ننھی پری کے نام خط : حبیبہ طلعت

0
  • 67
    Shares

ایک ماں کا خط زینب کے نام

امن و سلامتی کی جنت کی مکین،
ننھی پری زینب!!!

کل سے تمہاری من موہنی سی چھب آنکھوں میں کھب کر رہ گئی ہے اور دل کٹ سا گیا ہے کہ جو ظلم تمہارے ساتھ ہوا خدا کسی دشمن کی بیٹی کو بھی نہ دکھائے۔ ننھی پری تمہارا نام کتنا مقدس تھا. ردائے زینب ہمارا ایک مقدس تاریخی حوالہ ہے جو عزیمت اور حوصلے سے عبارت تھا، مگر تم جانتی ہو نا کہ ہم اپنے تقدس پر خود ایک الزام ہیں. ہم وہ ہیں جن کو حیا تک نہیں آتی. ہم نے خود اپنے حال تباہ کئے ہیں۔

ایک خط برسوں پہلے لکھا گیا تھا تو غیرت کے ایوان شاہانہ میں طوفان آگیا تھا اور مظلوم بنت حوا کی داد رسی کے لئے سپاہ بھیجی گئی تھی، جس نے ظالم کا سب نظام تاراج کر دیا تھا. مگر اب ہم لکھ لکھ کر تھک ہار چکے. ہماری سوچ بنجر ہے اور ہمارے الفاظ ویران ہیں. منافقت اور بے حسی کی دیواریں ظلم کے نظام کی پشت پناہ ہیں. ہم واقعہء کربلا سے صرف مرثیے لکھنا سیکھ گئے ہیں اور یہی ہماری بزدلی کو روا تھا کہ اسوہء حسینی رض کی سنگلاخ راہ پر چلنے کا حوصلہ کہاں سے لاتے؟ پھر بھی ایک امید ہے جو اس خط کو تحریر کرنے کا باعث بنی ہے کہ شائد تمہارا مقدس نام اور ننھا سا وجود ہی ایک عظیم جدوجہد کا استعارہ بن سکے؟

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے لیکن ہم تو اب کسی بھی دستور سے عاری ہو چکے ہیں. تہذیب یہاں دم توڑ چکی ہے. زینب تمہاری یہ پھول سا جسم جسے ظالموں نے نوچ کھایا اور پھر موت کے گھاٹ اتار دیا. اس وقت زمین کیوں نہیں کانپی تھی. لیکن یہ تو وعید دی جا چکی ہے کہ زمین ایک دن ضرور کانپے گی.

پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ جائیں گے. ایسا ہوگا یہی انجام ہے ہمارا، جس کی جانب ہم تیزی سے بڑھ رہے ہیں. اور وہی روز محشر ہے جو روز انصاف بھی ہے اس دن ہر مظلوم کی داد رسی ہوگی۔

“ﺟﺐ ﺯﻣﯿﻦ ﺑﮭﻮﻧﭽﺎﻝ ﺳﮯ ﮨﻼ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﴿۱﴾ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﭘﻨﮯ (ﺍﻧﺪﺭ ) ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﻧﮑﺎﻝ ﮈﺍﻟﮯ ﮔﯽ ﴿۲﴾ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ؟ ﴿۳﴾ ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ ﴿۴﴾ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺑﮭﯿﺠﺎ (ﮨﻮﮔﺎ ).}
سورہ زلزلہ..القرآن

زینب تم اتنی کم عمر تھی. ابھی تم نے دیکھا ہی کیا تھا؟ تمہارا شہر قصور ہی تمہارا وطن تھا اور وہی تمہارا مرگھٹ بن گیا. تمہیں نہیں معلوم کہ سالوں پہلے بانو قدسیہ نے ‘راجہ گدھ’ ناول لکھا تو اس میں یہی تھیم تھا کہ کسی خون میں یا  ہماری قوم میں زرہ بھر حرام رزق کی ملاوٹ ہو چکی ہے تو اب انجام یہی ہونا ہے. سچ کہا تھا کہ حرام مال حرام سوچ نے ہم کو تباہ کر دیا. جو بیج بوئے گئے وہی کڑوے کسیلے پھل کھانے کو مل رہے ہیں.

غضب سچ لکھا تھا  کہ گدھ کی طرح لاشوں کی سیاست کرنے والی قوم لاشوں پر بین ڈالتی ہے… بیٹھ کر وہ واویلا مچاتی ہے کہ کسی مظلوم کے لواحقین کا دل مزید تڑپ جاتا ہوگا .جب اس بہیمت پر مزید داستانیں بنائی جاتی ہیں. کٹی پھٹی بے بسی کی تصویر بنی تصویریں جگہ جگہ ٹانک لی جاتی ہیں. ہم وہ ہی قوم ہیں نا زینب؟  دیکھ لو ہم پہلے واقعے کے انتظار میں رہتے ہیں پھر گدھوں کے گروہ کی طرح لاش پر پل پڑتے ہیں. کچھ نہیں سوچتے کہ غیرت باتوں سے کیا جتانا۔

ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا

 مردار کھانے والی قوم کے ان گفتار کے غازیوں نے تمہارے بے قصور ماں باپ تک کو نہ بخشا جوش جذبات میں یہ تک کہہ کر تمہارے امی ابو کا جگر چھلنی کر دیا کہ عمرے پر جانا ضروری تو  نہیں تھا. یا یہ کہ نفلی عنادت کے شوق میں فرض فراموش کر دیا۔ کس قدر تماشبین ہے قوم نہ جینے دیتی ہے نہ ہی مرنے دیتی ہے. عمرہ عبادت ہے. سب والدین کی طرح تمہارے امی ابو بھی یہی چاہتے ہوں گے کہ تم کو بھی تاجدار حرم ص کے دربار تک لے جاسکتے مگر مجبوری رہی ہوگی نا محدود وسائل کی۔ مگر قوم کو کیا بس تماشے لگانے ہیں اور کچھ نہیں. پھر کیا ہمارے بچے اور بچیاں، والدین کی شفقت تلے بھی ہیں تو کیا گھروں میں محفوظ رہنے کی ضمانت دے سکتا ہے کوئی؟ یہ بچے، جو گھر اور گھروں سے باہر اپنے محلوں اور اسکولوں اور مدرسوں تک میں محفوظ نہیں رہے۔

نفسا نفسی اور خود غرضی کے مریض معاشرے میں ایسی کتنی ہی خبریں گونجتی ہیں گدلے جوہڑ میں کچھ بھونچال سا آتا ہے. پھر دوبارہ سے سب بیٹھ جاتا ہے سب ریت میں منہہ چھپا لیتے ہیں کہ شکر ہے ھم بچ گئے.

ننھی پری! تم تو بہت چھوٹی تھی مگر میں ماں ہوں ناں، سمجھ سکتی ہوں تمہاری ماں کے آنسوؤں نے جب، شافع امت ص کو پکارا ہوگا میرا اپنا دل خوف و ندامت سے لرز جاتا ہے یہ سوچ کر کہ جب اس نے فریاد کی ہوگی تو کہیں عذاب کی پکڑ میں، میں نہ آجاؤں اور مجھ سے توبہ اور نجات کے لمحے چھین نہ لئے جائیں۔

زینب! مجھے دیکھو! میں بھی ماں ہوں!!! میری بے بسی کا سوچو!!!!  ہر ماں کی طرح میں بھی اپنے بچوں کی طرف نظر بھر کر دیکھ نہیں سکتی تھی کہ کہیں نظر نہ لگ جائے لیکن تمہیں پتا ہے زینب کہ اب تو میری نظریں اٹھتی تک نہیں  ہیں. عدم تحفظ اور  بے بسی کا وہ احساس مارے ڈالتا ہے کہ میں اپنے بچوں کو کہاں بھیج کر سکھ کا سانس لوں؟ کون سا ادارہ، مقام یا جگہ ایسی محفوِظ ہے کہ ان کی جان اور ان کی عفت کے تحفظ کی ضمانت مل  سکے؟ کون سی ایسی جگہ ہے؟

دیکھو پیاری! لوگ کہہ رہے ہیں بلکہ رو رو کے کہہ رہے ہیں کہ ہماری قوم کس قدر بدقسمت ہے کہ قوم کے بچے بچیاں اپنے گھروں تک میں محفوظ نہیں رہے۔ مگر مجھے معاف کرنا زینب ہم بد قسمت نہیں ہیں بلکہ ہم بدبخت ہیں کہ پھر سے ظلم کے نظام کے محافظوں کو ہی رہبر مان لیتے ہیں۔

 لگتا تھا کہ اتنی سفاکیت دیکھی ہے مگر جب خبر پڑھی ناں تو آنسو ایسے بہے کہ رکنا ہی بھو گۓ۔ جب پانچ دن قبل، تمہیں گھر کے باہر سے ورغلا کر اغوا کیا گیا تھا  اور پورے چار دن تم ظالموں کی قید میں رہی اور تمہارا منا سا دل خوف و ہراس سے کس طرح مرجھا گیا ہوگا. تمہاری کرنجی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں دیکھ کر میری اپنی سانس رکنے لگتی ہے. وحشت کے ننگے ناچ کے آگے تمہاری بے بس مزاحمت  کا خیال میری سانس تک روک لیتا ہے اور اپنی بے بس بزدلی سے زیادہ تو محافطؤں کی بے بسی کا سوچ کر دل دکھتا ہے کہ پولیس ہمارے محافظ تمہیں قصور جتنے چھوٹے شہر میں بازیاب نہ کرا سکے تھے. آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں بھی وہ اپنے فرائض احسن طور سے نباہنے میں مکمل ناکام ہیں.

تمہارے امی ابو کے الفاظ ہیں کہ” ہم تب تک تدفین نہیں کریں گے جب تک کہ درست فیصلہ نہ ملے. مزید کہا ہے کہ جاتی عمرہ کی حفاظت کے لئے دس ہزار اہلکار تعنیات کئے جائیں. ہم عام عوام  کیڑے مکوڑے ہیں. “کس قدر جان لیوا مرحلہ ہے یہ کہ اپنی معصوم اولاد کو جو ظلم کا شکار ہو اسکی نعش کو لے کر انصاف کی طلب میں دہائی دی جائے. کس درست فیصلے کا انتظار ہے؟ کن سے انصاف کی امید ہے؟ حکومت سے جس کے پاس بے تحاشا اہم معاملات زیر غور ہیں. ہم کس دور میں جی رہے ہیں کہ میرا وطن ہی میری اور  میرے بچوں کو حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا ہے. حکومت کے پاس کرنے کو کام کم نہیں؟ حکومت سے  امید؟ چہ معنی وارد؟ جس کے پاس بے تحاشا اہم معاملات زیر غور ہیں.

اب حکومت کیا کیا کرے؟ بلوچستان میں صوبائی حکومت تحلیل کر دی گئی ہے وہ زیادہ اہم مسئلہ ہے. نااہل قرار دیئے جانے والے سابق وزیر اعظم کی معصومیت اور بے گناہی پر عوام کا ختم ہوتا اعتماد بحال کرنا جمہوریت کی اہم آواز ہے. رہے حکومت کے مخالفین تو ان کے سامنے بھی جمہوریت کا تحفظ سب سے بڑا مسئلہ یے. الیکشن ہونا ہیں سو وہ سب کی عظیم جدوجہد کا نکتہ ہے.

باقی رہے محافظ، ویسے بھی محافظوں کے پاس ڈیوٹیز کم تو نہیں ہیں. انہیں تو بڑے آدمیوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہوتی ہے. غریب مسکین کو قسمت کے دھارے پہ چھوڑ دیا جاتا ہے. تمہی سوچو ناں پیاری! جب شاہ رخ جتوئی کو بھی انصاف کی سولی سے مکھن کے بال کی طرح اتار لیا جائے کہ وہ ہمیشہ امارت اور رعونت کی علامت بن کر اس نظام انصاف پر ایک سوال کی صورت موجود رہے گا کہ کیا انصاف کا معیار امیر کے لئے الگ ہے اور غریب کے لئے الگ ہے؟

ایسے میں زینب! تمہی بتاؤ کون سوچتا کسے فرصت تھی کہ بیٹھ کر عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے سنجیدہ کوشش کرے. سماج میں بڑھتے ظلم و بربریت کے آگے سخت ترین سزاؤِں کا پل باندھے. کسے سوچنا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے مربوظ حکمت عملی اپنائی جائے؟

 ایک بڑا اور عفریت ہے، ظلم پر مبنی اندھا قانون جو ظلم کے نظام کو پال پوس کر پروان چڑھاتا ہے، جہاں چور بازاری اور ضمیر کی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ، بدکاری اور قتل و غارتگری عام ہو جاتی ہے.

نفسا نفسی اور خود غرضی کے مریض معاشرے میں ایسی کتنی ہی خبریں گونجتی ہیں گدلے جوہڑ میں کچھ بھونچال سا آتا ہے. پھر دوبارہ سے سب بیٹھ جاتا ہے سب ریت میں منہہ چھپا لیتے ہیں کہ شکر ہے ھم بچ گئے. یہ تو فطری اصول ہے کہ ظلم کی آگ جب تیزی سے پھیلتی ہے تو کسی کا گھر محفوظ رہ سکتا ہے؟ تو زینب یہ کیوں نہ سوچا ان سب نے؟ کیوں نہیں مانا کہ جنسی انارکی اس ملک کا دہشت گردی کے برابر سنگین مسئلہ بن چکی ہے؟

جاوید اقبال جیسے نفسیاتی مجرم نے خود تھانے میں پیش ہو کر اپنے ایک ایک جرم کا اقرار کیا تھا، ایک ایک بچے کی تصویر کوائف اس کے پاس محفوظ تھے. جس کو زیادتی کے بعد عجب وحشتناک طریقوں سے کبھی تیزاب کے ڈرم میں گلا کر مارا گیا کبھی گلہ گھونٹ کر قتل کیا گیا. سب محافظوں کی ناک تلے یہ بھیانک کھیل جاری رہا اور اب بھی جاری ہے.

پھرننھی کلیوں کی بربادی کا قصہ ہی چل پڑا حتی کہ تمہارے اپنے شہر قصور تک میں اتنا بڑا جنسی اسکینڈل سامنے آیا. تم تو زرا اور چھوٹی ہوگی اس وقت تم کیسے جان سکتی ہو کہ ان سیاسی رہنماؤں نے احتجاج کی اس لہر کو بھی دبا دیا تھا اور قوم کے ساتھ کھڑے ہو کر سرکاری اداروں کو مجبور نہ کر سکے تھے کہ ایسا کچھ شکنجہ تیار ہو جہاں جنسی زیادتی کے مجرم خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے سب گرفت میں آسکیں اور سرعام بھیانک سزا پاسکیں.

وہہی سزائیں جنہیں غیر انسانی اسلامی سزائیں کہا جاتا ہے وہی تو انسان کے اندر حیوانگی کا اصل علاج کرتی ہیں. دیکھو ہم ناکام رہے اتنے برسوں میں بس ایسے واقعات سامنے آتے ہیں. ان کی خبریں سنتے ہیں اپنی رائے اور تجزیئے  دے دے کر علم کی دھاک بٹھا دیتے ہیں. پھر حسب معمول اپنے معمولات زندگی میں مگن ہو کر سب ایک طرف ڈال دیتے ہیں.

اگر ہم زندہ و بیدار قوموں کی طرح ایکشن لیتے، منظم جدوجہد کرتے، ہمارے نجی و سرکاری سماجی اداروں نے مل بیٹھ کر مسئلے سے متعلق نکات پر غور کیا ہوتا، قانون نافذکرنے والے اداروں کے کان کھینچے جاتے، امن و امان سے متعلق اداروں کی کارکردگی کا احتساب ہوتا، کسی ایک مجرم کو چوک پر لٹکایا جاچکا ہوتا تو پیاری تم تو بچ جاتی ناں. کاش! آنسو ہیں کہ تھمتے نہیں. ان آنسوؤں نے ایک آگ لگا دی ہے زینب! کاش یہ آگ بے حسی سماج میں پھیل جائے اور سب کے دلوں کو پگھلا دے .یہ سب آنسو مل کر وہ سیلاب بن سکیں جو ظلم پر مبنی سماج کو تاراج کر دے.

تم بھی بہت شوق سے اسکول جاتی تھی علم کی شمع سے جہالت کے اندھیروں کو دور کرنا چاہتی ہوگی. دیکھو !تم ناواقف رہی کہ جہالت اور پسماندگی ہی تہذیب کے سب سے بڑے دشمن ہیں. لیکن ان سے بھی بڑا ایک اور عفریت ہے وہ ہے ظلم پر مبنی اندھا قانون جو ظلم کے نظام  کو پال پوس کر پروان چڑھاتا ہے، جہاں چور بازاری اور ضمیر کی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ، بدکاری اور قتل و غارتگری عام ہو جاتی ہے.

میں بہت چھوٹی تھی زینب تمہارے جتنی یا تھوڑا اور بڑی کہ شائد تیسری یا چوتھی جماعت میں تھی جب محمد عربی ص کتاب پڑھائی گئی تھی اور اس کے آخری صفحات میں جب میں نے یہ نظم پڑھی تھی۔

کر یاد زرا وہ وقت، جب تو زندہ گاڑی جاتی تھی
گھر کی دیواریں روتی تھیں جب تو دنیا میں آتی تھی

وہ صحرائے عرب، جو عورت کے مقام سے اتنا متنفر تھا کہ بچی کی پیدائیش پر زندہ دفن کرنا عام معمول تھا. اب وہاں حالات یکسر بدل چکے ہیں. اب یہاں قانون اور انصاف کا بول بالا ہے. جرائم کی بیخ کنی کی جا چکی ہے. کچھ افسوسناک واقعہ ہو تو دنوں میں مجرم گرفتار کئے جاتے ہیں اور سخت سزائیں بھگتتے ہیں.

مگر افسوس صد افسوس!! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، ہمارے صدیوں پرانے ریت رواج میں جکڑے سماج نے،  عورت کا وہ احترام اب تک نہ سیکھا جو کسی قوم کی غیرت اور تہذیب کا آئینہ دار ہے.  یہاں اپنے گھر کی عورت کے سوا کہیں کسی کی بہو بیٹی کا احترام نہیں. حتی کہ اب بچے اور بچیاں تک محفوظ نہیں.

ایک جملہ جو آج دل میں ترازو ہو گیا ہے کس قدر برمحل ہے کہ

” مذہب انسانیت کا عہد ہے، جس کی یاداشت میں یہ عہد نہیں اس کے شعور میں مذہب ایک افواہ ہے حقیقت نہیں.”
….منقول

سچ ہے نا زینب! مذہب کے دیئے گئے حقوق کہیں نافذالعمل نہیں ہیں اور ایک اسلامی ماحول میں دی گئی تربیت بھی تمہاری حفاظت نہ کر سکی تو قصور آخر کس کے سر ڈالا جائے؟ ہم کیا نہیں جانتے؟ کہ جنسی وحشت نے سماج کو گھن کی طرح برباد کر دیا ہے. جب ایف سیون کالج اسلام آباد مین میں طالبہ کے ساتھ لیب انچارج اور دیگر ملازمین کی زیادتی کے بعد گلہ گھونٹ کر مارڈالنے کا واقعہ ہو یا جامعات میں مرد اساتذہ کی طرف سے ہراساں کئے جانے پر طالبہ کی خود کشی کا کیس ہو، یا کسی مدرسے میں بچے کو زیادتی کے بعد پھندہ لگا کر قتل کر ڈالا جائے تو یہ سب بیمار معاشرے کہ علامات ہیں.

مان لیا کہ انسانی معاشروں میں لاکھ قانون کی عملداری ہو ایسے سنگین جرائم سامنے آتے ہی رہتے ہیں مگر وہاں انصاف نھی ہے. فرض شناس محافظ بھی ہیں، جو ایسے نفسیاتی مجرموں کو ڈھونڈ نکالتے ہیں وہاں محب وطن نجی ادارے بھی ہیں، جہاں مسلسل انصاف کے لئے والدین اور متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیا جاتا ہے وہاں سرکاری ادارے  بھی ہیں، جو جانتے ہیں کہ قوم کےخادم ہیں.

خادم پر یاد آیا  پیاری زینب!!

ابھی تو جب تمہارے امی ابو  واپس آچکے ہیں ناں تو خادم اعلی پنجاب بھی حسب روایت متاثرہ خاندان کی اشک شوئی کے لئے بنفس نفیس خود تشریف لے جائیں گے اور کچھ نہیں تو کچھ دن میڈیا کو اور مصالحہ مل جائے گا جسے بریکنگ نیوز کے نام سے دکھاتے رہنے سے قوم کے ساتھ ساتھ والدین کے زخموں پر مزید نمک چھڑکا جائے گا.

اللہ کریم ! تمہارے والدین کو صبر دے. آخر میں تمہیں کیا دعا دوں؟ زینب! کہ تم سب دعاؤں اور التجاؤں سے دور جا چکی ہو مگر پلیز تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہے یہ ماں کہ تم جنت میں رب کائنات سے درخواست کرو کہ اب اس ظلم کا شکار بننے سے مزید کوئی زینب تو محفوظ ہو جائے. اب تو کچھ راہ نجات بنا دیں، اب تو ہماری حالت پہ رحم فرمائیں.

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے
تو وہ حملہ نہیں‌کرتا
سنا ہے جب
کسی ندی کے پانی میں
بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں‌اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں‌
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر
کوےکے انڈوں کو پروں‌سے تھام لیتی ہے
سناہے گھونسلے سے جب کوئی بچہ گر ے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑ آجائے
کوئی پُل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری ، سانپ ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
خداوندِ جلیل و معتبر ، دانا و بینا منصف و اکبر
ہمارے شہر میں اب
جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر

دعاؤں کی طلبگار

فقط ایک بے بس ماں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: