یہ ’’زینب‘‘ پہلی نہیں ہے: آخری بھی نہیں ہوگی؟ ثمینہ ریاض

2

یہ “زینب” پہلی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ یہ “زینب” آخری بھی نہیں ہو گی۔ کئی ایسی بیٹیاں مر رہی ہیں، ماری جا رہی ہیں، لیکن سب صرف دیکھ کر خاموش رہتے ہیں، جیسے یہ مقدر ہو، جیسے ان معصوم پھولوں کا مرنا اتنا ہی دردناک لکھا ہو۔۔۔۔

Samina Riaz

قبل از اسلام اگر کوئی اپنی زینب کو زمین میں زندہ گاڑتا تھا تو وہ گھر سے اس کو مصری کی ڈلی پکڑا کر لے جاتا، اور اپنی ہی لخت جگر کو کہتا آو ریت کے نیچے اور بھی شیرینی رکھی ہے، اسے کھود نکالیں، اور بیٹی خوشی باپ کے ساتھ چل پڑتی اور شیرنی کے لئے زمین کھودتی کھودتی خود اس میں دفن ہو جاتی، وہ باپ جب گھر آتا تو پچھتاوے کے ساتھ ایک اطمینان ضرور لاتا ہوگا ساتھ کہ اس کی لخت جگر کو کوئی انسان نما بھیڑیا بھنبھوڑے گا نہیں، کچلے گا نہیں، ذبح نہیں کرے گا، لیکن کیا آج کی زینب، کلثوم یا قبولہ کے باپ کے پاس ان کو دفن کرتے یہ احساس ہوتا ہے؟ ان کو بھی کوئی باپ بن کے، کوئی چچا بن کے، کوئی ماموں بن کے ٹافی یا چاکلیٹ کے لالچ میں ساتھ لے جاتا ہے اور پھر ایسے کاٹتا ہے کہ قبل از اسلام کے باپ بھی اپنی قبروں میں چیخ اٹھتے ہیں کہ ظالمو ایسا نا کرو۔۔۔۔۔

یہ معاملہ اب اتنا سادہ بھی نہیں، بہت سی چیزیں ہیں جن کی طرف کوئی دھیان نہیں کروا رہا اور بہت سی چیزیں ہیں جن سے دھیان ہٹایا جا رہا ہے۔

بہت سی باتیں کر لیں، بہت سے تجزئے کر دئیے ہزاروں لوگوں نے، کبھی مجرم گھر میں سے نکل آتا ہے تو کبھی گھر کے ساتھ کان لگائے ہمسایہ، کبھی قلفی والا نکل آتا ہے تو کبھی کچرے والا، کبھی سپارہ پڑھانے والا نکلتا ہے تو کبھی اے بی سی یاد کروانے والا، لیکن اس بار معاملہ کچھ اور لگ رہا ہے، یہ معاملہ اب اتنا سادہ بھی نہیں، بہت سی چیزیں ہیں جن کی طرف کوئی دھیان نہیں کروا رہا اور بہت سی چیزیں ہیں جن سے دھیان ہٹایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔

سب سے پہلی چیز جو فوکس کرنے والی ہے وہ ہے کہ “قصور” شہر ہی کیوں، ہر بار پاکستان کے دوسرے بڑے شہر کے ساتھ جڑا یہ شہر ہی کیوں؟ ہر بار ہمسائے ملک کے ساتھ جڑی سرحد والا شہر ہی کیوں؟ اور آج سے نہیں کئی سالوں سے یہ طوفان زمین کے اندر دبا تھا اور اب سونامی بن کر باہر آ گیا ہے، گو کہ پورے ملک میں یہ واقعات ہوئے ہیں لیکن اس طرح منظم ہو کر نہیں جیسے قصور میں ہو رہے ہیں۔۔۔۔

کچھ باتیں جو آنکھیں کھولنے کے لئے ضروری ہیں۔۔۔۔
زینب مرڈر کیس کوئی عام کیس نہیں ہے، اس زیادتی اور قتل کے پیچھے کچھ ہولناک اندازے ہیں، جن کو تجزئے کی شکل میں آپ کے سامنے رکھنا ہے، ممکن ہے معلومات کی کمی یا زیادہ تحقیق نا ہونے کی وجہ سے کوئی غلطی ہو جائے لیکن میری کوشش ہوگی کہ اس سارے سانحے کا ایک اجمالی خاکہ تیار کیا جائے اور کچھ اندازے لگائے جایں تاکہ معاملہ سمجھنے میں کچھ معاونت ہو۔۔۔۔

1:- زینب پہلی بچی نہیں، یہ صرف قصور شہر میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی بارہویں بچی ہے۔
2:-2015 میں قصور میں اڑھائی سو سے زیادہ بچوں کے ریپ اور ویڈیوز کا جو معاملہ اٹھا تھا، اس کے پیچھے بہت بڑا مافیا ہے، جو ان بچوں کی پورن ویڈیوز بنا کر ڈارک ویب پر بیچنے کے کروڑوں ڈالر کے کاروبار میں ملوث تھا۔
3:- زینب اور اس سے پہلے ماری جانے والی کم از کم 9 بچیوں کے جسموں سے ملنے والا ڈی این اے ایک ہی درندے کا ہے۔
4:- زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے سکیچ کے مطابق اسکو فطری اور غیر فطری ہر دو طرح سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کو مارنے کے لئے اس کی سانس بھی بند کی گئی، گلا بھی کاٹا گیا اور کلائیاں بھی۔
5:- بعض لوگوں کو خدشات لاحق ہیں کہ یہ وائلنٹ پورن اینڈ کلنگ کا واقعہ ہے، جس میں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، دردناک طریقے سے ان کو مارا جاتا ہے، ان کی ویڈیوز پہلے لائیو اور ریکارڈڈ ڈارک ویب پر چلائی جاتی ہیں، اور کروڑوں۔۔۔۔۔ بلاشبہ کروڑوں ڈالر کمائے جاتے ہیں۔
6:- چھٹی اور آخری بات۔۔۔۔۔۔ یہ سب ہمارے حکومتی اور قانونی محافظوں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں لگ رہا، اطلاع کے مطابق کوئی بندہ خفیہ اداروں نے پکڑا بھی ہے، لیکن جب تک کنفرم نا ہو جائے کہ تمام وارداتوں میں وہی ملوث ہے، اس کی “خود کشی” یا “پولیس مقابلے میں مارے جانے” کی خبر ہمیں نہیں چاہیے، یہ بہت بڑا جرم ابھی شروع ہوا ہے، اور اس میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں، آپ اسے مانیں یا نا مانیں، یہ آپ کے ضمیر کی گواہی پر ہے۔۔۔۔۔

اللہ ہم سب کے گناہ معاف کرے لیکن “خدا کی قسم زینب بے قصور ہے” اس کی ماں کو جب روزہ رسول پر کھڑے ہو کر جب یہ خبر سنی ہوگی کہ اس کی بیٹی کو گوشت کے لوتھڑے میں بدل دیا گیا ہے تو اس نے ایک شکوہ بھری نظر روزہ رسول پر ضرور ڈالی ہو گی، ہمیں، مجھے، آپ سب کو اس نظر کا کفارہ ادا کرنا ہے، ورنہ تو یہ بھی “زینب” ہے اور یہ زینب پہلی نہیں ہے، لیکن آخری بنانا ہمارے اختیار میں ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. یہ خدشات خارج از امکان نہیں ہے کہ اس کے پیچھے کوئی بہت طاقتور نیٹ ورک کام کر رہا ہو کوئی ایسا درندہ جس کو چھوٹے بچوں سے بدفعلی کا چسکا لگا ہو اور اس کے گرگے اس تک بچے پہنچاتے ہوں یہ کوئی سیاست دان بھی ہو سکتا ہے کوئی سرکاری افسر بھی کوئی صنعت کار بھی اس پر کام ہونا چاہیے اور خفیہ ایجنسیوں کو اس پر کام کرنا چاہیے اور جس جس پہ شک ہو اس کا ڈی این ٹیسٹ ہونا چاہیے
    اور یہ کام دولت کی لالچ میں بھی ہو سکتا ہے ایسی لائیو سٹریمنگ سے کرڑوں کمائے جاتے ہیں
    مگر سوال یہ کہ یہ سب کرے گا کون؟؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: