انگریز کی اصل وفادار کون۔۔ کانگریس یا مسلم لیگ؟ عارف گل (حصہ دوم )

3
  • 45
    Shares

بہادر شاہ ظفر اور ان کے بیٹوں کے ساتھ جو ہوا اور جس طرح علماء کو توپوں کے دھانے سے باندھ کر اڑا دیا گیا اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ جنگِ آزادی کے بعد انگریز یہ فرض کر چکے تھے کہ اس کے بانی مسلمان ہیں۔ اس لیے انہوں نے پورا تہیہ کر لیا کہ ہر ممکن طریقے سے ان کو ختم کیا جائے۔ ان کی حالت انتقامی جذبے میں دیوانوں کی سی ہو گئی تھی۔ مسلمانوں کا مسلمان ہونا ہی جرم تھا۔ مسجدوں کو اصطبلوں میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ سر آکلینڈ کالون گورنر یوپی انگریزوں کے جذبہءِ انتقامی کو اس طرح بیان کرتا ہے۔ “غدر فرو ہو جانے پر ان ہی سے سخت انتقام لیا گیا۔ اور دونوں قوموں(انگریزوں اور مسلمانون) میں مصالحت کی امید جاتی رہی”۔ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر کا مندر جہ ذیل بیان جو 14 جولائی 1869ء کو کلکتہ کے ایک فارسی اخبار میں شائع ہوا حکامِ وقت کی ہندو نواز اور مسلم کش پالیسی کو واضح کرتا ہے۔

“اس خبر کی کوئی تردید نہیں کی گئی کہ سندر بن کے کمشنر نے گورنمنٹ گزٹ میں اعلان کیا تھا کہ جو ملازمتیں خالی ہوئی ہیں ان پر سوائے ہندوؤں کے کسی کا تقرر نہ کیا جائے۔مسلمان اب اس قدر گر گئے ہیں کہ اگر وہ سرکاری ملازمت پانے کی قابلیت بھی حاصل کر لیتے ہیں تب بھی انہیں سرکاری اعلانات کے ذریعے سے خاص احتیاط کے ساتھ ممنوع کر دیا جاتا ہے۔ ان کی بے کسی کی طرف کوئی متوجہ نہیں ہوتا۔ اور اعلیٰ حکام تو ان کے وجود کو تسلیم کرنا ہی کسرِ شان سمجھتے ہیں۔ 1869ء میں کلکتہ میں مشکل سے کوئی دفتر ایسا ہو گا جس میں بجز چپڑاسی یا چٹھی رساں یا دفتری کے مسلمانوں کو کوئی اور نوکری مل سکے”۔

اسی طرح مسٹر ای سی بیلی سیکرٹری گورنمنٹ ہند نے لکھا تھا۔

“تعلیم یافتہ مسلمان اپنی پرانی قسم کی تربیت پر بھروسہ رکھنے کے باوجود اپنے کو حکومت کے عہدوں اور منابع پر جن پر اب تک وہ قابض تھا محروم پاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ تمام نفع کے کام ہندو کے ہاتھ میں چلے گئے۔ اچھے تعلیم یافتہ لوگوں کے دل بے چینی سے لبریز ہو گئے ہیں۔ یہ احساس اس خیال پر مبنی نہ بھی ہو کہ ان لوگوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے ستایا جا رہا ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کے مذہب کی وجہ سے بے اعتنائی برتی جا رہی ہے”۔

یہ تو حالت تھی ملازمت کی، تعلیم کے معاملے میں بھی وہی انتقامی جذبہ کار فرما رہا۔جنگِ آزادی سے پہلے ہی مسلمانوں کو تعلیم سے روکا گیا تھا اب اس جذبے میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ ایڈیٹر تیج دہلی کا 10 جون 1927 ء کا ریمارک ملا حظہ ہو۔ “1857ءکے بعد حکومت مسلمانوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور اس بات کی کوشش کرتی تھی کہ جہاں تک ہو سکے انہیں دبا کر رکھا جائے۔ ہندوؤں کو ان دنوں اچھی نظر سے دیکھا جاتا تھا”۔ یہی ایڈیٹر 11 اکتوبر 1927ء کی تاریخ کو لکھتا ہے۔ “جن لوگوں نے 57ء کا غدر دیکھا ہے وہ بوڑھے بتلاتے ہیں کہ انگریز سرکا رہندوؤں کی پوری طرح طرفدار تھی”۔ پھریہی ایڈیٹر 11 مئی 1928ء کی تاریخ کو لکھتا ہے۔ “چونکہ ان دنوں حکومت مسلمانوں سے نالاں تھی۔ اس لیے اس وقت ہندوؤں کی ہی گڈی آسمان پر چڑھی ہوئی تھی اور بہت سے سادہ لوح ہندو سمجھتے تھے کہ انگریزوں کا راجیہ کیا آیا کہ سمجھو ہندوؤں کا راجیہ سبھایت(قائم)ہو گیا”۔ یہ تھے وہ حالات جب مسلمانوں پر ہندوستان میں زمین تنگ تھی اور ان کا وجود ہی خطرے میں تھا۔

سر سید احمد خان نے ہی انہیں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے پر لگایا اور یہ انہی کی فکر کے نمائندہ تھے جنہوں نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ تو کیا ان حالات میں مسلمان اپنے جائز حقوق کی بات نہ کرتے؟پھر کہا جاتا ہےکہ لیگ کے لیڈر کانگریس کی آزادی کے مطالبے کے خلاف تھے اور اسے ایک باغی جماعت سمجھتے تھے۔ ذرا اس بیان کو بھی تاریخ کی کسوٹی پر پرکھ لیتے ہیں۔ پہلے بتایا جا چکا کہ کانگریس کی بنیاد کا مقصد کیا تھا اور کانگریس کے مختلف صدور 1898ء تک انگریز اور انگریزی حکومت کی کیا کیاخوشامد نہیں کرتے رہے۔ کانگریس کی بنیاد انگریز وائسرائے کے حکم کے تحت ایک دوسرے انگریز سرکاری افسر نے رکھی تھی۔ پھر کانگریس کا بانی ہی انگریز نہ تھا بلکہ اس کے متعدد اجلاسوں کی صدارت بھی انگریز کرتے رہے۔ 1888ءمیں الہ آباد کے اجلاس کی صدارت مسٹر جارج لیول نے کی۔ 1889 ء میں بمبئی اجلاس کی صدارت سر ولیم ویڈربرن نے کی جو انڈین سول سروس کا ریٹائرڈ آفیسر تھا۔ 1894ء کے اجلاس کی صدارت رکنِ پارلیمنٹ مسٹر ویب نے کی۔ 1904 ءمیں بمبئی کے اجلاس کی صدارت بھی انڈین سول سروینٹ اور سابق چیف منسٹر آسام سر ہنری کاٹن نے کی۔ اسی طرح 1910ء میں بھی کانگریس کی صدارت مسٹر ڈبلیو ایڈبرن نے کی تھی۔ یہ تھی قوم پرست علماء و راہنماؤں کی باغی جماعت۔ پھر مسلم لیگ کے قیام کے وقت انگریزوں او رکانگریسی لیڈروں میں اس قدر باہمی موانست تھی کہ جو ہندوستانی کانگریس کے اجلاس کی صدارت کرتا یا اس کے اندر کوئی اہمیت حاصل کرتا وہ فوراً یا تو ہائی کورٹ کا جج بنا دیا جاتا یا وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر نامزد ہو جاتا تھا۔

سر ایس سبرا ہمانیہ آئیر مدراس کے ایک مشہور سرکاری خطاب یافتہ تھے جو پہلی کانگریس میٹنگ میں شریک تھے۔ مسٹر وی کرشنا سوامی آئردہ بزرگ ہیں جن کی کوششوں سے 1908ء میں مدراس میں کانگریس کا کنونشن ہوا تھا اور مدراس کے گورنر سر آرتھر لی نے اس کے لیے خیمے عطا فرمائے تھے۔ سر سنکرن نیئر نے 1897ء میں امراؤتی میں کانگریس کی صدارت کی تھی۔ مسٹر راما سام نے 1898 ءمیں کانگریس میں شرکت کی اور اس اجلاس میں جنوبی افریقہ کے باشندوں کی ہمدردی کے متعلق ریزولیوشن کی تائید کی تھی۔ پھر مسٹر پی آر سندارا آئر 1908 ء میں اور مسٹر ٹی وی سیشا گری ایار 1910ء میں کانگریس میں شامل ہوئے۔ سب ہائی کورٹ کے ججز بنائے گئے، کچھ لا ممبر بنے اور دو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر بنائے گئے۔ سرحبیب اللہ جو 1898ء میں کانگریس کے پلیٹ فارم پر پہلی بار آئے مدراس اور دہلی گورنمنٹ کے ممبر بنائے گئے۔ سر ایم کرشنا نیئر 1904 ءمیں کانگریس میں نمودار ہوئے اور لا ممبر بنائے گئے۔ سر کے وی ریڈ 1917ء تک کانگریس میں رہے اور مدراس میں سرکاری وکیل رہے۔ اس طرح صرف مدراس سے چھ جج ممبران کونسل وائسرائے اور گورنر کے تقررات صرف اس لیے کیے گئے کہ ان کو کانگریس میں اقتدار حاصل ہوا۔ بعد میں مسٹر جی اے ٹیسن ٹرف بورڈ کے ممبر بنائے گئے۔

سر آر کے شمکھم چیٹھے کانگریسی ہونے کی وجہ سے چین میں دیوان بنے۔ طیب جی جنہوں نے 1887ء میں مدراس میں اور مسٹر چنداوکار جنہوں نے 1900ء میں لاہور کی کانگریس کی صدارت کی دونوں بمبئی ہائی کورٹ کے جج بنائے گئے۔ مسٹر این ایم سمراتھ اور مسٹر بی این باسو کانگریسی ہونے کی وجہ سے سیکرٹری آف سٹیٹ کی کونسل کے ممبر بنائے گئے۔ سر جمنا لاسیتلواد آف بمبئی بھی کانگریسی تھے اور وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر بنے۔ کلکتہ میں مسٹر اے چودھری جنہوں نے تقسیم بنگال کی شورش میں حصہ لیا فوراً ہائی کورٹ کے جج بنا دیے گئے۔ “لارڈ منٹو کی سوانخ حیات” مصنفہ لیڈی منٹو سے ایک عجیب واقعہ کا پتہ چلتا ہے۔ وہ یہ کہ 1908 ءمیں جب لارڈ مارلے گورنمنٹ آف انڈیا کے لیے قانونی ممبر کا تقرر کرنا چاہتے تھے تو دو ممبروں پر نظرِ انتخاب پڑی۔ ایک اشوٹوش مکرجی اور دوسرے مسٹر ایس پی سنہا۔ مسٹر سنہا کلکتہ کے اجلاس 1896ء میں کانگریس کی طرف سے تقریر کر چکے تھے۔ لارڈ مارلے نے لکھا کہ مسٹر سنہا کانگریسی ہیں اس لیے غیر کانگریسی کے مقابلے میں کانگریسی کو منتخب کیا گیا۔ اسی طرح 1920 ء میں گورنر جنرل کی ایگزیکٹو کونسل میں جگہ خالی ہوئی تو اگرچہ لارڈ چمسفورڈ مہاراجہ بردوان کو منتخب کرنا چاہتے تھے مگر مسٹر مانٹیگو نے ایک کانگریسی مسٹر بی این شرما کو اس لیے پسند کیا کہ 1919 ءمیں امر تسر کانگریس میں اس نے حکومت کی وفاداری کا ثبوت دیا تھا۔

جنگِ آزادی سے پہلے ہی مسلمانوں کو تعلیم سے روکا گیا تھا اب اس جذبے میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ ایڈیٹر تیج دہلی کا 10 جون 1927 ء کا ریمارک ملا حظہ ہو۔ “1857ءکے بعد حکومت مسلمانوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور اس بات کی کوشش کرتی تھی کہ جہاں تک ہو سکے انہیں دبا کر رکھا جائے۔

اس طرح 1920ء تک گویا کانگریسی ہونا حکومت کی وفاداری کی ایسی کھلی ہوئی ضمانت ہوتی تھی کہ غیر کانگریسی کے متعلق شک کیا جا سکتا تھا مگر کانگریسی کے متعلق کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسی طرح کلکتہ میں مسٹر ایس آر وانس1905 ءنے کانگریس میں تقریر کی اور وائسرائے کی کونسل کے لا ممبر بنائے گئے۔ یو پی میں سر تیج بہادر سپرو جو اس زمانے میں پکے نیشلسٹ اور کانگریسی تھے گورنمنٹ آف انڈیا کے لا ءممبر بنانے گئے۔ سید حسن امام جنہوں نے 1912ء میں کانگریس کا اجلاس پٹنہ میں کرایا تھا ہائیکورٹ کے جج بنائے گئے۔ اسی طرح مسٹر ایس سنہا بہار کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر بنائے گئے۔ صرف یہی ایک راہِ عنایت نہ تھی جو خداوندانِ کانگریس کے لیے حکومت میں داخل ہونے کے لیے کھلی تھی بلکہ اور بھی بہت طریقے تھے جن سے کرم گستری کی جاتی تھی۔ سر فیروز شاہ مہتا کو جو پکے کانگریسی تھے لارڈ کرزن نے 1905ء میں سر کا خطاب دیا۔ مسٹر شری نواس شاستری کو محض کانگریسی لیڈر ہونے کی وجہ سے لیجسلیٹو کونسل کا ممبر نامزد کر دیا گیا اور کچھ عرصہ بعد ان کو پریوی کونسلر بنا دیا گیا۔

قطع نظر ان نوازشات و عنایات کی بوچھاڑ کے کانگریس نے پارلیمنٹ کے ممبران، حکومتِ برطانیہ کے زمہ داران اور دوسرے برطانوی باشندوں سے نہ صرف تعاون کیا بلکہ ان کے مرنے پر ماتم کے ریزولیوشن پاس کیے۔ حالانکہ وہی لوگ تھے جو ہندوستان کے قفس کی تتلیوں کو کسنے میں معاون ہوتے تھے۔ 1898 ءمیں گلیڈسٹون وزیرِ اعظم برطانیہ کی موت پر ماتم کیا گیا۔ 1903ء میں مدراس کانگریس میں اسٹینلی ایلڈرلی اور مسٹر ڈبلیو سی کین کی اموات پر تجاویز افسوس پاس کی گئیں۔ 1912ءمیں وائسرائے ہند لارڈ ہارڈنگ جلوس کے ساتھ ہاتھی پر سوار ہو کر دہلی میں داخل ہوئے تو اس وقت ان پر بم پھینکا گیا۔ وہ بال بال بچ گئے۔ کانگریس نے پٹنہ اجلاس میں اظہار افسوس کیا اور قراردادِ غیظ و غضب پاس کی۔ پھر وائسرائے کے نام بذریعہ تار اس کی اطلاع اسی روز کی۔ 1914ءمیں مدراس کانگریس کا سیشن ہو رہا تھا اور مسٹر اے پی پٹرو ہندوستانی فوج کی روانگی کے متعلق تقریر فرما رہے تھے۔ درمیان میں لارڈ پینٹ لینڈ گورنر مدراس تشریف لے آئے۔ فوراً تمام ہاؤس بلحاظِ ادب کھڑا ہو گیا اور مقرر کو روک کر مسٹر سریندر ناتھ چیٹر جی سے کانگریس کی وفاداری تختِ برطانیہ کا ریزولیوشن پیش کر دیا گیا۔ جنہوں نے حسبِ معمول پوری فصاحت سے وفاداری کی تجویز کو پاس کیا۔ بالکل یہی واقعہ 1916ء کے کانگریس سیشن لکھنو میں پیش آیا جب سر جیمس میسٹن جلسہ میں تشریف لائے۔ 1915ءمیں جب مسلم لیگ نے ترکی پہ مظالم پر قرارداد پاس کی تو دوسری طرف کانگریس نے جنگِ عظیم پر برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی کامیابیوں پر مبارکباد کا ریزولیوشن پاس کر لیا۔

ان واقعات کی موجودگی قوم پرستوں کا یہ فرمانا کہ مسلمان کانگریس کو برطانیہ کا باغی اور غیر وفادار جماعت سمجھتے تھے اور اس کے مطالبہ آزادی کی مخالفت کرتے تھے کتنا مضحکہ خیز اور تاریخ کے ساتھ مذاق ہے۔ اس وقت تک تو کانگریسی لیڈروں کے خواب و خیال میں بھی انگریز کی مخالفت کا تصور نہ تھا۔ 1920ء تک کانگریس کی یہ حالت تھی کہ ہر اجلاس میں سب سے پہلا ریزولیوشن بادشاہ سلامت کی وفاداری کا ہوتا تھا جس کو تمام مندوبین کھڑے ہو کر منظور کرتے تھے اور اجلاس میں سب سے اوپر یونین چیک لہرایا جاتا تھا۔ ہمارے قوم پرستوں اور ان کی معنوی وفکری اولادوں کی آزادی کے ہیرو برطانیہ کے استحکام کے لیے جنگِ عظیم میں انگریزوں کو مدد بہم پہنچانے کے لیے ہندوستانیوں کو فوج میں بھرتی کرا رہے تھے۔ گاندھی جی ہندوستان بھر کا دورہ انگریزوں کی حمایت میں اور رنگروٹ بھرتی کرانے کی ترغیب دلانے کے لیے کر رہے تھے۔ مسٹر تلک جولائی 1918ء تک فوج کی بھرتی کے لیے کوشاں رہے۔ آخری مہینہ جولائی 1918ء میں تلک نے گاندھی جی کے نام بطور ضمانت پچاس ہزار روپوں کا ایک چیک روانہ کیا تھا اور لکھا تھا۔

“اگر برطانیہ ہندوستانیوں کو فوج میں اعلیٰ مناصب عطا کرنے کا مہاتما جی سے صرف وعدہ کرے تو میں پانچ ہزار سپاہی صرف مہاراشٹر سے دینے کا وعدہ کرتا ہوں اور اگر وعدہ پورا نہ کر سکوں تو پچاس ہزار روپوں کا چیک ضبط کر لیا جائے”۔

1918ءمیں کانگریس کا سالانہ اجلاس برطانیہ سے وفاداری اور جنگِ عظیم کے کامیابی کے ساتھ ختم ہونے پر برطانیہ کو مبارکباد دی گئی۔ اور ریزولیوشن میں الفاظ شامل کیے گیے۔ “یہ لڑائی تمام دنیا کی آزادی کے لیے لڑی گئی تھی”۔ 1919ء وہ سال ہےجب حکومت نے مارچ میں رولٹ بل پاس کیا۔ جس میں عدالتوں اور پولیس کو وسیع اختیارات دیئے گئے تھے۔ اس بل کے پاس ہوتے ہی ملک میں عام بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ گاندھی جی نے فوراً ستیہ گرہ کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مظاہرے کیے گئے۔

13 اپریل کو ہندوستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ پیش آیا جسے جلیانوالہ سانحہ کہتے ہیں۔ حالات کے پیشِ نظر 21 جولائی کو گاندھی جی نے اپنا بیان سول مخالفت کو بند کرنے کے اسباب کو واضح کرتے ہوئے شائع کیا۔ اس میں لکھا۔ “میں گورنمنٹ کے مشورہ کو قبول کرتا ہوں جس سے میری پرامن سول مخالفت کا اظہار ہو گا۔ ایک پرامن احتجاج کرنے والے کا مقصد حکومت کو پریشان کرنا نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس تحریک کو بند کر کے میں ملک اور حکومت اور پنجابی مظلومین کی زیادہ خدمت کر سکتا ہوں”۔ ملک بھر میں مظالم کی داستانیں سب نے سنیں اور دیکھیں۔ کچھ دن بعد کانگریس کا سالانہ اجلاس امرتسر میں منعقد ہوا۔ اس وقت چمسفورڈ کی اصلاحات ملک بھر میں نافذ ہونے والی تھیں۔ سوال یہ تھا اس حوالے سے تعاون کیا جائے یا نہیں۔ سی آر داس سکیم کے مخالف تھے جبکہ گاندھی جی اور مالویہ جی نفاذ کے حامی تھے۔ لہٰذا جب مسٹر داس نے یہ ریزولیوشن پیش کیا۔

“کانگریس اپنے اس اعلان کا پھر اعادہ کرتا ہے کہ ہندوستان اب “کامل ذمہ دار حکومت”کے لیے بالکل تیار ہے۔ اور اس کے حلاف جو سکیم بھی ہو گی وہ ناقابلِ قبول ہو گی۔ یہ آئینی اصلاحات جو نافذ ہونے والی ہیں ناقابلِ اطمینان اور مایوس کن ہیں”۔

تو گاندھی اس تجویز کو برداشت نہ کر سکے۔ انہوں نے درج ذیل ترمیم پیش کی۔ “اس حکومت کے اجرا ء سے قبل یہ کانگریس شاہی اعلان کو وفاداری کے ساتھ قبول کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ عوام اور حکام دونوں مل کر ان اصلاحات کے نفاذ کے لیے تعاون کریں گے تا کہ کامل ذمہ دار حکومت جلد حاصل ہو سکے۔ اور یہ کہ کانگریس رائٹ آنریبل اس ایس مائننگ کی جانفشانیوں کا جو انہوں نے اس سلسلہ میں برداشت کیں تہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے۔ ”اس قسم کی ترمیم پیش کرتے ہوئے گاندھی جی نے جو تقریر کی وہ حد درجہ معتدل اور وفاداری سے بھری ہوئی تھی۔ “تاریخ کانگریس” کے مصنف پٹا بھائی اس واقعہ کو یوں بیان کرتے ہیں۔

“اس وقت مشکل یہ آن پڑی تھی کہ جبکہ مسٹر داس اس اصلاحات کی منسوخی اور اس کے راستہ میں رکاوٹ پیدا کرنے اور عدم تعاون کے حامی تھے۔ مسٹر گاندھی تعاون اور اشتراکِ عمل کا نمونہ بنے ہوئے تھے۔ بیشک وہ ایسے ہی تھے۔ آئندہ نسل ان کے اس ریزلیوشن پر خواہ کچھ بھی فتوے دے مگر اس وقت تو امر تسر میں ان ہی کی فتح ہوتی”۔

یہ تھی فتح اور اب آگے بھی پٹا بھائی کی زبانی ہی سنئے۔

“پنجاب کے مظالم کی طرف تمام لوگوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ لیکن گاندھی جی کی خواہش یہ تھی کہ کسی طرح پنجاب اور گجرات کی پبلک کے تشدد اور زیادتیوں کے خلاف اور ان کی ان حرکات کو مذموم سمجھتے ہوئے ایک ریزولیوشن پاس کر دیں۔ سبجیکٹ کمیٹی نے اس ریزولیوشن کو نامنظور کر دیا۔ گاندھی جی مایوس ہو گئے۔ رات بہت ہو چکی تھی۔ گاندھی جی نے دبی ہوئی آواز میں کہا اگر ریزولیوشن کو منظور نہ کیا گیا تو میر ےلیے کانگریس میں رہنے کی صورت نہیں ہے۔ لہٰذا صبح کو اس ریزولیوشن کو منظور کر ہی لیا گیا۔ اگرچہ ڈیلیگیٹوں کی کثیر تعداد چیں بہ جبیں رہی”۔

آگے چل کر مصنف موصوف لکھتے ہیں۔ “گاندھی ابھی تک گورنمنٹ سے لڑنے کو تیار نہ تھے۔ اسی لیے شہزادہ ولی عہد کے لیے خوش آمدید کا ریزولیوشن پاس کیا گیا۔ ”یہ ہے آزادی کے اوتار کا رویہ سانحہ جلیانوالہ باغ کے مظالم کی طرف۔

ایسے حالات میں بھی تاجِ برطانیہ سے مکمل تعاون کی داستان خود ان کے اس بیان میں مفصل طور سے موجود ہے۔ جو انہوں نے مارچ 1922 ءکو عدالت احمد آباد میں اس وقت دیا تھا جبکہ خلافت تحریک کو دفن کر کے وہ گرفتار ہوئے تھے۔ اس بیان میں ابتدا ءمیں اپنی افریقہ کی وفاداری کا اظہار کیا تھا کہ جو کچھ حکومت کے خلاف کیا گیا اس سے حکومت کی تخریب مقصود نہ تھی۔ بلکہ محض نکتہ چینی اور طرزِ حکومت میں کچھ اصلاح مقصود تھی۔ 1890 ءاور 1906 ءکی جنگ میں برطانیہ کی امداد کے لیے جو کچھ کارنامے کیے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔

“دونوں مواقع پر مجھے تمغہ جات ملےاور لارڈ ہارڈنگ نے جنوبی افریقہ میں میرے کام کے صلہ میں “قیصرِ ہند”کا تمغہ عطا کیا۔ جب 1914ء میں جنگ چھڑی تو میں نے لندن میں ہندوستانی باشندہ بالخصوص طلبا کی ایک والنٹیئر کور تیار کی۔ پھر 1917ء میں جب ہندوستان میں لارڈ چیمسفورڈ نے فوجی بھرتی کے لیے اپیل کی جس کے جواب میں میں نے باوجود خرابیِ صحت کے اس وقت تک سپاہی بھرتی کرائے جب تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ اب سپاہیوں کی ضرورت باقی نہیں رہی”۔

یہ تھی آزادی کی جنگ لڑنے والی جماعت کی جدوجہد۔ کیا مسلم لیگ یا مسلم لیگ کا کوئی لیڈر بھی رنگروٹ بھرتی کرا رہا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلی قسط کے لیے اس  لنک پر کلک کریں

About Author

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. کانگریس کی بنیاد انگریز وائسرائے کے حکم کے تحت ایک دوسرے انگریز سرکاری افسر نے رکھی تھی۔ پھر کانگریس کا بانی ہی انگریز نہ تھا بلکہ اس کے متعدد اجلاسوں کی صدارت بھی انگریز کرتے رہے

  2. “کانگریس اپنے اس اعلان کا پھر اعادہ کرتا ہے کہ ہندوستان اب “کامل ذمہ دار حکومت”کے لیے بالکل تیار ہے۔ اور اس کے حلاف جو سکیم بھی ہو گی وہ ناقابلِ قبول ہو گی۔ یہ آئینی اصلاحات جو نافذ ہونے والی ہیں ناقابلِ اطمینان اور مایوس کن ہیں”۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: