مظلوم زینب اور معاشرہ کے تین طبقات ۔۔ اظہار احمد باچہ

0
  • 25
    Shares

بات معاشرے کی چل پڑی تو آج کل ہمارا معاشرہ زینب کے ساتھ ہوئی بربریت کو لیکر ایک بحث میں مشت و گریباں نظر آرہا ہے۔ اس بحث میں معاشرے کے تین طبقات کے لوگ ہیں۔ بحث کا عنوان معاشرتی اقدار کی پستی ہے اور بحث کا معیار جنسی تشدد کے واقعات کی کڑیوں کی آخری کڑی بے چاری پھول جیسی زینب کے ساتھ ہوئی بربریت کے محرکات اور انکا سدباب ہے۔

یہاں اوپر بیان کردہ تین طبقات میں معاشرے کے دو طبقات وہ ہیں جو باہم مشت و گریباں ہیں۔ اور تیسرا باقی دونوں کو دیکھ اور سُن رہا ہے، کنفیوژن اور کشمکش کا شکار ہے اور شریک جرم ہونے کے غم سے نڈھال ہے۔ دو طبقات جو اصل میں خود کو کھوج لگانے والے اور مسلے کے حل کا منبع سمجھ رہیں ہیں،کافی حد تک خوش وخرم ہیں اور مزے سے ایک نئے واقعے کے انتظار میں ہیں کہ اُسکے باریکیوں اور ٹیکنیکیلٹیز کو مد نظر رکھ کر بارِ ذمہ داری اپنے حریف کے سر ڈالی جائے۔ پرانے واقعات کی یاددہانی کر رہے ہیں اور وہاں رونما ہوئے محرکات کو اپنی بات کی دلیل کے طور پر مزید مظبوط کرتے نظر آرہے ہیں۔۔۔

معاشرے کے دو طبقات وہ ہیں جو باہم مشت و گریباں ہیں۔ اور تیسرا باقی دونوں کو دیکھ اور سُن رہا ہے، کنفیوژن اور کشمکش کا شکار ہے اور شریک جرم ہونے کے غم سے نڈھال ہے۔

پہلا طبقہ قدامت پسند اسلامی گروپ ہیں۔ جنکے دلیل کے مطابق معاشرے کی پستی کی اصل وجہ مغربی کلچر کا فروغ، ٹیلی ویژن انڈسٹری میں سیڈکشن کی ہیجانی برمار، نت نئی فیشن کی روز بروز چھوٹی اور باریک ہوتی ملبوسات اور انٹرنیٹ کا بے لگام استعمال ہے۔ انکے دلائل کے مطابق حملہ آور یا ظالم کے خرافاتی دماغ میں وقتاً فوقتاً اوپر بیان کردہ عوامل سرایت کر رہے ہوتے ہیں اور بات اس نہج پر پہنچ جاتی ہے کہ وہ سیکچولی ایسالٹ کی کوشش کی آڑ میں کسی کو نشانہ بنانے کا ارادہ کرتا ہے۔ چونکہ بچے آسان ٹارگٹ ہوتے ہیں تو وہ نشانہ بن جاتے ہیں۔ ایسا سوچنے والے معاشرے میں کافی کثیر تعداد میں ہیں اور اگر کہا جائے کہ 60 سے ستر فیصد تک ہونگے تو بجا ہوگا۔ کیونکہ معاشرے پر مذہب اور مذہب کے بھاگ دوڑ سنبھالنے والوں کا آج بھی مظبوط گرفت ہے۔

Appropriately cynical.

دوسرا طبقہ اسکے بالکل برعکس سوچتا ہے اور اپنی ایک الگ سوچ کی تشہیر کر کے مسلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔چونکہ ہیں تو وہ مذہبی طبقے کی بنسبت انتہائی کم تعداد میں لیکن جدوجہد انکی بھی کافی زیادہ ہے۔
یہ طبقہ خود کو روشن خیال اور آزادی پسند کہلاتا ہے حریف کے زبان عام سے لبرل کہلاتے ہیں مذہبی طبقے کی طرح یہ بھی اٹل ہوتے ہیں اور اپنے بات کے علاوہ باہر کے ماحول سے کچھ بھی سننے یا اڈاپٹ کرنے کے قائل نہیں ہوتے ریزلٹ اورئینٹڈ ہوتے ہیں اور کسی حد تک تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ مُلا کی بات سراسر بہتان اور صریح گمراہی ہے۔ “برہنگی آنکھ میں ہوتی ہے کسی شے میں نہیں” انکا عظیم مقولہ اور اول  دلیل ہے۔ انکے مطابق معاشرے میں شعور و عقل اور دنیاوی تعلیم کی کمی ایسے واقعات کا محور بنتی ہے۔ مذہبی درسگاہوں کو نشانہ بناتے ہیں اور انکے خیال میں معاشرے کے ایک صحت مند تعداد والے دینی علوم کی خاطر مدرسہ پڑھنے والے بچوں کی کوئی اخلاقی تربیت نہیں کی جاتی لہذا وہ فارغ التحصیل ہو کر بھی معاشرے کو اس ضمن میں خاطر خواہ فائیدہ نہیں پہنچا پاتے ہیں۔ دینی درسگاہوں میں ہونے والے سیکچول ایسالٹ کے کیسز انکے مخالفین کے خلاف کنگ کارڈ ہوتا ہے اور اس سے مخالف کو کاری ضرب لگواتے ہیں۔ خود کو پورٹریٹ ایسے کرتے ہیں جیسے مظلوم کے واحد دادرس ہیں۔ اور اپنے کاز یا مقصد کے لیے اکثر اوقات متاثر کن جملوں اور کلمات کا سہارا لے کر محفل میں موجود لوگوں کو اپنا گرویدہ بناتے ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق میں معاشرے کے رسوم و رواج سے باقاعدہ باغی اور منحرف نظر آتے ہیں اور اس ضمن میں بھی کسی حد کو روا رکھنے کے قائل نہیں ہوتے۔ بلکہ آزادی اظہار رائے کو معاشرے، معاشرے کے مکینوں اور معاشرے کے ستونی درسگاہوں سے ہی بالا گردانتے ہیں۔ مغربی نظریات سمیت انکے رہن سہن میں موجود آسانیوں سے بھی کافی متاثر نظر آتے ہیں۔

Again appropriately cynical.

ہمارا پورہ معاشرہ ایک عرصہ دراز سے ان دو شدت پسندانہ سوچوں کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ ایک خود کو حق اور دوسرے کو طاغوت گردانتا ہے اور دوسرا خود کو انسانیت پسند اور پہلے کو قدامت پسند یا شر پسند گردانتا ہے۔ ہم اور بذات خود معاشرہ ایک عرصے سے ان دو شدت پسندانہ سوچوں کے بیچ پس رہیی ہیں۔

اور آخر میں بے چارہ تیسرا طبقہ آتا ہے۔ اس طبقے کے لوگ عام طور پر میانہ روی کے قائل ہوتے ہیں بنیادی دینی اور اعلی عصری تعلیم یافتہ ہوتے ہے، ریزلٹ اورئینٹڈ ہوتے ہیں، حساس ہوتے ہیں اور باقی دونوں طبقات میں ناقابل قبول ہوتے ہیں کیونکہ یہ وقتاً فوقتاً باقی دونوں نظریات کو چیلنج کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو افکار کو اوپری دو طبقات کی طرح دیواروں اور سلاخوں میں بند کرنے پر رضامند نہیں ہوتے۔ یہ ہمیشہ کچھ نیا سننا چاہتے ہیں۔ کسی نئے دریچے میں جھانکنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔ ذہن اور سوچ کے گھوڑے کو بے لگام چھوڑنے کے قائل ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر بلا تفریق مطالعے والے ہوتے ہیں۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں، نیا سننا چاہتے ہیں نیا کرنا چاہتے ہیں۔ جو وسعتوں اور حدود کی نظریاتی تصورات سے خود کو ماورا گردانتے ہیں۔ جو حقیقتاً احساس ذمہ داری کی سولی پر لٹکے نظر آتے ہیں لیکن اپنے کم تعداد کی وجہ سے ہمیشہ کنارے لگائے جاتے ہیں۔ گمنام ہوتے ہیں، ہر جگہ گالیاں کھاتے ہیں اور عموماً مایوس ہوتے ہیں۔ شخصیت پرستی اور سوچ پرستی سے پاک ہوتے ہیں اور خود کو ذہنی تصورات کے تابع بنانے کی بجائے ذہن کو اپنا تابع تصور کرتے ہیں ورسٹائل ہوتے ہیں اور ہر رات کچھ نیا پڑھنے کے بعد ہر صبح ایک نئے سوچ اور نظریہ کے ساتھ اٹھتے ہیں۔بار بار گردانے جانے کے بعد کافر، منافق اور غدار کے الفاظ انکے سامنے اپنے معنی کھو بیٹھتے ہیں۔

اور یہ لڑائی اس معاشرے کی ابتدا سے چل رہی ہے اور اپنے کامل زوال اور گرنے تک یہ معاشرہ ان تینوں سوچوں کو ساتھ رکھنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ یہ معاشرہ جو ہمارا معاشرہ کہلاتا ہے، ہمیشہ ہی جھکڑا رہے گا اور اس شدت پسندانہ سوچوں کا گھٹن کسی دن اسکی زینب کی مانند اسکی جان لے لے گا۔

یوں زینب آخری کڑی نہیں ہے کیونکہ اکثریت مسلے کا حل نہیں چاہ رہی بلکہ اپنی اپنی دکانیں چلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی سے جو مسلے کا حل تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور جنکی دکان نہیں ہے جمہور میں انکی بات کی کوئی حیثیت اور معانی نہیں ہے کیونکہ وہ تعداد میں کم ہیں۔ وہ آتے ہیں اور لوٹ جاتے ہیں کچھ کو اوپری دو طبقات قائل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور انکی دکان مظبوط سے مظبوط تر ہوتی جاتی ہے اور زینب اور مسائل بیچ میں لٹکے ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: