جرائم کا مذہب: لالہ صحرائی

0
  • 17
    Shares

واشنگٹن، کراچی، بیجنگ، کلکتہ، مانچسٹر اور لگزمبرگ وغیرہ سے ایک ایک عادی سگریٹ نوش پکڑیں اور انہیں یہ سمجھا کے کسی جگہ بٹھا دیں کہ دو گھنٹہ تک نہ بولنا ہے نہ ہی کوئی اور کام کرنا ہے، پھر چاہے جو مرضی کریں، وقت ختم ہونے پر یہ سب سے پہلے اپنا اپنا سگریٹ نکال کے سلگائیں گے، اور ہم ذوق نکل آنے کی بنا پر آپس میں ایسے گھل مل جائیں گے کہ ایکدوسرے سے سگریٹ بھی شئیر کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔

پھر کچھ ایوریج قسم کے انسان پکڑیں اور انہیں باہمی تبادلۂ خیال کیلئے کھلا چھوڑ دیں، پہلی نشست میں یہ سب حضرات اچھی اچھی اخلاقی قسم کی باتیں ہی کریں گے، پھر بے تکلفی ہونے پر کچھ لطائف کا تبادلہ ہوگا، پھر کچھ ازدواجی امور پر رائے زنی ہوگی، پھر کوئی ایک بندہ مزید آگے بڑھ کے جب ایک بالغ قسم کا جوک سنا دے گا تو آیندہ کیلئے اس مجلس کا انداز ہی یکسر بدل جائے گا، اب یہ ہر مجلس میں اڈلٹ گفتگو ہی کریں گے۔

اب ان پر قانون کا نفاذ کر کے دیکھ لیں کہ جب اسموکرز کے پاس نوسموکنگ کا بورڈ لگا دیا جائے تو پھر بھی کوئی نہیں رکے گا تا وقتیکہ قانون یا کیمرے کی آنکھ انہیں دیکھ نہ رہی ہو، پھر قانون نافذ کرنیوالا جب ان سے ایک سگریٹ مانگ کے وہیں پینے بیٹھ جائے گا تو کیمرے کی آنکھ اپنے قانون کے ساتھ خود بھی گئی بھاڑ میں، مجلس پھر سے دھواں دھار ہو جائے گی۔

دوسری مجلس میں یاوہ گوئی کرنیوالوں میں سے جب کوئی ایک دو بندے تسبیح نکال کے بیٹھ جائیں گے تو باقی کے لوگ بھی ان کے سامنے بیہودہ گوئی سے لازماً رک جائیں گے لیکن اگر ذاکرین یہ کہیں کہ تم اپنا کام جاری رکھو ہم ساتھ ساتھ تمہاری بات بھی سن رہے ہیں تو کوئی نہ کوئی انہیں پہلے تسبیح رکھنے کیلئے کہے گا اسلئے کہ دو مختلف مزاجوں کے درمیان بٹنے کے بعد مجلس کا وہ لطف نہیں رہتا جو ساری گینگ کے ہم مزاج ہونے اور گفتگو میں ایک جیسا ذوق دکھانے سے پیدا ہوتا ہے۔

پہلے یہاں نو سموکنگ کے کتبے آویزاں ہوتے تھے پھر بھی لوگ ان کے پاس بیٹھ کے سگریٹ نوشی کر لیا کرتے تھے لیکن اب یہاں کارپوریٹ سیکٹرز میں کوئی بھی کسی کو سموکنگ سے منع نہیں کرتا، بس ایک فائر الارم لگا ہوتا ہے جو دھواں سونگھ کے فوراً بول پڑتا ہے، پھر ساری بلڈنگ میں بھگدڑ مچ جاتی ہے، اس قضیئے میں اگر اسموکر آئیڈینٹیفائی ہو جائے تو ساری بلڈنگ ہی اس پر لعنت ملامت کرتی ہے، تادیبی کاروائی اس کے علاوہ ہے، لیکن اس کے باوجود سگریٹ نوشی کسی نے بھی ترک نہیں کی، اب اپنی سیٹ پر بیٹھ کے سگریٹ پینے کی بجائے سموکنگ کارنر میں ہر وقت مجلس لگی رہتی ہے۔

جرم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، نہ ہی یہ کسی قوم کی میراث یا امتیازی نشانی کہلائی جا سکتی ہے، کسی بھی معاشرے میں جرائم محض ایک سیٹ آف پیپلز کی ذاتی مجبوری، شوق یا جبلت کے تحت وقوع پزیر ہوتا ہے اور باہمی دلچسپی کے گینگز ترتیب پانے کے بعد جابجا پنپتا بھی ہے، اس پر اگر قانون، کیمرے یا سینسر کی آنکھ نہ ہو تو کوئی چیز بھی اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی اور اگر قانون نافذ کرنیوالا خود بھی ان کے ساتھ بیٹھ جائے تو پھر سونے پہ سہاگہ ہوجاتا ہے۔

تعلیم و تربیت سے انسان میں اخلاقی رویے اور ذمہ داری کا احساس تو پیدا کیا جا سکتا ہے مگر اسے اخلاقیات پر کاربند رہنے پہ مجبور نہیں کیا جا سکتا اسلئے کہ ہر معاشرے میں بہت سے فیکٹرز ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کو اپنی فطرت یا تربیت کے خلاف کچھ نہ کچھ کرنے پر اکساتے یا مجبور کر دیتے ہیں، ان میں تنگدستی و بیروزگاری سب سے بڑا فیکٹر ہے، اس کے بعد ہوس مال اور جنسی ہوس کا بڑا دخل ہے۔

اخلاقی تربیت اپنی جگہ اہم ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی قوم کی جتنی چاہے تربیت کرلیں، ساتھ میں جب تک قانون مستعد نہیں ہوگا اور بے لاگ احتساب کی ذمہ داری نبھانے سے عاری یا عاجز ہوگا تب تک جرائم پیشہ گینگز اسی طرح سب کے ناک میں دم کئے رکھیں گے جیسے ہمارے ہاں کر رکھا ہے۔

اخلاقی تربیت محض اتنا ہی کام کرتی ہے جتنا ماہ صیام کے روزے انسان کو ایک ماہ کیلئے بھوک پیاس کا عادی بنا دیتے ہیں لیکن ماہ صیام ختم ہوتے ہی انسانی جبلت دوبارہ حاوی ہونے لگتی ہے اور کچھ ہی روز میں انسان اپنی پہلی روٹین پر واپس آجاتا ہے۔

ماضی میں بزرگ حضرات گلی محلے میں انجان لوگوں کی آمدورفت، خاندان اور محلے کے نوجوانوں کے رنگ ڈھنگ پہ نظر رکھا کرتے تھے بلکہ بوقت ضرورت بے دھڑک ان کی سرزنش بھی کر دیا کرتے تھے مگر اب نہ کسی کے پاس وقت ہے اور نہ ہی یہ قدر اب باقی بچی ہے، آج کسی کے بچے کو کچھ کہہ دو تو اس کے گھر والے بھی گلے پڑجاتے ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ بچے پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ کل کلاں وہ کوئی بڑا گل نہ کھلا دے۔

آجکل گلی محلوں کے کونوں پر بیٹھنے والے بچے جانے انجانے میں عموماً جرائم پیشہ افراد کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں اسلحے و ڈرگز کی سپلائیز، چوری ڈکیٹی، دہشت گردی یا سیاسی غنڈہ گردی میں استعمال کرتے ہیں، ایسے لڑکے جب پیسے کی طاقت، غنڈوں اور اشرافیہ کا طمطراق دیکھتے ہیں یا ان ٹائیکونز سے انہیں پشت پناہی یا مضبوط ڈھال میسر آجاتی ہے تو پھر یہ اپنے ارد گرد نہ صرف اپنا رعب بنانے لگتے ہیں بلکہ ظلم و زیادتی، چھینا جھپٹی اور جنسی زیادتیوں میں بھی ملوث ہونے لگتے ہیں۔

اس سوسائیٹی سے اگر جرم کی بیخ کنی کرنی ہے اور اس گند کو فوری طور پہ صاف کرنا ہے تو پھر ڈائریکٹ ایسے بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا جو معاشرتی جرائم کی سرپرستی کرتے ہیں یا اپنے مالی، سیاسی و مذہبی مفادات قائم رکھنے کیلئے اپنے آلہ کاروں کی ہر جائز و ناجائز حرکت کی سرپرستی کرتے ہیں۔

دوسری صورت میں سنجیدہ عناصر کو اپنے اردگرد کے رنگ ڈھنگ بدلتے ہوئے یا صریحاً بگڑتے ہوئے بچوں پر نظر رکھنی ہوگی، تاکہ طاقتور ریکٹس کے آلۂ کار بننے والے ان کے دست و بازو جھاڑ دئے جائیں، لیکن اس طریقے سے صفائی میں کافی وقت لگے گا، آپ کوئی بھی صورت اپنا لیں لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ یہ دونوں صورتیں اسوقت تک کارآمد نہیں جب تک کہ قانون اپنا کردار ادا نہ کرے، قانونی حمایت کے بغیر ہر کوشش بیکار ہی ثابت ہوگی۔

مسلمان معاشرے کو گندگی کا ڈھیر ثابت کرنے یا غیر مسلم معاشرے کو گندہ ثابت کرنے کی بجائے اس بڑے سوال پر توجہ کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ قانون کو اپنی ذمہ داری نبھانے کیلئے کس طرح ایکٹیویٹ یا مجبور کیا جائے، معاشرتی سکون اور تحفظ کا فقط ایک یہی راستہ ہے اس کے علاوہ کسی بیانیئے میں کچھ نہیں رکھا، خواہ سیکولر اسٹیٹ بنا کر جنسی تعلیم دیں یا اسلامی حکومت بنا کر اخلاقی تعلیم دیں، نتجہ صفر ہی رہے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: