امریکی صدر کا دماغی معائنہ ضروری ہے : ڈاکٹر رئیس صمدانی

0

این این آئی کی خبرجسے ایکسپریس نے کوٹ کیا، وائٹ ہاؤس کے نائب پریس سیکریٹری ’ہوگن گڈ لے‘ کے مطابق “امیریکی صدر ٹرمپ کا سالانہ میڈیکل چیک اپ جمعہ 12جنوری کو ہوگا۔ طبی معائنے میں دماغی معائنہ شامل نہیں۔” حیرت کی بات ہے کہ میڈیل چیک اپ میں جس چیز کے چیک اپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اس کو شامل چیک اپ نہیں کیا گیا۔ خیر کیا کہا جا سکتا ہے۔ امریکیوں کی مرضی، اگر ٹرمپ کے میدیکل چیک اپ میں دماغ کا چیک اپ بھی شامل کرالیا جائے تو خود ٹرمپ کے حق میں اور امریکیوں کے مفاد میں بہتر ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو امید ہے رپورٹ منفی نہیں آئے گی۔ رپورٹ میں یہ خبر بھی نہ ہوگی کہ ان کے دماغ میں خلل ہے، یا کچھ پرذے گھس چکے ہیں، کچھ بالکل ہی کام نہیں کر رہے، کچھ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ ٹرمپ نے جس دن سے اپنی صدارتی مہم شروع کی تھی اور پھر جب کامیابی کے جھنڈے گاڑ کر، ایک پڑھی لکھی سیاست داں خاتون کو شکست دے کر صدارت کا حلف اٹھایا اور پھر عملی سیاست کے جوہر دکھائے، فضول قسم کے بیانات سامنے آئے، ان کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ بغیر دماغ کا انسان ہے، اس کی کھوپڑی میں دماغ نام کی کوئی چیز پائی ہی نہیں جاتی۔۔ اس لیے کہ دماغ خواہ کیسا بھی ہو، اس میں خلل ہی واقع کیوں نہ اس قسم کی بے تکی باتیں، عجیب و غریب بیانات دینے والا، جو اتنے اہم اور بڑے منصب پر فائز ہو دماغ ہونے کی صورت میں یہ سب کچھ نہیں کرسکتا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے نائب پریس سیکریٹری ہوگن گڈ لے نے گزشتہ روز وہاٹ ہاؤس میں امریکی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں صدر ٹرمپ کے دماغی توازن ٹھیک نہ ہونے سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، جب کے صدر ذہین اور فوری فیصلہ ساز ہیں۔ گڈلے نے اپنی نوکری پکی کرتے اور ماہرین نفسیات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈاکٹر صدر ٹرمپ کی ذہنی کیفیت سے آگاہ نہیں اورنہ کبھی ان سے ملے انہیں ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ ہوگن گڈلے کی اس وضاحت سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ امریکہ کے ماہر نفسیات ڈاکٹرز اپنے صدر کی دماغی حالت پر انگلی اٹھا چکے ہیں۔ وہ امریکی ڈاکٹرز جو ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی کیفیت کو مشکوک اور اس کے علاج کی تجویز دے چکے ہیں، امریکیوں کو خاص طور پر سنجیدگی سے اس پر غورکرنا چاہیے، اس کی اہمیت کے پیش نظر ٹرمپ کا جو سالانہ میڈیکل چیک اپ ہونے جارہا ہے اس چیک اپ میں فوقیت دماغ کے چیک اپ کو دی جائے، اس بورڈ میں ان ماہرین نفسیات کو بھی شامل کیا جائے جو اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ٹرمپ کے دماغ میں کچھ گڑ بڑ ہے۔ ابھی تو صدارت کا دوسراہی سال ہے، باقی ماندہ عرصہ میں کیا کچھ ہوگا اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ٹرمپ اپنے دماغ کا اسی طرح استعمال کرتے رہے تو وہ امریکہ کو سپر پاور سے صفر پاور بنادیں گے۔ امریکہ کی تاریخ میں اس قسم کی صفات کا حامل شخص کرسی ٔ صدارت پر پہلی مرتبہ ہی پہنچا ہے جس کے قول و فعل میں اس قدر تضاد، عناد، بیر، پرخاش، تفاوت، مخالفت پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کے لیے نفرت، ناپسندیدگی، تنفر، کدورت، مغائرت، مخاصمت، ناگواری کا عنصر غالب ہے۔ اس کا اظہار وہ شروع ہی سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ حال ہی میں ان کا ٹوئیٹ ان کے دماغی خلل کی غماضی کرتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کے لیے، پاکستان کے لیے ناپسندیدگی، حقارت اور چڑ کا کھلا اظہار کیا گیا ہے۔

ٹرمپ اپنے دماغ کا اسی طرح استعمال کرتے رہے تو وہ امریکہ کو سپر پاور سے صفر پاور بنادیں گے۔ امریکہ کی تاریخ میں اس قسم کی صفات کا حامل شخص کرسی ٔ صدارت پر پہلی مرتبہ ہی پہنچا ہے جس کے قول و فعل میں اس قدر تضاد، عناد، بیر، پرخاش، تفاوت، مخالفت پائی جاتی ہے۔

یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں، انہوں نے صدارتی الیکشن جیتا ہی ہے امریکی اور غیر امریکی کا نعرہ لگا کر، کالے اور گورے میں نفرت کی دیوار کھڑی کر کے، مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر۔ چنانچہ اب صدر منتخب ہونے کے بعد کبھی مسلمانوں کو، کبھی کسی ملک کو کبھی کسی ملک کو نیست و نابود کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ کسی بھی ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، دوبرس ہونے کو ہیں وہ اسی طرح گیڈر بھپکیاں دے رہے ہیں۔ ایران کے خلاف بیانات، کیا بگاڑ لیا ایران کا؟ شمالی کوریا کو تباہ کرنے کے بیانات، کیا بگاڑ لیا کوریا کا؟ اس کے صدر نے جب یہ جواب دیا کہ میری میز پر لگا ہے جوہری دھماکے کا بٹن تب خاموشی اختیار کرلی، دیتے جواب اگر ہمت تھی۔ اس شخص کو یہ نہیں معلوم کہ اب دنیا، وہ دنیا نہیں رہی کہ جب صرف تم ہی تم جوہری قوت ہوا کرتے تھے۔ جوں ہی پاکستان کے خلاف بات کی دوسرے دن چین کی حمایت کا بیان سامنے آگیا۔ پاکستان نے تو جو جواب دیا وہ ایسا ہی دینا تھا۔

نا اہل وزیر اعظم اب جب نا اہل ہوکر کرسی سے ہٹ گئے تو فرماتے ہیں کہ کشکول پھینک دیں گے۔ وزیر اعظم تھے اس وقت خیال نہیں آیا کشکول پھینکنے کا کہ اس وقت تو اپنے سمدھی وزیر خزانہ کو بیرونی قرضے لینے پر شاباش دیا کرتے تھے۔ اب جب ہاتھ سے اختیار جاتا رہا تو کشکول پھینکنے کی باتیں کررہے ہیں۔ غضب خدا کا پاکستان کا ہر شہری ایک لاکھ کا مقروض، یہ کس کے دور میں ہوا، انہی نااہل صاحب کے دور وزارت عظمیٰ میں۔ پاکستان مقروض، ہر شہری مقروض اور وزیر خزانہ جو اب بیماری کو جواز بنا کر چھٹی پر عیش کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کے اثاثے ان کی آمدن سے کہیں زیادہ ہیں، یہ عدالت نے کہا ہے، کیس عدالت میں چل رہا ہے۔ اصل معاملہ تو یہ ہے کہ اثاثے آپ کی آمدن سے کہیں زیادہ ہیں۔ مانا کہ آپ نے کرپشن نہیں کی، پھر یہ جائیدادیں، بنک بیلنس، اسٹیل ملیں، شوگرملیں، آفشور کمپنیاں، سرے محل، لندن فلیٹس کیسے اور کس پیسے سے بن گئے؟ یہ سوال ہے جس کا جواب قوم کو دینا ہوگا۔ بات ٹرمپ کے میڈیکل چیک اپ سے شروع ہوئی تھی احتساب، آمدن سے بڑھ کر اثاثوں پر اختتام ہوا۔ اپنے ہی گھر میں خرابی ہو تو دوسروں کو کیا کہا جائے۔ اپنے ہی بگاڑ کا باعث ہوں، اپنے ہی لٹیرے ہوں، ڈاکو ہوں، کرپشن کرنے والے ہوں تو کسی کا کیا قصور۔ ہمیں اپنے گھر کو صاف کرنا ہوگا، یہ صفائی بلاتفریق سب کا احتساب سے ہی ممکن ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: