لڑکی ہونا کتنا بڑا جرم بن گیا ہے۔ : شاہانہ جاوید

0
  • 20
    Shares

لڑکی ہونا اتنا بڑا جرم بن گیا ہے۔ پاکستان میں آج ہر ایک اپنی بیٹیوں کو حصار میں لیے سوچ رہا ہے کہ ہم اتنے غیر محفوظ ہیں. آج یہ کل ہماری باری ہے کتنی بچیوں کو تاراج کیا جائے گا کتنی کم سن بیٹیوں کی عزت تار تار کرکے اجل کے حوالے کر دیا جائے گا. اس ظلم کی کوئی انتہا ہے کوئی حد ہے؟ انسانیت کھڑی رو رہی ہے، وحشت رقص کر رہی ہے اور ارباب اختیار اگلے الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ زبانی کلامی ہر ایک بیان دے گا لیکن بیان بازی سے معصوم بچی واپس آجائے گی؟ اس جیسی کئی بچیاں جو صرف قصور شہر میں پچھلے دنوں زیادتی کا نشانہ بنیں مجرم پکڑے بھی گئے لیکن سزا کسی کو ملتے نہیں دیکھی اج اس ظلم پر ایک باپ بے ساختہ کہہ اٹھا

آؤ بیٹیاں جلا دیں!
کہ شاید پھر انصاف ہوجائے!
میں اپنی مریم جلاتا ہوں
تم اپنی ماریہ جلاڈالو!
بدن کو خاک کر ڈالو!
ناموس بچانی ہے یا انصاف چاہتے ہو؟

کہاں ہے حکومت کہاں ہے انصاف، کسے وکیل کریں اور کس سے منصفی چاہیں؟ . زینب کے ساتھ لرزہ خیز واقعے نے سیاستدانوں میں ہلچل مچادی ہے صبح سے بیان بازی ہورہی ہے کاش یہ اپنے کام سے اتنے مخلص ہوجائیں جتنے اپنی بیان بازی میں دکھائی دیتے ہیں. ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ ایسے درندہ صفت گھناونے جانور نما وحشی انسانوں کو سر عام چوک میں پھانسی دی جائے، کوئی ضرورت نہیں حراست میں لیکر مقدمہ چلانے کی کیونکہ گواہی کے چکر میں ایسے مجرم آزاد ہوجاتے ہیں، آپ واقعاتی شہادت پہ دو تین کو پھانسی دے کر تو دیکھیں کس طرح یہ واقعات ختم ہوتے ہیں.
ان کے گھر میں بہن بیٹی نہیں ماں تو ہوگی، بے حیا لوگ لوگ ہیں، احتیجاج کرنے والی مشتعل عوام پر تو یہ گولی چلا سکتے ہیں لیکن ایسا ننگ انسانیت کام کرنے والوں کو سر عام سزا نہیں دے سکتے. ان کاونٹر میں اپنی مرضی کے مجرموں کو مار سکتے ایسے ننگ انسانیت کو گولیوں سے نہیں بھون سکتے۔

بے حساب واقعات اس ملک کے گلی کوچوں میں بکھرے پڑے ہیں، کوئی بتائے کتنوں کو انصاف ملا، مجرم پکڑے بھی جاتے ہیں تو جھوٹی گواہیاں انھیں آزاد کروا دیتی ہیں یا پھر جرگہ یاکسی اور طرح سے ازادی مل جاتی ہے یا پھر فرار ہو کر علاقہ غیر چلے جاتے ہیں. آج تک کسی کو سزا ملتے نہیں دیکھا اور بھولے سے کسی کو سزا بھی ہوئی تو ہلکی پھلکی. گاؤں میں برہنہ کرکے گھمانے پر کسی کو سزا ملی، کھیتوں میں معصوم بچی پر کتے چھوڑنے والے کو کچھ کہا، کسی لڑکی سے محبت کی شادی کے جرم میں جرگے کے حکم پر اس کی بہن کی سر عام چار پانچ لوگوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا کسی کو سزا ہوئی نہیں قطعی نہیں. یہ مملکت خداداد پاکستان ہے جہاں انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انصاف کا ترازو تھما دیا گیا ہے۔

عام مشاہدہ ہے کسی کو کینسر ہو جاتا ہے تو جس عضو میں کینسر ہو آپریشن کرکے کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے تاکہ کینسر پورے جسم میں نہ پھیلے، کیا ایسے گھناونے اور بد ترین جرم کرنے والوں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے کتوں کے آگے نہیں ڈالنا چاہیے تاکہ معاشرے سے یہ جرم ختم ہوجائے اور آئندہ کسی کی ہمت نہ ہو کسی معصوم کلی کو تاراج کرنے کی، ارباب اختیار کو انکھیں کھولنی ہونگی تاکہ معصوم بچیوں کی عزت اس طرح برباد نہ ہو۔

پچھلے ایک سال میں زیادتی کے بے شمار واقعات ہوئے ہیں اس میں سے سو سے زائد ایسے ہیں جنھیں زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا، اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ گیارہ بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں حد ہے ایسی مملکت پر خدا کی مار جہاں معصوم بچے محفوظ نہیں. دیہی علاقوں میں تقریباً 76 فیصد اور شہری علاقوں میں 24 فیصد بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں اس وقت سارا ملک ایک آواز ہوکر معصوم زینب کے لیے انصاف مانگ رہا ہے تاکہ پھر کسی کی عزت تاراج نہ ہو، زندگی کی ڈور نہ ٹوٹے. ملک کے ارباب اختیار ہوش کے ناخن لیں اور ان واقعات کا نوٹس لیکر مجرم کو عبرت کا نشان بنادیں چاہے اس کے لیے خلاف قانون جانا پڑے یا نیا قانون بنانا پڑے آخر اپنے مطلب کے لیے بھی تو ہزاروں جگہ قانون توڑتے ہیں ڈریں اس وقت سے جب عوام کا احتجاج زور پکڑ کر بحر بے کراں بن گیا تو اس کے آگے کوئی ٹھہر نہ سکے گا۔ ہمیں فیصلہ چاہیے اور وہ بھی مجرم کی عبرت ناک موت، زینب ہم تمھاری قربانی رائیگاں نہ جانے دیں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: