے۔۔ باہر کا کوئی رشتہ جتنا بھی معتبر ہوجائے ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔۔آپ اپنے سے جڑے ہر رشتے کی جگہ خود کو بٹھا کر دیکھیں۔ ان کی نظروں سے اپنامقام دیکھیں۔ آپ کا گھر اور یہ رشتے آپ کے لئے اور کچھ ہوں یا نہ ہوں مگر تحفظ کی پہلی دفاعی لائن یہی ہیں۔ اپنی دفاعی لائن میں سرنگ بنانے کی حماقت مت کریں۔ اس سے آپ کو خود کمزور ہوں گی۔

(غیرت سے نام پر قتل یا بیٹیوں کو اچھا نہ سمجھنا یہ الگ بحث کے متقاضی ہیں ان پر بہت کچھ لکھا جاچکا۔ یہاں ہم موضوع سے جڑی اہم باتوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ مزید پہلوئوں پر ان شاءاللہ آئندہ بات ہوگی)

میں ان باتوں کے ساتھ یہ وضاحت کرتا چلوں کہ میں سارا ملبہ ان لڑکیوں پر نہیں ڈال رہا۔
میں ایک ایسی لڑکی کو جانتا ہوں جس کا کہنا تھا کہ اس کا باپ اور بھائی اس کے کام نہیں کرتے۔ (چھوٹے چھوٹے کام۔۔ فوٹو کاپی کروانا۔ فیس جمع کروانا۔ بازار سے سامان لانا۔۔ ) اور خود اسے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ تو یہ اپنی ایک دوست کے بھائی سے اپنے کام کروانے لگیں۔ اور پھر ان سے محبت کربیٹھی۔ اور کیوں نہ کرتی اس شخص سے محبت جو اس کے لئے بارش میں بھی بازار جاتا تھا۔ اس کی فیس جمع کروانے بنک کی لائن میں کھڑا رہتا تھا۔ اور اس سے غصے کی بجائے نرمی اور پیار سے پیش آتا تھا۔ اس مثال کا مقصد یہ ہے کہ ان لڑکیوں کے مسائل حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دیگر پہلووں پر بھی توجہ دی جانی چاہئے۔ لیکن ابھی فی الوقت میں صرف وہ باتیں کرنا چاہوں گا جو ان کے بس میں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اس نوعیت کے مسائل میں مبتلا لڑکیوں کے لئے دس اصول مرتب کئے ہیں۔ دراصل یہ اصول بھی نہیں ہیں۔ یہ سجیشن ہیں۔ کچھ اچھے مشورے جو میرے خیال میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔۔انہیں اپنانے سے زندگی میں واضح تبدیلی محسوس ہوسکتی ہے۔ اور یہ باتیں کم و بیش ہر لڑکی کے لئے ہیں۔ ان کے لئے بھی جنہیں ایسے مسائل کا شدت سے سامنا نہیں بھی ہے۔ یہ دس باتیں۔۔ دس قدم ہیں جو آپ طے کرلیں تو خود کو واقعی آگے بڑھتا محسوس کریں گی:

  1. سب سے پہلے اپنے اوپر ترس کھانا بند کریں۔۔ اورہر قسم کے احساس کمتری سے جان چھڑانے کی کوشش کریں۔ اور اپنے متعلق منفی سوچوں سے گریز کریں۔ اپنی آزادی اور پابندیوں کو تسلیم کریں۔ (جو مذہب اور سماج کی طرف سے آپ پر لاگو ہیں)
  2. گھر والوں کی سختیوں یا پابندیوں کو نفرت نہ سمجھیں۔ بجائے ان کی چند طنزیہ باتوں کو لے کر پریشان ہونے کے۔۔ آپ ان کی وہ محبت دیکھیں جو وہ آپ سے کرتے ہیں۔ ماں نے آپ کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ باپ نے کیا کچھ نہیں کیا۔۔ ان کی باتوں کی بجائے ان کے وہ عملی اقدام دیکھیں جو انہوں نے آپ کی محبت میں کئے اور کر رہے ہیں۔
  3. زندگی میں ایک مقصد تلاش کریں۔ کچھ گول سیٹ کریں۔ تعلیم سے لے کر کسی بھی کام تک۔ پھر خود کو اس میں مصروف رکھیں۔ ضروری نہیں آپ کا گول مریخ تک رسائی حاصل کرنا ہی ہو۔ ممکنات کو مقصد بنانا آسانی فراہم کرتا ہے اور اعصاب پر بوجھ بھی نہیں پڑتا۔
  4. دوسرے لوگوں پر انحصار مت کریں۔ اپنے جذبات کے اظہار کے لئے کسی اجنبی سہارے کو تلاش مت کریں۔ اگر آپ سمجھتی ہیں کہ آپ کو اپنے دل کی باتیں کسی سے کہنی ہیں۔ اور کوئی قریبی رشتہ ایسا نہیں ملتا تو ڈائری لکھیں۔ دل کی ساری بھڑاس کاغذ پر نکال دیں۔ اور کبھی خوشگوار موڈ میں اس ڈائری کو پڑھئے گا بھی۔ آپ کو اپنے ہی متعلق بہت کچھ نیا پتہ چلے گا پھر آپ مثبت راستے تلاش کر سکتی ہیں۔
  5. اپنے آپ کو کاموں میں مصروف رکھیں۔۔ پڑھائی۔۔ یا گھر کے کام۔۔ یا کوئی مشغلہ جو آپ کو انگیج کردے۔تاکہ آپ کو زیادہ تنہارہنے کا موقع ملے اور نہ ہی اوور تھنکنگ کا۔
  6. موبائل اور سوشل میڈیا اور ٹی وی ڈراماز پر زیادہ وقت صرف مت کریں۔ اس کی بجائے مطالعہ کی عادت ڈالیں۔ لیکن ناول اور افسانوں کی بجائے آٹوبائیوگرافی ٹائپ کتابیں پڑھیں۔ اور خاص کر ہماری رول ماڈل حضرت عائشہ، حضرت فاطمہ، حضرت مریم اور دوسری مقدس خواتین ہستیوں کی سیرت کا مطالعہ کریں۔
  7. اپنے جذباتی پن اور غصے کو ہی نہیں اپنی حساسیت کو بھی کنٹرول کرنا سیکھیں۔ اس کے لئے ریاضت کرنا ہوگی۔ دھیرے دھیرے عادتیں بدلنا ہوں گی۔ اپنی کسی دوست یا عزیزہ کو اس لئے رول ماڈل نہ بنائیں کہ وہ آپ سے زیادہ ماڈرن یا لبرل یا فیشن پسند ہے۔ کیونکہ اس کے نقش قدم کر چلنے کی چاہ میں آپ اپنی ذات کو بھول کر “اس جیسا” بننا چاہیں گی۔ مگر کوئی انسان دوسرے کی زندگی نہیں جی سکتا۔
  8. چاہنا اور چاہے جانا ہر انسان کی فطرت میں ہے۔ اس سے روگردانی نہ ہوسکتی ہے نہ کرنے کی کوشش کریں۔ بلکہ اس کا رخ صحیح سمت متعین رکھیں۔ چاہنے سے لے کر چاہے جانا تک ایک جذباتی فیصلہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کے لئے ذات کی تعمیر کرنا پڑتی ہے۔ اپنے آپ کو اس قابل بنانا پڑتا ہے کہ آپ چاہے جائیں اور ایسی خوبیاں پیدا کرنا پڑتی ہیں جن سے آپ کسی کو چاہتے ہیں۔ حتی کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے گھر والے آپ سے زیادہ محبت کریں تو آپ کو وہ کام کرنے ہوں گے جو انہیں پسند ہیں۔ یا درکھئے خدا کی محبت ہر محبت پر مقدم ہے تو والدین کی محبت بھی ہر دنیاوہ محبت پر مقدم ہے۔
  9. خود کو مذہب کی طرف مائل کریں۔۔ خاص طور پر قرآن کی تلاوت (بمعہ ترجمہ) کو معمول بنالیں اور ان سورتوں کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں جو خواتین کے متعلق ہیں۔۔خاص طور پرسورہ النساء اور سورہ نور ایک ایسا تحفہ ہے جس سے اگر آپ گوہر مقصود پالیں تو کسی دوسرے سے آپ کو اپنے متعلق کچھ پوچھنے کی حاجت نہیں رہے گی۔اور سب سے بڑی بات آپ کو یہ علم ہوجائے گا کہ جس نے آپ کو تخلیق کیا اس نے آپ کو آپ کے بارے میں کون سا ہدایت نامہ عطا کیا ہے۔
  10. زندگی ہر قدم پر ایک نیا چیلنج دیتی ہے یہ آسان نہیں ہوتا مگر اتنا بھی مشکل نہیں کہ اس کے لیے کے ٹو سر کرنا پڑے۔ “میں ہی کیوں؟” “میرے ساتھ ہی کیوں؟” سے پرہیز کریں۔ “وائے می؟” بجائے “وائے ناٹ می؟” کا رویہ اپنائیے۔

(کوٹ: اللہ نے اپنے پسندیدہ انسان کو نہیں آزمانا تو کس کو آزمانا ہے؟) زندگی کا ہر چیلنج پورا کرنے پڑے گا چاہے وہ آپ کو پسند ہو یا نہ ہو۔ اب یہ آپ پر ہے کہ اسے حوصلے صبر اور برداشت سے پورا کریں یا روتے ہوئے۔ اس سے خلاصی ممکن نہیں۔ اس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اسے کمپلیٹ کیا جائے۔ تو ان چیلنجز کے لئے خود کو تیار رکھیں۔پلان ٹوٹتے رہتے ہیں خواب بکھرتے رہتے ہیں۔ خواہشات ناآسودہ رہ جاتی ہیں۔۔ لیکن اس سے زندگی ختم نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی “خوشی کا انت” ہوجاتا ہے۔ آپ کے اللہ نے آپ سے وعدہ کیا ہے۔۔۔”ہر مشکل کے بعد آسانی ہے”۔۔ یہ انسانی وعدہ نہیں ہے جو ٹوٹ جائے یا کمزور پڑجائے۔۔ یہ خدا کا وعدہ ہے۔ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: