کون زیادہ فرض شناس، کیٹی یا رانا ثناء اللہ؟ ثمینہ رشید

0
  • 110
    Shares

دوستو شاید اس تحریر کا عنوان آپ کو مختلف یا منفرد لگا ہو کہ ایک صوبائی وزیر کا تقابل کیٹی (ہماری بلی کا نام) سے کیسے ممکن ہے لیکن اس تحریر کو پڑھنے کے بعد آپ کے لئے بھی اس تقابل کو سمجھنا آسان ہوگا۔

کیٹی کی عمر ساڑھے تین سال ہے یہ چند دن کی تھی جب سے ہمارے ساتھ ہے۔ یوں کیٹی اب فیملی کا حصہ ہے۔ جس سے پیار کرنا اور خیال رکھنا ہم سب کی عادت ہے۔
لیکن آج میں آپ سے شئیر کروں گی کہ کیٹی کس قدر فرض شناس بھی ثابت ہورہی ہے اور اس کا یہ جوہر انہی دنوں میں سامنے آیا ہے۔

لندن میں انڈر گراؤنڈ بچھے ٹرینوں کے جال اور لکڑی کے بنے گھروں میں چوہوں کا آجانا معمول کی بات ہے۔ اور اس سلسلہ میں موثر ٹریٹمنٹ بھی موجود ہیں۔ جب سے کیٹی ہمارے گھر آئی ہے یہ مسئلہ حل ہوچکا ہے۔ کیونکہ عموما جن گھروں میں بلی ہو وہاں چوہے صاحب رخ کرنا پسند نہیں کرتے۔

کیٹی کو یوں تو ہر جگہ آنے جانے کی آزادی ہے سوائے بیڈ روم کے کہ ان کا اپنا پراپر بیڈ موجود ہے۔ لیکن کچھ دن پہلے اچانک ہی رات گئے ہمارے بیڈروم میں عجیب سی آوازیں سنائی دیں تو اندازہ ہوا کہ شاید ایک چوہے صاحب کمرے میں نہ صرف تشریف لاچکے ہیں بلکہ آزادی سے ادھر ادھر مٹر گشت فرما رہے ہیں۔
جیسے تیسے صبح کا انتظار کیا اور صبح ہوتے ہی ہم کیٹی کو کمرے میں لائے تاکہ وہ چوہے کا شکار کرسکے۔ لیکن یہ دیکھ کر تو ہم سب بھی حیران رہ گئے کہ کمرے میں آنے کے بعد کیٹی نے اطراف کا جائزہ لینا شروع کیا جیسے اسے چوہے کی آمد کی خبر ہوگئی ہو اور ساتھ ہی وہ رازدارانہ طریقے سے بیڈ کے نیچے گئی اور چند سیکنڈ کے اندر ایک چوہا منہ میں لے کر برآمد ہوئی اور دروازے کا رخ کیا۔ اس پوری کاروائی میں بمشکل ایک منٹ لگا ہوگا۔ اس آپریشن کلین اپ کے بعد ہم نے جلدی سے جاکر گھر کے پچھلے حصے میں موجود گارڈن کا دروازہ کھولا اور کیٹی نے چوہے کی لاش سمیت گارڈن کارخ کیا۔
اس دوران صاحبزادی کے ڈرنے اور چیخنے کا احوال ایک الگ کہانی ہے۔

خیر اس کہانی کا اختتام یہاں پر نہیں ہوتا۔ اس واقعے کو چند روز گزر چکے ہیں۔ لیکن کیٹی نے از خود ایک زمے داری اپنے سر لے لی ہے۔ صبح سویرے اور رات کے وقت وہ بیڈروم کے دروازے کے پاس آکر اپنی زبان میں ہم سے اندر آنے کا تقاضہ کرتی ہے۔ دروازہ کھولا جائے تو اندر داخل ہوکر زیرو زیرو سیون کے اسٹائل میں بیڈ کے نیچے اور سارے کارنرز میں جاکر اچھی طرح چیک کرتی ہے کہ کوئی چوہا تو موجود نہیں۔ اور تفتیشی راؤنڈ مکمل کرکے اطمینان سے باہر چلی جاتی ہے۔ کئی دن ہوئے ہم سب کیٹی کی اس عادت کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ بچوں کا کہنا ہے کہ کیٹی صبح و شام کمرے کا انسپکشن کرنے آتی ہے تاکہ اب کوئی چوہا وہاں آنے کی جرات نہ کرسکے۔ کیٹی کی اس انسپکشن کا ایک مختصر ویڈیو کا لنک بھی شئیر کیا جارہا ہے۔

اب آپ زرا رانا ثناءاللہ کی مثال لیں جنہیں وزیرِ قانون پنجاب ہونے کو شرف حاصل ہے۔ اور جن کے صوبے میں اوسطا دو سے تین زینب جیسے کیسز رونما ہورہے ہیں۔ لیکن وہ اس سلسلے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹی وی اینکر کوئی چبھتا ہوا سوال کرلے تو آپ جناب سے تم تک پہنچنے میں سیکنڈ لگاتے ہیں۔ کیمرے کا لحاظ نہ ہوتا اینکر کی چھترول اور تُو کا سفر بھی سرعت سے طے ہوسکتا ہے۔ لیکن ہائے مجبوری۔

اب اگر کیٹی کی کارکردگی اور فرض شناسی کو رانا ثناءاللہ سے کمپئیر کریں تو کیٹی سو فیصد “تمغۂ حسن کارکردگی” کی مستحق ہے اور آخرالزکر تمغۂ نا کارکردگی کے۔

زرا سوچیں رانا ثناء اللہ سے لاکھ درجے بہتر تو یہ کیٹی جیسے بے زبان جانور ہی ہیں کہ جنہیں ایک بار کام دیا جاتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی ڈیوٹی پرفارم کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو اپنا فرض منصبی بنا لیتے ہیں۔ جبکہ ہم ٹہرے اشرف المخلوقات اور اسکو جانور ہونے کا مارجن بھی دیا جا سکتا ہے

دوسری جانب رانا ثنا اللہ جیسے وزیر ہیں کہ جنہیں پکڑ پکڑ کر چوہے (مجرم) دیے بھی جائیں تو نہ صرف انکو چھوڑ دیتے ہیں بلکہ اپنے فرائض کے بارے میں مجرمانہ حد تک بے خبر ہیں۔ بلکہ شنید تو یہ بھی ہے کہ یہ چوہوں سے ہی مک مکا کرلیتے ہیں اور دو طرفہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یعنی تم بھی خوش ہم بھی خوش کے اصول کے تحت نظام چل رہا ہے۔ رہی عوام تو اسکے لئے رہے نام اللہ کا۔

رانا ثناءاللہ تو رہے ایک طرف ایک اور نون لیگی وزیر نے تو اپنے بیان سے حیران ہی کردیا۔ آنجناب مشاہد اللہ صاحب فرماتے ہیں۔
“کہ جرم ہو رہا ہے تو حکومت کیا کرے”

جس ملک کے وزیروں کو یہ نہیں پتہ کہ حکومت کا کام کیا ہوتا ہے، وہ ہمارے ملک کے حکمران شمار ہوتے ہیں۔ بدقسمتی  ہے۔

مجھے تو لگتا ہے کہ ان سب سے لاکھ درجے بہتر ہے کہ ہم کیٹی کو اس ملک کی زمہ داری سونپ دیں۔ جو نہ صرف چوہے پکڑے گی بلکہ ہر روز پہرہ بھی دے گی کہ اگلی بار کوئی چوہا ہمارے کمرے میں گھس نہ سکے۔ بجائے اس کے کہ ہر روز غریب عوام پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹیں، ہمارے بچے اغوا ہوتے رہیں، اور ہمارے خادم اعلی سمیت ان کے وزراء خاص طور پر رانا ثناءاللہ کی طرح جن کو سوائے لچھے دار باتوں کے کچھ نہیں آتا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: