اسلام: مکمل ضابطہء حیات : مبارک انجم

0

میں کسی سے یہ ہر گز ہر گز نہیں کہتا کہ، وہ میرے کہنے پر سیکولرازم یا کیمونزم ترک کرکے اسلام کا داعی یا پیرو کار بن جائے، نہ ہی مجھے بلاوجہ کسی سے یہ کہنے کا حق ہے. ہر شخص، اپنی سمجھ بوجھ رکھتا ہے، اور اسکو یہ حق حاصل ہے کہ، وہ دنیا میں موجود کسی بھی نظام حکومت یا کسی غیر موجود، تخیلاتی و تصوراتی نظام کو بہتر مان کر اسکا پیرو اور داعی بن جائے. لیکن میں ہر مسلمان سے یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ، اب جب آپ نے اسلام قبول کر لیا ہے، اسے اپنا دین اور نظام زندگی مان لیا ہے،  اسکے پیروکار ہونے کا اقرار کرچکے ہیں، اور اپنے لئے، اپنی فلاح و نجات کے لئے اسلام کو منتخب کرلیا ہے. ایسی صورت میں، آپ سیکولر ازم یا دیگر کسی بھی ازم کو اپنانے، یا اسکے پیروکار ہونے کا حق بھی کھو چکے ہیں.اسلام کو اپنا دین مان کر، کسی دوسرے نظام زندگی کو اپنے اوپر لاگو کرنا یا اسکا داعی بننا، اسلام کی بھی توہین ہے اور اس سے غداری بھی.

اس لئے اگر آپ مسلمان ہیں تو  پھر صرف اسلام ہی کو ہر معاملہ میں اپنا نظام زندگی ماننا اور اسکو سمجھ کر اپنے اوپر انفرادی اور اجتماعی طور پہ لاگو کرنا آپ پر واجب ٹھہرتا ہے. مزید آپ اسلام کے ماننے ہو کر کسی اور دین کے حامی ہونگے تو گویا آپ یہ تسلیم کریں گے کہ اسلام میں کمی ہے، یہ نامکمل ہے، اور انسان کی مجموعی زندگی کے تمام معاملات کو ٹھیک سے حل کرنے کا اہل نہیں ہے۔ اسی طرح، دیگر نظاموں کے حامی لوگوں کے لئے بھی اسلام پر تنقید کی راہ کھولیں گے اور یقیناً اس بات پہ گناہگار بھی ہونگے اور کم عقلی کا بھی ثبوت دینگے. ایسا اس لئے بھی ہوگا کہ اسلام تو مکمل ضابطہء حیات ہے ہی، اس میں نہ تو کوئی کمی ہے اور نہ ہی کوئی خرابی، یہ محض اسلام کو نہ سمجھنے اور درست طور پہ اسکا مطالعہ نہ ہونے اورمعلومات نہ ہونے کی بنیاد پر ہی کوئی خود کومسلمان کہتے ہوے بھی کسی دوسرے نظام کا حامی ہو سکتا ہے. اگر آپ کسی وجہ سے اسلام کو پڑھنے سے قاصر ہیں تو، یہ اور بھی عجیب بات ہے کہ اسلام جسے آپ تسلیم کر چکے اور اپنا چکے ہیں، اسکا مطالعہ تو آپ سے ہوا نہیں، اور چل دیے دیگر نظاموں کا مطالعہ کرنے. اگر آپ نے اسلام کا بھی مطالعہ کیا ہے اور باضابطہ طور پر ادیان عالم کا جائزہ لے رکھا ہے، اور آپکو محض جسمانی عبادات کے طور پر ہی اسلام نے متاثر کیا ہے، اور نظام زندگی کے طور پر اسلام کے بجائے کسی دیگر دین نے متاثر کیا ہے اور آپ اسکو قابل عمل مانتے ہیں، تو بہت بہت معزرت کے ساتھ، آپ جھوٹے ہیں، اور یہ جھوٹ آپ دوسروں کے ساتھ ساتھ خود اپنے آپ سے بھی بول رہے ہیں. کیوں کہ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ، اسلام کو آدھا ادھورا قبول کیا جائے، پھر ساتھ ساتھ آپ نفس پرست بھی ہیں،  کہ اسلام کی وہ چیزیں تو اپ نے قبول کر لیں، جو آپکے نفس نے بخوشی قبول کر رکھی ہیں، اور جو چیزیں آپکو برداشت کرنی پڑ رہی ہیں، اور آپ پر نسبتاً جبر کے ساتھ لازم ہوتی ہیں اور آپکو پابند کرنے والی ہیں، وہ آپ نے اپنے نفس کی مان کر اسلام کو پس پشت ڈال دیا،اور یہ بات آپکا وقار یوں ختم کر دینے والی ہے کہ آپ جو اسلام کو تسلیم کر لینے کے بعد، اسکے مقابلہ میں دیگر نظاموں کے داعی بننے والے ہیں.

یہ درست ہے کہ ایک مکمل اسلامی معاشرہ اور حکومت کی غیر موجودگی میں پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا ممکن نہیں ہے.

اس بات کی کیا گارنٹی ہوگی کہ جس جس نظام کے داعی بن رہے ہیں اسی کے بھی ادھے ادھورے ہی پیروکار نہ ہونگے. اپنا اعتماد تو آپ پہلے ہی اسلام کو آدھا ادھورا مان کر کھو چکے ہیں، ہاں ایک صورت ہے جو آپکو اسلام میں رہ کر آپکو کسی دیگر نظام کے لئے بھی گنجائش دیتی ہے،  اور وہ یہ ہے کہ دیگر کسی اسلام سے قبل کے نظام کی یا بعد کے بھی،  کوئی چیز،  اسلام سے ہم آہنگ ہو، اور اسلامی دائرہ میں رہ کر آپ اس کے فوائد حاصل کر سکتے ہوں،  تو ایسی صورت میں بھی اسے اسلام ہی کا نام دینا ہوگا. اس لئے دینا ہوگا کہ، اسلام نے منع صرف وہی کیا ہے، جو انسانیت کے لئے مضر ہے،  اور جو چیز اسلام نے منع نہیں کی،  وہ عین اسلامی ہی ہے. پھر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ اسلام کے علاوہ کس اور نظام کا حصہ ہے.

  آپکی بحثیت مسلمان ذمہ داری اور فریضہ یہی ہے کہ آپ اسلام کے پورے کے پورے پیروکار بنیں. یہ درست ہے کہ ایک مکمل اسلامی معاشرہ اور حکومت کی غیر موجودگی میں پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا ممکن نہیں ہے. نہ اسلام کے معاشرتی فوائد پوری طرح سے حاصل ہو سکتے ہیں، یہ بھی درست ہے کہ، بحثیت کمزور انسان ہم سب ہی اسلام کی مکمل تعلیمات کو خود پر نافذ نہیں پاتے، مگر اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسلام کو مانا بھی آدھا ادھورا ہی جائے،  ماننا اسلام کو پورا اور مکمل ہی پڑے گا چاہے وہ طبعیت پر کتنا ہی بھاری کیوں نہ ہو. اسلام کو پوری طرح تسلیم کئے بنا کوئی بھی خود کو الله کے ہاں ایمان والا نہیں کہلوا سکتا، اگر کلمہ نبی صل وسلم کا پڑھا ہے تو نظام زندگی بھی آپ صل وسلم ہی کا دل سے ماننا پڑے گا، پھر نہ کسی مارکس ازم کی گنجائش بچتی ہے اور نہ کسی سیکولر ازم کی اور نہ ہی کسی دیگر ازم کی، اور نہ ہی کسی کی ضرورت ہے. ایک مسلمان کے لئے عملاً بھی الله، رسول صل وسلم اور انکے ہمارے لئے منتخب کئے ہوے قانون اور نظام ہی کافی بھی ہیں بہتر ترین بھی.

الله رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ٹھیک سے اسلام کو سمجھنے اور پھر اس پہ کاربند رہنے پہ قائم رکھے.
آمین

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: