ویر میرا پوڑی چڑھیا : لالہ صحرائی

0
  • 103
    Shares

خان صاحب کافی ان۔پرڈیکٹیبل ثابت ہوئے ہیں، ان کا کچھ پتا نہیں چلتا کہ الیکشن کے موقع پہ شادی اور شادی کے موقع پہ الیکشن کیلئے تیاری پکڑنے کا حکم جاری کر دیتے ہیں، دونوں مواقع ضائع ہو جائیں تو دھاندلی یا کرپشن کا چیپٹر کھول لیتے ہیں۔

اس میں خان صاحب کی فراغت کا بھی بڑا دخل ہے، پہلے دھاندلی کا چیپٹر کلوز کیا تو فراغت دیکھ کے شادی رچا لی، اب کرپشن کا چیپٹر کلوز کیا تو فراغت دیکھ کے پھر سے شادی کا نغمہ چھیڑ دیا۔

ان دنوں جو صورتحال چل رہی ہے، اسے دیکھ کے تو لگتا ہے، تحریک انصاف دوہزار اٹھارہ کا الیکشن اگر ہار گئی تو خان صاحب نہایت اعتماد کیساتھ بتائیں گے کہ گزشتہ پانچ سال کی جدوجہد کے نتیجے میں ووٹوں سے بیشک ہم ہارے ہیں لیکن بیویوں سے بالکل نہیں ہارے، اور آئیندہ بھی نہیں ہاریں گے، اس سلسلے میں ہم بہت جلد مزید امیدوار بھی سامنے لائیں گے، الیکٹیبلز کی طرح ہر حلقے کے نامور عشیقٹیبلز بھی ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں۔

خان صاحب کتنے ان۔پرڈیکٹیبل ہیں، اس بات کا اندازہ یہاں سے لگا لیجئے کہ شادی پر اٹھا ہوا شور آج ہی کچھ کم ہوا تھا اور آج ہی خان صاحب نے اک نیا ٹویٹ مار کے پھر سے معاملہ گرم کر دیا۔

ایک سردار کے بچے نے کہا، باپو آج میں نے اسکول میں چے میم اور چھوٹی یہ لینی سیکھی، اگر آپ کو اس بات کی سمجھ آجائے تو ناراض تو نہیں ہوں گے نا، سردار نے کہا پترا اے کم تے چنگا نئیں ہے گا پر تو نے اچھی بھلی چُمّی کے ٹوٹے ٹوٹے کر کے اس سے بھی بڑا پاپ کیا ہے، اتنا تو تمہیں میں نے نہیں گھسیٹنا تھا جتنا تم نے اپنی اسپیشئیلٹی کو گھسیٹ کے رکھ دیا ہے۔

خان صاحب!
کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ آپ نے کوئی چوری کی ہے، پنامہ یا غبن فراڈ کیا ہے، دشمن چاہے کچھ بھی کہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ شادی کرنا کوئی پاپ نہیں البتہ آپ نے اچھی بھلی خوشی کی خبر کے ٹوٹے ٹوٹے کرکے سردار کے بچے سے بھی بڑا پاپ کیا ہے، پتا نہیں آپ قوم کو مریض سمجھتے ہیں جسے کوئی بھی اچھی بری خبر ایکدم سے نہیں سنائی جاتی تاکہ اس کی حالت غیر نہ ہو جائے، بالفرض ایسا ہو بھی تو قوم نے آپ کو اتنا نہیں گھسیٹنا تھا جتنا خود آپ نے اپنی اسپیشئیلٹی کو گھسیٹ کے رکھ دیا ہے۔

خان صاحب نے تبدیلی کا نعرہ لگا کے گراس روٹ لیول پر تنظیم سازی اور الیکشن سٹریٹجی وضع کرنے کی بجائے جو میٹریمونیل نیٹ پریکٹس شروع کر رکھی ہے اسے دیکھ کے اب یہی خیال آتا ہے کہ خان صاحب سے اب انہی کے لب و لہجے میں بات کی جائے تو بہتر ہے۔

میرے پاکستانیو…!
اب ایسا نہیں چلے گا

خااااااں صاااااااب
اب آپ کو ایک فیصلہ کرنا ہوگا کہ ترجیح کس بات کو حاصل ہے، پہلے الیکشن یا پہلے شادی۔

میرے پاکستانیو
بات ایک حلقہ کھولنے سے شروع ہوئی تھی اور اب تیسری شادی تک پہنچ گئی ہے۔

خاں صااااااااب
اس دنیا کی بے ثباتی دیکھیئے کہ آپ کو آج تک سچا پیار نہیں ملا، ہمیں سنجیدہ لیڈر اور پچھلی دو کو تابعدار شوہر نہیں ملا، آنے والی کے نصیب اور آپ کے پیچھے ہمارے مستقبل کے بھاگ کا بھی کچھ اندازہ نہیں ہو رہا۔

میرے پاکستانیو
میں ان سے پوچھتا ہوں کہ

خااااااں صااااااااب
ہمیں ایک بار صاف صاف بتا دو
تبدیلیاں لے کے آنی ہیں یا بس ڈولیاں ہی لانی لیجانی ہیں۔

میرے پاکستانیو
اب ایسا نہیں چلے گا

خااااااں صااااااااب
اب آپ کو ایک فیصلہ کرنا پڑے گا کہ
آپ نے سیاست کرنی ہے یا شادیاں، یا پھر ہم دونوں سُر اٹھانے کیلئے تیار رہا کریں۔

خاااااں صااااب
ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ جب آپ نے شادی کرنی ہی کرنی ہے تو پھر انتظار فرمائیے کا یہ بورڈ ہٹا کے کھل کھلا کے شادی کا اعلان کیوں نہیں کرتے۔

یا پھر ہمیں کھل کر اتنا ہی بتا دو
کہ ہم ڈھول بجائیں یا ابھی رکھ دیں
ہم نے تو نیا گانا بھی تیار کر لیا تھا
بلے والے دلہنیا لے جائیں گے۔

خااااااں صااااااب
آپ کو ڈھول سننے کا شوق ہے تو پھر بنی گالہ میں ہر سال شادی کی بجائے ایک میلہ کیوں نہ لگوا لیا جائے، ہم میلے پر آکے خوب ڈھول بجا لیا کریں گے ویسے بھی ہمیں ایک سال چھوڑ کے اگلے سال تو لازمی بجانا ہی پڑتا ہے۔

خاں صااااب
شادی ہی کرنی ہے تو پھر ایک ساتھ دو سہیلیوں سے کیوں نہیں کرلیتے جنہیں ڈائیٹنگ اور کوکنگ کے علاوہ اور کوئی شوق نہ ہو، آجکل سہیلیوں نے ایک ہی دولہا سے اجتماعی شادی کا رواج ویسے بھی نکال ہی لیا ہے۔

خان صاحب کی شادی ہوگی یا نہیں اس بات میں ابھی کافی خدشات موجود ہیں تاہم تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہراتی ضرور ہے، خان صاحب کی تاریخ البتہ کافی جلدی اپنا چکر پورا کر لیتی ہے اور سال دو سال بعد ہی اپنا آپ دہرانے کیلئے پھر سے تیار ہو کے کھڑی ہو جاتی ہے۔

سیانے کہتے ہیں، ماضی میں تاریخ اتنا کچھ کر چکی ہے کہ ہر بار مستقبل میں اس کے پاس کرنے کیلئے کچھ نیا نہیں ہوتا اسلئے جب یہ بیٹھے بیٹھے اکتا جاتی ہے تو اپنے آپ کو دہرانے چل پڑتی ہے، بعض سٹپٹائے ہوئے سیانے یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تاریخ کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو دہرانے لگتی ہے۔

تاریخ کے علاوہ بعض مرد بھی ایسے سیانے ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے کوئی سیپریٹڈ خاتون پیٹ میں مروڑ کی شکایت کرے تو وہ اسے کوئی علاج بتانے کی بجائے فوراً پروپوز کر دیتے ہیں، پھر سال بعد یہ کہہ کے چھوڑ دیتے ہیں کہ ہماری تمہاری تاریخ سے کوئی مناسبت نہیں، دراصل میں کنفیوژ تھا اور تمہیں صرف گیس تھی، میری کنفیوژن دور ہو گئی ہے لہذا اب آپ بھی جا کے اپنی گیس کا علاج کرالو۔

کسی بوڑھے پر جب خاتون کو چھیڑنے کا الزام لگا تو اس نے چپ چاپ سزا قبول کر لی، بعد ازاں کسی سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ الزام تو خیر جھوٹا ہی تھا مگر اس وجہ سے لوگ مجھے جوان سمجھنے لگے تھے اسلئے میں لوگوں کا مان توڑ کر اپنا بھی اپمان نہیں کرانا چاہتا تھا۔

خان صاب خود کو جوان ثابت کرنے کیلئے جب بھی موقع ملے تب شادی کر لیتے ہیں، ان کے خیال میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کو جوان ہونا چاہئے، انہیں اگر کسی طرح سے اس بات کا یقین دلا دیا جائے کہ عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وزیراعظم جوان ہو یا بوڑھا تو امید کی جا سکتی ہے کہ وہ آئندہ ایسا جوکھم اٹھانے سے گریز کریں گے بلکہ اپنی پچھلی غلطیوں کا بھی کھل کر اعتراف کر لیں گے۔

خان صاحب ویسے نرالے ہی مزاج کے بندے ہیں، لوگ شادی سے پہلے منگنی کرتے ہیں، خان صاحب پہلے افواہ گرم کرتے ہیں، حالانکہ گرما گرمی شادی کے بعد کا کام ہے۔

خان صاحب بہت مشکل پسند آدمی ہیں، لڑکی پٹانا تو خیر ان کیلئے کوئی مسئلہ نہیں، یہ فن وہ بخوبی جانتے ہیں لیکن مشکل پسندی کے تحت شادی سے پہلے پورے سماج کو وہ اپنے خلاف کر لیتے ہیں پھر کہیں جا کے شادی کرتے ہیں تاکہ بعد میں دلہن سے یہ کہہ سکیں کہ میں نے تو تمہیں پانے کیلئے پورے سماج سے ٹکر لے لی تھی۔

خان صاحب کنواروں کیلئے سخت آئیڈیل بلکہ رول ماڈل ہیں، نوجوانوں کی اکثریت انہیں اسلئے پسند کرتی ہے تاکہ ان سے کارآمد میٹریمونیل ٹپس حاصل کر سکیں، خان صاحب عام آدمیوں کیلئے بھی متاثرکن شخصیت ہیں لیکن تعددِ ازدواج کے شائقین کیلئے تو بس تازیانہ ہیں تازیانہ۔

اپوزیشن میں زیادہ تر لوگ، سمیت ن لیگی صالحین کے، بس اسی ایک تازیانے سے تلملائے ہوئے ہیں۔

جو کام لیڈر کرے اسے مستحب جان کے وہی کام عوام بھی کرنے لگتی ہے، اس لحاظ سے خان صاحب کا شادی خانہ آبادی وغیرہ کرتے رہنا معاشرے میں رشتوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کافی حد تک خوش آئند اقدام ہے لیکن عوام کو یہ سمجھ بہرحال نہیں آتی کہ کون کس کو پروپوز کرے تو کس کی شادی کس کیساتھ ہو سکتی ہے۔

مناسب رشتے کی سمجھ نہ آنا تو خیر ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے جس کے شر سے خود خان صاحب بھی محفوظ نہیں پھر بھی وہ اپنا فیض عام کرنے کیلئے کوئی ٹپس دینا چاہیں تو عوام کو ان سے استفادہ کر لینا چاہیئے۔

رشتوں کے مسائل حل کرنے کیلئے ایک یہ تجویز بھی کارگر ہو سکتی ہے کہ خان صاحب کی مجوزہ شادی اگر واقعی ہو جائے تو اس موقع پر خان صاحب کے ہاتھوں سے مَس کئے ہوئے لاکھوں چھوہارے پوری قوم میں تقسیم کرنے چاہئیں۔

اور اگر یہ شادی نہ ہو سکے تو بھی خان صاحب کو ہمت نہیں ہارنی چاہیئے، ویسے یہ کہنے کی بات تو نہیں ہے کیونکہ خان صاحب عزم کے بہت پکے ہیں، کہنے کی بات یہ ہے کہ اس صورت میں بھی خان صاحب کے دم کئے ہوئے چھوہارے پوری قوم میں بانٹنے چاہئیں تاکہ اس تبرک کی برکت سے رشتوں اور کنواروں کے مسائل بھی حل ہوتے رہیں۔

لکھنا تو اور بھی بووووہت کچھ باقی تھا مگر پچھلے دو تین دنوں میں انصافیوں نے ن لیگی صالحین و دیگر کی جو حالت کر دی ہے اس پر خوش ہو کے نہایت افسوس کے ساتھ میں اس نتیجے پر پووونہچا ہوں کہ عمران خان ایک درویش صفت، پیروں فقیروں کا گرویدہ اور صوفی منش آدمی ہے جسے شادی کا کوئی شوق ہے نہ لالچ، لوگ خوامخواہ ان کے خلاف افواہیں اڑا رہے ہیں۔

بلکہ خان صاحب ایک درمند دل رکھنے والا فریفتہ سیرت انسان ہے جو دکھی عورتوں کے دکھوں کو ان کے حسن میں جمع کرکے انہیں سہارا دینے کا اٹل فیصلہ کر لیتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں۔

مجھے اس بات سے خوف آتا ہے کہ مزید کچھ لکھا تو ایسا نہ ہو کہ انصافی حضرات میرا حال بھی کہیں صالحین جیسا نہ کر ڈالیں کیونکہ عام حالات میں یہ خان صاحب کو سپورٹ کرتے ہیں، ان پر کوئی انگلی اٹھائے تو یہ اس کیساتھ لڑ پڑتے ہیں اور جب بات شادی پر اعتراض کی ہو، پھر تو بس، انصافی ٹوکرے بھر بھر کے دے اور فروووقی لے۔

خان صاحب کے سپورٹرز انہیں سپورٹ کرسکتے ہیں، ان کا دفاع کر سکتے ہیں مگر انہیں سمجھا کچھ نہیں سکتے یہ ان کے بس کی بات بھی نہیں، خان صاحب چونکہ اب تصوف کی طرف مائل ہو چکے ہیں لہذا انصافیوں سے درخواست ہے کہ آپ چاہے سدھریں یا نہ سدھریں یہ آپ کا ذاتی اور ہماری قسمت کا معاملہ ہے مگر اتنا ضرور کریں کہ اب انصافی کہلوانے کی بجائے انصُوفی کہلایا کریں تاکہ ماحول میں کچھ ٹھنڈک کا احساس رہے۔

مجھے تو اس وقت سے بھی خوف آتا ہے جب یہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں گے لیکن مرکز میں اسد عمر کو کھڑا کرکے خود یہ اعلان نہ کردیں کہ میں تو بس پنجاب اسمبلی کا وزیراعظم بنوں گا، کیونکہ ایک تو خان صاحب بذات خود ان۔پرڈیکٹیبل ہیں، پھر بہت سے الیکٹیبلز اور عشیقٹیبلز بھی ان کے ساتھ ہیں لہذا وہ کسی حالات میں کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

آخر میں یہ عہد کرتے ہیں کہ خان صاحب کی شادی ہوگئی تو سب مل کے گائیں گے، ویر میرا گھوڑی چڑھیا، آئیندہ الیکشن بھی اگر جیت گئے تو پھر گائیں گے، ویر میرا پؤڑھی چڑھیا، البتہ یہ سوچنا ابھی باقی ہے کہ تنظیمی طور پہ ناقص صورتحال کی بدولت الیکشن اگر ہار گئے تو پھر کیا گائیں گے اور وہ لوگ ہمارے اوپر کیا کیا نہیں گائیں گے جن کی ناک میں ہم نے یہ گا گا کے دم کر رکھا تھا رسیداں کڈو، رسیداں کڈو، مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا۔

الیکشن میں شرمندگی سے بچنا چاہتے ہو تو اس شادی کے فوراً بعد تمام انصوفی بہن بھائی مل کے خان صاحب سے اگلے پانچ چھ ماہ تک یہی تقاضا کرتے رہیں کہ الیکشن جیتنے کی پالیسی دکھاؤ اور تنظیم سازی کرو نئیں تو یہ مت کہنا، مجھے کیوں ہرایا، مجھے کیوں ہرایا، اور خدانخواستہ ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو گئی تو آئیندہ کسی نے آپ کو رشتہ بھی نہیں دینا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: