جماعت اسلامی کا فکری مغالطہ: ’مذھبی سیاست اور دین کا کام‘ — سردار جمیل خان

0
  • 137
    Shares

جماعت اسلامی اپنے راستے کی خود بڑی رکاوٹ ہے۔

جماعت نے ایک سیاسی بیداری کی تحریک بننے کے بجائے زیادہ زور ایک نیا مذہبی فرقہ بننے پر لگا دیا ہے۔۔۔ اپنے پرچم و نشان کو برقرار رکھا جاتا، جہاد کو ریاست کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا، لوگوں کے تقوے، ٹوپیاں، پرنے، کرتے اور داڑھیاں ناپنے کے بجاۓ تعلیم/ صحت/ روزگار، تھانہ/ پٹواری/ کورٹ اور پانی/ بجلی/ گیس کے ایشوز کو فوکس کیا جاتا، اوپن عوامی پلیٹ فارم سے جارحانہ سیاست کی جاتی تو دو تین الیکشن میں شکست کے بعد اتخابی فتح کی منزل یقینآ قریب ہوتی۔۔۔ جب اسلام دستور پاکستان کی اساس ہے اور اقتدار میں آ کر آئین نافذ کرنے میں کوئی قدغن بھی نہیں تو پھر طویل عرصہ سے مذھبی سیاست سے کیا حاصل کر لیا؟؟

داخلی جمہوریت، دیانت اور خدمت بہترین اوصاف سہی مگر 70 سالہ سیاسی ناکامی کے بعد بھی جماعت اسلامی سیاسی تجدد اور ریفارمز پر آمادہ نہیں بلکہ آج بھی وھی محدود، مذھبی، مفاہمتی اور بے ڈھنگی اتحادی سیاست۔۔۔
اللہ کے “دین” کے کام کی دعویدار تو سنی تحریک بھی ہے اور اس سے بڑھ کر جے یو آئی ف، جے یو آئی س، قادری، تبلیغی جماعت، ملی مسلم لیگ، وحدت المسلمین، جمعیت اہلحدیث، نورانی گروپ، نیازی گروپ، ثروتی گروپ، جلالی گروپ، سیالوی گروپ، رضوی گروپ وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ پھر لوگ آپ والے “دین” کو ہی کیوں ترجیح دیں؟؟ بہت سے “دیندار” تو آپکو مسلمان ہی نہیں سمجھتے بلکہ ایک دوسرے کو بھی نہیں سمجھتے۔۔ ایسے میں عام آدمی کی اتنی اپروچ کہاں ہے کہ تحقیق کرتا پھرے کہ کس کا “دین” اوریجنل ہے؟ روزی روٹی کا مارا ہوا فرد آپ کے بجاۓ اس شخص کے پیچھے کیوں نہیں جاۓ گا جو اسے روزی/روٹی، بجلی/پانی اور صحت/تعلیم کی امید دلاتا ہے۔۔۔ اسے روٹی کتنی ملتی ہے، کتنے میں ملتی ہے یا سرے سے ملتی ہی نہیں یہ بعد کا مرحلہ ہے۔۔۔

قبیلہ، برادری، علاقہ، زبان و نسل، مسلک و فرقہ کی بنیاد پر تقسیم اور تعصب اتنا گہرا اور شدید تر ہے کہ مذھبی سیاست کی علمبردار کوئی بھی جماعت اس خلیج کو پاٹ نہیں سکتی۔۔۔ سرمایہ دار مافیا، وڈیرہ ازم و پیری فقیری نے قوم کو الگ سے جھکڑ رکھا ہے۔۔

جماعت مذھب کے نام پر جتنا مرضی دوڑ لے آگے گلی بند ہے کیونکہ پاکستان میں فرقوں، مسالک، تکبر اوو خود ساختہ پاپائیت اور پروہیت میں لتھڑی ہوئی 7 سے 12٪ مذھبی سیاست میں جماعت اسلامی کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں بنتی۔۔۔

اگر آج بھی جماعت اسلامی کا ون ٹو ون مقابلہ پی ٹی آئی \ ن لیگ سے ہوتا جیسے 70/80 کی دہائی میں جماعت سارے ملک میں پپلزپارٹی اور بنگلہ عوامی لیگ کو چیلنج کر رہی تھی۔۔ جس طرح 93 میں قاضی صاحب ن لیگ اور پی پی پی کو ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے قرار کر تحریک برپا کی تھی۔۔۔۔۔ یا صرف سیٹ ایڈجسٹمنٹ آپشن کے ساتھ اپنے پرچم، نشان اور انفرادیت کو برقرار رکھا جاتا تو بھلے جماعت کو ایک سیٹ بھی نہ ملتی کارکنان و ہمدرد دل و جان سے جماعت کی کمپیئن کر رہے ہوتے مگر جماعت اسلامی اپنے پرچم و نشان سے دستبردار ہو کر ہر حکومت کے دربارئِ خاص اور کرپشن کے “وکیلِ اعظم” مولانا فضل الرحمن کو پیاری ہو گئی ہے ۔۔ ماضی میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ نقصان اتحادوں اور بائیکاٹ کی سیاست نے پہنچایا اب ایک بار پھر “ملا مریم الائنس” کا مطلب خون چوس جونکوں اور مردار خور گِدھوں کو ہی فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے۔۔۔

“میر” کیا سادہ ہیں، بیمار ہوۓ جس کے سبب
اسی عطًار کے “لونڈے” سے دوا لیتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭اصولی سیاسی جماعت۔۔۔ اپنے پرچم، پلیٹ فارم اور نشان سے کبھی دستبردار نہیں ہوتی بلکہ سیٹ ایڈجسمنٹ آپشن کو بھی آخری آپشن کے طور پر بروۓ کار لاتی ہے۔۔
٭اصولی سیاسی جماعت۔۔۔ (جو مسلمانوں کی جماعت بھی ہو) مسلمانوں کو کھبی مذھبی و سیکولر، دینی و لا دینی کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی حماقت نہیں کرتی۔۔۔ ایک آئینی، اسلامی، دستوری اور جمہوری ملک اور اکثریتی مسلم سماج میں ایسی تقسیم ہی جرم اور گناہ ہے۔۔
٭اصولی سیاسی جماعت۔۔۔ جس کا خمیر ہی فرقہ واریت کی نفی سے اٹھايا گیا ہو وہ کبھی تنگ نظر، فرقہ پرست درباری مولویوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر فرقہ واریت کی توثیق نہیں کرتی اور خود پر بھی فرقہ نمبر 49 کا لیبل نہیں لگواتی۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: