اگر اسلام دین فطرت ہے: زینب کیس کے تناظر میں ۔ اعظم احمد

0
  • 170
    Shares

جب سے قصور کا واقعہ ھوا ہے ہر فورم اور میڈیا پر اسی کا چرچا ہے، بھانت بھانت کی بولیاں اور تجاویز پر بحث ہورہی ہے، کوئی کہہ رہا ھے یہ میڈیا کی فحاشی کی بھڑکائی ھوئی آگ ہے، کسی کی تجویز ھے کہ سیکس ایجوکیشن کو نصاب کا حصہ بنایا جائے، کئی حضرات بچوں کو مارشل آرٹس سکھانے پر زور دے رہے ہیں، تو کچھ کا کہنا ھے کہ طوائفوں کو معاشرے سے ختم کیا جائے تب یہ برائی ختم ھوگی معاشرے سے۔

ھم باری باری سب نکات کا جائزہ لیتے ہیں:

سب سے پہلے میڈیا کی طرف آتے ہیں: اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا بہت ھیجان خیز ہے، ہر چینل اور سکرین پر سجی سنوری بنت حوا مردوں کے حواس پر چھا جاتی ہیں جس سے ذہنی تلذذ کے راستے کھلتے ہیں جو آگے جاکر عملی برائی کا سبب بھی بنتے ہیں لیکن ھمیں اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا ھوگا کہ میڈیا اب ایک بہت بڑی اور طاقتور انڈسٹری بن چکی ہے، اس دور جدید میں
اسے ‘مشرف بہ اسلام’یا واپس ‘ضیا دور’میں نہیں لایا جاسکتا اور ویسے بھی میڈیا پوری دنیا میں اسی طرح کام کررہا ہے، اور اس وحشت اور درندگی کی ساری ذمہ داری میڈیا پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

دوسرا نکتہ نصاب میں سیکس ایجوکیشن کی شمولیت سے متعلق ہے: روایتی جنس یا سیکس کے لفظ سے بدکنے والی سوچ سے قطعءنظر ایک مناسب حد تک اسکی آگہی فراھم کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں کیونکہ اگر ھم اپنے بچوں کو مناسب آگہی دینے سے پس وپیش کریں گے تو پھر نامناسب آگہی وہ خود ہی گوگل سے لے لیں گے، اور ویسے بھی انسان کی فطرت میں تجسس کا مادہ بہت زیادہ ھے اور وہ ہر چھپی ہوئی چیز کے بارے میں جاننے کیلئے کوشاں رہتا ہے، دوسری طرف اگر ھم باقی دنیا امریکہ وغیرہ کی طرف دیکھیں تو وہاں سیکس ایجوکیشن بھی ہے، معاشرہ بھی سیکس فری ہے اس کے باوجود زنابالجبر، بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات بہت کثرت سے ہوتے ہیں، پس ثابت ہوا کہ سیکس ایجوکیشن بھی اس گھمبیر مسئلے کا شافی علاج نہیں ہے۔

بچوں کو احتیاطی تدابیر، اور خود حفاظتی بتائی جانی چاہیے لیکن ظاہر ہے بچوں کو کراٹے یا باکسنگ کے کورسسز تو نہیں کروائے جاسکتے اور ویسے بھی ایک شاطر کرمنل اور جنونی انسان کے آگے معصوم بچے کی کیا بساط ہے، وہ ان جنسی درندوں کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں جبکہ وہ ہوں بھی ان کے قریبی رشتوں میں سے ہی جیسا کہ زیادہ تر کیسز میں ہوتا ہے۔

کچھ دوستوں کی تجویز ہے کہ طوائفوں پر پابندی لگائی جائے، یہ عادی مجرم پیدا کررہی ہیں۔ ۔ تو عرض ہے کہ نہ یہ جرائم نئے ہیں اور نہ طوائف کوئی نئی چیز ہے، صدیوں سے خیر اور شر معاشروں کا حصہ چلے آرہے ہیں، یہاں رحمان اور شیطان کے پیروکار اپنا اپنا کام کررہے ہیں، زندگی خیر اور شر کے اسی تناسب کا نام ہے، لاکھ کوشش کر کے بھی معاشرے کو مکمل طور پر برائی سے پاک نہیں کیا جاسکتا تو پھر آخر اس سنگین صورتحال کا تدارک کیا ہے، اپنے بچوں کو اس درندگی اور وحشت سے کیسے بچائیں؟

اب تحریر کے عنوان کی طرف آتے ہیں ’اگر اسلام دین فطرت ہے اور یقینن ہے تو اس کا سادہ سا حل دین میں موجود ہے، “نکاح کرو، کثرت سے اور آسانی سے”

جنس فطرت کا ایک طاقتور اورمنہ زورتقاضہ ہے اس سے آنکھیں مت چرائیں، ہم نے خودساختہ عذر تراشے ہوئے ہیں۔ اکثر گھروں میں کہا جاتا ہے کہ ابھی بچی کی عمر ہی کیا ہے، ابھی کالج میں پڑھ رہی ہے، پہلے تعلیم مکمل کرلے پھر شادی کا سوچیں گے۔ اسی طرح کے لولے لنگڑے اعتراض لڑکوں پر بھی، تعلیم، نوکری، کاروبار، معاشرے میں مقام اور پھر شادی۔

آپ بتائیں کیا ھمارے یہ رویے دین سےمطابقت رکھتے ہیں جبکہ قران پاک میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کی شادیاں بھی کرو اور مفلسی کا خوف مت کھاو، ان کو میں رزق دیتا ہوں۔ ہم اگر اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ھمیں لاکھوں شادی کی عمر کو پہنچے ہوئے لڑکیاں لڑکے اپنے گھروں میں نظر آئیں گے جو ھماری افلاطونی سوچ ک باعث زندگی کی سب سے بڑی خوشی سے محروم بیٹھے لذت کے متبادل راستے ڈھونڈتے ہیں یہی راستے پھر زینب جیسی معصوم بچیوں اور بچوں کی موت کا سبب بنتے ہیں، فضول اور تباہ کن رسموں و رواج کی غلامی چھوڑ کر نبی صعلم کی سنت کے مطابق سادگی اور آسانی سے نکاح کریں، نہ صرف کنواروں کے بلکہ شادی شدہ کے بھی، بےشمار شادی شدہ مرد ایسے ہیں جو اپنی بیویوں کی مختلف وجوھات کی بنا پر سردمہری کا شکار ھوکر مجرد سی زندگی گزار رہے ہیں، اگر کوئی حقیقی سروے کیا جائے تو دس میں سے آٹھ شادی شدہ مرد دوسری شادی کے خواہشمند ہیں، انکی خواہش جائز اور حقیقی ہے اس کامذاق اڑانے کی بجائے اسکا احترام کیا جائے، ورنہ یہ بظاہر شادی شدہ اور پختہ کار لیکن ناآسودہ لوگ کنواروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ نظام عدل اور قانون کی عملداری وہ سب سے اہم چیز ہےجو کسی معاشرے کے استحکام اور امن وامان کی ضامن ہے، انسان اپنی جبلت میں وحشی درندہ ہے، سزا کا خوف ہی اسے درندگی سے باز رکھتا ہے، اس لیے اگر معاشرے کوامن سکون کا گہوارہ بنانا ہے تو بلا تفریق مجرموں کیلیے سخت سزائیں اور انصاف کی فوری فراھمی کا نظام لاگو کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: