انگریز کی اصل وفادار کون ۔۔ کانگریس یا مسلم لیگ؟ عارف گل (حصہ سوئم)

2
  • 52
    Shares

اس کے باوجود لیگ پر الزام دھرا جاتا ہے کہ سرسید کے پیروکار کانگریس کی آزادی کی تحریک میں رکاوٹ تھے۔ کیا یہ تھی آزادی کی جنگ جس کا احوال سطور بالا میں پیش کیا گیا؟کانگریس کے قیام سے 1920ء تک کے احوال کا تذکرہ ہم نے تفصیل سے کر دیا ہے۔ اس دوران کانگریس اور کانگریسی لیڈران نے تاجِ برطانیہ کی وفاداری کے لیے جو کچھ کیا وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ یہاں کوئی ایسا مرحلہ نہیں آیا جب کانگریس نے آزادی کا کوئی مطالبہ کیا ہو یا انگریز کے خلاف کوئی لب کشائی کی ہو۔ اس دوران صرف ایک مرحلہ ایسا آیا جب کانگریس نے حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن کیا۔ اور وہ اس وقت جب لارڈ کرزن نے انتظامی مجبوریوں کے تحت بنگال کو تقسیم کر دیا۔ انگریز کے ہندوستان پر قابض ہونے کے بعد جس طرح انہوں نے مسلمانوں کا استحصال کیا اس کی کچھ جھلک ہم اس مضمون کے شروع میں دکھا چکے ہیں۔ بنگال ایک مسلم اکثریتی صوبہ تھا۔ باقی ملک کی طرح یہاں مسلمانوں کو منظم انداز سے پس ماندہ کیا گیا۔ لارڈ کارنواس کے جاری کردہ بندوبست ِ استمراری نے مسلمانوں کی زمینداریاں ختم کر دیں اور دیکھتے دیکھتے مسلمان زمیندار سے کاشتکار بن گئے۔ بنگال کی پس ماندگی کا ذکر مولانا آزاد نے بھی “آزادی ہند” میں اس طرح کیا ہے۔

“بنگال میں مسلمان اکثریتی فرقے کی حیثیت رکھتے تھے لیکن مختلف وجوہ کی بنا پر تعلیمی اور سیاسی اعتبار سے وہ پسماندہ تھے۔ پبلک لائف یا سرکاری نوکریوں میں انہیں بمشکل کوئی جگہ مل سکی تھی۔ اگرچہ آبادی میں ان کا تناسب پچاس فی صد سے زیادہ تھا مگر سرکاری ملازمتوں میں مشکل سے تین فی صد ان کے ہاتھ آئی تھیں”۔

ان حالات میں بنگال کی تقسیم سے مسلمانوں کو کچھ فائدہ پہنچنے کا اندیشہ تھا اور یہ بات ہندو کو منظور نہ تھی۔ چلو ہندو کی بات تو سمجھ آتی ہے مگر مولانا نے تقسیم بنگال کی جو توجیہہ بیان کی ہے وہ افسوسناک ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔

“سیاسی اعتبار سے یہ ہندوستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ علاقہ تھا۔ اور بنگال کے ہندوؤں نے ہندوستان کی سیاسی بیداری میں نمایاں ترین حصہ لیا تھا۔ 1905ء میں لارڈ کرزن نے اس صوبے کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سوچ کر کہ اس طرح ہندو کمزور پڑ جائیں گے اور بنگال کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین ایک مستقل بٹوارہ قائم ہو جائے گا۔ بنگال نے اس اقدام کو چپ چاپ تسلیم نہیں کیا”۔

واقعی بنگال کیوں اسے چپ چاپ تسلیم کرتا۔ اس طرح بنگال کے مسلمان ہندو کے چنگل سے نکل کر کچھ سکھ کا سانس لینے کے قابل جوہونے والے تھے۔

نہرو رپورٹ کے بنیادی نکات میں کامل آزادی کے بجائے تاجِ برطانیہ کے زیر سایہ حکومت خود اختیاری، اہم معاملات، پارلیمنٹ اور وائسرائے کے ما تحت، طرزِ حکومت مرکزی تا کہ مسلم اکثریتی صوبے بھی ما تحت ہو جائیں۔

تقسیم بنگال کے زمانے میں تمام مسلمانان ِ ہند نے تو خوشی کا اظہار کیا تھا۔ مگر ہندو بھڑک اٹھےتھے۔ اور برسوں بعد مولانا بھی لکھنے بیٹھے تو حسبِ عادت ہندو ہی کی زبان بولنے لگے۔ سو سال سے بنگالی ہندو مسلمانوں کا خون جونک کی طرح چو س رہے تھے۔ ایک طرف یہ جونک خون کی زیادتی سے پھول چکی تھی اور دوسری طرف مسلمانوں کا لاغر جسم بے جان ہونے کو تھا۔ انگریز نے سوچا کہیں یہ جسم واقعی بے جان ہی نہ ہو جائے اور جونک کو اس سے علٰیحدہ کیا گیا کہ ہندوستان کے بھوکے ہندو اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ واقعہ انگریز کی مسلمانوں کی طرف داری تو شاید ثابت کرتا ہو مگر ہندو فرقہ وارانہ ذہنیت پر دال ضرور ہے۔ آخر اس سے ہندو کا کیا نقصان ہوتا تھا سوائے اس کے کہ انہیں مسلمانوں کا خون چوسنے کا موقع گنوانا پڑ رہا تھا۔ بس پورے ہندوستان میں ہندو احتجاج پر اتر آئے۔ کانگریس کی تاریخ میں یہ پہلا احتجاج تھا جس کا مقصد تقسیمِ بنگال کی منسوخی تھا۔ مولانا آزاد اگر اسے ہندوستان کی آزادی کی تحریک سمجھتے ہیں تو پھر حیرت کا اظہارہی کیاجا سکتا ہے۔ آخر 1911 ءمیں تقسیمِ بنگال کی تنسیخ عمل میں آئی انگریز ہندو دوستی پھر عود کر آئی۔ پٹا بھائی نے ان واقعات کو “تاریخ کانگریس” میں یوں بیان کیا۔

“کانگریس کی تاریخ میں سب سے پہلا احتجاج 1906ء سے 1911ء تک پانچ سال رہا۔ جس کو دبانے کی کافی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے شورش بہت زیادہ بڑھ گئی اور آخر شاہی اعلان کے وقت 1911 ءمیں کامیابی حاصل ہوئی جس میں تقسیمِ بنگال کی تنسیخ کا اعلان کیا گیا۔ اس احسان کے بدلے میں کانگریس کے لیڈروں نے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ حکومت کے انصاف و عنایات کے شکریے ادا کیے۔”

مسٹر مبکا چرن نے فرمایا۔

“ہر شخص کا دل تاجِ برطانیہ کے ساتھ وفاداری اور محبت کی خطیر خوشی میں بے چین ہے۔ ہم میں سے اکثر تو آزمائشوں کے موقع پر بھی برطانیہ کے انصاف سے مایوس نہ ہوئے تھے”۔

یہ تھی آزادی کی جنگ۔ جب جیت ملی اور مسلمانوں کا خون چوسنے کے لیے دے دیا گیا تو تاجِ برطانیہ کی وفاداری اور انصاف پروری کے گیت گائے جانے لگے۔1920ءسے 1928ء تک کانگریس کے پلیٹ فارم سے کوئی خاص تحریک نظر نہیں آتی۔ جبکہ دوسری مسلمانان برصغیر 1912 ءسے بلقان، ترکی اور دوسرے مسلم ممالک میں اتحادی افواج کے مظالم کے ردِّ عمل میں پوری طرح بیدار ہو چکے تھے۔ اور برصغیر کے منظر نامے پر ان کا طوطی بول رہا تھا۔ احتجاجی مظاہرے، جلسے اور تحاریک زوروں پر تھیں۔ یہ احتجاج مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ہی شروع ہوا تھا۔ جہاں صفِ اول کی لیڈر شپ علی برادران، قائد اعظم، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر انصاری، مولانا حسرت موہانی، خود مولانا آزاد، مولانا عبد الباری فرنگی محلی وغیرہ پر مشتمل تھی۔ 1921 ءسے 1924 ءتک قائدِ اعظم اگرچہ ترکِ موالات کے ایشو پر علٰیحدہ ہو گئے تھے مگر 1924 ء کے بعد پھر وہ دوبارہ فعال ہو گئے تھے۔1928ءمیں موتی لال نہرو کی “نہرو رپورٹ” منظرِ عام پر آئی جس نے مولانا آزاد کو چھوڑ کر ساری مسلم قیادت کو ہندو سے متنفر کر دیا اور انھیں یقین ہو گیا کہ ہندو مسلم اتحاد کا خواب اب کبھی شرمندۃ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ نہرو رپورٹ کے بنیادی نکات میں کامل آزادی کے بجائے تاجِ برطانیہ کے زیر سایہ حکومت خود اختیاری، اہم معاملات، پارلیمنٹ اور وائسرائے کے ما تحت، طرزِ حکومت مرکزی تا کہ مسلم اکثریتی صوبے بھی ما تحت ہو جائیں۔

انگریزی تجارت کو تحفظ، جداگانہ کی جگہ مخلوط انتخابات اور 1916 ءوالا لیگ کانگریس کے لکھنو پیکٹ کا خاتمہ شامل تھے۔ یعنی برطانوی سنگینیوں کے زیر سایہ ہندو راج کا قیام کانگریس کا نصب العین ٹھہرا۔ اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا محمد علی جوہر نے فرمایا تھا۔

“ہندوؤں کو خوش کرنے کے لیے میں اپنے مذہبی معتقدات کو ترک نہیں کر سکتا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہد میں منادی کی جاتی تھی تو منادی کرنے والا پکارتا تھا“

زمین خلقِ خدا کی، ملک ملکہ کا، حکم کمپنی بہادر کا”لیکن نہرو رپورٹ کا مقصد محض یہ تھا کہ“زمین خلقِ خدا کی، ملک وائسرائے کا یا پارلیمنٹ کا، حکم مہا سبھا بہادر کا”۔ درجہ مستعمرات کو تسلیم کر لینے اور اس میں بھی مسلمانوں کے تحفظِ حقوق سے انکار کر دینے کے یہی معنی ہیں مگر ہم اس حالت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ واضعانِ رپورٹ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے مطالبات کے متعلق کسی قسم کی مفاہمت نا ممکن ہے کیونکہ اس قسم کے مطالبات فرقہ وارنہ حیثیت رکھتے ہیں لیکن پنڈٹ موتی لال نہرو نے سرسپرو، مہاراجہ محمود آباد اور سر علی امام سے مفاہمت کی اور درجہ مستعمرات منظور کر لیا”۔ بہر حال مسلم لیگ اور مسلمانوں کی مخالفت کے باوجود اسے کانگریس نے نہ صرف منظور کر لیا بلکہ دھمکی دی کہہ اگر حکومت نے 31 دسمبر 1929 ء تک اس رپورٹ کو نہ مانا تو وہ تحریک کا آغاز کرے گی اور اس تحریک کا مقصد پورن سوراجیہ کا حصول قرار دیا گیا۔ جب حکومت نے نہرو رپورٹ کی طرف کوئی توجہ نہ دی تو گاندھی جی نے سول نافرمانی کی دھمکی دی اور کچھ مطالبات لکھ کر وائسرائے کو بھیج دیے۔ لیکن مطالبات کی فہرست میں “آزادیِ کامل” کا نام تک نہ تھا بلکہ چند اصلاحی مطالبات جیسے مال گزاری کا کم کرنا، نمک کے ٹیکس کو ملتوی کرنا، بڑی ملازمتوں میں حصہ، تنخواہوں میں کمی کرنا، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور سی آئی ڈی کے محکمہ کی علٰیحدگی شامل تھے۔ یہ مطالبات پیش کرتے ہوئے گاندھی جی نے وائسرائے کو لکھا تھا۔

“اگر وائسرائے ان سادہ مگر ضروری مطالبات کی طرف سے ہمیں اطمینان دلا دیں تو وہ سول نا فرمانی کا ذکر بھی نہیں سنیں گے اور ہم دل سے ہر کانفرنس میں شریک ہوں گے”۔

یہ تھی آزادیِ کامل کی تحریک۔ لیکن جب ان مطالبات کو بھی نہ مانا گیا تو گاندھی جی نے وائسرائے کو پھر لکھا جس میں بتلایا کہ وہ پوران سوراجیہ سے خائف نہ ہوں یہ نئی چیز نہیں۔ مارچ 1930 ء کو گاندھی جی نے لکھا۔

“اگر ڈومینین سٹیٹس جس کا آپ نے اعلان کیا ہے اصلی معنوں میں استعمال کیا جائے تو سوراج کے ریزولیوشن سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ برطانوی مدبرین بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ ڈومینین سٹیٹس بھی ایک قسم کی آزادی ہی ہے لیکن مجھے جو اندیشہ ہے وہ یہ ہے کہ مستقل قریب میں ڈومینین سٹیٹس دینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں ہے”۔

یعنی پورن سوراجیہ جسے آزادی کامل بتایا گیا وہ دراصل ڈومینین سٹیٹس ہی تھا۔جب تمام مطالبات منظور نہ ہوئے تو طوہاً و کرہاً گاندھی جی نے سول نافرمانی کا اعلان کر دیا۔ یہ سول نا فرمانی بھی کیا تھی صرف قانونِ نمک کا توڑنا۔ اس طرح گاندھی جی آزادی حاصل کرنے ڈانڈی کے لیے یا پیادہ چل پڑے اور سورت میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔

“اگر نمک کا قانون توڑنے میں اور شراب کی تجارت ہندوستان میں بند کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اہنسا کی کامیابی ہے۔ اور پھر دنیا کی کون سی طاقت سوراج کے حصول کو روک سکے گی ؟ اگر کوئی ایسی طاقت ہے تو میں اسے دیکھوں گا یا تو اپنے مقصد کو لے کر واپس آؤں گا یا میری مردہ لاش سمندر میں تیرتی ہوئی ہو گی”۔

گاندھی جی اپنے مقصد میں تو کامیاب نہ ہوئے لیکن مردہ لاش سمندر میں کبھی نہ تیری۔اسی طرح گاندھی جی نے یہ بھی قسم کھائی تھی کہ اگر سوراجیہ نہ ملا تو آشرم چھوڑ دوں گا۔ 6 مارچ 1931 ء کو اخباروں کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ “میں آشرم کو دیکھوں گا ضرور لیکن جب تک پورن سوراجیہ کی قسم پوری نہ ہو جائے وہاں رہوں گا نہیں”۔ لیکن حیرت ہے گاندھی جی قسم پوری کیے بغیر آشرم میں مقیم رہے اور گانگریس اسی طرح آشرم کے طواف کرتی رہی۔ گاندھی جب سول نافرمانی کے سلسلے میں جیل چلے گئے تو 2 مئی 1930 ءکو مسٹر سلوکومب نے گاندھی جی سے جیل میں ملاقات کی تھی۔ گاندھی جی نے ابتدا میں دس مطالبات پیش کئے تھے مگر پھر بغیر سوراج حاصل کیے ان مطالبات میں کمی کرتے کرتے تین پر صلح کی خواہش ظاہر کر دی۔ سول نافرمانی تحریک چل رہی تھی، ہزاروں لوگ جیل جا چکے اور لاکھوں کی جائیدادیں ضبط ہو چکی تھیں اور سب سیاسی قیدی جیل میں بند تھے تو گاندھی جی نے 1922 ءکی طرح تحریک خلافت کو ختم کرنے والے عمل کو پھر دہرایا۔

5 مارچ 1931 ءکو گاندھی ارون پیکٹ پر مع دوسرے ممبران ورکن کمیٹی دستخط کر کے سول نافرمانی تحریک کا خاتمہ کر دیا۔ اور ساتھ ہی گول میز کانفرنس میں جانا قبول کر لیا۔ گاندھی ارون پیکٹ کا سرسری مطالعہ ہی اس بات کو ظاہر کر دیتا ہے کہ گاندھی جی کا پورن سوراجیہ تو ڈومینین سٹیٹس سے بھی کم تھا۔ اسی لیے گاندھی جی “پورن سوراجیہ” کے معنی بدلتے رہتے تھے۔ 6مارچ 1931ء کو امریکہ اور لندن کے اخبارات کے نمائندوں کے سوالات کے جواب میں گاندھی جی نے سوراج کی یہ تعریف کی۔“میں اس سوال کا مناسب جواب نہیں دے سکتا اس لیے کہ انگریزی زبان میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جو اس کے معنوں پر حاوی ہو۔ اس کے لغوی معنی ہیں “اپنی حکومت”۔ آزادی میں وہ معنی پنہاں نہیں ہیں۔ “سوراج” کے معنی ہیں “اندرونی طور سے منظم حکومت “اور ’’پورن‘‘ کے معنی “مکمل” کوئی صحیح لفظ نہ پاتے ہوئے ہم نے “مکمل آزادی” کے لفظ کو اس کے معنوں میں مجبوراً اختیار کر لیا ہے۔

پورن سوراجیہ کا یہ مطلب نہیں کہ کسی بیرونی طاقت سے تعلقات نہ رکھے جائیں اور برطانیہ سے تو کسی طرح منقطع نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ تعلق باہمی فائدے کے لیے ہے”۔یعنی کامل نہیں بلکہ انگریز کے ساتھ باہمی مفاد کا تعلق سوراج ہے۔ پھر اس پر بس نہیں جب پوچھا گیا کیا پورن سوراجیہ برٹش جھنڈے کے نیچے قبول کر سکیں گے تو جواب دیا۔

“اس جھنڈے کے نیچے نہیں بلکہ اگر ممکن ہوا تو ایک مشترک جھنڈے کے نیچے اور اگر ضرورت ہوئی تو علٰیحدہ قومی جھنڈے کے نیچے”۔

اسی طرح جب گورنروں اور کانگریسی وزیروں میں تصادم درپیش ہوا تو گاندھی جی نے کہا تھا۔

“میں اپنے خون کا آخری قطرہ برطانیہ اور ہندوستان کے تعلقات کو خوش گوار رکھنے میں صرف کر دوں گا”۔

یہ تھے ہندوستان کی آزادی کے سپہ سالار کے خیالات اور یہ ہے جنگِ آزادی لڑے والی جماعت۔ اسی طرح پراک کے مجمع میں 1938 ءمیں تقریر کرتے ہوئے نہرو نے کہا تھا۔”انگلستان کے دشمن ہمارے دشمن ہیں”۔جب انگلستان کی پارلیمنٹ نے ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ 1935 ءمیں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی رو سے کیا تھا تو ہندوستان کے ہر شخص نے اسے ٹھکرایا اور ہندوستان کے متحدہ اور متفقہ مطالبہ سے بھی بہت کم سمجھا تھا۔ کانگریس جس کا ظاہری مطالبہ آزادی تھا اسی نے وزارتیں قبول کر کے ثابت کر دیا کہ اس کی آخری تمنا برطانوی سنگینیوں کے سائے میں کانسٹی ٹیوٹ اسمبلی کا قیام تھا۔

الیکشن سے پہلے کانگریس کا دعویٰ تھا کہ وہ اس نئے قانون کو توڑنے کے لیے کونسلوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ نہرو نے متعدد مرتبہ کہا تھا کہ وزارتیں کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتیں اس لیے کہ وہ ہم کو آزادی کی منزل سے دور کر دیں گی۔ لکھنو کے کانفرنس اجلاس میں نہرو نے کہا تھا۔

“انہیں وجوہ کی بنا پر مجھ کو یقینِ کامل ہے کہ کانگریس کے لیے عہدے قبول کرنے کی تائید کرنا یا اس معاملہ میں پس و پیش کرنا ایک زبردست غلطی ہو گی۔ اس زبردست گڑھے میں گرنے کے بعد ہمارا ابھرنا مشکل ہو جائے گا۔ عملی سیاست اس کے خلاف ہے اور اسی طرح وہ کانگریس کی ذہنیت بھی جس کو ہم عوام میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس کی مخالف ہے۔ نفسیاتی حیثیت سے اس قسم کی رہنمائی ممکن ہے کہ ہلاکت خیز نتائج پر ختم ہو اگر ہم انقلاب انگیز تغیرات کے حامی ہیں جیسا کہ واقعہ ہے تو ہم اپنے ابنائے وطن میں ایک انقلاب انگیز ذہنیت پیدا کریں۔ اس کے خلاف جو تجویز بھی ہو گی مضرت رساں ہو گی”۔

یہ ہیں کانگریس کے محبوب لیڈر جو پورے یقین کے ساتھ وزارتوں کو آزای کی راہ میں روڑا سمجھ رہے ہیں۔ لیکن جب الیکشن ختم ہوئے اور چھ صوبوں میں کانگریس کی اکثریت ہو گئی تو وہ انقلابی ذہنیت ختم ہو گئی اور وہ مشروط طریقہ پر وزارت قبول کرنے کو تیار ہو گئے۔ یعنی اگر صوبوں کے گورنر تحریراً یقین دلا دیں کہ وہ وزیروں کے داخلی اختیارات میں حائل نہ ہوں گے تو وہ وزارت مرتب کر سکتے ہیں۔ کانگریس کا خیال تھا گورنمنٹ اس کی کامیابی سے مرعوب ہو کر اس قسم کا یقین دلا دے گی۔ لیکن حکومت بھی خوب جانتی تھی کہ کانگریس وزارتوں کے لالچ میں مزید جھکے گی۔ لٰہذا صاف انکار کر دیا کہ اس قسم کا یقین نہیں دلا جا سکتا۔ کانگریس سخت پریشان ہوئی۔ گاندھی جی اپنے بیان کی مختلف تاویلیں کرنے لگے اور آخر جولائی 1937 ءکو گاندھی کے مشورے سے عہدے قبول کر لیے۔ اور وہی جواہر لال جو ان کو قوم کے لیے سمِ قاتل سمجھتے تھے ان کو شیریں گھونٹ سمجھ کر چڑھا گئے۔ اور یہ فرمایا کہ ’’مجلسِ عاملہ کا فیصلہ غلط نہیں ہوتا‘‘۔

کانگریس کی اچھی خاصی تعداد آخری وقت تک عہدوں کے خلاف رہی۔ اس سلسلے میں رفیع احمد قدوائی نے جو بیان دیا تھا وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کانگریس نے جنگ کو دفن کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا۔

“ہم کو اپنی مکمل شکست کا پورے طور سے اعتراف کر لینا چاہیے۔ برطانی ڈپلومیسی پورے طور سے ہمارے خلاف کامیاب ہو گئی۔ اب گورنمنٹ کو کانگریس کا خوف نہیں رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ کانگریس جو عوام میں انقلابی ذہنیت پیدا کرنا چاہتی تھی اب سرکارِ برطانیہ کی دوست ہو گئی”۔

وہ جو اسمبلیوں میں قانون توڑنے اور ختم کرنے جا رہے تھے، جب وزارتیں قبول کیں تو وہی جب واردھا میں گاندھی کے آشرم سے باہر نکلے تو”ختم” کرنے کی بجائے”چلانے” کی باتیں کر رہے تھے۔ یہاں تک کلکتہ میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں نہرو نے یہاں تک فرما دیا۔“میرا خیال تھا کہ قبولِ وزارت کا فیصلہ مضر ہو گا مگر میں اپنی غلطی کو اب محسوس کرتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ عہدے قبول کرنے کے بعد کانگریس کے نظام میں کتنی قوت آ گئی”۔کانگریس نے جس طرح وزارتوں کے مزے لوٹے اور مسلمانوں پر مظالم کیے وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ واردھا تعلیمی سکیم اور ودیا مندر سکیم کے ذریعے جس طرح اردو کو ختم کرنے کی کوشش کی، سکولوں میں بندے ماترم لازم کیا۔اس کے لیے “پیر پور رپورٹ” اور اسرار احمد کریوی کی “سی پی میں کانگریس راج” کا مطالعہ چشم کشا ہے۔ اسی دورِ کانگریس کی برکت ہے کہ مسلمانوں میں احساس پختہ ہوا کہ ہندو تو ہندوستان میں ہماری شناخت کے دشمن ہیں۔ پھر یہ ہوا کہ مسلمانانِ ہند تمام نیشنلسٹ علما ءکو پسِ پشت ڈال کر یکسو ہو گئے اور مسلم لیگ اور قائد اعظم کو نجات دہندہ بنا لیا۔ یہیں سے مسلم لیگ کی مقبولیت بڑھنا شروع ہوئی اور 1945ء-1946 ءکے الیکشن میں لیگ نے ہندوستان کی تمام مسلم نشستیں اپنے نام کر لیں۔ اور حصولِ پاکستان کی منزل آسان ہو گئی۔ اس سے پہلے کہ ہندوستان کی آزادی کے سلسلے میں کانگریس کے کردار کی داستان کو ختم کریں تین واقعات ایسے ہیں جن کا ذکر کرنا ضروری ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حصہ دوم کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔ http://daanish.pk/18734

About Author

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: