اسلام اور سیکولر تکثیریت: چند غور طلب پہلو — اطہر وقار عظیم

0
  • 86
    Shares

چند روز قبل، ’دانش‘ پہ “سیکولرازم اور لبرل ازم: وقت کی ضرورت” کے عنوان سے ایک کالم پڑھنے کا موقع ملا، جس میں تکثیریت کے نام پر، مسلم دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص، سیکولرازم اور لبرل ازم کو، بطور ریاستی اور انتظامی نظریہ، اپنانے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کالم میں کچھ سوالات بھی اٹھائے گئے تھے، یہاں بھی انہی سوالات کو موضوع بحث بنایا گیا ہے، لہذا اس بحث کواسی کالم کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔

۱) یہ ایک اصولی بات ہے، کہ دنیاوی زندگی کی اہمیت سے انکار، خدا کے انسان کے بارے میں بنائے گئے، آفاقی منصوبے کو مسترد کرنے کے مترادف ہے، اس لئے صحیح معنوں میں کوئی خدا پرست اور آخرت پرست، نہ تو دنیاوی زندگی کو نظرانداز کرتا ہے، اور نہ ہی اسے مسترد ہے، بلکہ وہ محض خدا کے عطا کردہ نور اور ہدایت سے مدد لیتے ہوئے، اسے بسر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ایک دنیا پرست کے پیش نظر، محض دنیا کا اعلی ترین مادی مفاد یا اخلاقی نصب العین کا حصول ہوتا ہے، جیسے کسی سیکولر یا نیم سیکولر ریاست کا “اچھا، مفید اور مودٔب” شہری بننا وغیرہ، اگرچہ اسے بھی چار و ناچار زندگی کو برتنا ضرور پڑتا ہے۔

دراصل، سارا فرق نیت اور اس نیت کی بنیاد پر گزاری جانے والی زندگی کا ہے، بظاہر، یہ چھوٹی سی غیر مادی اور غیر مرئی چیز “نیت” پہاڑ جیسا فرق، دنیا پرست اور آخرت پرست کے مابین پیدا کر دیتی ہے۔ ورنہ ایک دنیا پرست کو بھی، چند سالہ دنیاوی مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے، سخت محنت اور جدوجہد کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ گویا اسے کئی قسم کے دنیاوی غم، اور آلا م کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اچھی بری قسمت کا دائروی چکر (Merry Go Round) الگ سے، چمٹاہوا ہے، چنانچہ دنیا پرست کو بھی، اُن تمام آفاقی آداب (فطری قوانین، معاشرتی واخلاقی جبلتیں) کی پابندی، کا اہتمام کرنا پڑتا ہے، جوکہ حق تعالی نے، پرُ امن طریقے سے، اس دنیا کا معاشرتی اور سیاسی نظام چلانے کے لیے، انسان کی، منہ زور بہیمانہ جبلتوں کو لگام ڈالنے کے لیے، رکھ چھوڑے ہیں۔

اسی طرح صراط مستقیم پر چلنے والا، خدا پرست (آخرت پرست) بھی، مذکورہ بالامنفی عوامل کی موجودگی میں، بیشتر مادی خوشیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، حس جمالیات کا حظ اٹھا سکتاہے، حکمت اورفلسفے سے ذہنی بالیدگی حاصل کر سکتا ہے، حتی کہ اپنی جنسی جبلتوں کو جائز طریقے سے Channelise کر سکتا ہے، لیکن یہاں بھی سارا فرق نیت کا ہے، کیونکہ اس کی مادی جدوجہدکا منتہی، رضائے الہی اور آخرت میں فلاح اور کامیابی کا حصول ہوتاہے، پس یہ بہت بڑا فرق ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حالانکہ محنت، دونوں کو ہی کرنا پڑتی ہے، مثلاً دیکھیے، نکاح اور زنا میں، ایک ہی جنسی عمل کیا جاتا ہے، لیکن نکا ح کرنے والے کو، پھولوں اور پیسوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں، جبکہ زنا میں بدترین ذلت، انسان کا مقدر بنتی ہے۔ اور اسے جوتیوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں، پس ایک آخرت پرست کی مادی جدوجہد اور سیکولر انسان کی مادی جدوجہد، میں سب سے بڑا معنوی فرق نیت کا ہے اور اسی بنیاد پر الہامی ہدایت کو قبول کر نے اور عمل صالح کرنے کا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے، محض دنیا پرستی تو درکنار، حق تعالی کی غیرت اور توحید، اس قدر حساس ہے کہ ہم کوئی خالصتاً مذہبی کام بھی، محض مادی یا دنیاوی مفاد اور دکھاوے کے لئے کرتے ہیں، تو یہ بھی قابل قبول نہیں ہے۔ لہذا نہ تو دکھاوے کی صوم و صلوۃ اور نہ ہی صدقہ خیرات اور نہ ہی حج و جہاد قابل قبول ہے۔

۲) نیت کے اس فرق جاننے کے بعد ضروری ہے، کہ ہم اسلام کے نظام مراتب و درجات کا شعور حاصل کریں۔ اسلامی تصور جہاں کے تحت، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہے، اس طرح کم نیکی اور زیادہ نیکی بھی یکساں نہیں ہے، سرکش کافر اور گناہگار تا ئب، یکساں نہیں ہے۔ کم برائی اور زیادہ برائی یکساں نہیں ہے، حتی کہ انصاف کا درجہ، احسان کے درجے کے برابر نہیں ہے۔ اسی معاملے کو مزید آگے بڑھایا جائے، تو ہم دیکھتے ہیں، کہ کفر کی حکومت اور ظلم کی حکومت بھی یکساں نہیں ہے، مثلا یہ ہمارے سامنے کی بات ہے، کہ انتہا پسند ہندووتا، جو بظاہر مذہبی طرز حکومت ہے، اس کے مقابلے میں، سیکولر ہندو ریاست میں، مسلمان اقلیتوں کو عدل و ا نصاف ملنے کے مواقع زیادہ ہیں۔ خود اہل حکمت نے بھی یہی بات سمجھائی ہے کہ جہاں شریعت کی حکمرانی ممکن نہ ہو، وہاں عقل کی حکمرانی بہتر ہے۔ یعنی تحریف شدہ مذہب کی انتہا پسندانہ حکومت کے مقابلے میں، سیکولر عقل کی حکمرانی کم تردرجے کی برائی ہے، اسلیے، اسے اختیار کرنا بہتر ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ شریعت (دین) کی حکمرانی، ان دونوں سے بہتر ہے، اور نیت کی درستگی کے ساتھ ہر مسلمان کا نصب العین اور ترجیح اول بھی یہی ہوتی ہے۔ اس لیے غیر مسلم، سیکولر ریاستوں میں اگر مسلمانوں کو عدل و انصاف تک رسائی ہے، تو یہ امر قابل تعریف ہے، بلکہ موقع محل دیکھ کر شریعت کے بڑے مقاصد کے تحفظ کے لیے، وہاں سیاسی عمل میں شمولیت کی حوصلہ افزائی بھی کی جا سکتی ہے، لیکن خدا پرست مسلمان کے ذہن میں یہ مقصد ہمیشہ تازہ رہتا ہے، کہ حکمت الہیہ پر مبنی شریعت کی حکمرانی، ہر قسم کی سیکولر طرز حکومت سے کہیں بہترہے۔

ان سیکولر ریاستوں کے جس عارضی امن کا ڈھنڈورا، صبح شام پیٹا جاتا ہے، اسکا تاوان، لاتعداد خانہ جنگیوں کی صورت میں اور جنگ عظیم اول اور دوئم میں کروڑوں بے گناہ لوگوں کی اموات کے ذریعہ، پیشگی ادا کیا جاچکا ہے۔

۳) سیکولرازم نواز حلقوںکی طرف سے اکثریہ سوال کیا جاتا ہے، مسلم ممالک میں شریعت کی حکمرانی سے مراد، کس مذہبی مسلک کی حکمرانی ہوتی ہے؟اگر پاکستان کے تناظر میں بات کی جائے، تو ان سوالوں کا جواب، قرار داد مقاصد کی منظوری کے وقت سے دیا جاتا رہا ہے، یہ بات طے ہے کہ اسلامی تصور جہاں کے بنیادی اصولوں پر بیشتر مسالک میں، اتفاق رائے موجود ہے۔ لیکن اگر دل میں بچھڑا بسا ہو اور بغل میں بت ہوں، تو نت نئی تاویلیں، کبھی ختم نہیں ہو سکتیں، اور پھر کوئی یہ بھی تو سمجھائے، کیا سیکولر طرز فکر، سیکولرازم اور سیکولرائزیشن کی سر گرمی میں کامل اتفاق رائے موجود ہے؟ امریکہ میں سیکولرازم، عیسائی و یہودی مذہب کے ملغوبے میں گندھا ہوا ہے، بھارت میں یہی سیکولرازم، ہندووتا کے سامنے ایسا بے بس ہے، کہ نچلی ذات کے ہندوئوں کو بنیادی حقوق، نہیں دے پا رہا، کجا یہ کہ مسلمان اقلتیں، وہاںاپنے حقوق کے حوالے سے، کوئی مثبت امید رکھیں۔ اسی طرح برطانیہ، ہالینڈ، ڈنمارک اور ناروے میں سیکولرازم، جارحانہ الحاد کے درجے کو پہنچا ہوا ہے، یہی حال فرانس اور آسٹریلیا میں سیکولرازم کے ساتھ ہونے جا رہا ہے، صرف کنیڈا اور جرمنی میں مسلم دوست سیکولرازم موجود ہے۔ لیکن یہ بھی کتنے عرصے تک ایسا رہے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ جب سیکولرازم، اتنے شیڈز، گرے ایریاز اور رنگارنگی کے باوجود متحدالجسم نظر آتا ہے، تو مسلمانوں کے تصور جہاں کی حکمرانی کے لیے، مختلف مسالک کے ذیلی و جزوی اختلافات کے لیے بھی، دل اور دماغ میں گنجائش رکھنی چاہیے۔ کیونکہ اسلامی طرز حکمرانی میں محض نقلی علوم کی اندھی تقلید نہیں ہے، بلکہ زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق، اجتماعی اجتہاد کا نظام بھی ہے۔ جس پر اعتبارکیا جا سکتا ہے، اور کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ ایمانتداری سے دیکھا جائے تو، اسلام کو بحیثیت تصورجہاں اور اس سے جڑی شریعت کواصل روح کے ساتھ نفوذ اور نفاذ کا موقع کم کم ہی ملا ہے، لہذا ابھی اسلام کو آزمایا جانا باقی ہے۔ ساتویں صدی سے گیارہوں صدی کی سیاسی اور ثقافتی تاریخ گواہ ہے، اسلامی تہذیب نے دنیا کو ایسا سیاسی نظام دیا ہے، جس نے انتہائی کم وقت میں، پرُ امن طریقے سے، انتہائی مثبت اثرات، دنیا پر مرتب کئے ہیں۔

دراصل، جس سیکولر تکثیریت (Pluralism) کے حسین خواب بنے جا رہے ہیں، اور جس میں مسلمانوں کو متحرک سیاسی اور سماجی کردار ادا کرنے کی ترغیب دلائی جا رہی ہے، وہ تکثیریت مصنوعی تھی اور ہے، اورکبھی بھی حقیقی معنوں میں یورپی اور امریکی معاشرے میں نافذ نہیں کی جا سکی اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کا امکان ہے۔ ما ضی قریب میں، اس نام نہاد تکثیری دور میں بھی، کثیرالثقافتی مظاہر کو فروغ دینا، مغربی ممالک کی معاشی و تجارتی مجبوری تھا، اسلئیے انہوں نے، پچھلے 50سالوں میں تیسری دنیا سے پروفیشنلز اور ہنر مندوں کو اس لیے خو ش آمدید کہا اور انہیں شہریت دی، تا کہ وہاں کی معاشی سرگرمیوں کو سستی لیبر کے ذریعہ جاری رکھا جا سکے، چنانچہ اس عارضی تکثیریت کا، اُس سیکولر تصور جہاں اور انسانیت پرستی (Humanism) پر مبنی فلسفے کے ساتھ، بہت کم تعلق ہے، جس سے مغربی لائبریریاں اٹی اور بھری پڑی ہیں۔ اور اب 9/11 کے بعد، خود سیکولر معاشرے بھی، اس مصنوعی تکثیریت کے لاحقے سابقے، چھوڑتے جا رہے ہیں، اور اپنے اپنے معاشروں کے مہاجروں اور مذہبی اقلیتوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں، کہ وہ اپنے مذہبی تشخص کو ختم یا محدود کر کے، سیکولر انضمام (Integration) کی طرف بڑھیں۔ گویا، اگر اکیسویں صدی میں، سیکولر مغربی ممالک میں، مسلمان اقلیتیں “عزت” کے ساتھ جینا چاہتی ہیں اور شہریت بھی حاصل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں حجاب ترک کرنا ہو گا، اسلامی شعائر کی مغربی و سرکاری تشریح کو قبول کرنا ہو گا، حتی کہ ہم جنس پرستی پر مبنی شادیوں پر ناک بھوں چڑہانا بھی بند کرنا ہو گا۔ گویا ہمارے ساتھ رہنا ہے، تو ہمارے رنگ میں رنگنا ہو گا۔ چنانچہ لکھ لیجیئے، تکثیریت (Pluralism) دم توڑ رہی ہے اور جبری انضمام (Integration) کا شباب آنے کو ہے۔

ان سیکولر ریاستوں کے جس عارضی امن کا ڈھنڈورا، صبح شام پیٹا جاتا ہے، اسکا تاوان، لاتعداد خانہ جنگیوں کی صورت میں اور جنگ عظیم اول اور دوئم میں کروڑوں بے گناہ لوگوں کی اموات کے ذریعہ، پیشگی ادا کیا جاچکا ہے۔ اور اب جو موجودہ مغرب میں مادی خوشحالی، ترقی اور امن، وہاں ہماری مسلم اقلیتوں کا دل لبھا رہا ہے، اسے بھی اگر گہرائی سے دیکھا جائے، تو کیا پتہ یہ مکروہ سچ سامنے آئے کہ سیکولر خوشحالی کا یہ بت، تیسری دنیا کے کروڑوں غریبوں کے گاڑھے خون پسینے کی کمائی سے بیدردی سے لوٹے گئے پیسوں کی بنیادوں پر کھڑا کیا گیاہے، اور اس بت کی زبیائش و آرائش، سود در سود اور ٹیکنالوجیکل برتری کے بل بوتے پر قائم کئے جانے والے استحصال کے ذریعہ پوری کی گئی ہو!!!!۔ کیونکہ مسلم اور غیر مسلم پسماندہ ممالک، کی میلی کچیلی عوام کی آہیں اور نوحے تو یہی داستان سنا رہے ہیں۔

۴) سیکولر “تکثیریت” کے عملی مظاہر، کیونکہ گزشتہ سوسالوں سے، ترقی یافتہ ممالک میں رائج رہے ہیں، اسلیے، یہ زیادہ تر ہمارے حسی مشاہدے کا حصہ ہیں، اس کے مقابلے میں اسلامی تکثیریت کے عملی مظاہر بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں، اور اسے میڈیا کوریج، بھی کم دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایران کے یہودی، کس طرح ایرانی قوم کے ساتھ مل کر جشن نوروز مناتے ہیں یا اسرائیلی صیہونیت کے خلاف اجتجاج کرتے ہیں، یہ ہمارے میڈیا کا مر کزی موضوع نہیں ہے۔ مراکش میں کس طرح انتہائی Rich اسلامی ثقافت کے تحت تکثیری مظاہر موجود ہیں، لیکن یہ بھی ہمارے بامعنی مشاہدہ کا حصہ نہیں ہیں۔

اس طرح سب سے بڑھ کر اسلام کے ابتدائی خلافت راشدہ کے ادوار میں، اور سب سے بڑھ کر مسلم سپین میں حقیقی تکثیریت دیکھنے کو ملتی تھی، مثلاً وہاں عیسائی مترجم تھے، یہودی شعراء تھے، انتظامی امور غیر مسلم چلا سکتے تھے، اسلامی مدارس (اس وقت کی جامعات) میں یہودی اور عیسائی عربی زبان میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، حفاظ اور شعراء خواتین ملتیں تھیں، جو اسلامی تصور جہاں کے مطابق، اپنی خداداد حس جمالیات کو تقویت دینے کے مواقع بھی رکھتیں تھیں، اور اس کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے کا بھی حق رکھتیں تھیں، یہ بھی مرکزی میڈیا میںمباحث کا موضوع نہیں ہے۔ یقینا اس سے کہیں زیادہ امثال، اسلامی تاریخ کے جھروکوں میں موجود ہیں، جسے کھوجنے کی اشدضرورت ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: