ماڈل ٹاؤن سانحہ: چنگاری سے بھڑکتا الاؤ کیسے بنا؟ محمود فیاض

0
  • 16
    Shares

ماڈل ٹاؤن شہادتوں کے فوراً بعد میں نے لکھا تھا کہ نون لیگ کی نون سینس noonsense اس قابل ہے کہ کسی بھی معمولی سے معمولی تنازعے کو ایک بڑا سانحہ بنا سکیں۔

آج چار سال کے بعد طاہر القادری کو پوری اپوزیشن کی طاقت کے ساتھ نون لیگ کے طاقتور ترین گڑھ میں حکومت کو للکارتے دیکھ کر یہ بات سچ ثابت ہو گئی۔ طاہر القادری کی سیاست تقریباً ختم ہو چکی تھی اور وہ بین الاقوامی فورمز پر ایک مذہبی اسکالرکی حیثیت میں تقاریر کرنے تک محدود ہو چکے تھے۔ پاکستانی عوامی تحریک کا سیاسی اسٹیک بہت کم رہ گیا تھا۔ مگر شہباز شریف کو خیال آیا کہ کیوں نہ اس کو پوری قوت سے مسل کر ختم کر دیا جائے۔ اسی لیے ماڈل ٹاؤن میں تجاوزات کا بہانہ بنا کر پولیس کو فری ہینڈ دیا گیا۔

پنجاب پولیس جو نون لیگ کی من پسند بھرتیوں کی وجہ سے نونی پولیس بن چکی ہے۔ شہباز شریف کا حکم ان کا مورال آسمان سے لگانے کے لیے کافی تھا۔ جس وزیر اعلیٰ کی شہرت یہ ہو کہ پولیس کو انکاؤنٹر کرنے پر بھی نہ پوچھا جائے ، اس وزیر اعلیٰ کے حکم پر اور انکے وزیروں کے ہدایات پر پولیس نے وہی کیا جو کوئی بھی ایسی فورس کرتی ہے جو آئین و قانون کی بجائے کسی فرد واحد کی غلامی میں کیا کرتی ہے۔ بے گناہ لوگوں کو سیدھی گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔

کسی بڑے سے بڑے مجمع کو جو بے قابو ہو جائے ، قابو میں کرنے کے لیے ہمیشہ پہلے ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے۔ پھر بھی لوگ کنٹرول میں نہ آئیں تو سامنے والے اکا دکا لوگوں کی ٹانگوں کا نشانہ لیا جاتا ہے۔ اور بالفرض آپ آخری حد تک مجبور ہو جائیں اور پولیس والوں کی اپنی جان خطرے میں پڑنے لگے تو سامنے فائرنگ کرنے میں بھی صرف ایک دو بندے گرانا ہی کافی ہوتا ہے۔ ایک یا دو سے زیادہ لاشین صرف اس صورت میں گرتی ہیں جب کوئی معجمہ مسلح ہو اور دو طرفہ فائرنگ ہو رہی ہو۔

مگر ماڈل ٹاؤن سانحے میں تمام حالات ایک ریاستی طاقت کو ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے بے مہابا استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک نیم مذہبی نیم سیاسی تنظیم کے ایسے دفتر پر پولیس گردی کی گئی جو عدالت کے حکم نامے ہاتھ میں لیے پولیس کو دکھا رہے تھے۔ اس کے بعد نہتے لوگوں پر اس طرح فائرنگ کی گئی جو کہ وہ عورتیں جن کے دوپٹے ہی انکی ڈھال تھی، انکو منہ اور پیٹ پر گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ پھر ان لاشوں بے گلو بٹ جیسے کریہہ کرداروں کا مکروہ رقص کروایا گیا۔ اور یہ سب دن کی روشنی میں کھلے ننگے آسمان کے نیچے کیا گیا۔

صاف ظاہر تھا کہ ایسا صرف اور صرف اپنی جاگیر پر موجود جڑی بوٹیاں تلف کرنے کا عمل تھا۔ نون لیگ جو اپنی مقبولیت کے زعم میں ہمیشہ ایسے اقدامات کرتی آئی ہے، اس سارے واقعے میں اسکی نون سینس مزید واضح ہو گئی۔ اور اسکے بعد ہر گذرتے دن نون لیگ نے اس جلائی ہوئی آگ میں مزید پھونکیں ماریں اور اس کا ایک ایسے بھڑکتے الاؤ میں بدل دیا جسکی لپٹیں آج انکے جاتی امرا کے درودیوار تک پہنچ رہی ہیں۔

جے آئی ٹی بنانا، اسکی رپورٹ شائع نہ کرنا، تفتیش پر اثرانداز ہونا اور من پسند کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرنا، یہ سب وہ خبریں ہیں جو ہم تک میڈیا کے توسط سے پہنچیں۔ جو ظاہر کرتی ہیں کہ اس پورے سانحے میں قصور وار کوئی ایک نہیں ہے۔ اور کامن سینس یہی کہتی ہے کہ جب کسی واقعے کا قصور وار کوئی ایک نہیں ہوتا تو سب کچھ نہ کچھ قصوروار ہوتے ہیں۔

آج کا دھرنا کوئی نتیجہ خیز ہو نا ہو، یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ نون لیگ نے ہر غلطی کو اپنے بچوں کی طرح پالا ہے اور اب ماڈل ٹاؤن سانحے سمیت باقی تمام غلطیاں بڑھتے بڑھتے اتنی بڑی ہو چکی ہیں کہ وہ انکو تنگ کرتی رہیں گی۔ طاہر القادری ماڈل ٹاؤن سانحے کی رپورٹ لے کر انکا پیچھا کرتا رہیں گے، تو سانحہ قصور اور اسکے پیچھے چھپے مافیا بھی چلینج بنیں گے۔ نیب، حدیبیہ، اور پانامہ پر جے آئی ٹی کی ہدایات پر قائم مقدمات انکا پیچھا کرتے رہیں گے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: