بڑھتا ہوا جنسی ہیجان: اسباب و عوامل — فاروق بھٹی

0
  • 27
    Shares

پنجاب کے شہر قصور میں سات سالہ بچی زینب کے ساتھ ہونے والے حالیہ جنسی درندگی کے دردناک سانحہ نے پورے پاکستان کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ صف ماتم بچھی اور مختلف رویے سامنے آئے۔ سوشل میڈیا پہ لوگوں نے کھل کے حکمران طبقے کی مذمت کی اور قصور واروں کو جلد از جلد پکڑنے اور سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ جہاں اس کی مذمت کی گئی وہیں دانشور طبقہ نے اس کے عوامل کو بھی زیر بحث لانے کی کوشش کی۔ اور ایک دفعہ پھر سے سوشل میڈیا دو دھڑوں میں تقسیم نظر آنے لگا۔ میری نظر سے ایسی کوئی تحریر نہ گزر سکی جس میں اس حوالے سے سیر حاصل بحث کی گئی ہو۔ یہ میری کوتاہ بینی بھی ہو سکتی ہے۔

معاشرے میں بڑھتے جنسی ہیجان کے یوں تو بہت سے ممکن عوامل ہیں لیکن یہاں چند چیدہ چیدہ عوامل پر بات کرنا مقصود ہے۔ آئیے ایک جائزہ لے لیتے ہیں۔

تعلیم و تربیت
فحاشی و عریانی اور میڈیا
منشیات
اور
عدل و انصاف کا مفقود یا کمیاب ہونا

تعلیم و تربیت کے حوالے سے جدت پسند حضرات نے سیکس ایجوکیشن کی بات کی، سوچوں کے پراگندہ ہونے کی بات کی، ایک صاحب نے فرمایا کہ عورت کو ہمارے معاشرے میں صرف شہوت کے حصول کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور مردوں کی یہی سوچ ایسے سانحات کا باعث بنتی ہے یہ بات محل نظر ہے۔ موصوف شاید عورتوں کی طرف سے ہونے والے مردوں کے اغوا و ریپ کے واقعات کا ذکر نہیں کرنا چاہتے۔ کیونکہ معاشرے میں مرد ظلم اور عورت مظلومیت کا استعارہ ہے۔ تو اسی استعارے کو کلی حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے۔ ۔ جو مزاج یار میں آئے۔

آئیے تعلیم و تربیت کے حوالے سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسان سننے، پڑھنے، دیکھنے وغیرہ سے سیکھتا ہے۔ گھر، میڈیا، معاشرہ، اور مکتب اس کی جائے تربیت و تعلیم ٹھہرے۔ اب چونکہ گھر سے آغاز ہوتا ہے تو شہوت و جنسیات کے حوالے سے بہت سا مواد بچوں کو گھر سے ہی دیکھنے سننے کو مل جانا عین ممکن ہے۔ گو کہ ہم اپنی لا پرواہی اور تعلیم و عمل کی کمی کی وجہ سے اس کا ادراک نہیں رکھتے یا رکھنا نہیں چاہتے۔ گالیوں کی صورت میں بچہ ایسے فحش جنسی الفاظ سنتا اور سیکھتا ہے جن کے مفہوم سے وہ عدم بلوغت و شعور کی وجہ سے نا آشنا ہوتا ہے۔ گھر کے بڑوں کی بظاہر بے ضرر سی حرکات بھی کم سنی کے باوجود بعض اوقات بچوں کو شرما دیتی ہیں۔ ایسا حیا کے فطری میکنزم کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ رفتہ رفتہ شعور کی پراگندگی (جس کا سامان گردونواح میں وقوع پذیر عوامل کرتے ہیں) ماند پڑتا جاتا ہے۔ اس حوالے سے بچوں کی تربیت کرنا مشکل ترین کاموں میں سے ہے۔ کیونکہ ہم اپنی لاپرواہی و کج فہمی اور بعض اوقات اپنے فکری میلانات کی وجہ سے خود ان میں شہوت کو مہمیز کرنے کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ رہی سہی کسر معاشرہ اور جائے تدریس نکال دیتے ہیں۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں تو بنیادی طور پہ قرآن و سنت سے راہنمائی لینا یا میسر آنا سامنے کی بات ہے۔ اسلام میں عورت کو پردے کا حکم ہے چلیے چہرے پہ اختلاف ہی سہی، نسوانی محاسن چھپانے تک تو ہر ذی شعور متفق ہے۔ بلکہ اب تو کہنا پڑے گا کہ متفق تھا۔ کہ دور جدید میں، تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا۔ اور مرد کو نگاہیں نیچی رکھنے کا، یہ احکام کیوں ہیں ظاہری سی بات ہے ہمارے شہوانی اور حیوانی جذبات سے تحفظ کی غرض سے۔ اور شرم و حیا کو مہمیز دینے کی غرض سے۔

بچوں کی تربیت کرنا مشکل ترین کاموں میں سے ہے۔ کیونکہ ہم اپنی لاپرواہی و کج فہمی اور بعض اوقات اپنے فکری میلانات کی وجہ سے خود ان میں شہوت کو مہمیز کرنے کا کام سر انجام دیتے ہیں۔

عورت تو عورت اسلام میں تو مرد کو امردوں سے بھی دوری رکھنے کا حکم ہے۔ اب یہاں اسکول و مدرسہ کا بھی ذکر آ جاتا ہے چاہے اسکول ہو یا مدرسہ اساتذہ کا امردوں سے براہ راست سامنا و قربت ہوتی ہے۔ اس پہ تنہائی فتنہ برپا کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ یہاں تو مخلوط تعلیم پہ دلائل دئیے جاتے ہیں سو یہ بات ہنسی میں اڑا دی جائے گی لیکن پھر بھی لکھے دیتا ہوں۔ کہ میری ناقص رائے میں سکول و مدرسہ میں پرائمری تک کے عمر کے بچوں کا احتلاط مڈل کے ساتھ اور مڈل کے بچوں کا اختلاط میٹرک، میٹرک کا انٹر، اور انٹر کا بیچلرز وغیرہ کے بچوں یا نوجوانوں سے اختلاط نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے قوی امید ہے کہ امرد پسندی سے متعلق چائیلڈ ابیوز کے کیسز میں خاطر خواہ افاقہ ہو گا۔ اور بلیز والا مسئلہ بھی ضمنا کافی حد تک حل ہو جائے گا۔ وگرنہ معاشرہ میں موجود امرد پسندی کے رجحان سے آپ واقف تو ہوں گے ہی۔ میرے خیال میں امردوں پہ بات کر چکنے کے بعد خواتین سے متعلق بات کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ جب لڑکوں میں عمر کے فرق کی وجہ سے احتلاط کے ایسے نتائج ہیں تو مخلوط تعلیم تو اس سے آگے کا معاملہ ہے۔ یعنی بچیوں کے معاملات مزید احتیاط کے متقاضی ہیں۔ باقی جو بچے کم عمری میں رزق کی تلاش میں پڑ جاتے ہیں۔ معاشرہ ان کی جنسی حوالے سے کیسے تربیت کرتا ہے بیان کی حاجت نہیں رکھتا کہ ہر ذی شعور اس کا ادراک رکھتا ہے۔ نصاب سے متعلق بھی اسی قسم کی احتیاطیں ملحوظ رکھی جائیں تو شہوت کے بے مہار گھوڑے کو ضبط اور حیا کے کوڑے سے قابو میں رکھنا کسی حد تک ممکن ہو سکتا ہے۔

وگرنہ سیکس ایجوکیشن تفصیلا فراہم کر کے معاشرے کو پچاس سالہ تجرباتی دور سے گزار کر پھر اسی طرف لوٹ آئیے گا کہ سائنس کا دور ہے تجرباتی قرینے عقل کو زیادہ بھاتے ہیں۔ پہلے سے بیان کردہ اخلاقیات دقیانوسی نظر آتی ہیں۔ بنا لیجیے معاشرے کے مستقبل (بچوں) کو تجربہ کی مشق۔ پھر اس کے نتائج بھی آئندہ نسل دیکھ ہی لے گی۔
لکھنے کو تعلیم و تربیت پہ بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے تھوڑے کہے کو زیادہ جانیے۔

عریانی و فحاشی اور میڈیا کے رویے پہ بات کرنے لگو تو ایک جنگ کا سماں پیدا ہو جاتا ہے ہر دو طبقے ایک دوسرے کی قبائیں تار تار کرنے پہ اتر آتے ہیں طعنوں اور دشنام طرازیوں کا وہ بازار گرم ہوتا ہے کہ جس میں پگڑیاں بھی اچھلتی ہیں اور ردائیں بھی تار تار ہوتی ہیں۔

شلوار اتارنے سے لے کر نا جانے کون کون سی باتیں قوم میڈیا کے توسط سے سن چکی۔ بہر حال موضوع بحث جو ٹھہرا تو چار سطریں ہم بھی کالی کیے دیتے ہیں۔
بات ٹی وی سکرین کی صنعت آزری کی ابتداء سے کر لیتے ہیں کہ بت شکن تو اٹھ چکے اب تو مجھ ایسے حلیے والے بھی سکرینوں کے سامنے لذت کشید کرتے پائے جاتے ہیں۔ سو ٹی وی و سینما کی ابتداء میں جو مناظر ناظرین کو دکھائے گئے بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب کے، اس وقت کے معاشروں کے ان پروگرامز اور پردہ سکرین پر نمودار ہونے والے اجسام کے لباس، و ناز و ادا سے متعلق رائے کو دیکھ لیجیے آپ کو شرم و حیا کے جدید و قدیم پیمانوں کا اندازہ ہو جائے گا۔ بلکہ اسی پہ کیا تکیہ کیجیے تمام دنیا کے معاشروں میں سے سب سے پہلے معاشرے کے کن کرداروں نے ٹی وی و سینما سکرینوں کو رونق بخشی اور ان کو معاشرے میں کن کن ناموں اور کتنی عزت سے پکارا جاتا تھا بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ذرا سی مشقت سے آپ کو کافی کچھ مل جائے گا اس حوالے سے۔ ۔ اور اگر شائقین کی بات کی جائے تو بھی معاشرے میں سب سے پہلے کس نوعیت کی اخلاقی حالت والوں نے سینما سکرینوں کی طرف رخ کیا اور بقیہ بچ رہنے والے معاشرے نے ان پہلے تماش بینوں کو کس قدر کی نگاہ سے دیکھا معلوم کرنا مشکل نہیں۔

بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سکرینوں سے تھری ڈی تک کا سفر کرنے والی نسل ابھی زندہ اور ہوش و ہواس سے ہے ان سے پوچھ لیجیے کہ شہوت کو اجاگر کرنے والے کیا کیا نت نئے طریقے اس دوران اختیار کیے گئے اور کتنی جدت لائی گئی۔ جملوں کی ساخت سے لے کر لباس تک اور صنف مخالف سے بغلگیر ہونے سے لے کر بوس و کنار تک اور بوس و کنار سے لے کر سو کالڈ بولڈ مناظر تک سینما اور ٹی وی سکرین کیسے پہنچی۔ اور ہر نئی جدت کو معاشرے نے کس نظر سے دیکھا اور اسے بہ خوشی قبول کیا یا طوعاً و کرہا۔ امید ہے کہ صرف سوچنے اور ذرا سی نظر دوڑانے سے جوابات شافی و کافی میسر آ جائیں گے۔ ویڈیو کیسیٹوں پہ پورن مناظر دیکھنے سے لے کر سی ڈی اور پھر نیٹ کیفے سے لے کر سمارٹ فون تک کا سفر پنجاب سپیڈ سے بھی تیزی سے طے ہوا اور جدت یہ آئی کے سمارٹ فون کے ذریعے سے یہ پورن لڑکیوں تک بھی جا پہنچا جو کل تک ان کی پہنچ سے کچھ دور تھا۔ پنجاب میں سٹیج ڈراموں کی صورت ننگے ناچ بھی زیادہ پرانی بات نہیں۔

معاشرے پہ اس کے اثرات اخلاقی و جنسی طور پہ کافی واضح ہیں۔ میڈیا اور سرمایہ داری نظام کے گٹھ جوڑ نےعورت کو جنس بازار بنا ڈالا۔ بطور ایک مثال ایر لائن کے شعبے سے وابستہ خواتین ایئر ہوسٹس کی بات کر لیتے ہیں۔ مردوں کی کون سی جبلت کو سامنے رکھ کے سرمایہ دار عورت کو اس مقام پہ کھڑا کرتا ہے؟ میری نفسیات پہ کچھ کہنے سے پہلے ماضی قریب میں پی آئی اے میں بطور ائیر ہوسٹس کام کرنے والی خواتین پہ ہونے والی تنقید کو یاد کر لیجیے گا کہ کیسے ان کی نسوانیت کو موضوع بنایا گیا اور ان میں نسوانی حسن کی کمی پہ جملے کسے گئے۔

برہنہ شہر مجھ سے کہہ رہا ہے
تری آنکھوں میں عریانی بہت ہے

بات کو جنسی ہیجان کو شہ دینے والے تیسرے سبب منشیات کی طرف لے کے جاتے ہیں۔ منشیات بشمول شراب کے شہوت کو مہمیز دینے کا کام بہم سرانجام دیتے ہیں۔ اور نشے میں دھت ہونے سے دماغی حالت بھی زبوں ہوتی ہے۔ حیرت ہے کہ اس حوالے سے کسی نے بات نہیں کی۔ معاشرے میں اس کی ترسیل و استعمال میں جو پچھلی دو دہائیوں میں اضافہ ہوا وہ بھی پورن کی طرح ہی ہے۔ اور اب تو یہ زہر سکول کے بچوں تک کی رگوں میں سرایت کرنے لگا ہے چرس فیشن بن چکا اب۔ سن بلوغت کی ابتدائ عمر ویسے ہی ہیجانی ہوتی ہے۔ اور اس پہ پورن اور منشیات کا تڑکہ اسے سہ آتشہ کر دیتا ہے۔ اس سے نوجوان نسل میں جس جنسی و اخلاقی گراوٹ نے جنم لیا اس پہ تحقیق سماجیات کے شعبے سے وابستہ لوگوں پہ چھوڑتے ہیں۔ ریپ کے اکثریت واقعات میں مجرم نشے کی حالت میں پائے گئے ایسا دنیا بھر میں ہے۔
منشیات حتی کے شراب نوشی کو کسی بھی معاشرے میں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ جدید معاشروں میں جہاں شراب نوشی لیگل ہے وہاں بھی اسے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

فرد کے ذاتی آزادی کے نظریہ کے حامل معاشروں میں باہمی رضا مندی سے جنسی تعلقات کو بری نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ بلکہ ہم جنس پرستی جیسے غیر فطری معاملات کو بھی اب قانونی حیثیت حاصل ہے۔ شراب نوشی پہ قد غن اس لیے نہیں لگائی جاتی کے یہ فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔ لیکن اسلامی نظام قانون میں ان چیزوں کا جڑ سے خاتمہ کرنے کی سوچ کار فرما ہے۔ اور فرد کی تعلیم و تربیت میں شرم و حیا کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

نظام عدل و انصاف کی اہمیت کسی بھی معاشرے میں روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اس پہ حالیہ واقعہ کے تناظر میں بہت کچھ لکھا جا چکا اس کے حوالے سے بس اتنا کہنا چاہوں گا۔ کہ اسلامی نظام عدل ان عوامل کے تدارک کا اہتمام کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود ایسے واقعات پہ سخت ترین سزائیں سر عام تجویز کرتا ہے۔
جہاں انصاف کا خون معمول ہو وہاں انسان کی حرمت اور خون ارزاں ہو جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: