انگریز کی اصل وفادار کون۔۔ کانگریس یا مسلم لیگ؟ عارف گل (چوتھا اور آخری حصہ)

0
  • 87
    Shares

کرپس مشن،ہندوستان چھوڑ دو تحریک اور شملہ کانفرنس۔ ایک چوتھی چیز بھی تھی یعنی کابینہ مشن پلان مگر اس پر ہم ایک علیحدہ مضمون میں تفصیلاً بیان کر چکے ہیں۔کرپس مشن اور شملہ کانفرنس کی ناکامی کا سبب مولانا آزاد اور قوم پرست کچھ بھی بتائیں مگر اصل وجہ وہی ہے جو کابینہ مشن پلان کی ناکامی کے ضمن میں بیان ہو چکی۔ جسے مولانا آزاد بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اور وہ وجہ ہے مسلمانانِ ہند کا علٰیحدہ تشخص تسلیم نہ کرنا۔جس طرح کابینہ مشن پلان اس لیے ناکام ہوا کہ ہندو لیڈر مسلمانوں کے اکثریتی صوبوں میں خود مختار حیثیت دینے کو تیار نہ تھے اور یہی معاملہ کرپس مشن اور شملہ کانفرنس میں بھی پیش آیا تھا۔جب کرپس 1942 ءمیں ہندوستان آیا تو پہلے پہل کانگریس بہت خوش تھی کیونکہ وہ جواہر لال کے ذاتی دوست تھے۔ مگر جب کرپس تجاویز سامنے آئیں اور ان میں صوبوں کو مرکز سے علٰیحدہ ہونے کااختیار دیا تو یہ بات کانگریس کو پسند نہ آئی اس وقت دوسری جنگِ عظیم شروع ہو چکی تھی اور کانگریس کا خیال تھا کہ حکومت چونکہ ہندوستانیوں کا تعاون چاہتی ہے اس لیے وہ کانگریس کے مطالبات مان لے گی۔مسلم لیگ کے لیے صوبوں کے اختیارات سے دست کش ہو جائے۔ مگر کرپس نے کانگریس کی یہ بات تسلیم نہ کی اور کرپس مشن ناکام ہو گیا۔یہ تھے وہ حالات جب کانگریس نے کرپس مشن کی ناکامی کے بعد تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ کانگریس کا خیال تھا حکومت ان کے مطالبات اس لیے مان لے گی کیونکہ جنگ میں انہیں ان کا تعاون چاہیے۔ تو بس پھر” ہندوستان چھوڑ دو” تحریک کا اعلان ہو گیا۔ مگر حکومت نے کانگریس کے مطالبات ماننے کی بجائے تمام کانگریسی قیادت کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا اور ساری قیادت اڑھائی تین سال جیل میں بند رہی۔ اس حوالے سے مولانا آزاد نے جو فرمایا وہ بھی پڑھنے کے قابل ہے۔ مولانا کے نزدیک جنگ کے سلسلے میں کانگریس اور گاندھی جی کا طرزِ عمل ایک معمہ ہے۔

مولانا آزاد نے “آزادی ہند” میں جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ

“1940ءمیں جب جنگ کے آثار نمایاں تھے چونکہ میں صدر کانگریس تھا اس لیے میں چاہتا تھا حکومت کے خلاف تحریک کا اعلان کر دیں۔ مگر گاندھی جی میرے اس خیال سے متفق نہ تھے۔ وہ کسی قسم کی تحریک کے خلاف تھے اور ان کا خیال تھا اس طرح تشدد کا خطرہ ہے۔ مگر مولانا کے بقول 1942 ءگاندھی جی کا رویہ بدل چکا تھا اور وہ تحریک چلانے کے موڈ میں تھے۔ اگرچہ مجھے اس کی کامیابی کی کوئی امید نہ تھی۔ دوسری طرف جاپان کو بعض محاذوں پر اتحادی افواج پر فتح حاصل ہوئی اس لیے بھی گاندھی جی سمجھتے تھے برطانیہ پر دباؤ ڈالنے کا یہی وقت ہے۔ مولانا کہتے ہیں میری تجویز یہ تھی کہ ہمیں جاپان پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ مگر کانگریس نے میری بات سے اتفاق نہیں کیا۔ اسی طرح مولانا کے بقول جب سوبھاش چندر بھوس کے جاپان کی طرف سے لڑنے کی خبریں ملیں تو گاندھی جی جو کبھی سوبھاش کو ناپسند کرتے تھے۔ اس کی تعریفیں کرنے لگ گئے۔ ان حالات میں’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ تحریک شروع کر دی گئی اور مولانا کے اندازوں کے مطابق ہمیں گرفتار کر لیا گیا۔”1944ءمیں گاندھی جی کی رہائی عمل میں آئی۔ رہائی کے کچھ عرصہ بعد ہمیں جیل میں خبریں ملیں کہ گاندھی جی نے وائسرائے نے مذاکرات کو خط لکھا ہے تو مجھے اس کے مثبت نتائج کی امید نہ تھی۔ان حالات میں جب اتحادی فوجیں ہر محاذ پر فتح یاب ہو رہیں تھیں تو حکومت کیوں کانگریس سے مذاکرات کرتی۔ جب سب کانگریسی قیادت رہا کر دی گئی اور کانگریس کا اجلاس ہوا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ وہ گاندھی جو جنگ کے ابتدا میں اپنے عدم تشدد کے فلسفے کی وجہ سے حکومت سے تعاون غلط قرار دیا کرتے تھے اب ہر حالت میں حکومت سے تعاون کے لیے دلائل دے رہے تھے”

مولانا آزاد کا یہی بیان سب کچھ واضح کر دینے کے لیے کافی ہے۔ جب جنگ کے ابتدا میں حکومت مذاکرات کرنا چاہتی تھی تو کانگریس نے حکومت کو مجبور سمجھتے ہوئے اور خاص کر جاپان کی فتح کی امید پر حکومت سے مذاکرات اور تعاون سے انکار کر دیا مگر جب حالات بدل گئے تو خود مذاکرات کی بھیگ بھی مانگی اور بغیر شرط کے تعاون کا یقین بھی دلایا دیا۔ یہ تھے کانگریس کے اصول اور یہ تھی آزادی کی جنگ۔جنگ اپنے اختتام کے قریب تھی۔ کانگریس کی ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ تحریک ناکام ہو کر اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی۔ تو ایک بار پھر برطانوی حکومت نے کانگریس اور مسلم لیگ کے ساتھ مذاکرات کے لیے شملہ کانفرنس کا انعقاد کیا مگر یہ مذاکرات بھی ہمیشہ کی طرح ناکام ہوئے جس کی وجہ یہ تھی کہ کانگریس ہندوستان میں صرف ہندو راج چاہتی تھی مگر مسلم لیگ اپنے حقوق کے لیے ڈٹی رہی۔ بعد میں الیکشن ہوئے۔ الیکشن کے بعد کابینہ مشن ہندوستان آیا جس کی ناکامی مولانا آزاد نے خود کانگریس پر ڈالی ہے ویسے ایک علٰیحدہ مضمون میں اس پر تفصیلی بات ہو چکی ہے۔ اپنے قیام سے لیکر 1947 ءتک کانگریس نے تین بار تحریک چلائی اور تینوں تحریکوں کا مقصد آزادی نہیں تھا۔ پہلی تحریک 1906 ءسے 1911 ءتک جو تقسیم بنگال کی تنسیخ کے لیے تھی جس میں وہ کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد 1930 ءکی تحریک کا مقصد نہرو رپورٹ کی منظوری تھا جو ناکام رہی۔ آخری تحریک “ہندوستان چھوڑ دو” تھی جو بری طرح ناکام ہوئی اور اس کا مقصد بھی صرف بلیک میلنگ تھا۔ اس تمام تفصیل کے بعد یہ کہنا کہ کانگریس ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑ رہی تھی صرف خوش فہمی ہے یا پھر بلاوجہ کی جانبداری جس کا ثبوت تاریخ سے نہیں ملتا۔

دوسری طرف مسلم لیگ نے جو کچھ مسلم ہندوستان کے تحفظ کے لیے کیا اس کی مختصر روداد ذیل کے صفحات میں بیان کی جاتی ہے۔ یہ تو پہلے بتایا جا چکا ہے کہ جس وقت مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اس وقت تک ہندو اور انگریز کا گٹھ جوڑ تھا اور دونوں نے مل کر مسلمانوں کا خون چوس رکھا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کا فرض صرف یہی ہو سکتا تھا کہ اپنے وجود کی حفاظت کریں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کریں۔ اور یقیناً 1906 ءمیں مسلم لیگ کے قیام کا مقصد بھی یہی تھا۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ کے قیام کا ایک مقصد انگریز سے وفاداری تھا۔ مگر یہ حالت ہمیشہ کے لیے نہ تھی۔ جیسے ہی 1911 ءمیں تقسیمِ بنگال کی تنسیخ ہوئی مسلم لیگ نے نئی کروٹ لی اور انگریز کے خلاف نفرت ابھرنے لگی۔ 1912 ءمیں جنگِ بلقان، 1913 ءمیں عیسائی فوج کے ترکوں کے قتلِ عام اور پھر ہندوستان میں مسجد کانپور کے سانحہ نے مسلمانوں کو منظم ہونے اور انگریزوں کے خلاف کمر بستہ ہونے پر مجبور کر دیا۔1913ءمیں قائدِ اعظم مسلم لیگ کے رکن بنے ہیں اور انہی کی تجویز پر 1913 ءمیں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں مسلم لیگ کے آئین میں تبدیلی کی گئی اور”حکومت سے وفاداری” کو”برطانیہ کے تحت ہندوستان کے حالات کے مطابق سیلف گورنمنٹ کا حصول” لیگ کا مطمع نظر بنایا گیا۔ 1913 ءمیں ہی پریس ایکٹ کی منسوخی کی قرارداد پاس ہوئی۔ 1915 ءمیں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے اجلاس ایک ہی وقت میں بمبئی میں ہو رہے تھے۔ دونوں اجلاسوں کی روئیداد سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس برطانیہ کی حلیف جماعت ہے جبکہ مسلم لیگ انگریز کے خلاف آمادۃ جنگ تھی۔ اس اجلاس میں قرارداد پاس کی گئی کہ ایک کمیٹی آئینی اصلاحات کی بنائی جانے جو دوسری جماعتوں سے مل کر اصلاحات کا مسودہ تیار کرے۔

ایسی کوئی تجویز کانگریس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔1916ء وہ سال ہے جب مسلم لیگ خاص طور پر قائدِ اعظم کی کوششوں سے مسلم لیگ اور کانگریس کےدرمیان لکھنئو پیکٹ ہوا جس کی وجہ سے قائد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلائے۔ 1917 ءمیں مسلم لیگ کا اجلاس کی مولانا محمد علی جوہر کی صدارت میں ہونا قرار پایا مگر ان کے جیل میں ہونے کی وجہ سے ان کا پیغام بی اماں کی زبانی سنوایا گیا۔ 1918 ءمیں گاندھی اور تلک انگریز کے لیے فوجی بھرتی کر رہے تھے جبکہ مسلم لیگ حکومت کی مخالفت میں اتنی آگے بڑھ چکی تھی کہ 1918 ءکے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کا خطبہءِ صدارت باغیانہ قرار دے کر ضبط کر لیا گیا تھا۔ اس اجلاس کی صدارت حکیم اجمل خان نے کی تھی۔1919ءمیں جلیانوالہ باغ کا سانحہ ہو چکا تھا۔ جس کے حلاف ہندوستان بھر میں انگریز کے خلاف شدید نفرت تھی۔ اس سال گاندھی نے کانگریس کے سالانہ اجلاس میں پنجاب کے عوام کی مذمت میں قرارداد پاس کرا لی۔ جبکہ دوسری طرف اس سال مسلم لیگ نے انگریز کے مظالم کے خلاف احتجاج کیا اور جنرل اوڈائر کو فوجی کمیشن سے علٰیحدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی سال خلافت کمیٹی کا قیام عمل میں آیا اور حکومت کےخلاف تحریک چلانے کا پروگرام بنا۔1919ءمیں ہی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ترکِ موالات کا پروگرام منظور ہو چکا تھا۔ دوسری طرف مسلم لیگی زعما ءہی خلافت کمیٹی کے پلیٹ فارم سے “عدم تعاون” پر عمل پیرا ہو چکے تھے۔ جبکہ کانگریس دسمبر 1920 ء تک مسلمانوں کی جنگ کا تماشہ دیکھتی رہی۔ کانگریس کیےناگ پور اجلاس میں جب ترکِ موالات کا پروگرام پاس کیا گیا تھا تو یہ بھی مسلمان مندوبین کی کوششوں سے ممکن ہوا تھا۔ کیونکہ اس اجلاس کے 14582 ڈیلیگیٹوں میں سے 10500 مسلم لیگ ڈیلیگیٹ تھے۔ انہی دنوں علی برادران اپنی مادر علمی علی گڑھ پر دھاوا بول چکے تھے اور جامعہ ملیہ کی بنیاد ڈال چکے تھے۔ جبکہ مالویہ جی کی ہندو یونیورسٹی بالکل محفوظ تھی۔ اس دور میں لیگ اور کانگریس خلافت کمیٹی کی شاخیں نظر آتی تھیں۔

1920ءکے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں ایک بار پھر آئین میں ترمیم کی گئی اور لیگ کے مقاصد یہ قرار پائے۔1-پرامن اور جائز ذرائع سے ہندوستانی عوام کے لیے آزادی حاصل کرنا2۔ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی، مذہبی اور دیگر حقوق کا تحفظ کرنا3۔مسلمانوں اور ہندوستان کے دیگر مذہبی فرقوں میں برادرانہ تعلقات کو فروغ دینا اور دوستی کو مضبوط کرنا۔مسلمان ہندو دوستی میں اس حد تک آگے چلے گئے کو گائے کی قربانی کو موخر کرنے کا فتویٰ دے دیا جس کا مقصد ہندوؤں کے جذبات کا احترام تھا۔ اس کے بعد سے 1929 ءتک مسلمان ہندو مسلم دوستی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے مگر دوسری طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملا۔اس وقت مسلمان رہنماؤں نے دو سیاسی غلطیاں کیں جس سے ان کی جدوجہد کو نقصان پہنچا۔ ایک یہ کہ مسلم لیگ کے متوازی خلافت کمیٹی قائم کر دی جس سے ان کی قربانیاں تین پلیٹ فارم لیگ، خلافت کمیٹی اور کانگریس میں بٹ گئیں۔ کیونکہ کانگریس میں اس وقت صفِ اول میں مسلمان ہی تھے۔

1918 ءمیں گاندھی اور تلک انگریز کے لیے فوجی بھرتی کر رہے تھے جبکہ مسلم لیگ حکومت کی مخالفت میں اتنی آگے بڑھ چکی تھی کہ 1918 ءکے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کا خطبہءِ صدارت باغیانہ قرار دے کر ضبط کر لیا گیا تھا۔

دوسری غلطی خلافت کمیٹی کے سیاسی پروگرام کونگریس کے حوالے کرنا۔ مسلم لیگ خصوصاً علی براردران جیل میں تھے۔ مولانا آزاد خلافت کمیٹی کے صدر تھے انہوں نے ہی خلافت کے سیاسی امور گاندھی کے حوالے کر دیےتھے۔ اس غلطی کا اعتراف خود مولانا آزاد کر چکے ہیں۔ جب تمام باگ ڈور گاندھی کے ہاتھ آ گئی تو کانگریس کے وہ لیڈر جو مسلمانوں کی اس تحریک کے مخالف تھے انہوں نے ہی گاندھی کو ڈرایا کہ مسلمان افغانستان اور ایران سے مل کر ہندوستان پر قبضے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ جب چورا چوری کا واقعہ ہوا تو گاندھی جو پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس زور سے یہ تحریک جاری تھی اگر اس طرح اس کا خاتمہ نہ کیا جاتا تو شاید وہ حقوق جو 1935 ءمیں انڈیا ایکٹ کے تحت ملے وہ پہلے 1925 ء ہی میں مل گئے ہوتے۔1921ءمیں مولانا حسرت موہانی نے کانگریس کے اجلاس میں’’کاملی آزادی‘‘ کی تحریک پیش کی تو گاندھی نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی کہ

“اس بیان میں جس کسی نے بھی یہ لڑکپن دکھایا ہے مجھے اس سے دکھ پہنچا۔ اس نے مجھے دکھ پہنچایا کہ اس میں ذمہ دارانہ احساس کا فقدان ہے”۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پٹا بھائی نے”تاریخِ کانگریس” میں لکھا کہ “کانگریس کو کامل آزادی کا مطالبہ کرنے میں مزید سات سال لگے”۔

ان کا اشارہ 1928 ءکی اس قرارداد کی طرف تھا جس میں’’پورن سوراجیہ‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ اور پورن سوراجیہ کیا تھا وہ ہم گاندھی کے مختلف بیانات سے دکھلا چکے کہ یہ “کامل آزادی” نہ تھی۔کانگریس کی طرف سے کامل آزادی والی قرارداد منظور نہ ہونے پر گاندھی نے اپنے اخباریگ انڈیا میں لکھا۔”مولانا حسرت موہانی نے کانگریس کے پلیٹ فارم سے آزادی کی جنگ چلائی مگر بحیثیت صدر مسلم لیگ ہر دفعہ خوشی سے شکست کھائی”۔ہندو مسلم اتحاد کا سنہری خواب تحریک خلافت کے دوران ہی ادھورا نظر آنے لگا تھا۔ جونہی تحریک خلافت کمزور پڑی اور خلافت تحریک کا خاتمہ ہوا ہندو مسلم فسادات کا سلسلہ چل نکالا۔ اس کے بعد رہی سہی کسر شدھی اور شنگھٹن کی تحریکوں نے پورا کر دیا۔ مگر اس کے باوجود مسلمانوں نے ہندو مسلم اتحاد کی کوششوں کو ترک نہ کیا۔ 1927 ءمیں ہندو ستان کے تین سرکردہ مسلم زعما ءنے ہندو مسلم اتحاد کی خاطر ایک فارمولا تیار کیا جسے دہلی تجاویز کا نام دیا۔

مسلم زعما ہندو مسلم اتحاد کی خاطر جداگانہ انتخاب سے بھی دستبردار ہونے کو آمادہ ہو گئے تھے۔ ان تجاویز میں قائدِ اعظم کا بڑا ہاتھ تھا۔ شروع میں کانگریس نے مثبت ردِّ عمل کا مظاہرہ کیا مگر پھر ہندو انتہا پسندحلقے کی تنقید کے نتیجے میں وہ حمایت سے دستبردار ہو گئی۔1927ءمیں ہی برطانوی حکومت نے ہندوستان میں اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے سائمن کمیشن کا اعلان کر دیا۔ چونکہ کمیشن میں کو ئی ہندوستانی شامل نہ تھا اس لیے کمیشن کے اعلان کے ساتھ ہی ہندوستان بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس کمیشن کے خلاف سب سے سخت آواز قائد اعظم کی تھی۔ قائد اعظم نے کمیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے“رجعت پسندانہ چال” قرار دیا اور اس کا مقاطمہ کرنے کا مشورہ دیا۔ ایک اور بیان میں قائد اعظم نے کہا“جلیانوالہ باغ میں انگریزوں نے ہمارے ظاہری اجسام کو نیست و نابود کیا تھا جبکہ سائمن کمیشن کی تقرری سے ہماری روحوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے”۔ آخر جب کمیشن ہندوستان آیا تو اس کا مقاطعہ ہوا اور وہ خالی ہاتھ لوٹ گیا۔

1928ءمیں نہرو رپورٹ کی اشاعت ہوئی جس میں مسلمانوں کے مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ مسلمانوں خاص کر قائد اعظم نے اس میں ترامیم کرانا چاہیں مگر ان کی ایک نہ چلی۔ آخر مسلم لیگ نے نہرو رپورٹ مسترد کر دی یہاں تک کہ جمعیت علمائے ہند نے بھی اس رپورٹ کی مخالفت کی۔ جمعیت کے اخبار جمیعتہ نے اپنے ایک اداریے میں لکھا“نہرو رپورٹ مسلمانوں کو ہرگز منظور نہیں اور نہ ہی وہ اپنی قسمت کی باگ ڈور ایک ایسے دستور کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں جو فرقہ پرستی سے داغدار اور ہندو پرستی کے جذبات سے مالا مال ہو۔” نہرو رپورٹ اور اسے منظور کرانے کے لیے کانگریس کی ستیہ گرہ تحریک کی ناکامی کا حوال سابقہ اوراق میں بیان ہو چکا ہے۔ در اصل یہ رپورٹ مسلمانوں کو غلام بنانے کی ہی چال تھی۔ اگرچہ قائد اعظم نے اس کے جواب میں اپنے مطالبات پیش کیے جو “قائد اعظم کے چودہ نکات” کے نام سے مشہور ہیں مگر کانگریس نے ان پر توجہ نہ دی۔ اور ناکام تحریک چلا کر اپنی ضد پوری کر لی۔1930ء وہ اہم سال ہے جب مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پہلی دفعہ علامہ اقبال نے مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل ایک علٰیحدہ وطن کا مطالبہ پیش کیا جو آگے چل کر 1940ءکی قرارداد کا پیش خیمہ بنا۔ اس کے جواب میں ہندو پریس اور ہندو لیڈروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اور علامہ اقبال پر تنقید ہونے لگی۔ مگر مسلم اخبارات اور مسلم زعما نے اسے سراہا۔ آخر انہی خطوط پر 1940 ء میں قراردادِ لاہور پاس ہوئی اور پھر سات سال کی قلیل مدت میں پاکستان حاصل کر لیا گیا۔گول میز اور کمیونل ایوارڈ کی ناکامی کے بعد 1935 ء میں آل انڈیا ایکٹ جاری ہوا جسے اگرچہ مسلم لیگ اور کانگریس نے ناپسند کیا مگر اس کے تحت انتخابات ہوئے۔

کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ اس کی تفصیل بھی مضمون کے حصے میں دی جا چکی ہے۔ انتخابات سے قبل اگرچہ لگتا تھا کہ مسلم لیگ اور کانگریس بعد میں کوئی سمجھوتہ کر لیں گی مگر کانگریس کی کامیابی نے نہرو کو ایسا ڈکٹیٹر بنا دیا جس نے اعلان کر دیا کہ ہندوستان میں صرف دو طاقتیں ہیں“ ایک انگریز اور دوسری کانگریس۔”جس کے جواب میں قائدِ اعظم نے کانگریس کے خلاف پہلی بار اعلانِ جنگ کیا اور کہا “اس ملک میں ایک تیسری طاقت بھی ہے اور وہ مسلمان ہیں۔ ان کی مرضی کے خلاف ہندوستان کے مقدر کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا”۔1940ءمیں قراردادِ لاہور کے منظور ہونے کے بعد مسلم لیگ نے قائدِ اعظم کی سربراہی میں پاکستان کو ہی اپنا مقدر اورمطمعِ نظر بنا لیا۔ 1947 سے پہلے تین چار بار برطانوی حکومت نے ہندو مسلم تصفیے کی کوششیں کیں جیسے کرپس مشن، شملہ کانفرنس اور کابینہ مشن پلان۔ مگر یہ تمام کوششیں کانگریس کی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔اس تمام تفصیل کے بعد یہ کہنا کہ “کانگریس آزادی کی جنگ لڑ رہی تھی اور مسلم لیگ اس میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی تھی”۔ ہوائی باتیں ہی ہیں۔ پوچھا جا سکتا ہے کانگریس نے کس موقع پر ایسی شدید تحریک چلائی جس کے نتیجے میں انگریز ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور مسلم لیگ نے انہیں پاؤں سے پکڑ کر واپس ہندوستان پر مسلط کر دیا۔

کانگریس کی ساری کوششیں ہندوستان میں مغربی طرز کی جمہوریت کے لیے تھیں تاکہ مسلمانوں کو اپنے زیرِ نگیں رکھاجا سکے اور تا قیامت انہیں اپنا غلام بنا لیا جائے۔ جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کر رہی تھی۔ اگر کانگریس ہندو راج کے لیے سارے پروگرام، ساری کوششیں اور سارے دلائل صرف کر رہی تھی تو پھر مسلم لیگ کو بھی یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنی کوششیں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کرتی۔ اس حوالے سے یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہیے کہ برطانوی حکومت نے کبھی بھی مسلم لیگ کی طرفداری نہیں کی تھی بلکہ ان کا جھکاؤ ہمیشہ کانگریس کی طرف ہوتا تھا۔ ہندوستان میں مذاکرات کے لیے آنے والا ہر وفد پہلے کانگریسی رہنماؤں سے ملتا تھا اور بعد میں مسلم لیگ کے نمائندوں سے۔ اکثر ارکانِ وفد کے ہندو رہنماؤں کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے۔ کرپس نہ صرف نہرو کا ذاتی دوست تھا بلکہ کرپس اور کابینہ مشن وفد کا دوسرا فرد پیتھک لارنس گاندھی کو اپنا روحانی گرو مانتا تھا۔ ماونٹ بیٹن کے نہرو خاندان سے خاندانی مراسم تھے۔ اور یہ مراسم 1945 ءسے چلے آرہے تھے۔ برطانیہ میں بیٹھا کرپس مشن اور کابینہ مشن پلان کی تجاویز پاس کرانے والا اور پھر ماونٹ بیٹن کے ساتھ آنے والا افسر وی پی منین نہرو کا خاص آدمی تھا۔ جس نے ہندوستان کی آزاد ریاستوں کے ہندوستان سے الحاق اور ریڈ کلف ایوارڈ میں تبدیلیوں کے لیے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔یہ ہیں حالات و واقعات جو چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ گٹھ جوڑ ہندو اور انگریز میں تھا اور ہندو کانگریس ہی اصل وفادار تھی انگریز اور انگریز راج کی۔

مسلمانوں پیچھے دھکیلا گیا اور ان کے حقوق غصب کرنے میں ہندو نے انگریز کا ساتھ دیا۔ کانگریس سے تو مسلمانوں کے مفادات کی اور ان سے ہمدری کی توقع ہی عبث تھی۔ ان کی خواہش تو صرف یہی تھی کہ مسلمان ان کا دم چھلابنے رہیں تاکہ وہ انگریز کے جانے کے بعد ہندوستان میں رام راج کا قیام عمل میں لاسکیں۔ مگر جونہی مسلمانانِ ہند نے کانگریس سے ہٹ کر اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ہندو پریس ان کے خلاف پروپیگنڈے پر اترآیا۔ جوں جوں مسلم لیگ مسلم عوام میں مقبول ہوتی گئی پروپیگنڈےمیں تیزی آتی گئی۔ پھر جب قائدِاعظم کی قیادت میں مسلم لیگ برِصغیر کے مسلمانوں کی آنکھ کا تارا بن گئی تو یہی پروپیگنڈا اپنی انتہاؤں کو چھونے لگا۔ جب ہندو اور انگریز کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں اور پاکستان کا قیام عمل میں آگیا تو ان کے پاس بدلہ لینے کا یہی منصوبہ رہ گیا کہ مسلم لیگ اور قائدِاعظم کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ انہیں انگریز کا ایجنٹ ظاہر کیا جائے اور اپنی شکست کا بدلہ لیا جائے۔ مگر تب سے لے آج تک مسلم لیگ اور قائدِاعظم کے کسی ناقد نے منطقی دلیلوں سے آگے کسی قسم کے دستاویزی ثبوت کبھی فراہم نہیں کیے۔ جبکہ دوسری طرف موجودہ وقت تک منظرِعام پر آنے والی تمام خفیہ دستاویز ناقدین کے پروپیگنڈے اور منطق کی نفی کرتی ہیں۔ اس تمام کے باوجود بھی اگرکوئی اسی فرسودہ پروپیگنڈے کو دھراتا ہے تو یہ ان کاتعصب اور عناد تو ہوسکتا ہے تاریخ اور سچ کی خدمت ہرگز نہیں۔

حصہ سوئم کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔ http://daanish.pk/18740

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: